فیصل آباد:حفاظتی ٹیکوں کی مہم

Print Friendly, PDF & Email

یوٹیلیٹی اسٹور۔ انتظامی غفلت کا شکار

یونیسیف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اشتراک سے شہری علاقوں میں ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن مہم شروع ہوگئی ہے، جس کے دوران 9 ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے 17 لاکھ 20 ہزار 156بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے، جس کے لیے تربیت یافتہ 999 ٹیمیں اسکولوں سمیت فکسڈ پوائنٹس پر مامور ہوں گی۔ 12 روزہ مہم 15 فروری تک جاری رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر محمد علی نے جھنگ روڈ پر چلڈرن ہسپتال میں اپنی نگرانی میں بچوں کو ٹیکے لگواکر مہم کا افتتاح کیا اور بچوں کی انگلیوں پر نشانات بھی لگائے، جبکہ انہیں پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطرے بھی پلائے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل خرم پرویز، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق سپرا، ڈی ایچ او ڈاکٹر بلال احمد، ایم ایس ڈاکٹر حبیب احمد بٹر، یونیسیف کے نمائندے حبیب لغاری، ہیلتھ ایجوکیشن آفیسر شفیق احمد آصف اور دیگر ڈاکٹر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مہم کے تمام تر انتظامات مکمل ہیں اور ٹیموں کی جدید خطوط پر تربیت کے علاوہ والدین، علمائے کرام، سول سوسائٹی، میڈیا، بزنس کمیونٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی آن بورڈ لیا گیا ہے۔
دوسری جانب سی پی او فیصل آباد کیپٹن(ر) محمد سہیل چودھری کی ہدایت پر ٹائیفائیڈ مہم کے سلسلے میں ہیلتھ ورکرز کی حفاظت کے لیے پولیس کا سیکورٹی پلان جاری کردیا گیا جس میں5 ایس پی، 13 ڈی ایس پی، 2 سب انسپکٹر، 48 اے ایس آئی،44 ہیڈکانسٹیبل کے ساتھ ساتھ 323 اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ اہلکاروں کی ڈیوٹی کا آغاز پولیو ورکرز کی ڈیوٹی کے ساتھ ہوگا اور اختتامِ ڈیوٹی تک ساتھ رہنے کے پابند ہوں گے۔ ہر تھانے کے ایس ایچ او کے ساتھ ساتھ موبائل افسر اور ایگل اسکواڈ ڈیوٹی کو لمحہ بہ لمحہ الرٹ رکھیں گے تاکہ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہونے پائے۔ سی پی او فیصل آباد نے پولیو ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو واضح کیا کہ ڈیوٹی میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپروائی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ایس ایچ اوز اور محرران کو حکم دیا کہ جس علاقے میں پولیو ورکرز کی ٹیم کے ساتھ اگر ڈیوٹی مکمل نہ ہوئی تو محرر اور ایس ایچ اوز دونوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
فیصل آباد میں 100 سے زائد یوٹیلٹی اسٹور انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سامان کی متواتر سپلائی 6 ماہ سے زائد گزرنے کے بعد بھی یقینی نہ بن سکی۔ چینی، گھی، کوکنگ آئل، آٹا، دالیں اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی سپلائی نہ دئیے جانے کی وجہ سے شہری حکومتی ریلیف سے محروم ہیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن حکام کی جانب سے محدود مقدار میں کئی کئی دن کے وقفے کے بعد چینی اور آٹے کے تھیلے چند مخصوص اسٹورز پر سپلائی کیے جاتے ہیں، جن سے صرف 10 سے 15 فیصد شہریوں کی ضروریات پوری ہوپاتی ہیں، جبکہ 85سے 90 فیصد شہری حکومتی ریلیف سے محروم رہتے ہوئے مارکیٹوں سے مہنگے داموں خریداری پر مجبور ہیں۔ اسٹورز کی بحالی اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے حکام کو حکومت کی جانب سے مختلف اوقات میں 16 ارب روپے سے زائد مالیت کی خطیر سبسڈی فراہم کی جاچکی ہیں، لیکن اس سے بھی چند اسٹورز کی صورت حال مخصوص ٹائم کے لیے بہتر بناتے ہوئے حکام کو ’سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ دے دی گئی۔ ذرائع کے مطابق شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے آنے والے سامان کو اسٹورز پر سپلائی کرنے کے بجائے افسر اور ملازمین کی جانب سے ہول سیل ڈیلرز کو فروخت کرتے ہوئے بوگس سیل رپورٹس بناکر خود اپنی جیب بھر لی جاتی ہے۔ زونل منیجر یوٹیلٹی اسٹورز عمران گیلانی کہتے ہیں کہ سامان کی متواتر سپلائی اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔

Share this: