بگٹی ہاؤس کا نواب: افغانستان پرروس کا قبضہ

Print Friendly, PDF & Email

قوم پرست سیاست دانوں کے خیالات

افغانستان پر سوویت جارحیت کے بعد مسلسل اس مسئلہ پر میری سوچ قوم پرست اور روس نواز حلقوں کے برعکس تھی اور بڑی گہرائی اور دلچسپی سے کمیونسٹ روس اور افغان مجاہدین کی کشمکش کا تجزیہ بھی کرتا تھا اور غور و فکر بھی کرتا تھا روس نواز پارٹیوں اور ان کے طلبہ گروہوں کے بیانات اور ان کی پیش رفت پر بھی غوروفکر کرتا تھا افغانستان پر سوویت جارحیت کے بعد 1979ء میں ایران میںاسلامی انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ ان دونوں کا تجزیہ بھی کرتا تھا یہ حیرت انگیز تاریخ کا مرحلہ تھا کہ ایک طرف افغانستان میں سرخ سامراج کی فوج ایک مسلم ملک کو تاراج کر رہی تھی تو دوسری طرف ایران میں امام خمینی کی حیرت انگیز شخصیت نے ایک طاقتور امریکی پٹھو کی حکومت کو اٹھا کر پھینک دیا۔ افغانستان اور ایران دونوں ہمسایہ ملک ہیں اور پاکستان ان دونوں کا برادر اسلامی ملک ہے۔ ان دونوں کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے تھے ایک طرح کی عجیب کشمکش تھی ان تمام تبدیلیوں پر میری گہری نظر تھی ان کی ماضی کی تاریخ پر بھی نظر تھی دونوں انقلاب کے اثرات پاکستان پڑ رہے تھے یہ ایک دلچسپ اور حیرت انگیز منظر تھا یہ عجیب اتفاق ہے کہ دونوں ممالک ہیں بادشاہت تھی ایک بادشاہت امریکن اور مغرب نواز تھی تو دوسری طرف روس نواز!
روس نواز بادشاہت کا خاتمہ ظاہر کے سالے نے ان کا تختہ الٹ دیا یہ پہلا مرحلہ تھا سردار دائود نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد جلد ہی افغانستان میں سرخ فوج داخل ہو گئی اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔ حفیظ اللہ امین کو قتل کیا گیا اور اقتدار مکمل روس نواز کمیونسٹوں کے ہاتھوں میں تھما دیا گیا۔ نورمحمد ترہ کئی سے اس دور کا آغاز ہوا تھا تو دوسری طرف ایران کی بادشاہت ایک طاقتور عوامی قوت سے شہنشاہ کی طاقتور فوج کو شکست دے کر اقتدار امام خمینی کے ہاتھ میں آگیا اور دوسری طرف ایک سازش کے ذریعہ سرخ فوج کے بل بوتے پر کمیونسٹ انقلاب کو دوام دیا گیا۔ افغانستان نے ہی سرخ سامراج کو بدترین شکست دی اور اس کے نتیجے میں سوویت یونین کا وجود تاریخ سے مٹ گیا افغانستان میں سوویت یونین کی جارحانہ مداخلت کے اثرات پاکستان کے قوم پرستوں، کمیونسٹوں پر پڑ رہے تھے اس دور کے اخبارات میں ان کے بیانات ریکارڈ پر ہیں ان کو دیکھا جا سکتا ہے میری پاس بھارت کے ممتاز صحافی راجندرا سرمین کی کتاب Paksitan The Indian Faeto میری لائبریری میں موجود ہے اس میں پاکستان کے 24 سیاستدانوں کے انٹرویو ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کا انٹرویو بھی ہے۔ قوم پرست سیاستدان ولی خان، نواب اکبر خان بگٹی، غوث بخش بزنجو کے انٹرویو ہیں اس صحافی کی کتاب 28 اکتوبر 1983ء کو نیودہلی سے شائع ہوئی ہے نواب بگٹی نے کتاب تحفہ میں دی چند جملے بھی لکھے ہیں اور دستخط بھی ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے 2 نومبر 1985ء کو دی۔
راجندر سمرین نے یہ انٹرویو ان کی رہائش گاہ بگٹی ہائوس میں کیا اور اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انٹرویو ان کو تحریری طور پر پیش کیا گیا تا کہ وہ پڑھ لیں اور کچھ نکالنا ہو تو بتا دیں اس کے بعد اس نے انٹرویو کتاب میں شائع کرایا۔
نواب بگٹی نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے اس انٹرویو کے اس حصہ کو لیا ہے جہاں وہ افغانستان کا تجزیہ کر رہے تھے یہ ایک دلچسپ اور سبق آموز انٹرویو سے قارئین اس کو ذرا دلچسپی اور غور سے پڑھیں تا کہ اس کا اندازہ ہو جب سوویت یونین اور افغان مجاہدین آمنے سامنے تھے اور بلوچستان کے قوم پرست لیڈر کیا کہہ رہے تھے اور تاریخ کا فیصلہ تھا اس کا نقشہ اس وقت سامنے آگیا جب سرخ استعمارنے تاریخی شکست کھائی اور اپنے ملک لوٹ گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا اب وہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔
نواب بگٹی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ایران کا انقلاب اسلامی ہے اور افغانستان کا انقلاب سوشلسٹ ہے دوسری طرف ایران نے روس کی طرف سے اور نہ امریکہ کی طرف یہ انقلاب اپنا آپ ہے۔ نواب نے کہا کہ ایک امریکن صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ خمینی امریکہ کا حامی ہے یا روس کا؟ میرا جواب تھا کہ خمینی خدا کا ایجنٹ ہے اپنے دوستوں سے اکثر ایران کے انقلاب کے حوالہ سے بات چیت کرتا ہوں تو ان سے کہتا ہوں کہ یہ انقلاب تبدیلی کے حوالے سے پہلا مرحلہ ہے یہ ایک درمیانی مرحلہ ہے جو بالآخر اپنے آخری مرحلہ میں اور بالآخر ایران کا انقلاب سوشلزم کی جانب چلا جائے گا۔ سوال ہوا کہ کیا یہ درمیانی مرحلہ ہے؟ بگٹی نے کہا ایران دوسرے سسٹم کی طرف چلاجائے گا اس مرحلہ کو ایران دو سال یا تین سال یا چھ سال میں طے کرے گا تمام واقعات اور حالات اور وجوہات ایران کو روس کی طرف لے جائیں گے اور ایران روس کے دائرے میں چلا جائے گا۔ (یعنی روس نواز بن جائے گا) نواب نے کہا سوویت یونین اپنے کارڈ بڑے احتیاط سے کھیل رہا ہے۔ افغانستان میں نور محمد ترہ کئی کو حفیظ اللہ امین نے ہٹا دیا ہے میں حفیظ اللہ امین سے ملاہوں یہ میرے دورہ کابل کے دوران ملاقات ہوئی تھی یہ 1972ء کا سال تھا حفیظ اللہ امین انتہائی ذہین شخص ہے اور دانشور ہے لیکن اسے بھی ہٹا دیا گیا ببرک کارمل نے اقتدار سنبھال لیا یہ ایک خونریز تصادم کے بعد ہوا اور کسی نے حفیظ اللہ امین کی لاش پر آنسو نہیںبہائے۔ یہ ایک المیہ تھا ببرک کارمل کی پرچم پارٹی سوویت یونین کے بہت قریب ہے نیپ ولی خان پارٹی سرحد کی اور حفیظ اللہ امین کی حامی نہ تھی ولی خان بہت ناراض تھے جو کچھ افغانستان میں ہو رہا تھا نواب بگٹی نے کہا ولی خان کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے جب سردار دائود کا قتل ہوا تو انہوں نے کہا ہم اس کا انتقام لیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں نواب بگٹی نے کہا: پاکستان کو چاہیے کہ افغانستان کی حکومت کو تسلیم کر لے اور پاکستان امریکہ کے لیے استعمال نہ ہو لیکن امریکہ NO کہتا ہے تو پاکستان بھی امریکہ کا NO کہنے میں ہم نوا ہے ایک اور سوال کے جواب میں بڑا دلچسپ جواب دیا اور کہا جب سے سوویت یونین افغانستان میں آیا ہے اس نے ابھی تک کوئی سخت کارروائی نہیں کی ہے اگر سوویت یونین سخت پالیسی اختیار کرے تو افغانستان میں مخالفین کو چند ہفتوں میں ختم کر سکتا ہے۔ پاکستان میں جو مجاہدین ہیں وہ بہت کم افغانستان میں موثر ہو سکتے ہیں۔ افغانستان میں بہت تھوڑے لوگ ہیں جو مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان میں 6 یا 8 مجاہدین کی پارٹیاں ہیں جن کی پاکستان بعض عرب اور مغربی ممالک مدد کر رہے ہیں یہ جنگ صرف ڈالروں کے لیے ہے افغانستان میں کوئی مسلح مزاحمت نہیں ہو رہی ہے بلکہ صرف پروپیگنڈہ ہے، جدوجہد کا صرف پروپیگنڈہ ہے۔ پانچ یا چھ مہینوں کے بعد یہ مزاحمت دم توڑ دے گی۔
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب افغانستان کے انقلابی حکومت ختم کر دے گی اور سوویت یونین کو وہاں سے نکال دے گی تو میری رائے میں ایسا ہونا ناممکن ہے۔ افغانستان کی صورت حال اس حوالہ سے “Lord Carringlon” کے مطابق انقلاب کو واپس دھکیل دینا میرے نزدیک ناممکن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نواب بگٹی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا ’’میں محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان سوویت یونین کے زیادہ قریب ہے اس لیے کہ ہماری سرحدیں اس سے ملتی ہیں اور سوشلزم پوری دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کا قالین لپیٹا جارہا ہےجنگ عظیم دوم سے پہلے صرف ایک ملک کمیونسٹ تھا اور وہ روس تھا اس کے بعد ہر سال ایک یا دو ممالک کمیونسٹ بن رہے ہیں اور ہم نے کبھی نہیں سنا کہ کوئی سوشلسٹ ملک سرمایہ دارنہ نظام کی طرف لوٹ گیا ہو‘‘۔
غوث بخش بزنجو مرحوم سے ایک انٹرویو کوئٹہ میں 7 اپریل 1982ء کو لیا گیا تھا یہ بھی بڑا دلچسپ ہے اس انٹرویو سے صرف اس حصہ کو لے رہا ہوں جہاں انہوں نے افغانستان میں جدوجہد کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وہ ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں: ’’اگر سوویت یونین کی فوج افغانستان میں مداخلت نہ کرتی تو صدر افغانستان ببرک کارمل کے لیے افغانستان کو بچانا ناممکن ہوتا یہ وجہ تھی کہ روس کو مداخلت کے لیے کہا گیا۔ سوویت یونین مجبور ہوا کہ مداخلت کرے بعض ممالک کے نزدیک سوویت یونین کی مداخلت غلط ہو گی لیکن ان کی وجہ سے یہ مداخلت کرنا پڑی۔
ایک سوال کے جواب میں غوث بخش بزنجو نے کہا: جب تک حالات درست نہیں ہو جاتے سوویت یونین واپس نہیں جائے گا۔ اس کا انحصار سوویت یونین پر نہیں ہے بلکہ مغربی ممالک پر ہے اور ان کے ہمنوا ممالک پر ہے حالات نے سوویت یونین کو مجبور کیا کہ وہ افغانستان میں داخل ہو تا کہ افغانستان میں صورت حال کو قابو پائے اگر مغربی ممالک ایسا نہیں کریں گے تو سوویت یونین کی فوج واپس نہیں جائے ی۔ میرے نزدیک سوویت یونین کی واپسی کا باب بند ہو چکا ہے۔ افغانستان میں بند ہو چکا ہے، افغانستان کبھی بھی مغربی ممالک کے زیر اثر نہیں جائے گااس باب کو ختم سمجھیں۔
ایک سوال کے جواب میں بڑا دلچسپ جواب میر غوث بخش بزنجو نے دیا اور کہا ’’صرف افغانستان کی حکومت کے تحفظ کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف خود سوویت یونین کے تحفظ کا مسئلہ ہے افغانستان سے سوویت یونین کبھی بھی واپس نہیں جائے گا جب تک مسئلہ حل نہیں ہو جاتا کوئی پروپیگنڈہ سوویت یونین کو واپسی کے لیے مجبور نہیں کر سکتا اور تجزیہ کرتے ہوئے میر غوث بخش بزنجو نے کہا تم سوویت یونین کو طاقت سے واپسی کے لیے دھکیل نہیں سکتے ہو اور نہ اسے مجبور کر سکتے ہو نہ سبوتاژ سے نکال باہر کر سکتے ہو‘‘۔
تم سویوت یونین کی سرخ فوج کو قوت سے نکال نہیں سکتے ہو یہ ایک انتہائی احمقانہ خیال ہے نہ اسے شکست دے سکتے ہو اس طرح کے احمقانہ خیالات تلخیاں بڑھا دیں گے۔ اس طرح کے خیالات پاکستان کے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہا افغانستان دوبارہ مغربی ممالک کے زیر اثر چلا جائے گا یہ ناممکن ہے اب اس باب کو ختم سمجھو۔
یہ خیالات بلوچستان نے ممتاز سیاست دانوں کے ہیں اور تاریخ کا فیصلہ ان کی خواہشات کے برعکس نکلا۔ ذکر کر چکا ہوں کہ 1978ء سے مختلف مواقعوں پر نواب صاحب سے افغانستان کے مسئلہ پر بحث ہوتی رہی وہ اپنے موقف پر قائم تھے لیکن بعد میں حالات بدلتے گئے تو ان کے خیالات میں تبدیلی آتی گئی ان کے پوتے براہمداغ کی ختنہ کی رسم کے موقع پر ان کے دوست مدعو تھے۔ مجھے بھی دعوت دی یہ میرا خیال ہے جارحیت کو 5 سال یا 6 سال گزر گئے تھے ہوٹل میں تقریب تھی میں ان کے قریب بیٹھ گیا اور ان سے سوال کیا کہ نواب صاحب اب آپ کی کیا رائے ہے۔ سوویت یونین تو ناکام ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ سوویت یونین نے سختی سے جواب نہیں دیا اور کہا کہ اگر میں ہوتا تو دیکھتا۔ ان سے ہنستے ہوئے کہا کہ نواب صاحب کیا آپ سوویت یونین سے زیادہ طاقتور ہیں میری طرف دیکھا اور خاموش ہو گئے اب ان کے خیالات میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی تھی۔
(جاری ہے)

Share this: