موسم سرما.. لاکھوں مستحق خاندان ہماری توجہ کے منتظر

Print Friendly, PDF & Email

روئے زمین پر زندگی کے وجود کو قائم رکھنے اور اس کی نشوونما کے لیے مختلف موسموں کا ایک مربوط اور منظم نظام بھی خدا تعالیٰ کی اپنی مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اس کائنات میں بسنے والا ہر ذی روح ان ماحولیاتی اثرات کے زیرِ اثر رہتا ہے۔ موسموں کے نظام میں تغیر کے موجودہ حالات کے باعث مختلف امراض کے جنم لینے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اپنی خوراک، لباس اور دیگر معمولاتِ زندگی کو اس تبدیلی کی مناسبت سے ڈھالا جاتا ہے۔ کیونکہ ذرا سی بے احتیاطی سے یہ موسم آپ کے لیے رحمت سے زحمت بن سکتا ہے۔ پاکستان شدید موسموں والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کے بالائی اور میدانی علاقوں میں برف باری اور سرد ہواؤں کا راج ہے، شمالی علاقہ جات اور بلوچستان میں برف باری جاری ہے۔ صاحبِ ثروت خاندان قیمتی گرم کپڑوں اور خوراک و دیگر وسائل کے ساتھ اس موسم سے لطف اندوز ہورہے ہیں، جبکہ سیر و سیاحت کے شوقین انتہائی سرد موسم میں سیر و تفریح کے لیے برف باری سے مزین علاقوں کا رخ کررہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بہت بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو اپنی غربت اور بے بسی پر آنسو بہا رہے ہیں، جن کے لیے موسم سرما کی آمد کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ ان کی اکثریت یا توکھلے آسمان تلے سڑکوں پر، یا پھر کپڑے کے جھونپڑوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ایسے میں بارش کی آمد ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ کورونا جیسی عالمی وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت زیادہ لوگ ایسے ہیں جو آج بھی فاقہ کشی کا سامنا کررہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں وہ کیسے اپنے آپ کو سردی سے بچائیں گے؟ اپنے بچوں کے لیے کیسے گرم کپڑے خریدیں گے؟ غریب خاندان ہیٹر چلاسکتے ہیں نہ انگیٹھی۔ مہنگائی کے باعث لنڈا کے پرانے گرم کپڑے خریدنا بھی ان کے لیے محال ہے۔ شدید موسم نے بہت سارے سوال کھڑے کردیئے ہیں، کیونکہ پڑوسی کا خیال، غریبوں کا خیال، کمزوروں کو سہارا، انسانی ہمدردی… یہ سب فرمان، خیالات، نظریات اسٹیج سے کتاب تک اور تقریر سے تحریر تک محدود ہوگئے ہیں۔
الخدمت فائونڈیشن دُکھی انسانیت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ الخدمت جیسے فلاحی ادارے اور مخیر حضرات ہیں جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں، انہیں اس بات کا احساس ہے کہ ہم غریبی کا خاتمہ تو نہیں کرسکتے لیکن خفیہ طریقے سے مستحق لوگوں کی امداد کرکے اللہ و رسولؐ کی خوشنودی ضرور حاصل کرسکتے ہیں۔ اور یہی جوش اور جذبہ ہر ایک میں ہونا چاہیے۔ الخدمت کی جانب سے شروع کی گئی بہت سی چھوٹی چھوٹی کاوشیں اللہ کے فضل و کرم، الخدمت کے کارکنان کی بے لوث خدمت اور صاحبِ استطاعت افراد کے تعاون سے اب باقاعدہ پروگرام کی شکل میں جاری ہیں۔ ونٹر پیکیج بھی ایسی ہی ایک خوبصورت مثال ہے۔
ملک کے دور دراز پہاڑی، میدانی اور دشوار گزار علاقوں میں جہاں عام طور پر اہلِ خیر کی رسائی ممکن نہیں ہوتی، وہاں الخدمت کے رضاکار منظم طریقے سے مخیر حضرات کے تعاون سے غریب خاندانوں میں گرم کپڑوں، لحاف، کمبل یا رضائیوں پر مشتمل ونٹر پیکیج کی تقسیم کو ممکن بناتے ہیں۔ گزشتہ لاک ڈاؤن، اور بارش و سیلاب کی صورتِ حال میں الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے ملک بھر میں غریب خاندانوں کی جس طرح دادرسی کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ موسم سرما میں جب ہر کوئی اپنے گھر میں گرم لحافوں میں دبکے خشک میوہ جات سے لطف اندوز ہونے کو ترجیح دیتا ہے، الخدمت کے رضاکار مخیر حضرات کے تعاون سے انھی سرد راتوں میں سڑکوں پر کھلے آسمان تلے پڑی ٹھٹھرتی زندگیوں کی فکر میں ہلکان ہوتے نظر آئے۔ شہر تو شہر، یہ شیر دل جوان پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری کے باوجود پیادہ قافلوں کی صورت میں میلوں کی دشوار گزار مسافت طے کرکے اپنے بے آسرا بھائیوں کے لیے ونٹر پیکیج لے کر پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ سڑک کنارے فٹ پاتھوں، پارکوں اور بس اسٹاپوں پر زندگی گزارنے والے بے گھر بھائیوں کو کمبل اور رضائیاں فراہم کیں۔ رواں موسم سرما میں الخدمت فائونڈیشن نے ملک کے مختلف شہروں سمیت دور افتادہ پسماندہ علاقوںمیں 28 ہزار مستحق افراد کو ونٹر پیکیج مہیا کیے ہیں، اور تقسیم کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ خدمتِ انسانی کے مقدس مشن میں مصروف ِ عمل الخدمت فائونڈیشن اپنی ایک قابل فخر تاریخ رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے الخدمت فائونڈیشن کو پاکستان کی نمایاں خدمت ِ خلق کی تنظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے، اور ہمارا سب سے بڑا سرمایہ، ہمارا ہراول دستہ ملک بھر میں پھیلے وہ ہزاروں بے لوث رضاکار ہیں جو صرف رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر بے سہارا اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔
اِن رضاکاروں کے ساتھ ساتھ ہمیں اندرون ملک اور بیرون ملک سے آپ جیسے صاحبِ خیر حضرات کا تعاون بھی حاصل ہے، جو اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے لیے دردِ دل رکھتے ہیں اور کسی بھی ناگہانی آفت یا ضرورت کے وقت امدادی سامان اور رقوم ارسال کرتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں آئی قدرتی آفات جیسے زلزلے اور سیلاب میں بھی الخدمت فائونڈیشن نے جہاں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کے تحت متاثرین کو ریسکیو کیا، اُنہیں طبی امداد مہیا کی اور اُن میں پکا پکایا کھانا، خشک راشن، خیمے، ترپال، ہائی جین کٹس تقسیم کیں، وہیں متاثرین میں جی۔ آئی شیٹس اور ونٹر پیکیج بھی تقسیم کیے گئے۔ یہ آپ کا الخدمت فائونڈیشن پر اعتماد اور بھروسا ہی ہے کہ جب الخدمت فائونڈیشن نے کسی مشکل گھڑی میں اپیل کی تو آپ نے زندہ قوم کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے لیے دل کھول کر مدد کی۔
فی الحال سردی عروج پر ہے، لیکن ہم اس مادی دنیا میں اتنے مگن ہیں کہ ہمیں ان غریبوں کی مصیبتوں، تکلیفوں، آہوں اور سسکیوں کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ہم آج بھی گرم لحافوں اور مہنگے کمبلوں کو چھوڑ کر اور اپنی نیند کی قربانی دے کر اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں رات کے اوقات میں جگہ جگہ فٹ پاتھوں، انڈر پاسز، مزاروں، تاریخی عمارتوں اور بے شمار مقامات پر بے آسرا اور بے سہارا سوتے ہوئے لوگ ملیں گے۔ ان حالات میں اگر آپ کسی ضرورت مند کے لیے چھت کا انتظام نہیں کرسکتے تو کم از کم جہاں اپنے لیے اور اپنے بال بچوں کے لیے گرم کپڑوں کی خریداری کریں، وہیں اپنے آس پاس مالی طور پر کمزور افرادکے لیے بھی گرم کپڑوں، کمبل اور رضائیوں کا بندوبست کرکے اُن کی تکلیفوں کو کسی حد تک کم تو ضرور کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کو نہ صرف اس نیکی کا اجر ملے گا، بلکہ غریب، بے سہارا اور ضرورت مند لوگوںکے لیے یہ نئے سال کا ایک تحفہ بھی ہوگا۔ ہمارا مذہب اسلام کہتا ہے کہ صدقہ و خیرات تمام بلاؤں کو ٹال دیتا ہے، اور مسلمان ہونے کے ناتے اس بات پر ہمارا کامل یقین بھی ہے۔
میرا مشاہدہ ہے کہ آپ جب بھی پریشانی اور بے چینی کا شکار ہوں تو کچھ رقم ضرورت مندوں میں ضرور خرچ کرکے دیکھیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسا کرنے کے بعدآپ کو جو ذہنی سکون اور اطمینان حاصل ہوگا وہ ناقابلِ بیان ہوگا۔
اس سرد موسم کو نیکی کا ذریعہ بنائیں، الخدمت فائونڈیشن آپ کو دعوت دیتی ہے کہ اس کڑے موسم کی شدت سے اپنے مجبور و مستحق بھائیوں کو محفوظ رکھنے کے مشن میں ہمارا ساتھ دیں۔ اپنے علاقوں میں نہ صرف الخدمت کے مراکز پر اپنا مالی حصہ ڈالیں، ونٹر پیکیج کو28 ہزار سے بڑھا کر ان ہزاروں، لاکھوں مستحقین تک پہنچائیں جو اس شدید سردی میں ہماری توجہ اور امداد کے منتظر ہیں۔ آپ کی یہ کاوش نہ صرف دنیا میںآپ کے لیے دلی راحت کا باعث بنے گی بلکہ توشہِ آخرت بھی ثابت ہوگی۔

Share this: