مرشد منورؒ سید منور حسن

Print Friendly, PDF & Email

مصنف : سید مصعب غزنوی
ضخامت : 150 صفحات قیمت:350 روپے
ناشر : رائٹرز کلب پاکستان
ملنے کا پتا : پل نہر بنگلہ نزد مسجد عمران بن حصین، مرکز
جماعت اسلامی تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد
فون : 0307-0648859
برقی پتا : Musabghazanavi222@gmail.com
سید منور حسنؒ اس قدر دلآویز شخصیت کے مالک تھے کہ جو ان سے ملتا گرویدہ ہوجاتا۔ انہوں نے اپنی گفتگوئوں، تقریروں اور خطابات کے ذریعے بے شمار لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو متاثر کیا۔ یہ سلسلہ اُس وقت سے شروع ہوا جب وہ خود ابھی جوان تھے، اور اُس وقت تک جاری رہا جب تک ان کے دم میں دم رہا، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ سلسلہ صدقۂ جاریہ کی صورت ان کی وفات کے بعد بھی جاری و ساری ہے۔ جو اُن کا تذکرہ سنتا یا پڑھتا ہے، متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ نوجوان، سید کی زندگی میں بھی اُن سے بے پناہ محبت کرتے تھے جس کا اظہار وہ اپنے اجتماعات میں اُن کے خطاب سے پہلے، خطاب کے دوران اور خطاب کے بعد دیر تک ’’ہم بیٹے کس کے… سید کے‘‘ جیسے بلند آہنگ نعروں کی صورت میں کرتے تھے۔ نوجوانوں کی ان سے محبت سید کی جہانِ فانی سے رخصت کے بعد بھی جاری ہے، جس کی مظہر زیر نظر کتاب ’’مرشد منورؒ… سید منور حسن 1941-2020ء‘‘ ہے جسے فیصل آباد کے غیر معروف اور دور دراز علاقہ پل نہر بنگلہ تاندلیانوالہ کے جواں عمر مصنف سید مصعب غزنوی نے شائع کیا ہے۔ اس کام میں انہیں عارف رمضان جتوئی، محمد بن فاروق اور فرقان بھائی کے علاوہ بہت سے دیگر احباب کی حوصلہ افزائی اور تعاون بھی حاصل رہا۔ سید مصعب غزنوی کی اپنے مرشد سے محبت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے اپنے علاقے تاندلیانوالہ میں سید منور حسن کی غائبانہ نمازِ جنازہ کا اہتمام کرکے دل کا بوجھ ہلکا کیا، اور پھر مرشد کے حضور عقیدت کے پھول پیش کرنے کی غرض سے ان کی شخصیت پر کتاب مرتب کرنے کا عزم لے کر مختلف احباب سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس مشن میں انہوں نے کراچی اور دیگر مقامات کا سفر بھی کیا۔ ان کی انتھک محنت اور سید سے عقیدت کا نقش کتاب کے ہر صفحے پر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے اپنے بقول:
’’سید منور حسن کی زندگی پر یہ کام شاید ان کی زندگی کاسو فیصد میں سے ایک فیصد بھی نہیں، مگر مجھ سے جو ممکن ہوسکا میں نے کرنے کی بھر پور کوشش کی، محدود وسائل میں رہتے ہوئے مجھ سے جو ہوسکا وہ میں نے لازمی کیا۔ سید منور حسنؒ کی زندگی ایک سمندر کی مانند ہے جس پر مزید بہت سارا کام ہوسکتا ہے۔‘‘
معاون مصنف عارف رمضان جتوئی سید منور حسن سے اپنے تعارف کی روداد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’پھر وہی نعرہ لگا’ ’ہم بیٹے کس کے… سید کے… ‘‘ ایک سفید ریش شخص اسٹیج سے اٹھ کر آئے اور متانت و عاجزی کے ساتھ ہاتھ اٹھاکر نعروں کا جواب دیا۔ گفتگو کی ابتدا عالمانہ تھی، ہر لفظ پختہ تھا۔ مطمئن لہجہ، واضح الفاظ، گفتگو میں ٹھیرائو تھا کہ باپ بیٹوں سے مخاطب ہے۔ اردو ایسی کہ ہر لفظ سننے کو جی چاہے، موتیوں کی طرح مرتب جملے اور باتوں میں تاثیر نے اپنا گرویدہ کرلیا۔ وہ جو کچھ کہہ رہے تھے، میں نے پہلے نہیں سنا تھا۔ ان کی باتوں میں دوراندیشی تھی۔ کسی اَن دیکھے خدشے کی جانب توجہ مبذول کروائی جارہی تھی، نوجوانوں کو کردار سازی پر توجہ دینے کی تلقین بھی شامل تھی۔ وہ اپنے بیٹوں کا مستقبل سنوارنے کی فکر میں تھے۔ جلسہ اختتام پذیر ہوچکا تھا، سید صاحب بھی جا چکے تھے، میں نے بہت کوشش کی کہ ملاقات ہو، نہیں تو کم از کم مصافحہ ہی ہوجائے، مگر تعداد زیادہ تھی اور یہ خواہش ادھوری رہی۔ انتظامی امور کے فرد سے پوچھا کہ سید صاحب کون ہیں؟ تو انہوں نے حیرت سے دیکھا اور کہا ’’کیا آپ سید منورحسن صاحب کو نہیں جانتے؟‘‘ نام تو بہت سنا تھا مگر روبرو آج دیکھا تھا، میں نے اثبات میں سر ہلایا اور چل دیا۔‘‘
کتاب میں پیدائش سے وفات تک سید منور حسن کی زندگی کے مختلف ادوار، اور سید کی عادات و اطوار کو تین درجن سے زائد عنوانات کے تحت مختصر تحریروں کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے۔ ایک آدھ کے سوا تمام تحریریں ڈیڑھ دو صفحات پر محیط ہیں، یوں قاری تحریر کی طوالت کے سبب پیدا ہونے والی بوریت سے محفوظ رہتا ہے اور سید منور حسن کی شخصیت سے آگاہی بھی حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔ سید منور حسن مرحوم کی حسِ مزاح کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنف نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے، لکھتے ہیں:
’’ایک مرتبہ سید منور حسن کی ایک عزیزہ جو اُن سے عمر میں کافی بڑی تھیں اور سید منور حسن کے گھرانے سے بڑی محبت اور عقیدت رکھتی تھیں، وہ سید منور حسن سے بڑی پریشان ہوکر کہنے لگیں کہ منور مجھے فلاں فلاں نے کہا ہے کہ منور لاہور میں اس لیے رہتے ہیں کیونکہ انہوں نے وہاں ایک اور شادی کررکھی ہے اور وہ وہاں اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی وقت سید منور حسن برجستہ بولے: آپا! لاہور میں دوسری نہیں پہلی بیوی ہیں، میری دوسری بیوی تو عائشہ ہے۔ جس پر وہ آپا نہایت پریشانی کے عالم میں سید منورحسن کی طرف دیکھنے لگیں، تو سید منور حسن بولے: اب یہ تو آپ کی غلطی ہے کہ آپ نے ہمارا انتخاب کرانے سے پہلے چھان بین نہ کرائی۔ جس پر وہ مزید پریشان ہوگئیں۔ ان کی پریشانی کی حالت دیکھ کر سید منورحسن بولے: آپا میری پہلی بیوی تو جماعت اسلامی ہے۔ یہ سن کر آپا کی ساری پریشانی دور ہوگئی اور اب وہ خوب ہنسنے لگیں کہ ہمیں تو آپ نے ڈرا ہی دیا تھا۔‘‘
کتاب میں اگرچہ جابجا زبان و بیان کی خامیاں موجود ہیں اور حروف خوانی پر بھی مناسب توجہ نہ دیئے جانے کے سبب کتابت کی بہت سی غلطیاں مطالعے کے تسلسل کو متاثر کرتی ہیں، تاہم کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت مصنف کی سید منورحسنؒ سے عقیدت ہے جس کے تحت انہوں نے خاصی محنت کے بعد بہت کم وقت میں کتاب مرتب کرکے اسے قارئین کے سامنے پیش کردیا ہے۔ ضرورت ہے کہ نوجوان مصنف کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے، تاکہ وہ مستقبل میں علم و ادب اور تصنیف و تالیف کے میدان میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے۔

Share this: