دینِ اسلام اور ہم

Print Friendly, PDF & Email

(بنیادی تاریخی جائزہ)

مصنف : میر افسر امان
صفحات : 436 قیمت 800 روپے
ناشر : رابطہ پبلی کیشنز۔ پلاٹ نمبر 71-C، سیکنڈ فلور 24th کمرشل اسٹریٹ
توحید کمرشل ایریا۔فیز 5، ڈی ایچ اے کراچی
فون : (92-21)35861936,35861935

زیر نظر کتاب ’’دینِ اسلام اور ہم‘‘ چار حصوں پر مشتمل ہے۔ میر افسر امان تحریر فرماتے ہیں:۔
’’عام مسلمانوں کی طرح میں بھی ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا، اس لیے پیدائشی مسلمان ہوں۔ مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ میرا مسلمان ہونا مجھ سے کیا تقاضا کرتا ہے۔ میرے والد میری کمسنی میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ میں اپنے والد کے پیار اور محبت سے محروم رہا۔ میری والدہ صاحبہ (مرحومہ) نے مجھے چار بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ محنت مزدوری کرکے پالا۔ 1962ء میں اپنے شہر حضرو سے میں نے میٹرک پاس کیا۔ رزق کی تلاش میںکراچی گیا۔ وہاں ایک بینک میں سو روپے ماہوار پر جونیئر کلرک کی نوکری کی۔ اسی دوران سندھ مدرسہ سے انٹرکا امتحان پاس کیا۔ بینک کے بعد ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کی۔ کراچی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری لی۔ نصف صدی سے زیادہ کراچی میں رہنے کے بعد 2017ء میں کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگیا۔ اب یہیں زندگی کے دن گزار رہا ہوں، نجانے کب اللہ کی طرف سے بلاوا آجائے۔
کراچی میں 1968ء میں ایک دوست کے ذریعے سے جماعت اسلامی سے تعارف ہوا۔ جماعت کے کارکنوں نے ہفتہ وار درسِ قرآن میں بلانا شروع کیا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا لٹریچر مطالعے کے لیے دیا۔ سید مودودیؒ کی تفسیر، تفہیم القرآن اور لٹریچر کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ بندہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوا ہے اس لیے ہی مسلمان ہے۔ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اسے دین کا علم ہو۔ وہ شعوری مسلمان ہو۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کا دین ایک مسلمان سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔ اس مطالعے سے آہستہ آہستہ دینِ اسلام کی سمجھ آئی کہ دین ایک مسلمان سے کیا تقاضا کرتا ہے۔ کیا انسان بھی دوسرے حیوانوں کی طرف ایک حیوان ہے، یا اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسان کو ارادے کی آزادی دے کر دنیا میں بھیجا ہے۔ انسان چاہے نیک عمل کرے، چاہے برے عمل کرے۔ مگر مسلمان یاد رکھے کہ نیک عمل کی وجہ سے اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا، اور برے عمل کی وجہ سے دوزخ میں ڈالے گا۔ یعنی یہ دنیا انسان کے لیے مہلتِ عمل ہے۔ انسان کو اللہ نے اِس دنیا میں اس لیے بھیجا کہ وہ اللہ کو واحد مانے، اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اپنی آخرت کی فکر کرے، اللہ کی جنت کے حصول کے لیے اللہ کے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد میں نیک لوگوں کے ساتھ شامل ہوجائے۔ خود اللہ کے دین پر عمل کرے اور دوسروں کو بھی اس طرف آنے کی دعوت دے۔ جماعت اسلامی کا یہی پیغام ہے۔ جماعت کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصد عملاً اقامتِ دین (حکومتِ الٰہیہ، اسلامی نظامِ زندگی، نظامِ مصطفیٰ کا قیام) اور حقیقتاً رضائے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہے۔ اللہ نے مجھے بھی اس قافلۂ حق میں شامل ہونے کی سعادت عطا کی۔ 1968ء سے میں اس قافلے میں شریک ہوں۔ میں مطالعہ قرآن و حدیث اور سیرتِ صحابہؓ کا مستقل طالب علم ہوں۔
الحمدللہ، تفہیم القرآن کا مستقل طالب علم ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی دوسری تفاسیر کا تقابلی مطالعہ بھی کیا۔ حدیث کی چھوٹی چھوٹی کتابوں کے مطالعے کے بعد صحاح ستہ کا مطالعہ شروع کیا جو مکمل ہوگیا۔ اب موطا امام مالک کا مطالعہ شروع کیا ہے۔ میں نے سوچا کہ میں نے جو مطالعہ کیا ہے اُس سے مجھے تو ضرور فائدہ ہوا، مگر کیا اس علم سے دوسروں کو بھی فائدہ ہوا؟ جب میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے سندھ مدرسہ کراچی میں داخل ہوا تو اس کے مین گیٹ پر لکھا ہوا تھا “Enter to learn go forth to serve” یعنی علم سیکھنے کے لیے مدرسے میں داخل ہو، اور علم سیکھنے کے بعد اسے پھیلانے کی کوشش کرو۔ پھر میں نے کچھ مطالعہ کیا، اس کو کالم کی شکل میں لکھ کر اخبارات میں شائع کرنے کے لیے بھیجنا شروع کیا۔ اللہ کا شکر کہ اخبارات میں میرے کالم جو حالاتِ حاضرہ، اسلام اور جماعت اسلامی پر مشتمل ہیں، شائع ہونے شروع ہوئے۔ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ان کالموں کو کتابی شکل دی جائے۔ میں نے حالاتِ حاضرہ پر کچھ عرصہ قبل ’’مشرقی افق‘‘ کے نام سے کتاب شائع کی۔ اب آپ کے ہاتھ میں ’’دینِ اسلام اور ہم‘‘ کتاب موجود ہے۔ اس کے بعد اِن شاء اللہ جلد ہی ’’جماعت اسلامی کیا چاہتی ہے‘‘ پیش کی جائے گی۔ میں نے قرآن کو اللہ کی طرف سے اپنے لیے ایک خط سمجھا۔ قرآن کے مضامین جو میری سمجھ میں آئے، میں نے انہیں تحریری شکل دے دی۔ خاص کر موجودہ دور کے دین بیزار لوگوں کو جواب دینے کی کوشش کی۔ میری کتاب ’’دینِ اسلام اور ہم‘‘ میں جو اچھی باتیں ہیں وہ میرے رب کی طرف سے ہیں، اور اگر کچھ کمزوری رہ گئی ہے تو اس کا میں ذمہ دار ہوں۔ میں اپنی کمزوری پر معافی کا درخواست گزار ہوں‘‘۔
میر افسر امان صاحب نوائے وقت، پاکستان، ہفت روزہ تکبیر، ایشیا کے کالمسٹ، مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد سے تعلق ہے۔
کتاب جن مضامین پر مشتمل ہے وہ درج ذیل ہیں:۔
حصہ اول: تعارفِ اسلام کے عنوان سے ہے، اس میں یہ مضامین شامل ہیں:۔
اللہ تعالیٰ کا حقیقی تصور وجود، کائنات کی حقیقت، فرشتے اللہ کی فرماں بردار مخلوق، جن اللہ کی آتشیں مخلوق، ابلیس شیطان، انسان اشرف المخلوقات، حیوان اللہ کی بے زبان مخلوق، ایمان بالغیب، ہدایات من جانب اللہ، شرک ظلم عظیم ہے، توحید پر ساری دنیا قائم، نماز بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے، زکوٰۃ مسلمانوں کے معاشی توازن کا ذریعہ، رمضان مسلمانوں کی جسمانی اور روحانی تربیت کا ذریعہ، حجِ بیت اللہ امتِ مسلمہ کی قوت کا مظہر، جہاد فی سبیل اللہ، قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب، دوزخ اور جنت، اسلام: پُرامن اور سلامتی والا دین، حزب اللہ… حزب شیطان، حدیث: رسولؐ اللہ کا عمل۔ قول۔ فعل: تدوین کی تاریخ اور منکرینِ حدیث، صفا اور مروہ اللہ کی نشانیاں، سود اللہ اور رسولؐ کے ساتھ جنگ، خانہ کعبہ اور حج کی تاریخ، جمعہ مسلمانوں کی اجتماعی عبادت کا دن، عیدالفطر مسلمانوں کا سنجیدہ تہوار، عیدالاضحیٰ نام ہے عظیم قربانی کی یادداشت کا، محرم الحرام کی اہمیت اور احترام، پیغمبرانِ خدا کی سیرت، دعوت اور پیارے پیغمبر حضرت محمدؐ، قادیانیت برطانوی استعمار کی سازش، ختم ِنبوت: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
حصہ دوم: مسلمان کے عنوان سے ہے، اس کے مضامین:
علم کی حقیقت، مسلم دنیا کی فوج جمہوریت کا احترام کرے، مسلم دنیا میں جمہوریت کے ذریعے ہی انقلاب آسکتا ہے، اسلامی حکومت کا نصب العین، امامت کی تبدیلی، سردارانِ قریش کا ظلم اور رسولؐ اللہ کی عام معافی، مدینے کی اسلامی، فلاحی، جہادی ریاست، معرکہ حق و باطل غزوہ بدر، خلفائے راشدین اور ان کا دورِ حکومت، حرام حلال اور مسلمان، امہات المومنینؓ اور موجودہ دور کی مسلمان خواتین، اسلام میں عورتوں کے حقوق، لیگ آف نیشن، امتِ مسلمہ اور مسلمانوں کی حالت، مسلمان ملکوں میں امریکی مداخلت اور اس کا سدباب۔
حصہ سوم: تاریخِ اسلام کے عنوان سے ہے:۔
سندھ باب الاسلام، یہودیت تاریخ کے آئینے میں، عیسائیوں کی انتہا پسندی، ہندوئوں کی انتہا پسندی، مسئلہ فلسطین بالفور ڈیکلیریشن لڑائی کی جڑ، کشمیر برطانیہ کا گھڑا ہوا مسئلہ، سیکولر حکومتی برائی کی جڑ، مسلمانوں کے آئیڈیل اور موجودہ حکمران، خواہشاتِ نفس اور قرآنی ہدایات، جمہوریت اسلام کی مرہونِ منت، امت ِ مسلمہ ہوشیار باش، مغالطے اور بدگمانیاں۔
حصہ چہارم: مسلم معاشرہ کے عنوان سے ہے:۔
سرمایہ دارانہ یا اشتراکی نہیں: اسلامی نظامِ معیشت، مسلمانوں کی ازدواجی زندگی اور مغربی معاشرہ، مسلم معاشرے میں فلاحی ادارے، مسلم معاشرہ اور جدید میڈیا کا کردار، میڈیا اسلام اور ہم، مسلم معاشرے میں فحاشی پھیلانے والے سزا کے مستحق، ویلنٹائن ڈے مغربی تہذیب کا شاخسانہ، ڈکٹیٹر پرویزمشرف کا روشن خیال پاکستان، 4 ستمبر عالمی یوم حجاب۔
مندرجہ بالا پتے کے علاوہ کتاب ان مکتبوں پر بھی دستیاب ہے:۔
1۔ مکتبہ علوم اسلامیہ برنس روڈ کراچی، 0321-3223245
2۔ مکتبہ نورِ حق نزد اسلامیہ کالج کراچی، 0331-2615692
3۔ اسلامی ریسرچ اکیڈمی فیڈرل بی ایریا کراچی، 0213634940
4۔ مکتبہ تحریک محنت پاکستان، جی ٹی روڈ واہ کینٹ، 051-4904052/3
5۔ اسلامک پبلی کیشنز، منصورہ ملتان روڈ لاہور
6۔ مکتبہ ادارہ معارف اسلامی، منصورہ ملتان روڈ لاہور

Share this: