قبائلی اضلاع میں امن وامان کی مخدوش صورتِ حال

Print Friendly, PDF & Email

فاٹا ریسرچ سنٹر کی جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ

خیبر پختون خوا کے سات قبائلی اضلاع میں سال 2020ء کے دوران سیکورٹی کی عمومی صورت حال پچھلے برسوں کی نسبت خاصی پیچیدہ اور پریشان کن رہی ہے، بالخصوص چار اضلاع خیبر، شمالی وزیرستان، باجوڑ اور جنوبی وزیرستان میں امن وامان کی صورتِ حال انتہائی مخدوش رہی ہے، جن میں عسکریت پسندی کے واقعات کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ فاٹا ریسرچ سینٹر (FRC) نامی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے سال 2020ء کے دوران قبائلی اضلاع کی سیکورٹی کے حوالے سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے دوران عسکریت پسندی کے واقعات میں گزشتہ سال یعنی 2019ء کی نسبت مجموعی طور پر 29 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایف آر سی کی متذکرہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران قبائلی اضلاع میں کُل 169 پُرتشدد واقعات رونما ہوئے، حالانکہ سال 2019ء کے دوران تشدد اور دہشت گردی کے160واقعات رپورٹ ہوئے تھے جن میں 106 دہشت گرد حملے تھے، جب کہ54 کا تعلق سیکورٹی فورسز کے جوابی حملوں سے تھا۔ جاری کردہ رپورٹ سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ 2020ء میں تشدد کے کُل 169 واقعات میں 137 کا تعلق عسکریت پسندوں کے حملوں سے تھا، جب کہ سیکورٹی فورسز کے جوابی حملوں یا آپریشنوں کی تعداد 32 تھی۔ واضح رہے کہ 2020ء کے دوران دہشت گردی کے کُل 137واقعات میں 86 حملوں کا تعلق عام شہریوں پر حملوں سے تھا جس کی شرح کُل حملوں کا 51 فیصد بنتی ہے، جبکہ 54 حملوں یعنی32 فیصد میں سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔ یہاں اس امر کی نشاندہی اہمیت کی حامل ہے کہ گزشتہ سال ایک طویل عرصے بعد ضلع خیبر میں نیٹو افواج کے لیے افغانستان سامان لے جانے والے نیٹو سپلائی کے ٹرکوں پر بھی حملہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف قبائلی اضلاع میں عسکریت پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے جاری فوجی آپریشن کے ایک حصے کے طور پر سیکورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ بھی جاری رکھا، جس کے تحت کُل 28 آپریشن ریکارڈ کیے گئے۔ اگرچہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تمام قبائلی اضلا ع میں جاری رکھے گئے ہیں لیکن ان کی زیادہ تر ضرورت شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر اور باجوڑ کے اضلاع میں محسوس کی گئی، جس کی وجہ ان اضلاع میں تشدد کی نئی لہر اور ٹارگٹ کلنگ کے بعض واقعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق2020ء کے دوران دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی دونوں کے نتیجے میں کُل 390 افراد متاثر ہوئے، جن میں 226 افراد کی ہلاکت اور 164 کے زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان واقعات کے باعث گزشتہ سال مجموعی طور پر ہلاکتوں میں پچھلے سال کی نسبت 39 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سیکورٹی فورسز عسکریت پسندوں کا اوّلین ہدف رہی ہیں، جس کا اندازہ سیکورٹی فورسز کے ہونے والے جانی نقصانات سے لگایا جاسکتا ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں مجموعی طور پر سیکورٹی فورسز کے 65 اہلکار شہید اور 81 زخمی ہوئے ہیں۔ اس طرح بدامنی سے متاثرہ کُل افراد میں 38 فیصد حصہ سیکورٹی فورسز کا ہے۔ ان رپورٹ شدہ پُرتشدد واقعات میں 143 شہری متاثر ہوئے جن میں 80 ہلاک اور 63 زخمی ہوئے۔ پُرتشدد واقعات میں سیکورٹی فورسز کی شہادتوں کی بڑھتی ہوئی تعدادکی وجہ عسکریت پسندوں کے ذریعے خیبر، باجوڑ، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سال 2020ء کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور آئی ای ڈی کے حملوں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ تھا۔ تقابلی طور پر شہری ہلاکتوں میں سال 2019ء کے مقابلے میںگزشتہ سال کے دوران 62 فیصد اضافہ دیکھا گیاہے۔ زیربحث رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ نوٹ کیاگیا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 81 عسکریت پسند ہلاک، 20 زخمی اور 21 دیگر کو گرفتار کیا گیا۔ اگرچہ سال 2020ء میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا دعویٰ کیاگیا ہے، لیکن اس کے باوجود ان واقعات سے نئے ضم شدہ اضلاع میں تحریک طالبان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھے جانے والے وسیم زکریا نامی عسکریت پسند کی چار ساتھیوں سمیت شمالی وزیرستان میں ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکورٹی فورسز کامیابی کے ساتھ مشتبہ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، کہا جاتا ہے کہ وسیم زکریا نامی ہلاک شدہ عسکریت پسند 30 حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا جو سرکاری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ سمیت دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث تھا۔ ایف آر سی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ 2020ء کے دوران شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے 64 واقعات رونما ہوئے، حالانکہ سال2019ء کے دوران اس ضلع میں اسی نوع کے 45 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جس کی بنیادی وجہ سال 2020ء کے دوران دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اورآئی ای ڈیز کے بڑھتے ہوئے واقعات تھے۔ رپورٹنگ عرصے کے دوران جنوبی وزیرستان کا قبائلی ضلع 38 واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، اس کے بعد باجوڑ اور خیبرکے اضلاع رہے جن میں بالترتیب عسکریت پسندی کے 36 اور 22 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ضلع مہمند سے دہشت گردی سے متعلق دو واقعات کی اطلاع ملی، جبکہ اورکزئی ضلع میں اس طرح کے چار واقعات رونما ہوئے۔ اگرچہ ضلع کرم سے عسکریت پسندی سے متعلق صرف تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، اس کے باوجود جانے والے سال کے دوران ضلع میں سیکورٹی کی صورتِ حال غیر مستحکم رہی، جس کی ایک وجہ ضلع میں زمینی تنازعات کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ مثال کے طور پر مئی 2020ء میں قبائلی ضلع کرم میں پاڑہ چمکنی قبیلے اور بالش خیل قبائل کے مابین پھوٹ پڑنے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ اسی طرح کرم اور اورکزئی میں اراضی کی ملکیت کے تنازعات ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ تنازعات کی صورت میںجنم لے سکتے ہیں۔ کرم کے علاوہ نئے ضم ہونے والے دیگر چھے اضلاع سے بھی زمین کے تنازعات کے 15 واقعات کی اطلاعات ملی ہیں، جن میں ایف آر سی ڈیٹا بیس کے مطابق 158 قبائلی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایف آر سی کی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے سال 2020ء کے دوران عام شہریوں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ، سرحد پار سے حملے، اغوا اور IED حملوں کا استعمال کیا۔ سال 2020ء کے دوران نئے ضم شدہ اضلاع میں عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے 53 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ایک ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ جنوبی وزیرستان کے ضلع میں عارف وزیر کی تھی۔ یکم مئی 2020ء کو پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ایک سینئر رہنما عارف وزیر اُس وقت ہلاک ہوگئے جب جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر وانا میں نامعلوم مسلح افراد نے اُن پر گولی چلائی۔ سال 2020ء کے دوران عسکریت پسندوں کی جانب سے خواتین، خاص طور پر غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں کو دھمکیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنا چھوڑ دیں اور قریبی مرد رشتے داروںکے بغیر گھروں سے باہر جانے سے گریز کریں۔ ان واقعات سے قبل عسکریت پسندوں نے پمفلٹ بھی تقسیم کیے تھے جن میں مقامی باشندوں کو متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ اونچی آواز میں موسیقی بجانا بند کردیں اور کسی قریبی مرد رشتے دار کے بغیر خواتین کو باہر جانے سے روکیں۔ اس عرصے میں دہشت گردوں نے شہریوں اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے آئی ای ڈیز کے حملوں کا بھی استعمال کیا۔ مجموعی طور پر 45 آئی ای ڈی حملے رپورٹ کیے گئے ہیں جن میں دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر، کرم، اورکزئی اور باجوڑ قبائلی اضلاع میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند زیادہ تر افغانستان کے علاقے برمل میں مقیم ہیں، لیکن اطلاعات ہیں کہ ٹی ٹی پی سے وابستہ کچھ گروپ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع کے کچھ علاقوں میں واپس آگئے ہیں اور وہاں اپنے نیٹ ورک کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مزید یہ کہ جولائی 2020ء میں تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں کے اتحاد سے اس گروپ کو علاقے میں اپنی موجودگی بڑھانے میں مزید مدد ملی ہے۔ ایف آر سی کے مطابق اس سے قبل عسکریت پسند شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے خلاف حملے کررہے تھے، لیکن ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کے دوبارہ متحد ہونے کے بعد ان کی عملی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مندرجات کے مطابق صادق نور گروپ، حافظ گل بہادر گروپ، علیم خان گروپ، جماعت الاحرار، حزب الاحرار، حکیم اللہ گروپ، لشکر جھنگوی، موسیٰ شہید کاروان گروپ وغیرہ نے اپنے اختلافات کو ختم کیا ہے اور مفتی نور ولی محسود سے بیعت کا وعدہ کیا ہے۔ مفتی نور ولی محسود نے ٹی ٹی پی کا چارج سنبھالنے کے بعد عسکریت پسندوں کی تنظیموں کو دوبارہ متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ واضح رہے کہ مفتی ولی ٹی ٹی پی کی چھتری تلے تمام چھوٹے عسکریت پسند دھڑوں کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے لشکرِ اسلام کے سربراہ منگل باغ سے بھی ٹی ٹی پی میں شمولیت پر راضی ہونے کے لیے بات چیت کی ہے، لیکن اب تک وہ منگل باغ کو ٹی ٹی پی میں شامل ہونے پر راضی نہیں کرسکے ہیں۔ اس سے قبل ٹی ٹی پی کی مختلف تنظیموں کے مابین قیادت پر چھاپوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی دھڑے بندی نے خاص طور پر جون 2014ء میں فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد اس گروپ کو کمزور کردیا تھا۔ تاہم اس اتحاد کی وجہ سے ٹی ٹی پی کو تقویت ملی ہے۔ ایف آر سی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ اتحاد کی وجہ سے ٹی ٹی پی کی طاقت اور رسد میں نمایاں اضافہ ہوگا، کیونکہ مذکورہ گروپوں کے پورے ملک میں نیٹ ورک موجود ہیں۔
رپورٹنگ سال کی پہلی ششماہی (جنوری تا جون) کے دوران 57 پُرتشدد واقعات کے مقابلے میں سال کے دوسرے نصف (جولائی تا دسمبر) کے دوران 113پُرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2020ء کے دوران 96 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ چار سال کے وقفے کے بعد شمالی وزیرستان میں سر قلم کرنے کا پہلا واقعہ پیش آیا۔ سر قلم کرنے کا واقعہ نئے ضم شدہ اضلاع میں تحریک طالبان کے دوبارہ وجود میں آنے کی طرف واضح اشارہ ہے۔ دہشت گردی کے حملوں کی موجودہ لہر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند نہ صرف نئے ضم ہونے والے اضلاع پر حکومتی کنٹرول کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں بلکہ اپنی سرگرمیاں بڑھانے اور صوبے کے پُرامن علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں میں بھی مصروف ہیں۔ فاٹا ریسرچ سینٹر کے مطابق ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند سال 2020ء کے دوران بھتا خوری اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے مالی اعانت جمع کررہے ہیں۔ ایف آر سی کے مطابق ٹی ٹی پی سے وابستہ عسکریت پسند ترقیاتی منصوبوں میں 13 سے 20 فیصد کمیشن کا مطالبہ کررہے ہیں، جب تک کمیشن کی ادائیگی نہیں کی جاتی تب تک کسی بھی منصوبے پر کام شروع نہیں کیا جاسکتا۔ بھتا خوری کے بیشتر معاملات میں متاثرہ افراد مقامی پولیس میں ان کا اندراج نہیں کراتے، اور اس طرح کے مسائل ٹی ٹی پی سے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عسکریت پسندوں نے سال 2020ء کے دوران اپنی سرگرمیوں کی مالی اعانت کے لیے بھتا خوری کے علاوہ اغوا برائے تاوان کا بھی استعمال کیا ہے۔ ایف آر سی کے ڈیٹا بیس کے مطابق رپورٹنگ سال کے دوران اغوا برائے تاوان کے 8 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں جنوبی وزیرستان کے مکین کے علاقے سے ایک انجینئر سمیت ایک غیر سرکاری تنظیم کے دو ملازمین کا اغوا شامل ہے۔
ایف آر سی کی زیر نظر رپورٹ کے اعداد وشمار اس بات کے غماز ہیں کہ پچھلے سال کے دوران قبائلی اضلاع میں بدامنی کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جس کا ثبوت پچھلے چند دنوں کے دوران شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں اضافے کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ کے پے درپے واقعات کا ظہور پذیر ہونا ہے، جن میں اب تک ایک درجن کے قریب سیکورٹی اہلکار جام شہادت نوش کرچکے ہیں، جبکہ ان حملوں کے ردعمل میں سیکورٹی فورسز نے بھی خفیہ اطلاعات پر جو کومبنگ آپریشن شروع کیا ہے اُس میں کئی عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ واضح رہے کہ اس طرح کے ایک حالیہ آپریشن میں طالبان کے سجنا گروپ سے وابستہ مشتبہ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے اور ایک کو زندہ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ نشانہ بنائے جانے والوں میں بارودی سرنگیں بنانے اور لگانے کا ایک ماہر بھی شامل ہے جس کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے باعث سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی نشانہ بنتے رہے ہیں۔ دریں اثناء قبائلی اضلاع میں بدامنی کے واقعات میں اضافے کی بعض دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ قبائلی اضلاع میں قیامِ امن اور خاص کر یہاں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کیے جانے والے وعدوں اور اعلانات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کا نہ ہونا ہے جس سے قبائلی عوام کے احساسِ محرومی میں اضافے کے ساتھ ساتھ صوبے میں قبائلی اضلاع کے ضم کیے جانے پر بھی بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ ان میں جہاں انضمام مخالف حلقے پیش پیش ہیں، وہیں وہ افراد بھی شامل ہیں جو انضمام کے حوالے سے متذبذب تھے، لیکن جب انضمام کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچ گیا تھا تو یہ لوگ انضمام کے حق میں ہوگئے تھے۔ لیکن اب جب انضمام کے فوائد اور اثرات سامنے آنے میں بعض رکاوٹیں پیش آرہی ہیں تو یہ لوگ ایک بار پھر تذبذب کا شکار ہوکر انضمام مخالف حلقوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ درحقیقت حکومت نے انضمام کے وقت قبائل کو خوشحالی اور ترقی کے جو سبز باغ دکھائے تھے وہ اب سراب ثابت ہورہے ہیں، جس سے قبائل میں ایک انجان ہیجانی کیفیت پائی جاتی ہے جو دہشت گردی کے حالیہ حملوں، نیز 2020ء کے دوران بدامنی کے واقعات میں بے پناہ اضافے کی صورت میں دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے اور قبائل کے ضبط اور برداشت کا بند ٹوٹ جائے، حکومت اور متعلقہ اداروں کو قبائل کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر فی الفور عمل درآمد کا آغاز کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں طے شدہ اقتصادی ترقیاتی پیکیج پر عمل درآمد کے علاوہ قبائل کو سیاسی ڈائیلاگ کے عمل میں بھی شریک کرنا ہوگا، خاص کر پچھلے کچھ عرصے کے دوران حکومت نے پی ٹی ایم کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے توقع ہے کہ حکومت اور مقتدر ادارے اس پر بھی نظرثانی کرتے ہوئے پی ٹی ایم کی قیادت سمیت قبائلی اضلاع میں اثر ونفوذ رکھنے والی سیاسی جماعتوں اور راہنمائوں کو اعتماد میں لے کر قبائل سے متعلق تمام فیصلے مشاورت سے کریں گے۔

Share this: