گوجرانوالہ:ضمنی انتخابی مہم

Print Friendly, PDF & Email

اندرون شہر تجاوزات

گوجرانوالہ میں ضمنی انتخاب کے لیے امیدواروں کی مہم زوروں پر ہے، حکومت اور اپوزیشن جماعتیں کامیابی کے لیے زور لگا رہی ہیں، تحریک انصاف کے رہنمائوں نے کہا کہ جمہوریت کے نام پر دو بڑی سیاسی جماعتوں نے ملک کو جس بے دردی سے نوچا ہے، اسے بہتر حالت میں آنے کے لیے عشرے لگ سکتے تھے، مگر عمران خان کی قیادت میں مثبت نتائج مل رہے ہیں، جلد مافیاز سے نجات ملے گی اور ملک کو تین عشروں سے جاری بحرانوں سے نکال لیا جائے گا، عوام19فروری کو بلے کے نشان پر مہر لگا کر ملکی تباہی کے ذمہ داروں کو آئینہ دکھائیں۔
کوآرڈینیٹر پنجاب حکومت احمد چٹھہ، چودھری محمد یوسف، شبیر اکرم چیمہ، مستنصر علی ساہی نے یوتھ ونگ کے ورکرز کنونشن سے خطاب کیا۔ اس موقع پر میاں محمد اکرم پہلوان، مہر خالد مجید، وقار اشرف کلیر، وقار انجم ہیپی، شہروز عباس چیمہ، حاجی نصیر آرائیں، پروین شیخ، چیئرمین مارکیٹ کمیٹی شہباز چیمہ، افضل چیمہ،کاشف وڑائچ، حافظ عمران احمد، لالہ محمد خلیل ودیگر نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ نوجوانوں کی بات کی ہے، ملکی آبادی کے 63فیصد پر مشتمل نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے دن رات کام کیا جارہا ہے، نون لیگ کی سیاست کا دار و مدار نالیوں اور گٹروں کی تعمیرات کے وعدوں تک محدود ہے، ہم شہریوں کے حقوق کی بحالی کے لیے کام کریں گے، اسمبلیوں میں عام آدمی کی آواز بنیں گے۔
اندرون شہر 25بازاروں میں تجاوزات مافیا قابض ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے دعووں کے باوجود آپریشن شروع نہیں ہوسکا، جی ٹی روڈ اور دیگر شاہرات پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرکے ریڑھی بانوں کو ہٹانا معمول بن گیا، اور اندرون شہر تجاوزات کے باعث بازار سکڑ رہے ہیں۔ شہر کے معروف تجارتی مراکز کسیرا بازار، گلی آرائینانوالی، مسافر خانہ، چوک چشمہ، صرافہ بازار، ریل بازار، مچھلی منڈی بازار،کلاتھ بورڈ مارکیٹ، سید نگری بازار اور ملحقہ مارکیٹوں میں دکانوں کے باہر پھٹے اور دیگر تجاوزات سے بڑھنے والا رش عوام کے لیے مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔ رکشہ اور گاڑیوں کی ناجائز پارکنگ اور دکان داروں کے دکانوں کے باہر نمائش کے لیے پھٹے لگانے کی وجہ سے سڑکیں سکڑ کر رہ گئی ہیں۔ اسکول جانے والے بچوں سمیت کاروباری حضرات کو تجاوزات کے باعث ہونے والے رش سے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اندرون شہر تجارتی مراکز خوانچہ فروشوں اور ریڑھی بانوں کے قبضے میں ہیں، اور تجاوزات کو ہٹانے میں ضلعی انتظامیہ اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا کردار کہیں نظر نہیں آتا، جس کے خلاف شہریوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ عملہ تہہ بازاری کی بھتہ خوری کے باعث تجاوزات قائم کرنے والوں کے حوصلوں کو تقویت حاصل ہے جو سارا دن بازاروں میں براجمان ہوکر بازاروں سے گزرنا محال کیے ہوئے ہیں، خریداری کے لیے آنے والوں کا بازاروں سے گزرنا محال ہوچکا ہے، جبکہ بلدیہ انتظامیہ غفلت کی نیند سو رہی ہے۔ کسیرا بازار، گلی آرائینانوالی، مسافر خانہ، چوک چشمہ، صرافہ بازار، ریل بازار اور دیگر بازاروں میں تجاوزات کے ساتھ انتظامیہ کی غفلت کے باعث بازاروں کے باہر چوکوں میں رکشہ اسٹینڈ بن چکے ہیں، جو عوام اور مقامی دکان داروں کے لیے دردِ سر بنے رہتے ہیں۔

Share this: