خیبرپختون خوا: ہیلتھ ورکرز کی کورونا ویکسی نیشن کا آغاز

Print Friendly, PDF & Email

خصوصی تقریب کا انعقاد

خیبر پختون خوا کے 8 اضلاع میں قائم 17 طبی مراکز میں کووڈ19 کے خلاف فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی ویکسی نیشن کے عمل کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے اب دوسرے مرحلے میں 65سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کی ویکیسی نیشن کی رجسٹریشن کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ اس بارے میں وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں بتایا۔ انہوں نے لکھا کہ آپ اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر لکھ کر 1166 پر ارسال کریں جس سے آپ کی رجسٹریشن ہوجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ میں اس عمر کے گروپ کے لیے ویکسی نیشن کاباقاعدہ آغاز ہوگا۔ واضح رہے کہ یکم فروری کو چین سے کورونا وائرس کی 5 لاکھ ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچی تھی جسے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وصول کیا تھا۔ جبکہ اگلے روز ملک بھر کے تمام صوبوں اور علاقوں میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو اس وبا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوگیا تھا۔ خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کو ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے اور اس وقت عالمی وباء کی دوسری لہر جاری ہے۔ ملک میں 15 فروری تک مجموعی کیسز کی تعداد 5 لاکھ 64 ہزار 77 ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم اس میں سے 93.2 فیصد یعنی 5 لاکھ 25 ہزار 997 صحت یاب ہوچکے ہیں، جبکہ اموات کی تعداد 12 ہزار 333 ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین لگانے کے عمل کا باقاعدہ آغاز گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں ہوا، جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم پاکستان تھے، جب کہ اس سلسلے میں اگلے دن نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی الگ سے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، اس موقع پر افتتاحی تقریب کی سربراہی وفاقی وزیر اسد عمر اور نیشنل کوآرڈی نیٹر این سی او سی لیفٹیننٹ جنرل حمود الزماں خان نے کی، جبکہ اس موقع پر چین کے کمرشل قونصلر شی گو ژیانگ بطور مہمانِ خصوصی موجود تھے۔ تقریب میں تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اس موقع پر تمام صوبوں میں بھی متعلقہ مقامات پر ویکسین لگانے کے عمل کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ میں تمام وزرائے اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور یہ تقریب اس کا مظہر ہے کہ ملک پر جب مشکل وقت آتا ہے تو تمام پاکستانی مل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاق نے اسلام آباد سے مل کر کام کیا ہے جس کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب کے لیے چینی حکومت اور چینی لوگوں کا شکریہ، جنہوں نے ویکسی نیشن کے اس عمل کو ممکن بنایا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ویکسین کے حصول میں وزارتِ صحت کا ایک خصوصی کردار رہا ہے، اور میں اس موقع پر سابق معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کی کوششوں سے اس ویکسین کا حصول ممکن ہوسکا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کورونا کے خلاف کام کرنے والوں میں ہمارے اصل ہیرو فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز ہیں، یہ لوگ ہماری قومی و سیاسی قیادت سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور انہی کے ساتھ پاکستان بھر میں ویکسی نیشن کا آغاز ہورہا ہے۔ بعد ازاں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی آئسولیشن یونٹ میں کام کرنے والی رضوانہ یاسمین، ڈی ایچ او آفس اسلام آباد کے کووڈ 19 کی نگرانی ٹیم کے رکن جاوید اقبال اور شفا انٹرنیشنل میں پیتھالوجی ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے فہد محمود کو ویکسین لگاکر اس مہم کا باقاعدۃ آغاز کیا گیا۔ خیبرپختون خوا میں ویکسین لگانے کی تقریب نصیر اللہ بابر ہسپتال پشاور میں منعقد ہوئی۔ افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر محمد شاہ، ڈاکٹر فیصل شہزاد، چار نرسوں اور دیگر ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین لگائی گئی۔ ویکسی نیشن کے آغاز پر وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختون خوا کو ابتدائی طور پر 16 ہزار ویکسین موصول ہوئی ہیں، وفاقی حکومت کی گائیڈلائنز کے مطابق یہ ویکسین صوبے کے 8 اضلاع میں ہیلتھ ورکرز کو لگائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے، ویکسین کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے مشکور ہیں، جبکہ پاکستان کو کورونا ویکسین کی فراہمی پر ہم دوست ملک چین کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختون خوا نے کہا کہ کورونا صورتِ حال میں ہیلتھ ورکرز بشمول ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس اور دیگر عملے کی خدمات قابل ستائش ہیں، صوبائی حکومت ان کی بے لوث خدمات اور قربانیوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
یاد رہے کہ صوبے میں گزشتہ سال کے آغاز ہی سے جب اس منحوس وباء نے پنجے گاڑنے شروع کردیے تھے تو عام افراد کی طرح اس کا پہلا نشانہ ہیلتھ کیئر ورکرز ہی بنے تھے، جن میں سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق 32 کی اموات ہوچکی ہیں جن میں ڈاکٹر، نرسیں، پیرا میڈیکس اور دیگر سپورٹ اسٹاف شامل ہے۔ حکومت نے دوست ملک چین کے تعاون سے کورونا سے بچائو کی جو ویکسی نیشن مہم شروع کررکھی ہے اس کے تحت نہ صرف چاروں صوبوں بلکہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر میں بھی فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو حفاظتی ٹیکوں کی ابتدائی خوراک دی جارہی ہے، جب کہ ویکسین کی دوسری خوراک 21 دن کے بعد دی جائے گی۔ حفاظتی ویکسین کی یہ خوراکیں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے پولیس کے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت اسلام آباد سے پشاور کے مرکزی کولڈ اسٹوریج پہنچائی گئی ہیں جنہیں ضلعی ہیلتھ افسران کے مطالبے پر متعلقہ مراکز کو فراہم کیا جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ ہیلتھ ورکرز کے ساتھ ساتھ ریسکیو 1122 کے عملے کو بھی ویکسی نیشن کے ابتدائی مرحلے میں اس وبائی مرض سے بچانے کی فرنٹ لائن ورکر کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق اندراج شدہ ہیلتھ ورکرز اپنے موبائل فون پر پیغام وصول کریں گے جس کے بعد وہ ویکسی نیشن کے لیے متعلقہ مرکز جائیں گے۔ پشاور جہاں ہیلتھ کیئر ورکرز اور عام لوگوں میں کووڈ 19 سے ہونے والی اموات دیگر اضلاع اور علاقوں سے زیادہ تعداد میں ریکارڈ کی گئی ہیں یہاں روزانہ 250 ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین پلانے کے لیے پانچ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ جب کہ پشاور کے علاوہ ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، نوشہرہ، مردان اور سوات سمیت آٹھ اضلاع میں ویکسین کی فراہمی کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جہاں فرنٹ لائن عملے کو دو ماہ میں یہ ویکسین دی جائے گی۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حفاظتی ٹیکوں کے مراکز میں ویکسین لے جانے والی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے این سی او سی کی واضح ہدایات اور پروٹوکول نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان پر پوری طرح عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جارہا ہے تاکہ یہ ٹیکے نامزد عملہ ہی وصول کرے اور انہیں غیر متعلقہ لوگوں کی دست برد سے بچایا جاسکے۔ یہاں اس امر کی نشان دہی بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ہیلتھ ورکرز کو سب سے پہلے اس حفاظتی ویکسین کی فراہمی اس لیے بھی ضروری تھی کیونکہ کورونا کے خلاف لڑتے ہوئے سب سے زیادہ جان کا خطرہ ہیلتھ کیئر ورکرز ہی کو تھا۔ اطلاعات کے مطابق ویکسی نیشن پروگرام کو 65 اور 50 سال سے زیادہ عمر کے خطرے والے گروپوں اور بنیادی بیماریوں میں مبتلا افراد تک توسیع دینے سے پہلے طبی عملے پر فوکس کرتے ہوئے اس پروگرام کو تمام 35 اضلاع کے 280 مراکز تک بتدریج بڑھایا جائے گا۔ این سی او سی کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں اب تک 133ہیلتھ کیئر ورکر بشمول 85 ڈاکٹر، 44 پیرامیڈکس، 3 نرسیں اور ایک میڈیکل طالب علم کووڈ 19 سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں جن کی شرح بالترتیب 60 فیصد، 26 فیصد اور14 فیصد بنتی ہے۔ این سی او سی کے مطابق ہیلتھ کیئر ورکر میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے واقعات صوبہ سندھ، دوسرے نمبر پر خیبر پختون خوا، اور تیسرے نمبر پر پنجاب میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 94 فیصد ہیلتھ ورکر اس متعدی مرض سے شفایاب ہوئے ہیں، لیکن انھیں پھر بھی وائرس کا خطرہ لاحق ہے۔ دریں اثنا تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں پچھلے ایک سال کے دوران کورونا وباء سے مجموعی طور پر 11ہزار 756 اموات واقع ہوچکی ہیں اور کُل5لاکھ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دوسری لہر چونکہ تاحال جاری ہے لہٰذا حکومت نے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہائی رسک کے حامل ہیلتھ کیئر ورکرز کے کورونا سے بچاؤ کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی ٹیکے لگانے کے لیے اوّلین ترجیح فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر ورکرز کو دینے کافیصلہ کیا ہے ۔

خیبر پختون خوا میں ضمنی انتخابات

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ دنوں اچانک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی پچھلے کئی ماہ سے خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب کروانے کا اعلان کر دیا ہے۔یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اس میں سندھ کے علاوہ باقی صوبوں کے نمائندوں نے مدعو کیے جانے کے باوجود شرکت نہیں کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر نے اجلاس میں شرکت کی، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کے قانونی مشیر مرتضیٰ وہاب اور صوبائی حکومت کے دیگر نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے اجلاس کو بتایا کہ قومی اسمبلی کی 2 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی 6 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ ان میں سندھ میں صوبائی اسمبلی کے 3 حلقے جبکہ دیگر تینوں صوبوں میں ایک ایک، اور خیبرپختون خوا اور پنجاب میں قومی اسمبلی کا ایک ایک حلقہ شامل ہے۔ واضح رہے کہ ای سی پی نے اس معاملے پر پہلے سے لی گئی صوبوں کی آرا کو بھی مدنظر رکھا جس میں سندھ اور بلوچستان نے ضمنی انتخاب کے لیے اپنی تیاری ظاہر کی تھی، جبکہ پنجاب اور خیبرپختون خوا نے اسے ملتوی کرنے کا کہا تھا۔ چنانچہ الیکشن کمیشن نے حقائق کا جائزہ لینے کے بعد خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب 19 فروری کوکروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیبرپختون خوا کے حلقہ این اے 45 کرم اور پی کے 63 نوشہرہ میں ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کردیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کرم سے 27 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
ان ضمنی انتخابات کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم کی سربراہ جمعیت(ف) جو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ضمنی انتخابات لڑنے کے قطعاً حق میں نہیں تھی گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات کے اعلان اور بعد ازاں پی ڈی ایم کی دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ان ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر پہلے تو ان دونوں جماعتوں کو خوب کوستی رہی، لیکن بعد میں مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اسے بھی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کا دعویٰ تھا کہ جن نشستوں پر ضمنی انتخابات ہورہے ہیں ان میں سے دو نشستیں جے یو آئی کی ہیں کیونکہ خیبر پختون خوا کے ضلع کرم میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 45 پر2018ء میں جیتنے والے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کا تعلق جے یو آئی سے تھا، وہ 2 جون 2020ء کو کورونا وائرس سے چل بسے تھے، جبکہ بلوچستان کے علاقے پشین میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 20 بھی جے یوآئی کے رہنما سید فضل آغا کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ جمعیت(ف) کے سیکریٹری اطلاعات اسلم غوری نے بعدازاں میڈیا کو بتایا کہ جے یو آئی نے این اے 45 اور پی بی 20 پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، این اے 45 پر حاجی جمیل، جب کہ پی بی 20 پر عزیزاللہ پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ جنہیں بعد میں مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کے حق میں دست بردار کروالیا گیا تھا۔
ان ضمنی انتخابات کا دوسرا دلچسپ پہلو ان میں اگر ایک طرف پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا ڈنکے کی چوٹ پر حصہ لینا ہے تودوسری جانب پی ڈی ایم کی جماعتوں میں پائی جانے والی ’’ہم آہنگی‘‘ اور ’’قربت‘‘ کا اندازہ ان جماعتوں کے ان آٹھ نشستوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل اپنے امیدوار میدان میں اتارنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ حالانکہ پی ڈی ایم کے چارٹر اور جدوجہد کا تقاضا تو یہ تھا کہ اولاً تو اس میں شامل جماعتوں کو ان ضمنی انتخابات میں سرے سے حصہ ہی نہیں لینا چاہیے تھا، لیکن اگر حصہ لینا ناگزیر ہی تھا تو پھر اصولوں اور اخلاقیات کا تقاضا یہ تھا کہ یہ جماعتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ان انتخابات میں اترتیں۔ لیکن ان کی اس تنہا پرواز نے جہاں ان کی جاری تحریک کو بے نقاب کردیا ہے وہاں دوسری جانب یہ جماعتیں عوام، حتیٰ کہ اپنے کارکنان کی نظروں میں گرنے سے بھی خود کو نہیں بچا سکی ہیں۔

Share this: