بازنطینی سائنس

Print Friendly, PDF & Email

ترجمہ: ناصرفاروق
یونانی اور اسلامی علوم (سائنسز) کے درمیان رابطوں کے تناظر میں جو عہد بازنطین میں پروان چڑھے، تین مرکزی روایات ملتی ہیں۔ پہلی بطلیموس، ارشمیدس، اقلیدس، اپولونیئس کے نظری علوم کے عمدہ متون وغیرہ ہیں۔ اسے دوسری صدی کے بعد گرہن لگا، اور نویں صدی کے بغداد میں کہیں جاکر یہ پھر منظر پر ابھری۔ دوسری، یہ نسبتاً کم معیاری تھی: ستارہ شناسی، علم نجوم وغیرہ کی روایت تھی۔ آخری، وہ سائنسی روایت جو شامی زبان میں پروان چڑھی، یہ بیشتر یونانی ذرائع سے حاصل ہوئی تھی، دیگر ذرائع علوم بھی محقَق ہوئے ہیں۔
پہلی روایت یہاں محلِ نظر نہیں، کیونکہ اس کا تعلق اسلام کے مناسب سائنسی دور سے ہے، اس سے موزوں مقام پر معاملہ کریں گے۔ دیگر دو روایات میں سے شامی روایت پرہم بات کرتے ہیں، ہمیں اپنے براہِ راست مقاصد کے لیے اُس وقت کے بازنطین میں سائنس کی حالت کا جائزہ لینا ہوگا، جو اسلامی فتح کے موقع پر تھی۔
ساسانی سائنس کے باب میں ہم تارکینِ وطن علماء کا ذکر کرچکے ہیں، یہ دراصل فلسفی تھے جو بازنطین سے فارس تک پھیلے ہوئے تھے۔ ہم اس بات کا ذکر بھی کرچکے ہیں کہ یہ بڑی ہجرت مسلسل مذہبی حکام کے جبر، ایتھنز کی اکادمی، اور مکتب ایڈیسا (school of Edessa)کی بندش کا نتیجہ تھی۔ اس ضمن میں اس ماحول میں جس سائنس کی پذیرائی ہوئی، وہ جزوی تھی، کیونکہ کلیسائی سنسر شپ نے اصل سائنسی سرگرمیوں پر پردہ ڈال دیا تھا۔ یوں یہ حیران کردینے والی بات نہ تھی کہ جب بازنطینی جغرافیہ داں Cosmas Indicopleustes نے یہاں کا نقشہ کھینچا، ’چپٹی زمین‘ کا دفاع کیا، اور انجیلی متن کی سند پر حرف نہ آنے دیا۔ دوسری طرف اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ Apolloniusکا وہ متن جو ’فطرت کے راز‘ پر ہے، اُس کا کوئی تعلق چھٹی یا ساتویں صدی کے بازنطین سے تھا یا نہیں، مگر ہم یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ اُس دور کے بازنطین میں ایسے متون عام تھے۔ ایسے ادب کا کردار ابتدائی یونانی متون کوآسان فہم بنانا تھا، اور قاموسی شکل میں پیش کرنا تھا، مگر اس طرح اس کی اصل صورت دھندلا گئی تھی۔ مسیحی مکاتب کی کتابیں اور تشریحات اصل متون پر گرہن لگارہی تھیں۔
مسلم تحقیق میں اکثر مذکورہ بازنطینی متون عربی میں ترجمہ کیے گئے، اور انھیں اپنے بھرپور قاری میسر آئے۔ نویں صدی میں جب ایک بار یہ معیاری یونانی متون اسلامی دنیا میں عام دستیاب ہوئے، مزید معیاری صورتوں میں ڈھلتے چلے گئے۔ ساتویں صدی کے اواخر میں مسلم فتوحات کے وقت، مشرق میں اُن زمینوں پر کہ جو ماضی میں ساسانی سلطنت کا حصہ تھیں، اور مغرب میں وہ سارا شامی اور بازنطینی علاقہ جہاں سائنسی سرگرمیاں جاری تھیں، مسلمانوں میں منتقل ہوگئیں۔ مسلمانوں نے ان سائنسی روایات کو اپنایا، مزید معیاری بنایا، اور بہت جلد اسلامی سائنس کی جامع شناخت قائم کر دکھائی۔

قبل از اسلام کی عربی سائنس

ساسانی سائنسی روایت کی مانند، مقامی عربی علمی روایت کبھی بھی تفصیل سے محقَق نہیں کی گئی۔ اس روایت کے ذرائع زیادہ تر نویں صدی کے بعد ہی تحریر کیے گئے۔ مثال کے طور پر علم فلکیات میں، کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں، بعد کے مصنفین کی کتابوں کے حوالوں میں معلومات سے سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ ابن قتیبہ (d. 226/879) یا ابن عاصم(d. 404/1013)، یا بعد کے ماہرین فلکیات جیسا کہ عبدالرحمان صوفی (903-986)یا ابو ریحان البیرونی (d. 440/1048)کے متون میں یہ حوالے ملتے ہیں۔ علم الادویہ کے باب میں، ہمیں لازماً دسویں صدی کے سوانح نگاروں ابن ندیم اور ابن جُلجل، یا تیرہویں صدی کے ابن ابی اصیبیہ، یا علی بن القفطی کے کاموں میں نظر آئے ہیں۔ ان ذرائع کا تنقیدی جائزہ بے اعتباری پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی روایت کی روداد سامنے لاتا ہے، جس پر صدیوں کی دھول پڑی ہے۔ ان ذرائع کے بارے میں ہم پُریقین نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر قبیلہ بنو اود کی طبیبہ زینب الاودیہ کی ’’امراض چشم‘‘ پر علمی گرفت کتنی تھی؟ ابن ابی اصیبیہ نے اُس کا نام ایک ایسی معالج چشم کے طورپر لیا ہے، جو عرب میں بہت مشہور تھی۔ ابن اصیبیہ نے زینب کی کہانی ایک شاعر کی شاعری سے اخذ کی ہے، یہ فرضی معلوم ہوتی ہے۔ زینب کی یہ کہانی ہمیں ابن ندیم اور ابن جلجل کے ہاں نہیں ملتی، جس سے اس کی سند مزید مشکوک ہوجاتی ہے۔
قبل از اسلام ایک اور طبیب کا تذکرہ ملتا ہے، الحارث بن کلدہ اُس کا نام تھا۔ وہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہم عصرتھا۔ علم طب کی تلاش میں فارس گیا تھا۔ علم الادویہ کے بارے میں اُس کے جالینوسی علم کی خبریں ملتی ہیں۔ یہ اس ابتدائی دور میں ایک اہم بات تھی۔
اس دور کے علم نباتات اور علم حیوانیات پردستیاب اشارے بھی بعد کے ذرائع سے ہی ملے ہیں۔ قبل از اسلام کے عرب کی یہ معلومات ہمیں فرہنگ نویسی کے متون میں ملتی ہیں، جہاں نباتات اور حیوانیات پرمعلومات بھی ضمناً آگئی ہیں۔

قبل از اسلام عربوں کا علم فلکیات

یہ بیشتر ستاروں کی بابت ہے۔ کب کہاں کون سے ستاروں کی کون سی انجمن کس حالت میں پائی جاتی ہے، اور سال میں کس وقت وہ بنتی ہے اور روشنی دیتی ہے۔ وہ اس طرح موسم کا حال سمجھتے سمجھاتے تھے۔ ستاروں کی یہ انجمنیں، اور آسمان پر ان کے مخصوص مقامات کا تذکرہ، ناموں سے ان کی شناخت قائم کرنا، اور زمین پر اپنے راستوں کا تعین کرنا وغیرہ ہی اس علم فلکیات کا لب لباب تھا۔ یوں آسمان کا جغرافیہ کہکشاؤں کی تقسیم پرکھینچا گیا تھا۔ چاند کی حرکت پر اُس کے مقامات کا تعین کیا جاتا تھا۔ کہکشاؤں کی بنیاد پر آسمان کی جغرافیائی تقسیم چین اور ہندوستان کی روایات میں بھی ملتی ہے، مگر وہ مقاصد میں مختلف تھیں۔ یہ سب عموماً موسموں، مہینوں، اوردیگر تمدنی حساب وشمار کے لیے کیا جاتا تھا۔ عرب کے ریگستانوں پر ستاروں بھرا آسمان دلچسپی اور مشاہدے کا بھرپور سامان تھا، چاند کی حرکت اور گھٹنا بڑھنا مہینوں اور موسموں کی مدت اور کیفیت سمجھنے میں مددگار تھا۔ دور کے دیگر سیاروں کے مقامات اور ہیئتوں میں انھیں دلچسپی نہ تھی۔
(جاری ہے)

Share this: