فیصل آباد :زرعی یونیورسٹی میں عالمی ای کانفرنس کا انعقاد

Print Friendly, PDF & Email

فیصل آباد ملک کا بڑا صنعتی شہر ہے، جس کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، اس تناظر میں غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے شہروں کا زرعی رقبہ بچانا بہت ضروری ہے، اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ یہاں زرعی یونیورسٹی میں اسی موضوع پر ایک عالمی کانفرنس ہوئی، جس کے افتتاحی اجلاس سے پروفیسر ڈاکٹر جعفر جسکانی، پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد ظہیر، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد، ڈاکٹر احمد ستار، پروفیسر(ر) ڈاکٹر محمد اسلم خاں، ڈاکٹر عدنان یونس، ڈاکٹر راحیل انور، ڈاکٹر فاطمہ عثمان، ڈاکٹر محمد عثمان، ڈاکٹر مزمل، ڈاکٹر محسن و دیگر نے اظہارِ خیال کیا۔ فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹی کلچر اور پاکستان سوسائٹی آف ہارٹی کلچر سائنسز کی انٹرنیشنل ہارٹی کلچر ای کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم 90 فیصد تک سبزیوں کے بیج درآمد کررہے ہیں جو کہ ایک تشویش ناک بات اور لمحۂ فکریہ ہے، ہمارے سائنس دان اور ماہرین معیاری بیج تیار کرکے زرمبادلہ کی مد میں اربوں روپے کی بچت کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر آصف تنویر نے کہا کہ ہم فصلوں کی برادشت کے عمل کے دوران ہونے والے نقصانات میں اپنی زراعت کی پیداوار کا 40 فیصد حصہ ضائع کررہے ہیں، جبکہ ملک میں فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کئی گنا کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فوڈ سیکورٹی کے حصول اور باقی دنیا کے ساتھ مقابلہ جاتی بنیادوں پر اپنی زرعی پیداواریت کا حجم بڑھانے کے لیے جدید زرعی طریقوں کو فروغ دینا ہوگا۔ ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اختر نے کہا کہ زراعت کا شعبہ مختلف پیداواری چیلنجوں کا مقابلہ دستیاب محدود وسائل سے کررہا ہے جن میں کم پیداواریت، روپے کی قدر میں روزافزوں کمی، پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، زرعی مداخل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، اور کسان کو مناسب اجرت کی عدم فراہمی کے ساتھ ساتھ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محققین، زرعی ماہرین، پالیسی سازوں، کاشت کار برادری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جامع و مربوط کاوشیں وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹی کلچر سائنسز پروفیسر امان اللہ ملک نے کہا کہ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات پر قابو پانے کی صورت میں نہ صرف فی ایکڑ پیداوار خاطرخواہ بڑھائی جا سکتی ہے بلکہ فوڈ سیکورٹی کے چیلنج سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کا حجم بھی کئی گنا بہتر کیا جا سکتا ہے، انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹی کلچر سائنسز باغبانی و سبزیات کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پھولوں کی کاشت اور لینڈ اسکیپنگ کے شعبہ جات میں نئی جدتوں کی حامل تعلیمی پیش رفت سے طلبہ کو فیض یاب کررہا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے گریجویٹس کی ملک بھر، اور بیرون ملک بہت زیادہ مانگ ہے، باغبانی کی پیداوار، اس کی ہینڈلنگ، پروسیسنگ اور اسٹوریج کے لیے ارزاں نرخوں پر قابلِ عمل زرعی ٹیکنالوجی پر مبنی پیکیج باغبانوں اور کسانوں کو فراہم کرنے کے لیے عملی کاوشیں بروئے کار لارہے ہیں، تاکہ ان کے ذریعے نچلی سطح پر غربت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غذائی کمی جیسے چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کانفرنس سے پاکستان سوسائٹی آف ہارٹی کلچر سائنسز کے صدر ڈاکٹر سی ایم ایوب نے بھی خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ ہماری سوسائٹی ملک بھر میں اس قسم کے سیمینار، مذاکروں اور تربیتی ورکشاپس کے ذریعے باغبانوں اور کسانوں میں شعور و آگہی اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عملی مدد و تربیت کے لیے مسلسل کوششیں بروئے کار لا رہی ہے، تاکہ اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔

Share this: