بچوں میں بھی کورونا وائرس ہلاکت خیز ہوسکتا ہے، تحقیق

Print Friendly, PDF & Email

عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ کورونا وائرس صرف بالغوں پر ہی حملہ آور ہوکر انہیں بیمار کردیتا ہے، اور بڑے پیمانے پر یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ اس مہلک وائرس سے بچے شدید متاثر نہیں ہوتے، اور نہ ہی انہیں اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم یہ بات اب اتنی بھی درست نہیں ہے۔ سائنسی جریدے جرنل آف ٹراپیکل پیڈیاٹرکس (جے ٹی پی) میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی کورونا سے متاثر ہوئی ہے اور ان میں سے کچھ کو پیچیدگیوں کی وجہ سے اسپتال میں داخل بھی ہونا پڑا ہے۔ دنیا بھر سے جمع ہونے والے پانچ ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے والے ہر تین میں سے ایک بچے کو شدید علامات کے باعث اسپتال میں داخل ہونا پڑا، اور کچھ کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت بھی پیش آئی۔
ایم آئی ایس یعنی ملٹی سسٹم سوزش اُس بیماری کو کہتے ہیں جس میں جسم کے اہم اعضاء جیسے دل، پھیپھڑوں، دماغ، آنکھوں اور گردوں پر سوجن آجاتی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ کووڈ-19 اور ملٹی انفلیمنٹری سینڈروم کے مابین کیا تعلق ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووڈ کے ساتھ ایم آئی ایس کے مریضوں میں ہلاکت کی شرح کووڈ کے بغیر ایم آئی ایس کے مریضوں سے 60 فیصد زیادہ تھی، یعنی جس طرح دل اور گردوں کے مریضوں کے لیے کورونا زیادہ ہلاکت خیز ہے اسی طرح بچوں میں ایم آئی ایس کے مریضوں میں کورونا زیادہ خطرناک ہے۔

جگر کو نقصان پہنچانے والی چیزیں

جگر انسانی جسم کا انتہائی اہم عضو ہے، جو غذا کو ہضم ہونے، توانائی ذخیرہ کرنے اور زہریلے مواد کو نکالنے کا کام کرتا ہے۔تاہم مختلف عادات یا وقت گزرنے کے ساتھ جگر کو مختلف امراض کا سامنا ہوسکتا ہے اور وائرسز جیسے ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آپ اپنے جگر کو مختلف بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ان عام چیزوں کے بارے میں جان لیں جو جگر کو نقصان پہنچاسکتی ہیں۔
چینی: بہت زیادہ میٹھا کھانے کے شوق کی قیمت بھی جگر کو چکانا پڑتی ہے (ذیابیطس اور دیگر امراض کا خطرہ الگ بڑھتا ہے)۔ کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق چینی جگر کے لیے الکحل جتنی ہی نقصان دہ ہوسکتی ہے، چاہے جسمانی وزن معمول کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔
ہربل سپلیمنٹس: ان سپلیمنٹس میں ”قدرتی“ کا لیبل ہی موجود کیوں نہ ہو، ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لیے فائدہ مند ہوں۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہربل سپلیمنٹس جگر کے افعال کو متاثر کرسکتے ہیں، جس سے ہیپاٹائٹس اور جگر کے ناکارہ ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ان سپلیمنٹس کا استعمال کرنا ہو تو پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
اضافی جسمانی وزن: جگر میں اضافی چربی کا ذخیرہ جگر پر چربی چڑھنے کے عارضے کا باعث بنتا ہے، اس کے نتیجے میں جگر سوجن کا شکار ہوتا ہے۔سپلیمنٹس کی شکل میں وٹامن اے کا زیادہ استعمال: ہمارے جسم کو وٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، بالخصوص سرخ، نارنجی اور پیلے رنگ کے پھل اور سبزیاں۔ تاہم سپلیمنٹس کی شکل میں وٹامن اے کی زیادہ مقدار کا استعمال جگر کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے، اضافی وٹامن اے کے لیے سپلیمنٹ کا انتخاب کرنے سے قبل ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔
سافٹ ڈرنکس: تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ بہت زیادہ میٹھے مشروبات کا استعمال کرتے ہیں، ان میں جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ سافٹ ڈرنکس زیادہ پیتے ہیں تو اس کی مقدار میں کمی لائیں۔
دردکش ادویہ کا بہت زیادہ استعمال: آپ کو سردرد، نزلہ، زکام یا کمر میں تکلیف ہے، اور اس کا واحد حل دردکُش ادویہ کی شکل میں نظر آتا ہے تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ بہت زیادہ مقدار میں نہ کھائیں۔
ٹرانس فیٹس: ٹرانس فیٹس انسانوں کی تیار کردہ چکنائی ہے جو بیکری کی مصنوعات اور پیکجڈ فوڈز میں پائی جاتی ہے۔ زیادہ ٹرانس فیٹ والی غذا سے جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ جگر کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
استعمال شدہ سرنج: کسی وجہ سے انجیکشن لگوانا ہے تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرنج نئی ہو، کیونکہ ہیپاٹائٹس سی خون کے ذریعے پھیلتا ہے اور استعمال شدہ سرنج اس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ ایچ آئی وی کا خطرہ بھی اس سے بڑھتا ہے۔

آرٹیفیشل ایموشنل انٹیلی جنس

ممتاز سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی ایک نئی صورت پیش کی ہے جسے ’آرٹیفیشل ایموشنل انٹیلی جنس‘ کا نام دیا گیا ہے، اور فائیوجی مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ملاپ سے یہ ایک نئے انقلاب کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ احساسات کی شناخت کرنے والا ایک نظام ہے، لیکن اس کے بہت سے استعمالات کے ساتھ اس سے کئی سیکورٹی مسائل بھی وابستہ ہوسکتے ہیں۔ اس میں مواصلاتی ٹیکنالوجی اور اے آئی کو ملایا جائے گا جس کے بعد انسانوں، مشینوں، اشیاء اور آلات کو باہم ملایا جائےگا۔ اس کے بعد ازخود چلنے والی کاروں، اسمارٹ ڈرون اور صحت کی سہولیات کو ایک نیا زاویہ ملے گا۔
نیشنل یونیورسٹی آف کوریا کے پروفیسر ہیونبوم کِم کہتے ہیں کہ فائیو جی کی بدولت لوگوں کے جسم، چہرے اور لمس کو محسوس کرکے ان کے احساسات معلوم کیے جاسکیں گے۔ اس طرح کسی جلد باز ڈرائیور اور یا ذہنی تناؤ کے شکار پائلٹ کی شناخت ہوسکے گی۔ اسی طرح خودکشی کی جانب گامزن یا انتہائی مایوس شخص کی شناخت بھی کی جاسکے گی۔ اگر گاڑی کا ڈرائیور کسی طرح کی تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے تو فوری طور پر کار اس کا احساس کرکے ازخود پورا انتظام اپنے ہاتھ میں لے سکے گی۔ پروفیسر کِم نے فائیو جی وی ای ایم او سسٹم بھی بنایا ہے جو پانچ طرح کے جذبات کا خیال رکھتا ہے جن میں خوشی، مزہ، معتدل، اداسی اور غصہ شامل ہے۔ اب مختلف افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایک ڈیٹابیس میں رکھ کر کسی ممکنہ خطرے کی پیشگوئی کی جاسکے گی۔ اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ فائیو جی کی بدولت نیٹ ورکس کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی خامیوں اور ہیکنگ جیسے عوامل کا ازخود اندازہ لگا کر اس کی اطلاع مرکزی نظام کو دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ فائیو جی کی بدولت ای کامرس، روزمرہ معمولات کی آٹومیشن اور دیگر پہلوؤں کو بہت حد تک ممکن بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم اس کا مرکزی میدان انسانی احساسات اور جذبات ہی رہے گا۔

Share this: