۔’’حکومت کے لیے آگے بات کٹھن ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

ترجمہ:اسامہ تنولی

سندھی زبان کے معروف صحافی اور کالم نگار سہیل سانگی نے بروز جمعتہ المبارک 12فروری 2021ء کو وطنِ عزیز کے سیاسی حالات اور واقعات کے تناظر میں جو کالم تحریر کیا ہے روزنامہ ’’پنھنجی اخبار‘‘ کراچی کے ادارتی صفحے پر شائع ہوا، اس کا ترجمہ قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔

’’پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک تو چل رہی ہے، لیکن حکومت سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ میں ابھی دیر ہے۔ کچھ مصلحتیں آڑے آرہی ہیں۔ حزبِ اختلاف کے اس اتحاد میں شامل ساری جماعتوں کو آصف علی زرداری کے فارمولے پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ زرداری فارمولا دراصل نوازشریف کے بیانیے سے مختلف ہے، جس کا اظہار انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر کیا تھا، اور وہ یہ کہ ’’اگر مقتدر حلقے عمران خان کے سر پر سے اپنا دستِ شفقت اٹھالیں تو پھر ہم بھی انہیں دیکھ لیں گے‘‘۔ جس کے بعد اِن ہائوس تبدیلی کا فارمولا آیا۔ نوازشریف اور مولانا فضل الرحمٰن کا یہ فارمولا تھا کہ سینیٹ کے الیکشن سے قبل حکومت کو رخصت کردیا جائے، لیکن حکومت کو روانہ کون کرے گا؟ اس امر پر بہت سارے سوالیہ نشانات اٹھ کھڑے ہوئے۔ اگر نوازشریف فوج کی سیاست میں مداخلت کے خاتمے کی بات کرتے ہیں تو آج وزیراعظم عمران خان کو کون فارغ کرے؟ اس طرح سے زرداری فارمولے کو سیاسی حلقوں کے ہاں پذیرائی ملنا شروع ہوگئی۔
بہرحال اپوزیشن اپنا دبائو بذریعہ احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے، یہ دبائو حکومت کے لیے یقیناً باعثِ پریشانی ہے۔ لیکن اس سے کہیں بڑھ کر پریشانی ملک میں پیش آنے والے واقعات اور آنے والے وقت میں کچھ شیڈول طے شدہ واقعات ہیں، جو نہ صرف حکومت کے لیے بڑے امتحان کی صورت میں سامنے آرہے ہیں بلکہ حکومت کی سیاسی طاقت سمیت انتظام اور فیصلہ سازی کو بھی نچوڑ کر اسے کمزور کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے کر سرکاری ملازمین کم کرنے اور انہیں ملنے والی مالی اور دیگر سہولیات ختم کرنے کی سفارش تیار کی تھی، بلکہ دو تین ہفتے پیشتر سرکاری ملازمین کے قواعد و ضوابط میں بھی تبدیلی کی گئی تھی۔ یہ سب سفارشات اور حکومتی فیصلے وفاقی ملازمین کے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج نے بالکل پامال کر ڈالے ہیں۔ اسلام آباد میں 1990ء کی دہائی سے اپوزیشن جماعتیں وقفے وقفے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی چلی آرہی ہیں اور مظاہرے کرتی رہی ہیں، لیکن سرکاری ملازمین نے بدھ کے روز جو احتجاج اور مظاہرہ کیا ہے اس کی وجہ سے موجودہ حکومت اُن کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ احتجاج کرنے والے سرکاری ملازم اپنی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا مطالبہ حکومت سے منوا چکے ہیں، اس احتجاج سے صرف اُن کی تنخواہیں ہی نہیں بڑھیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ سرکاری ملازمین کو ملنے والے مالی اور دیگر فوائد اور ملازمت کے قواعد و ضوابط اور شرائط میں بھی کوئی تبدیلی نہ لائی جائے۔
یہ سمجھا جارہا ہے کہ فی الحال حکومت کے یہ دونوں منصوبے خاک میں مل گئے ہیں، عجلت میں ان پر عمل درآمد نہیں ہوسکے گا، ممکن ہے کہ حکومت آنے والے وقت میں عدلیہ سے اس بارے میں تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
یہ تو صرف سرکاری ملازمین کا احتجاج تھا جو ملک کی کُل آبادی کا بہت چھوٹا حصہ ہیں۔ مہنگائی نے ایک عام مزدور، ہاری، خاتونِ خانہ یا چھوٹاموٹا کاروبار کرنے والوں کو موجودہ حکومت کے دور میں جتنانچوڑا ہے اس طرح سے پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی نہیں ہوا۔ ایسی خراب صورت حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اچھا ہوا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگیا ، لیکن نجی اداروں اور کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کا کیا بنے گا؟ کیا حکومت سرکاری مقرر کردہ کم سے کم ماہانہ اجرت اور پنشن بھی بڑھائے گی؟ حکومت اگر نجی اداروں اور کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں اور اُن کے کام کاج کے حالات کو تبدیل کرنے کے لیے، اور اس کے لیے پہلے سے موجود قوانین پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بناتی تو پھر یہ یقینی سمجھیے کہ یہ معاملہ بھی کسی دن ایک بھونچال کی سی صورت میں سامنے آئے گا۔
ویسے تو مہنگائی کو اپوزیشن نے اپنی احتجاجی تحریک میں ایک مسئلے کے طور پر اٹھایا ہے۔ ہاں! یہ عجیب بات ہے کہ اپوزیشن نے نجی شعبے میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں اضافے اور ان کی نوکری اور سوشل سیکورٹی کے بارے میں کوئی بات شامل نہیں کی ہے۔
حکومت کے لیے ایک اور دردِ سر سینیٹ کے انتخابات ہیں۔ حکومت کو خوف ہے کہ خفیہ ووٹنگ ہوئی تو حکومتی پارٹی اور اس کے اتحادی اپوزیشن کی طرف چلے جائیں گے۔ اس کے لیے 2018ء کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک اہم سرکاری عمارت کے اندر ووٹ خریدنے اور بیچنے کے مناظر ہیں۔ عام طور پر یہ شکایت رہتی ہے کہ حکمران جماعت اپوزیشن کے ارکان کو ایسے مواقع پر اپنی جانب کرلیتی ہے یا ان سے ووٹ لیتی ہے، لیکن اپوزیشن یہ کام کرکے نئی مثال قائم کرے گی۔ یہ سمجھا جارہا ہے کہ حکمران جماعت کو اپنے ارکان پر اعتبار نہیں ہے۔ بہ الفاظِ دیگر یہ کہ ایسے اسمبلی ارکان حکمران جماعت کو رضا خوشی سے ووٹ دینا نہیں چاہتے۔ اگر اسمبلی کے ارکان اپنے پارٹی لیڈر کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے تو اٹارنی جنرل کی سپریم کورٹ میں دی گئی اس دلیل کا کیا ہوگا کہ لوگ طلسماتی لیڈر شپ یا شخصیت کو ووٹ دیتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ تحریک انصاف میں ایسی کون سی شے طلسماتی ہے؟ خیر اس پر عدالت کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ خفیہ ووٹنگ کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان کا کل کا بیان بھی عجیب ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن والے خفیہ ووٹنگ پر راضی نہ ہوئے تو وہ روئیں گے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس سے یہ سمجھا جائے کہ حکمران جماعت بھی اپوزیشن کے اسمبلی ارکان کے ووٹ خریدنے کی کوشش کرے گی۔ اگر خفیہ ووٹنگ ہوئی تو حکومت کے لیے یہ بڑا اَپ سیٹ ہوگا۔ سیاسی اَپ سیٹ اپنی جگہ پر، اس سے کہیں بڑھ کر سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی کوشش ناکام ہوجائے گی۔ حکومت نے اپنی سیاسی حکمت عملی یہ تشکیل دی تھی کہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد وہ قانون سازی اور فیصلہ سازی اپنی مرضی اور بغیر کسی رکاوٹ کے کر پائے گی، جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے، کیوں کہ آج سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہے۔ اپوزیشن کی حکمت عملی بھی یہ ہے کہ سینیٹ میں کسی بھی طرح سے اپنی اکثریت اور موجودہ پوزیشن برقرار رکھے۔
حکومت کے لیے تیسرا دردِ سر پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہیں۔ عدالت میں حکومتِ پنجاب نے تجویز دی ہے کہ ستمبر میں یہ الیکشن کروائے جائیں، جسے عدلیہ اور سیاسی حلقے غیر سیاسی رویہ قرار دے رہے ہیں۔ آج جب پی ڈی ایم اور نواز لیگ نے پنجاب میں سیاسی ماحول بے حد گرم کر رکھا ہے، تب اس طرح کی طاقت رکھنے والے صوبے میں بلدیاتی اداروں کے الیکشن ہونے کا مطلب حکمران جماعت کے لیے بڑا اَپ سیٹ ہوسکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کے لیے پکڑ دھکڑ، کیس داخل کرنے اور انکوائریوں وغیرہ کے معاملات سامنے آئیں گے، لیکن حکمران جماعت کسی ایسے اَپ سیٹ سے تاحال ڈری ہوئی ہے۔
تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس بقول اسلام آباد کے ایک صحافی دوست ’’عدالت میں رینگ رہا ہے۔ پہلے جس طرح سے معاملہ گرم تھا اب ویسی صورتِ حال نہیں ہے‘‘۔ بہرحال عدلیہ بھی خود پر دیدہ دانستہ سوالات کھڑے کرنا پسند نہیںکرے گی۔ آخر کتنے مقامات پر حکومت عدلیہ سے تعاون حاصل کرپائے گی؟ خفیہ رائے شماری اور فارن فنڈنگ والے معاملات تو بالکل سیاسی نوعیت کے ہیں۔ آج کل تو عسکری ادارہ بھی وضاحتیں کرتا پھر رہا ہے کہ سیاست اور سیاسی معاملات میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ رہی بات اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں تعلقات کی، اگرچہ ان میں بظاہر بڑی دراڑیں نہیں پڑیں لیکن معاملات ’’انڈر مانیٹرنگ‘‘ دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کو لگاتار یہ سگنل ملتے رہتے ہیں کہ کچھ چیزیں ٹھیک کی جائیں، کچھ معاملات درست اور بہتر بنائے جائیں۔ا ن تعلقات میں کوئی بڑی دراڑ نہ ہونے کا اشارہ بلاول بھٹو زرداری کی حیدرآباد کے جلسہ عام میں ان کی تقریر سے بھی ملتا ہے۔ پی ڈی ایم کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکومت سے ایک فاصلہ رکھے۔ اگر پی ڈی ایم کی یہ ’’فرمائش‘‘ پوری نہیں بھی ہوتی تب بھی مہنگائی، سینیٹ کے الیکشن اور پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات تین ایسے بڑے معاملات ہیں جو حکومت اور حکمران ہی کو دیکھنے ہیں۔ ان تینوں میں سے کسی ایک آدھ میں ممکن ہے کہ حکومت کی کوئی (اسٹیبلشمنٹ) مدد کرے، لیکن پھر بات کٹھن ہے، نہیں لگتا کہ حکومت اسے سنبھال پائے گی۔‘‘

Share this: