ڈی سی آفس پر دھرنا

Print Friendly, PDF & Email

بچت بازاروں کی بحالی اور گجر نالہ متاثرین کو متبادل جگہ کی فراہمی کا مطالبہ

کراچی ایک اجڑا ہوا شہر ہے، اور اسے اجاڑنے میں ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی اور اس شہر کے اہم ادارے شامل ہیں۔ کے ڈی اے، کے ایم سی، واٹر بورڈ… یہ ادارے اس شہر کو ترقی دینے کے لیے بنائے گئے تھے، لیکن انہوں نے اس کے ہر منصوبے میں پیسہ بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ یہاں ہر کچھ عرصے بعد تجاوزات کے خاتمے کے نام پر ایک تماشا کھڑا کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ سوائے ان اداروں کے رشوت ریٹ میں اضافے کے کچھ نہیں نکلتا۔ یہاں شہری آئے روز ایک نئے عنوان اور مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں، لیکن ریاست، حکومت، انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، اور وہ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جو بلدیاتی اداروں میں سہولیات کی فراہمی کے نام پر سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، لیکن ان ٹیکس دینے والوں کو صرف رسوائی ملتی ہے۔ وقتی طور پر اگر سپریم کورٹ یا کسی اور وجہ سے کچھ حرکت نظر بھی آتی ہے تو ان احکامات کو بھی یہ ادارے مزید پیسے بنانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ، پارکنگ، بچت بازار سمیت کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں رشوت کا بازار گرم نہ ہو۔ یہاں کے فٹ پاتھوں سمیت بچت بازاروں میں لگنے والے ایک ایک ٹھیلے سے پولیس اور انتظامیہ سمیت دیگر ادارے منظم انداز میں کھلے عام رشوت لیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں جماعت اسلامی اور بچت بازار ایکشن کمیٹی کے تحت اسٹال ہولڈرز کی بڑی تعداد نے ضلع وسطی میں چھوٹے تاجروں اور دکان داروں کے معاشی قتل اور بچت بازاروں پر پابندی کے خلاف ڈی سی آفس ڈسٹرکٹ سینٹرل کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ جب پورے کراچی میں بازار لگنے شروع ہوگئے ہیں تو آخر ضلع وسطی میں کیوں صورت حال ٹھیک نہیں ہورہی؟ ڈپٹی کمشنر کو بدانتظامی ختم کرکے شہریوں کی خدمت کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ آخر کب تک چھوٹے تاجروں کا معاشی قتل ہوتا رہے گا؟ بچت بازار غریب عوام کے لیے سستی ضروریاتِ زندگی کے حصول کا ذریعہ ہیں، اور چھوٹے تاجروں کا ذریعہ معاش بھی ہیں۔ شہر کے دیگر اضلاع میں بچت بازار باقاعدگی سے لگ رہے ہیں، شاپنگ سینٹر اور مارکیٹیں کھلی ہیں تو پھر ضلع وسطی کے چھوٹے تاجروں کا استحصال کیوں کیا جارہا ہے؟ ضلع وسطی کا یہ معاملہ ڈپٹی کمشنر کے غیر ذمے دارانہ رویّے کی وجہ سے خراب ہوا ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر اسامہ رضی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کی آواز بنی ہے اور مظلوموں کو ان کا حق دلاکر ہی رہے گی۔ ضلع وسطی کے بچت بازار فوری بحال کیے جائیں اور چھوٹے تاجروں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔
جماعت اسلامی نے دیگر مسائل کے ساتھ اس ایشو کو اٹھایا ہے تو اس ضمن میں پورے شہر کی سطح پر بغیر رشوت کے منظم اور شفاف ایک مربوط نظام قائم کرنے کے لیے بچت بازار سے متعلقہ لوگوں کو ریلیف دلانے کی ضرورت ہے- اسی طرح شہر کی انتظامیہ کی اپنی نااہلی اور رشوت خوری کی وجہ سے تجاوزات کا پورے شہر میں جو جال موجود ہے اب اس کو ختم کرنے کے بھونڈے طریقے پر بھی اس کی زد میں آنے والے پریشان ہیں، اور کے ایم سی نے گلبرگ ٹاؤن کیفے پیالہ کے قریب بارہ نمبر سے گجر نالے تک غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کا جو آغاز کیا ہے اور وہ اہلکار جنہوں نے پہلے پیسے کھاکر تجاوزات قائم کرائیں، اب ہتھوڑوں سے دیواریں گرا رہے ہیں اور مکانات پر کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے رہائشیوں کے جو کنکشن پیسے لے کر لگائے تھے، وہ منقطع کررہے ہیں۔ اس وقت یہ بس لوگ بہت مشکل میں ہیں اور انہوں نے جماعت اسلامی کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور جماعت اسلامی ضلع وسطی کے تحت گجر نالے کے متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کیے بغیر بے دخل کرنے اور گھروں کو مسمار کرنے کے خلاف متاثرین کے ہمراہ ڈی سی سینٹرل آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا۔ اس مظاہرے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔متاثرینِ گجر نالہ نے سندھ حکومت اور ضلع وسطی کی ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ اسد مظاہرے سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، امیر ضلع وسطی وجیہ حسن، صدر پبلک ایڈ کمیٹی الفلاح فیصل نسیم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ان لوگوں کا کہنا تھا کہ متاثرینِ گجر نالہ کو متبادل جگہ دیے بغیر مکانات گرانا ظلم ہے، اس سے قبل بھی شہر بھر میں بڑے پیمانے پر تجاوزات کے خاتمے کی مہم چلائی گئی تھی اور کراچی کے ہزاروں شہریوں کو بے گھر اور بے روزگار کیا گیا، اور آج بھی متاثرین پریشان ہیں،تجاوزات گرانے سے قبل متبادل جگہ ضرور فراہم کی جائے۔ ان لوگوں کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کراچی کو تباہ کردیا، تینوں جماعتیں کراچی سے ووٹ لے کر اقتدار میں آئیں، یہاں سے منتخب ہونے والے ایم پی اے اور ایم این اے ضلع وسطی کے عوام کا ساتھ دینے کے بجائے انتظامیہ سے گٹھ جوڑ کیے ہوئے ہیں، جماعت اسلامی بہت جلد تمام متاثرہ علاقوں میں کیمپ لگائے گی اور متاثرین کی فہرست مرتب کرکے انہیں حق دلائے گی، متاثرینِ گجرنالہ کے مسائل حل کرنا ہماری ترجیح ہے، جماعت اسلامی شہر کو پھر سے چمکتا دمکتا شہر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
اب جماعت اسلامی نے بیڑا اٹھایا ہے تو یقیناً وہ متاثرین پر ظلم نہیں ہونے دے گی، اور مسائل کے حل تک ان کا ساتھ دے گی۔ یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انتظامیہ کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں کی سزا عوام کو بھگتنا پڑتی ہے۔ اس وقت پورے شہر میں ایک بڑی تحریک ’’کراچی کو حق دو‘‘ کے عنوان سے چل رہی ہے اور جماعت اسلامی اس وقت عوامی مسائل کے حل کے لیے حکمرانوں کو بار بار متوجہ کررہی ہے، اور لوگوں کا رجحان اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس مہم اور تحریک میں شہر کے ہر طبقے کو جماعت اسلامی کا ساتھ دینا چاہیے۔ کراچی کے عوام کو شہر کو پھر سے روشنی کا شہر بنانا ہے اور اپنے مستقبل کو بچانا ہے تو اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنا ہوگا اور ہر غلط قدم پر آواز اٹھانی ہوگی۔

Share this: