سیاسی جماعتوں کے قول و فعل کا تضاد

Print Friendly, PDF & Email

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی مجلس شوریٰ کے ایوانِ بالا کے انتخابات خدا خدا کرکے مکمل ہوگئے ہیں۔ ان انتخابات میں پنجاب اسمبلی میں حکومت اور حزب ِاختلاف نے باہم سودے بازی کے ذریعے بلامقابلہ کامیابی کا جو ناٹک رچایا، اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں جو کچھ ہوا اُس کے پس منظر میں بھی بہت سی کہانیاں ہیں، مگر اصل مقابلہ اسلام آباد کی نشستوں پر تھا جہاں بہت بڑا اَپ سیٹ سامنے آیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی حکومت کے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو ہرا کر فتح یاب قرار پائے ہیں۔ اس نشست پر ارکانِ قومی اسمبلی رائے دہندہ تھے۔ مجموعی طور پر ڈالے گئے 340 ووٹوں میں سے 169 یوسف رضا گیلانی اور 164 عبدالحفیظ شیخ کے حصے میں آئے، جب کہ 7 ووٹ مسترد قرار پائے۔ اس حلقے سے خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی محترمہ فوزیہ 174 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں، جب کہ حزبِ اختلاف کی امیدوار محترمہ فرزانہ 161 ووٹ حاصل کرسکیں، اس نشست پر 5 ووٹ مسترد ہوئے۔ یہ نتائج جہاں حکومت کی اخلاقی اور قانونی حیثیت کے بارے میں ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں کہ جسے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں رہی اُس کے اقتدار میں رہنے کا کیا جواز ہے؟ وہیں یہ ہمارے ملک میں جمہوریت کے مستقبل سے متعلق بہت سے خدشات کی نشاندہی بھی کررہے ہیں۔ یہ انتخابی نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قومی اسمبلی جیسے معزز ادارے کے ارکان کی خرید و فروخت ہوئی، اور اس اہم منصب پر موجود ارکان نے طمع اور لالچ میں اپنے ضمیر بیچے۔ جس نشست پر ارکان کو خریدا گیا وہاں حکومتی امیدوار ہار گیا، اور خواتین کی مخصوص نشست پر چونکہ ضمیر کی قیمت لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی وہاں حکومتی امیدوار جیت گئیں۔ وزیراعظم عمران خاں اس انتخابی عمل کے آغاز ہی سے اس کی شفافیت سے متعلق پریشان تھے کہ 2018ء کے ایوانِ بالا کے انتخابات کے دوران صوبہ خیبر پختون خواکی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان نے کروڑوں روپے لے کر اپنے ووٹ بیچے۔ ووٹ کے عوض کروڑوں روپے کے لین دین کی ایک شرمناک وڈیو بھی حالیہ انتخابی عمل کے آغاز ہی میں منظرعام پر آئی تھی۔ موجودہ انتخابات سے ایک روز قبل بھی جناب یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ بعض ارکانِ قومی اسمبلی کو اپنا ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ سمجھا رہے تھے، اس ضمن میں ان کی وزیر اطلاعات سندھ سے ایک گفتگو کی آڈیو ٹیپ بھی لوگوں نے سنی۔ ان آڈیو، وڈیو ریکارڈنگز کا انکار بھی علی حیدر گیلانی نے نہیں کیا، بلکہ نہایت ڈھٹائی سے ارکانِ قومی اسمبلی کی خرید و فروخت کے اس کاروبار کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اپنا حق ٹھیرایا۔ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے بار بار ضمیر فروشی کے آڈیو، وڈیو ثبوت سامنے آنے کے باوجود افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ نہ تو عدالتِ عظمیٰ نے ان کا ازخود نوٹس لینے کی ضرورت محسوس کی، اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے ماضی میں پیسے کے زور پر ایوانِ بالا تک پہنچنے والے ارکان سے متعلق تحقیق و تفتیش کرکے اُن کی نشاندہی اور اُن کے خلاف تادیبی کارروائی کے ذریعے انہیں نا اہل قرار دینا ضروری سمجھا۔ علی حیدر گیلانی کی تازہ آڈیو، وڈیو ریکارڈنگ کے انکشاف کے بعد بھی فوری طور پر انتخابی عمل روک کر انتخابات کو ہر صورت صاف، شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات کے بجائے الیکشن کمیشن نے تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے اس سنگین معاملے پر مٹی ڈال دی۔
مجلسِ شوریٰ کے ارکان کی ضمیر فروشی صرف حکومتی صفوں تک محدود نہیں، گزشتہ برس ایوانِ بالا کے صدر نشین جناب صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر حزبِ اختلاف کے ارکان بھی اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے کر اسی طرزِعمل کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ پیپلز پارٹی بظاہر ملک میں جمہوریت کی سب سے بڑی علَم بردار ہے، جمہوریت کو اپنی سیاست اور عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیتی ہے۔ ایوانِ بالا کے موجودہ نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ کا اپنا پرانا نعرہ دہرایا ہے۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) کا تعلق ہے وہ بھی اگرچہ آج ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا علَم بلند کیے ہوئے ہے، مگر ماضی میں ’’چھانگا مانگا‘‘ کی سیاست ہی اس کی شناخت رہی ہے، اور اب بھی مسلح افواج کے سربراہ، جن کو میاں نوازشریف اور مریم نواز تمام خرابیوں کا نام لے کر ذمہ دار قرار دیتے ہیں، مگر جب ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ اسمبلی میں پیش ہوا تو نواز لیگ کے ارکان نے من حیث الجماعت اس کے حق میں ووٹ دیا۔ یوں ہماری سیاسی جماعتوں کے قول و فعل میں تضاد کا ایک طویل سلسلہ ہے جو کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں آئین، قانون، اخلاقیات اور جمہوریت کے ناموں کی مالا تو صبح شام جپتی ہیں، مگر عملاً ان کے تقاضوں اور ضابطوں کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کو تیار نہیں۔ ان حالات میں عوام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں، انتخابات کے موقع پر، ان سے پہلے اور بعد اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے کردار پر کڑی نظر رکھیں، اور ایسے لوگوں کو آئندہ منتخب نہ کریں جو ضمیر بیچنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

Share this: