فیصل آباد :سیکریٹری زراعت سندھ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ

Print Friendly, PDF & Email

سندھ کے سیکریٹری زراعت عبدالرحیم سومرو نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ کیا اور ترقی اور غذائی استحکام کے موضوع پر ماہرین سے گفتگو کی، انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی زرعی تحقیقی اداروں اور جامعات کے مابین تعاون کو فروغ دے کر مستقبل کے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہوا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے تین رکنی وفد کے ہمراہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر سے خصوصی ملاقات کی، جس میںکہا کہ زرعی ترقی کے لیے چاروں صوبوں کے زرعی شعبہ جات کے مابین اشتراکِ عمل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ زرعی پالیسی اور مستقبل کے امکانات کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ عبدالرحیم سومرو کی رائے میں کلائمیٹ اسمارٹ زراعت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جس کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تشکیل دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ہونے والی تعلیمی و تحقیقی پیش رفت کی تعریف کی اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام و دیگر زرعی تحقیقی اداروں کو اس پیش رفت کے ثمرات پہنچانے کے لیے سائنس دانوں اور ماہرین کے وفود کے تبادلے ہونے چاہئیں، تاکہ مل جل کر پاکستان کی فوڈ سیکورٹی کو استحکام بخشا جا سکے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے سندھ کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے چاروں صوبوں سمیت آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں، اور اب بھی سندھ حکومت کی خواہش پر یہاں سے سائنس دانوں اور ماہرین کا وفد بھجوانے کے لیے تیار ہیں، بحیثیت پاکستانی ہم اپنے صوبائی تشخص کے ساتھ ملکی زرعی خودکفالت کی منزل کے حصول کے لیے بھرپور کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں اور تمام صوبائی یونٹس کے ساتھ مل کر اسے مزید بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ڈائریکٹر اورک پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد ظہیر نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی تاریخی اہمیت اور اس کی کامیابیوں کے حوالے سے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس جامعہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ کیو ایس ورلڈ رینکنگ میں زرعی و فاریسٹری شعبہ جات میں یہ دنیا کی ’’ابتدائی سو جامعات‘‘ میں شامل ہے۔ سندھ ایگریکلچر کے وفد میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ زراعت و توسیع سندھ ہدایت اللہ چھاجرو، ڈائریکٹر جنرل ریسرچ سندھ ٹنڈوجام نور محمد بلوچ، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر آفتاب احمد سولنگی شامل تھے۔ زرعی یونیورسٹی کے ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اختر، ڈین کلیہ امورحیوانات پروفیسر ڈاکٹر مرزا محمد اسلم، چیف ہال وارڈن پروفیسر ڈاکٹر محمد یٰسین، ڈائریکٹر فارمز ڈاکٹر محمد طاہر اور دیگر شریک ہوئے۔
………
فیصل آباد میں انسداد ٹائیفائیڈ مہم کے ٹرانسپورٹ فنڈ جاری نہ ہوسکے، یوسی ایم او شدید مشکلات کا شکار ہوگئے۔ محکمہ صحت کی طرف سے انسداد ٹائیفائیڈ مہم کی تشہیر اور عملہ کی آمدورفت کے لیے 4ہزار روپے یومیہ کے حساب سے فنڈ جاری کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ یوسی ایم او کو اپنے ماتحت عملے کو مختلف مقامات پر چھوڑنے، ان کی ریفریشمنٹ اور چنگ چی رکشہ سمیت دو گاڑیوں پر انسداد ٹائیفائیڈ مہم کی تشہیر کے لیے اسپیکر پر اعلانات کروانے تھے، تاہم محکمہ صحت کی طرف سے یوسی ایم او کو صرف 4 روز کے فنڈز جاری کرنے کے بعد چپ سادھ لی گئی اور انسدادِ ٹائیفائیڈ مہم کے آخری روز بھی مذکورہ فنڈز جاری نہ ہوسکے، جس پر یوسی ایم اوز نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جیب سے اخراجات کررہے ہیں، جبکہ محکمہ صحت کو متعدد بار یاد دہانی کروائی گئی لیکن ابھی تک فنڈ نہیں دیئے گئے، اور محکمہ صحت کی طرف سے مزید دو روز بطور کیچ اپ ڈیز مہم کو جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔

Share this: