مسئلہ کشمیر کا حل : مولانا مودودیؒ کیا کہتے ہیں؟۔

Print Friendly, PDF & Email

۔1965ء میں کیا گیا اہم تاریخی خطاب

بعض اتفاقات پر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ اِس سال 5 فروری کے فرائیڈے اسپیشل میں ہم نے مسئلہ کشمیرکے حوالے سے اپنے کالم ’’گفتگو‘‘ میں عرض کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے جہاد۔ یہ کالم لکھتے ہوئے ہمیں مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں مولانا مودودیؒ کا مؤقف معلوم نہیں تھا۔ چنانچہ 5 فروری کے بعد ہمیں لاہور سے سلیم منصور خالد صاحب نے مولانا مودودیؒ کی عصری نشستوں کی روداد پر مشتمل کتاب ’’مجالس سید مودودیؒ‘‘ ارسال کی، تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ آج سے 56 سال قبل مولانا اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ مسئلہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے جہاد۔ لیکن مولانا نے یہ بات ایک آدھ فقرے میں نہیں کہی، مولانا نے یہ بات کہنے کے لیے ایک پورا مبسوط مقدمہ ترتیب دیا ہے۔ مولانا مودودیؒ کا یہ مقدمہ دراصل 1965ء میں مولانا کے آزاد کشمیر کے دورے کے موقع پر کی گئی ایک تقریر ہے۔ یہ تقریر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے پوری صحت کے ساتھ ’’مجالس مولانا مودودیؒ‘‘ میں رقم کی ہے۔ مولانا کی یہ تقریر اتنی اہم اور مدلل ہے کہ جماعت اسلامی کے ہر رہنما اور ہر کارکن کو ہی نہیں، پوری پاکستانی قوم کو اس سے آگاہ ہونا چاہیے۔ مولانا نے 1965ء میں فرمایا:۔
’’حضرات! یہ سوال آج ہر شخص کی زبان پر ہے کہ کشمیر کے اس مسئلے کا، جو ہمیں درپیش ہے، آخر حل کیا ہے؟ ہر پاکستانی خواہ وہ مغربی پاکستان میں ہو یا مشرقی پاکستان میں، پوچھ رہا ہے کہ اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے؟ اور جلدی سے جلدی کشمیر میں اپنے مسلمان بھائیوں کو مظالم سے کیسے نجات دلائی جائے؟ میں جہاں کہیں بھی جاتا ہوں، جن لوگوں سے بھی ملتا ہوں وہ بار بار اس سوال کو اٹھاتے ہیں، اور یہاں بھی جب سے آیا ہوں، بار بار یہی سوال سامنے آیا ہے۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی زیادہ سے زیادہ چار صورتیں ہیں، اور اگر یہ حل ہوسکتا ہے تو ان میں سے کسی ایک صورت سے حل ہوسکتا ہے۔ ہمیں جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے کہ ان صورتوں میں سے کون سی صورت اپنے اندر کتنا کچھ امکان رکھتی ہے۔
’’اس کے حل کی ایک صورت یہ ہوسکتی تھی کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان باہمی بات چیت سے یہ مسئلہ حل ہوجاتا۔ دنیا کی مختلف بڑی بڑی قومیں بار بار یہ کہتی رہی ہیں، اور ان میں سے بعض اب بھی یہ کہتی ہیں کہ آپس میں بیٹھو اور بات چیت سے اس مسئلے کو حل کرو۔ ابھی حال ہی میں روس کی حکومت نے یہ دعوت بھی دی ہے کہ آئو! اور ہمارے سامنے بیٹھ کر آپس میں بات چیت کرو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بھارتی حکومت سے بات چیت کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔
’’واقعہ یہ ہے کہ پچھلے اٹھارہ سال کی تاریخ، جس میں سے کشمیر کا مسئلہ گزرا ہے، بھارت کی بددیانتی کی کھلی ہوئی تاریخ ہے۔ یہ مسئلہ تو پیدا ہی نہ ہوتا اگر ہندُستان کی حکومت میں کوئی دیانت موجود ہوتی۔ جو شخص بھی برعظیم ہند کے نقشے پر نگاہ ڈالے گا، ایک نظر میں کہہ دے گا کہ کشمیر پاکستان ہی سے تعلق رکھتا ہے، بھارت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ برٹش انڈیا کی تقسیم جس اصول پر ہوئی تھی، اس کو دیکھا جائے تو اس لحاظ سے بھارت کو کشمیر لینے کا کوئی حق سرے سے پہنچتا ہی نہیں۔ تقسیم اس اصول پر ہوئی تھی کہ مسلم اکثریت کے متصل علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ اس اصول کو مان لینے کے بعد ہندستان کے ہندو لیڈر اس بات پر راضی ہو گئے کہ ملک تقسیم ہو۔ تو اگر اُن کے اندر ذرہ برابر دیانت موجود ہوتی تو وہ ارادہ ہی نہ کرتے اس بات کا کہ کشمیر پر قبضہ کر لیا جائے۔
’’فی الواقع یہ بددیانتی ہی تھی، جس نے اُن کو اس بات پر آمادہ کیا کہ تقسیم کے وقت اپنے ہمسائے کے ایک حصے پر بھی قبضہ کرلیں۔ پھر ان کے اندر اتنی انسانیت اور اخلاق بھی موجود نہیںتھا کہ اپنے قول و قرار کا پاس کرتے، کیوں کہ اگر تھوڑی سی دیر کے لیے حق و انصاف کے سوال کو نظرانداز کر دیاجائے تو خود انہوں نے جس چیز کا اقرار کیا تھا، وہ ڈوگرہ راج کی دستاویز الحاق کو قبول کر رہے ہیں اور اس کا آخری فیصلہ جموں اور کشمیر کے باشندوں کی رائے پر ہو گا۔ یہ خود اُن کا اپنا قول و قرار تھا۔ اُن کا اپنا اعلان تھا، جس سے وہ منحرف ہوگئے۔
’’سوال یہ ہے کہ جو قوم اتنی بدعہد ہے اور جس کے لیڈر اس قدر انسانی اخلاق سے عاری ہیں کہ اپنے قول و قرار سے پھر جانے اور اپنی بات کو نگل جانے میں بھی انہوں نے کوئی تامل نہیں کیا، اُن سے بات چیت کس بات پر کی جائے؟ تمام قوموں کے سامنے بیٹھ کر انہوں نے اس بات کو قبول کیا تھا کہ کشمیر کے باشندوں کو رائے شماری کے ذریعے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اس طرح وہ خود فیصلہ کریں گے کہ وہ بھارت یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس قرارداد کو بھارت نے خود مانا، اور 1958ء تک برابر اس کو مانتا رہا، لیکن آج اس کے لیڈروں کو یہ کہتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں ہورہی کہ کشمیر بھارت کا غیر منفک حصہ ہے۔ آج وہ اس کو اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ کہتے ہیں، اور ان کو یہ کہتے ہوئے ذرہ برابر شرم نہیں آتی۔ نہ ان کے فلسفی صدر [رادھا کرشنن] اس پر شرماتے ہیں، اور نہ اس کے پردھان منتری [لال بہادر] شاستری صاحب اس پر شرماتے ہیں۔
’’سوال یہ ہے کہ جس قوم کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ اس کا ایک ایک فرد جانتا ہے کہ کشمیر پر ان کا کوئی حق نہیں ہے، کشمیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اور خود تقسیم ہند کی رو سے اسے پاکستان ہی میں شامل ہونا چاہیے، اور پھر وہ سب یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے قول و قرار اس معاملے میں کیا ہیں، اس کے باوجود وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہیں۔
’’سوال یہ ہے کہ ان سے بات چیت کرنے کا آخر کیا فائدہ ہے؟ اور ان سے بات کرنے میں آخر کیوں وقت ضائع کیا جائے؟
’’جو لوگ ہم سے یہ کہتے ہیں کہ آئو اور ان کے ساتھ بات چیت سے مسئلہ طے کرو۔ اُن سے ہمیں یہ کہنے کے بجائے کہ صاحب آپ بلاتے ہیں تو ہم بات کرنے کو تیار ہیں، یہ کہنا چاہیے کہ پہلے دوسرے فریق سے اس بات کا اقرار تو کرالو کہ کشمیر کے متعلق واقعی کوئی جھگڑا ہے، آخر جب بھارت یہ کہتا ہے کہ، کشمیر کوئی disputed territory [متنازع علاقہ] ہے ہی نہیں، کشمیر میں نزاع کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا اور نہ کشمیر کے متعلق بات کرنے کی ضرورت ہے، تو بتایا جائے کہ اس طرح کی بات چیت سے مسئلہ کشمیر کیوں کر حل ہوسکتا ہے!۔
’’دوسری صورت اگر کوئی ممکن ہے تو وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعے یہ مسئلہ حل ہو۔ آپ دیکھیں کہ اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ 1948ء میں گیا اور آج 1965ء ختم ہورہا ہے۔ اس پوری مدت میں یعنی سترہ سال سے زیادہ عرصے میں اقوام متحدہ نے کیا کیا ہے؟ اقوام متحدہ کا اپنا یہ فیصلہ تھا کہ کشمیر سے پاکستان اور ہندستان دونوں کی فوجیں ہٹ جائیں گی اور اقوام متحدہ کی زیرنگرانی کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے گی، اور وہاں کے باشندوں کو بھارت اور پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ نے 1948ء میں کیا۔ 1949ء میں اس فیصلے کو اور زیادہ واضح انداز میں دہرایا۔ لیکن 1965ء تک اس پوری مدت میں اس فیصلے پر عمل درآمد کے بجائے محض وقت گزاری ہوتی رہی۔ کبھی فلاں مشن آرہا ہے اور کبھی فلان مشن آرہا ہے، کبھی استصوابِ رائے کے ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کیا جارہا ہے (جس کو اب تک تنخواہ دی جاتی رہی)، لیکن عملاً کیا قدم اٹھایا گیا؟
’’اس معاملے میں مجلسِ اقوام متحدہ کی بے حسی کا بلکہ اس کی بداخلاقی کا حال یہ ہے کہ پہلے جن چیزوں کا فیصلہ وہ کرچکے ہیں اور جو فیصلے لکھے ہوئے بھی دستاویزی صورت میں ان کے سامنے موجود ہیں، آج تک ان فیصلوں کا اعادہ کرنے اور ان کا نام لینے میں بھی ان کو تامل ہے۔ انہوں نے اسی سال [1965ء میں] 4 ستمبر اور 20 ستمبر، اور اس کے بعد اب 8 نومبر کو جتنے ریزولیوشن پاس کیے ہیں، ان میں سے کسی میں ان فیصلوں کا حوالہ تک موجود نہیں ہے۔ چنانچہ اس امر کا ذکر کرنا چاہیے کہ ان فیصلوں کے مطابق اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ لیکن سرے سے اس بات کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اقوام متحدہ کو خود اپنے فیصلوں کا بھی احترام نہیں۔
’’اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر بھارت کے وزیر خارجہ علی الاعلان یہ کہتے ہیں کہ کشمیر تو بھارت کا ایک حصہ ہے، کشمیر کے متعلق ہم سرے سے کوئی بات کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ نہ اقوام متحدہ کو یا کسی اور کو کشمیر کے معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق پہنچتا ہے، کیونکہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔ یعنی ایک قوم اس قدر بے حیائی کے ساتھ اقوام متحدہ میں بیٹھ کر تسلیم کیے ہوئے سارے فیصلوں کو ماننے سے انکار کردے اور سلامتی کونسل کے لٹیروں میں سے کوئی نہیں جو کھڑے ہوکر اسے ٹوکے اور کہے کہ تم یہ کس طرح اور کس زبان سے کہہ سکتے ہو کہ کشمیر کا معاملہ تمہارا داخلی معاملہ ہے اور اس میں کسی کو دخل دینے کا حق نہیں ہے…! اگر کسی کو دخل دینے کا حق نہیں ہے تو 1948ء میں یہ اقوام متحدہ کے سامنے پیش کیسے ہوا، اور آج بھی اس کے ریکارڈ پر کیوں موجود ہے؟ اگر یہ کوئی مابہ النزاع مسئلہ نہیں تھا تو یہ یہاں کیسے آیا؟ اقوام متحدہ میں اس مسئلے کا آنا خود اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ یہ ایک مابہ النزاع مسئلہ ہے۔
’’لیکن سب جانتے ہیں کہ ایسی کوئی آواز ان مہذب اقوام کے پلیٹ فارم سے سنائی نہیں دی۔ اسی سے آپ اندازہ کیجیے کہ اقوام متحدہ کی اخلاقی حالت کیا ہے، اور کس حد تک ان کے ہاں دیانت، امانت اور انصاف موجود ہے، اور یہ بھی کہ کس حد تک وہ خود اپنے فیصلوں کا احترام ملحوظ رکھتے ہیں۔
’’میرا خیال یہ ہے کہ جس طرح ہندستان سے بات چیت کرکے اس مسئلے کے طے ہونے کا کوئی امکان نہیں، اسی طرح اقوام متحدہ کے ذریعے اس مسئلے کو طے کرانے کی کوئی امید نہیں۔ یہ بالکل ہماری نادانی ہوگی، اگر ہم آئندہ بھی اس امید پر بیٹھے رہیں جس طرح سترہ سال سے بیٹھے ہوئے ہیں۔
’’اب اس کے بعد تیسری صورت یہ رہ جاتی ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں، اس معاملے میں مداخلت کرکے اس مسئلے کو حل کرائیں۔ آئیے! ذرا ان بڑی بڑی طاقتوں پر بھی ایک نظر ڈالیں۔
’’ان بڑی طاقتوں میں سے ایک برطانیہ ہے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ پیدا ہی برطانیہ کی بددیانتی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اُس نے تقسیم اتنے غلط طریقے سے کرائی اور ریڈ کلف ایوارڈ میں ایسی تحریف کی کہ اس کے نتیجے میں ایک مستقل تنازع پاکستان اور ہندستان کے درمیان پیدا ہوگیا۔ اگر یہ تقسیم غلط طریقے سے نہ ہوتی اور ہندستان کو کشمیر تک پہنچنے کا وہ [درۂ بانہال کا] راستہ ناجائز طور پر نہ دیا جاتا جو اسے کسی صورت میں حاصل نہیں ہوسکتا تھا تو یہ مسئلہ پید اہی نہ ہوتا۔
’’سوال یہ ہے کہ جس طاقت نے اپنی بددیانتی سے اور اس بنا پر کہ اس کے اندر کسی اخلاقی ذمہ داری کا احساس موجود نہیں تھا، خود اس مسئلے کو پیدا کرنے کے اسباب فراہم کیے اور سارے فساد کی بنیاد ڈالی، اُس سے آپ کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ اب کوئی کوشش اس مسئلے کو حل کرنے کی کرے گی؟ اگر اس قوم کے اندر ذمہ داری کا احساس موجود ہوتا تو یہ مسئلہ پیدا ہی کیسے ہوتا؟
’’ایک دوسری بڑی طاقت [اشتراکی] روس ہے۔ میں یہ صاف صاف کہتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلے کو اتنا پیچیدہ بنانے میں بہت بڑا دخل روس کا ہے۔ جب تک روس نے ہندستان کی حمایت میں اپنا ویٹو استعمال کرنا شروع نہیں کیا تھا، اُس وقت تک ہندستان کو کبھی یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوئی تھی کہ کشمیر کا سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں، اور کشمیر تو ہمارا ’’اٹوٹ انگ‘‘ ہے۔ یہ باتیں بھارت نے اُس وقت سے شروع کی ہیں، جب روس نے مسلسل اپنا ویٹو استعمال کر کے بھارت کو اس امر کا اطمینان دلا دیا کہ تم اب کشمیر پر آسانی سے قبضہ برقرار رکھ سکتے ہو۔ روس کے وزیراعظم [خروشچیف] نے کشمیر میں آکر کھلم کھلا اس ظلم کا اعلان کیا کہ ہم کشمیر کو ہندستان کا ایک حصہ مانتے ہیں۔ فی الحقیقت اس مسئلے کو اس حد تک الجھا دینے میں اس ظلم کا بہت بڑا حصہ ہے۔ روس کا ویٹو استعمال ہونے سے پہلے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں اس حیثیت سے آتا رہا کہ استصواب کیسے کرایا جائے اور کیا کیا انتظامات کیے جائیں۔ لیکن جب سے روس نے ویٹو استعمال کرنا شروع کیا ہے، اُس وقت سے استصواب کا لفظ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں سے غائب ہوگیا ہے۔ اب ایسی بڑی طاقت سے ہم کیا امید قائم رکھ سکتے ہیں! یہ الگ بات ہے کہ کوئی ہمیں بلائے تو ہمارے اخلاق کا تقاضا ہے کہ ہم دعوت کو قبول کریں، لیکن دعوت اگر کسی زہریلے پلائو کے کھانے کی ہو تو ایسی دعوت کو قبول کرنا مسنون نہیں ہے۔
’’ایک اور بڑی طاقت امریکہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ دنیا میں امریکہ سے زیادہ ناقابلِ اعتماد دوست شاید ہی کوئی ہوگا۔ اس نے جس کمال کا مظاہرہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک سے یک طرفہ دوستی چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر ایک اس کے کام آئے مگر وہ کسی کا ساتھ نہ دے، بلکہ جب بھی موقع پیش آئے تو اپنے دوست کے ساتھ بے وفائی کرے۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ ہی کی وجہ سے پاکستان نے روس سے دشمنی مول لی۔ اگر ہم سیٹو اور سینٹو میں امریکہ کے ساتھ شامل نہ ہوتے تو شاید روس ہمارا اس قدر دشمن نہ بنتا کہ بار بار ’ویٹو‘ استعمال کرکے کشمیر کے مسئلے کو اتنا الجھا دیتا۔ پاکستان نے امریکہ کی دوستی میں اس حد تک نقصان اٹھایا، لیکن جب ہمارا معاملہ آیا تو اس وقت اُس نے کھلم کھلا ہمارے ساتھ بے وفائی کی۔ جب اس کا حال یہ ہے تو ہم سے زیادہ نادان کون ہوگا اگر ہم یہ امید باندھیں کہ امریکہ پر اعتماد کریں، اور اس امید پر بیٹھے رہیں کہ وہ اسے حل کرائے گا۔ وہ اسے ایسے طریقے سے حل کرائے گا کہ کشمیر کا حقِ خودارادیت تو درکنار، خود پاکستان کی آزادی و خودمختاری بھی باقی نہیں رہے گی۔ جو کچھ امریکہ کے ارادے سننے میں آتے ہیں اور جس طرح کے مضامین کھلم کھلا امریکہ کے ہاں لکھتے جاتے ہیں اور اخباروں میں شائع ہوتے ہیں، اُن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی اسکیم کشمیر کے مسئلے کو ایسے طریقے سے حل کرانے کی ہے کہ جس سے خود پاکستان کی آزادی و خودمختاری بھی ختم ہوجائے گی۔ اس کی وجہ سے ہمارے نزدیک اس سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہے کہ امریکہ پر اعتماد کیا جائے اور اُس کے ذریعے سے اس مسئلے کو حل کرانے کی امید باندھی جائے۔
’’اب صرف ایک آخری صورت رہ جاتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے بھروسے پر اٹھیں اور اپنے خدا پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے دست و بازو سے اس مسئلے کو حل کریں۔ میرے نزدیک بس یہی ایک صورت ہے۔ اس سے پہلے بھی برسوں میں یہ بات کہتا رہا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلے کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے جہاد…آج بالکل صریح طور پر یہ بات ہر ایک کے سامنے آچکی ہے کہ اس مسئلے کا اس کے سوا کوئی اور حل نہیں ہے۔
’’لیکن جہاں تک اس حل کا تعلق ہے، بعض لوگوں کے ذہنوں میں ’’حساب‘‘ کے مختلف سوال پیدا ہوجاتے ہیں۔ جب اس مسئلے پر بات ہوتی ہے تو بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پاکستان اور ہندستان کی طاقت میں بہت فرق ہے۔ وہ کئی گنا بڑی طاقت ہے، اس وجہ سے ہم لڑ کر اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ کچھ لوگ یہ بات کھل کر کہتے ہیں اور بعض لوگ دبے دبے الفاظ میں اس خیال کا اظہار کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آج ہمارے سامنے مسئلہ زندگی اور موت کا ہے، غیرت اور بے غیرتی کا ہے، عزت اور ذلت کا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہم ایک مرتبہ کشمیر کے معاملے میں دبتے ہیں تو یہ ایک مرتبہ کا دبنا نہیں ہوگا، بلکہ اس کے بعد ہم کو مسلسل دبتے چلے جانا پڑے گا۔ یہاں تک کہ ہماری آزادی بھی چھن جائے گی۔ یعنی اب پاکستان کا باقی رہنا بھی اس بات پر منحصر ہے کہ پاکستان دنیا میں اس بات کو ثابت کرے کہ یہ ایک باعزت قوم کا ملک ہے۔ ایک زندہ قوم کی سرزمین ہے۔ اور یہ قوم اپنی عزت کے لیے مر سکتی ہے، لیکن جھک نہیں سکتی۔
’’میرے بھائیو! جب تک ہم اپنے عمل سے اس بات کو ثابت نہیں کریں گے، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اور نہ صرف یہ کہ یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ ہم ایک آزاد اور باعزت قوم کی حیثیت سے زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ جہاں تک حساب لگانے کا تعلق ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ مسلمان کو بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی طاقت پر اعتماد کرتے ہیں، وہ اپنے سے دس گنا کسی طاقت سے بھی لڑ کر کامیاب ہوسکتے ہیں۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ: کم من فئۃٍ قلیلۃٍ غلبت فئۃً کثیرۃً باذن اللہ [البقرۃ، 2: 249]یعنی ایک قلیل تعداد، بارہا ایسا ہوا کہ اللہ کے حکم سے ایک کثیر تعداد کے اوپر غالب آجاتی ہے۔
’’اور آج تو یہ محض ایمان بالغیب کی بات بھی نہیں رہی، پچھلے سترہ روز کی جنگ میں مسلسل اور پے درپے اس بات کا مشاہدہ ہوچکا ہے۔ کوئی شخص اس بات کو کیسے باور کرسکتا ہے کہ تین رجمنٹ فوج تین ڈویژن فوج سے بھڑ جائے، اور وہ تین ڈویژن اس پر غالب نہ آسکیں۔ ایک بٹالین فوج پوری کی پوری تین ڈویژن کو روکے رکھے اور وہ لاہور کی طرف نہ بڑھ پائے۔ اگر ’’حساب‘‘ کرکے دیکھا جائے تو ہماری فضائی طاقت کتنی تھی اور ہندستان کی طاقت کتنی؟ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ وہ ہم سے کئی گنا زیادہ تھے، اور صرف یہی نہیں کہ وہ بہت زیادہ تھے بلکہ ان کے ہوائی جہاز ہمارے ہوائی جہازوں سے زیادہ بہتر نوعیت کے تھے، لیکن تجربے نے آپ کو بتادیا کہ اگر اللہ کی تائید شاملِ حال ہو اور مسلمان اللہ کے بھروسے پر اٹھ کھڑے ہوں تو اللہ کی تائید معجزے دکھا سکتی ہے، اور اس زمانے میں بھی اُس نے معجزے دکھائے ہیں اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ہمیں اللہ کے بھروسے پر اٹھنا چاہیے اور اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ لیکن ایک بات اچھی طرح سمجھ لیجیے۔
’’یاد رکھیے کہ اللہ سے تائید کی امید رکھنا اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی نافرمانیاں کرنا، یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ نہیں چلا کرتیں۔ اس جنگ سے پہلے سترہ اٹھارہ سال جو کچھ ہمارے ہاں ہوتا رہا، جو فسق و فجور بپا رہا، جس طرح اسلامی تہذیب کے گلے پر چھری چلائی جاتی رہی اور غیر اسلامی ثقافت کو رواج دیا جاتا رہا، وہ سب کو معلوم ہے، اس کی داستان کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔ لیکن صرف اس وجہ سے کہ یہ قوم اللہ کا نام لیتی تھی اور اس قوم کے اندر خدا سے بغاوت کا ارادہ نہیں تھا، بلکہ یہ فسق و فجور اس پر زبردستی مسلط کیا جارہا تھا، اللہ نے ہم پر رحم کیا اور اس آزمائش کے موقع پر اللہ کی ایسی غیرمعمولی تائید آئی کہ دشمن بھی ششدر رہ گیا۔ لیکن یہ جان لیجیے کہ اپنے خدا کے ساتھ یہ کھیل ہم بار بار نہیں کھیل سکتے۔
’’اگر ہمیں اس سے تائید چاہیے، اگر ہم یہ امید لگاتے ہیں کہ وہ ہماری مدد فرمائے گا تو ہمیں اس کے ساتھ بغاوت کا رویہ چھوڑنا ہوگا۔ یہ بات غلط ہے کہ لڑنے کے وقت کلمے پڑھے جائیں، جنگ میں اس کی مدد کے بھروسے پر اطمینان ظاہر کیا جائے، اور لڑائی ختم ہوتے ہی فوراً پھر وہی فسق و فجور شروع ہوجائے۔ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ آج ہماری فوجوں کو ورائٹی شو دکھانے شروع کردیے جائیں، اور ورائٹی شو بھی اس طرح سے کہ عین فرنٹ کے اوپر لے جاکر آدھے سپاہیوں سے کہا جائے کہ تم مورچوں میں بیٹھو اور آدھے جاکر ورائٹی شو دیکھیں۔ گویا صلوۃِ خوف کی طرح اب یہ آدھے جاکر وہاں رقص دیکھیں، العیاذ باللہ۔
’’یہ چیزیں خدا کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں۔ اگر ہمیں خدا کی مدد حاصل کرنی ہے تو پھر خدا کی اطاعت کی طرف آنا پڑے گا۔ اس سے بغاوت کی راہ چھوڑنی پڑے گی۔ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر ہم خدا کی اطاعت اور فرماں برداری اختیار کریں تو جتنی تائید پچھلے سترہ روز میں خدا نے کی ہے، اس سے بدرجہا زیادہ تائید اس کی طرف سے پھر ہوگی اور بہت جلدی نہ صرف یہ مسئلہ حل ہوگا بلکہ پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے متعلق بھی ہمیں پوری طرح سے اطمینان حاصل ہوجائے گا جیسا کہ سردار عبدالقیوم صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ: ’’اب مسئلہ صرف کشمیر کا نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلہ پاکستان کا بھی ہے، اور اس بات کا کہ پاکستان کو عزت کے ساتھ جینا ہے یا نہیں؟‘‘
’’تو اس مسئلے کو صرف خدا کی تائید ہی حل کرسکتی ہے، اور کوئی طاقت ایسی نہیں ہے۔ ہر طرف سے نظریں ہٹا کر ایک خدا سے امیدیںباندھی جائیں۔ نہ روس کی طرف سے کوئی امداد ملنی ہے، نہ امریکہ کی طرف سے، نہ برطانیہ کی طرف سے، اور نہ اقوام متحدہ کی طرف سے۔ ہر طرف سے نظریں ہٹاکر ایک خدا کے بندے بن جائیے، اور خدا کے بھروسے پر اپنے دستِ بازو سے اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ یہی آخری راستہ ہے۔
’’میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے حکمرانوں کو اتنی ہمت اور اتنا عزم عطا کرے کہ وہ اس کے بھروسے پر اٹھ کھڑے ہوں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ میں تمام مسلمانوں کے حق میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا فرماں بردار بنائے۔ ان کو اپنی اطاعت کی توفیق بخشے اور ان پر رحم فرمائے۔ آمین!‘‘
لوگ مولانا مودودیؒ کو ’’بڑا آدمی‘‘ کہتے ہیں، یہ مولانا کی ’’تعریف‘‘ نہیں، یہ صرف ’’حقیقت کا بیان‘‘ ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کو معلوم نہیں کہ بڑے آدمی کی تعریف کیا ہے۔ بڑے آدمی کی ایک تعریف یہ ہے کہ بڑا آدمی وہ بات سوچتا ہے جو پوری قوم اور پوری ملت کیا، پوری امت بھی نہیں سوچ پاتی۔ یہ مولانا تھے جنہوں نے کمیونزم کے زوال کی پیش گوئی کی اور فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب اسے ماسکو میں بھی پناہ نہیں ملے گی۔ یہی ہوا۔ 1965ء میں کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ مسئلہ کشمیر 2021ء تک بھی حل نہیں ہوگا۔ مگر مولانا 1965ء میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاک بھارت مذاکرات سے مایوس تھے۔ انہیں اس سلسلے میں بڑی طاقتوں برطانیہ، روس اور امریکہ سے کوئی امید نہ تھی۔ انہیں امید تھی تو وہ صرف ایک چیز سے… جہاد سے۔ حالانکہ مولانا کے زمانے میں افغانستان میں روس اور امریکہ کو شکست نہیں ہوئی تھی، مگر مولانا کو کامل یقین تھا کہ جہاد فی سبیل اللہ ہی مسئلہ کشمیر کے حل کا راستہ ہے۔ مولانا کی یہ بصیرت بے مثال ہے۔ جو لوگ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں پاک بھارت مذاکرات سے امید وابستہ کیے ہوئے ہیں وہ اپنا اور پوری قوم کا وقت ضائع کررہے ہیں اور انہیں مسلمانوں کی تاریخ کی حرکیات کا کوئی شعور نہیں۔ آئیے جہاد کے سلسلے میں مولانا کے ایقان کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔

Share this: