اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنے والے صادق سنجرانی کے سہولت کاروں کو مبارک ہو

Print Friendly, PDF & Email

ترجمہ:اسامہ تنولی

زیر نظر کالم معروف کالم نگار ابراہیم کنبھر نے بروز ہفتہ 13 مارچ 2021ء کو کثیرالاشاعت سندھی روزنامہ ’’کاوش‘‘ حیدرآباد کے ادارتی صفحے پر تحریر کیا ہے، جس کا اردو ترجمہ قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔

۔’’یوسف رضا گیلانی اور مولانا عبدالغفور حیدری کی اکثریت کے باوصف سینیٹ میں شکست کے بعد بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سمیت وہ سب افراد اور سیاسی لیڈر اپنے اس مؤقف پر نظرثانی کریں جس کے مطابق مقتدر قوتیں غیر جانب دار، جمہوریت پسند اور جمہوری پارلیمانی لیڈر چاہتی ہیں۔ صادق سنجرانی بقول شیخ رشید کے ریاست کے امیدوار تھے۔ ریاست کا امیدوار ہونے کا مطلب ہے ریاست کا جزو، اور ریاست کا جزو ہار جائے، یہ کس طرح سے ممکن ہے؟ حکومت نے یوسف رضا گیلانی کے جیتنے کا بدلہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی صورت میں لیا ہے۔ اس طرح کا ٹویٹ حکومتی ترجمان شہبازگل نے بھی کر ڈالا ہے۔ جب کہ اس سے پیشتر وزیر اطلاعات شبلی فراز کہہ چکے تھے کہ صادق سنجرانی کو جتوانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ یہ طریقہ صدارتی ریفرنس سے لے کر پولنگ بوتھ میں کیمرہ فٹ کرنے تک استعمال بھی ہوا۔ پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اگست 2019ء کو اختیار کردہ وہ تاریخ اِس بار پھر سے دہرائی گئی ہے، جب صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد کو ناکام کیا گیا تھا۔ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے والے 64 ووٹ تھے، لیکن جب ووٹر بوتھ میں گئے تو وہاں صادق سنجرانی کے حق میں حزب اختلاف کے 14 ووٹ پڑ گئے۔ سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب نے کافی معاملات کو واضح کردیا ہے۔
۔2021ء میں سینیٹ انتخابات کے بعد سینیٹ میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے 47 ووٹ ہیں، جبکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے 53 ووٹ ہیں، جن میں اسحاق ڈار کی معطلی کے بعد 52 ووٹ بچتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا ایک سینیٹر ہے۔ اپوزیشن کے پاس اکثریت ہے، لیکن 51 ووٹ رکھنے والی اپوزیشن چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہار گئی، جبکہ 47 ووٹ رکھنے والی حکومت یہ اہم انتخاب جیت گئی ہے۔ یہ جیت صادق سنجرانی کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص ذہنیت کی فتح ہے۔ سینیٹ الیکشن کے لیے فنکشنل لیگ کے سینیٹر سید مظفر شاہ کو پریزائیڈنگ افسر مقرر کیا گیا تھا۔ ماہرِ قانون، کم آمیز، ہمیشہ ناپ تول کر بات کرنے والے سینیٹر نے اِس مرتبہ خود کو جج سمجھتے ہوئے پہلی ہی ضرب میں یوسف رضا گیلانی کو ملنے والے ووٹ رد کرنے کی رولنگ دے ڈالی، درآں حالیکہ موصوف کو خود بھی یہ علم نہیں تھا کہ ٹھپہ اصل میں کہاں پر لگنا چاہیے؟ سینیٹ کے اجلاس کا ریکارڈ دیکھیے، اس میں پریزائیڈنگ آفیسر سیکرٹری سینیٹ سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ ٹھپہ کہاں پر لگانا چاہیے؟ یعنی پریزائیڈنگ افسر کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ٹھپہ خانے کے اندر کہیں پر بھی لگایا جاسکتا ہے۔ سامنے لگ سکتا ہے اور نام پر مہر لگائی جاسکتی ہے۔ سینیٹ کے رولز میں بھی یہ بات کہیں نہیں ہے کہ نام کے سامنے ہی ٹھپہ لگ سکتا ہے۔ اس کے بعد سینیٹ کے عملے نے جو ہدایات جاری کیں یا جو ہدایات لکھ رکھی تھیں ان میں واضح تھا کہ بیلٹ پیپر پر خانے میں ٹھپہ لگایا جائے۔ نام بھی خانے کے اندر ہے۔ ٹھپے کے لیے کوئی بھی الگ خانہ نہیں ہے۔ وہ سب ووٹ ڈپٹی سیکرٹری سینیٹ تحریک انصاف کے پولنگ ایجنٹ کے کہنے پر مسترد شدہ خانے میں ڈالتا گیا۔ آخر میں سیکرٹری نے مظفر شاہ کو بتایا کہ ووٹر کی مہر نام پر لگی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ووٹ خارج ہوگیا۔ واضح رہے کہ یہ وہی سیکرٹری ہے جس پر قبل ازیں حزب اختلاف یہ اعتراض وارد کرچکی ہے کہ اس کی زیر نگرانی پولنگ بوتھ کے اندر ویڈیو کیمرے لگائے گئے ہیں۔ فنی بنیادوں پر پریزائیڈنگ افسر نے ایک رولنگ سے 49 ووٹ لینے والے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو شکست میں تبدیل کر ڈالا۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ سینیٹ کے عملے نے واضح ہدایات دی تھیں کہ خانے کے اندر کہیں بھی مہر لگائی جاسکتی ہے، اس لیے یوسف رضا گیلانی کے جو ووٹ خارج کیے گئے ہیں وہ خارج نہیں کیے جاسکتے۔ یہاں پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ سینیٹ کے اتنے بڑے ایوان میں جہاں سینئر ترین پارلیمانی ارکان موجود ہوں انہوں نے ایک ہی طریقے سے ووٹ کس طرح سے ڈالا۔ پہلے حزب اختلاف کی اس دلیل کو درست تسلیم کیا گیا کہ ہوسکتا ہے ارکان نے درست اسے ہی گردانا ہو کہ نام پر مہر ثبت کی جائے، لیکن جب مولانا عبدالغفور حیدری کے ڈپٹی چیئرمین انتخاب کا نتیجہ سامنے آیا تو تمام شکوک دور ہوگئے۔ اس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یوسف رضا گیلانی کے جتنے بھی ووٹ خارج ہوئے ہیں وہ سب کے سب خارج کیے گئے ہیں، کیوں کہ یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے۔ 7 ووٹ خارج ہوگئے۔ اگر 7 ووٹ خارج نہ کرائے جاتے تو گیلانی کے ووٹ 49 تھے اور موصوف کی جیت یقینی تھی۔ جب کہ ان کے مقابلے میں 47 ووٹ کی طاقت رکھنے والے صادق سنجرانی 48 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں 98 ووٹ پڑے، ان میں کوئی ایک بھی ووٹ خارج نہیں ہوا۔ اگر کوئی ایک بھی ووٹ اسی طور طریقے کے ساتھ خارج ہوتا تو اس صورت میں یہ مان لیا جاتا کہ دوبارہ غلطی ہوگئی ہے۔ چال چلنے والوں نے ہر امیدوار کے لیے ایک چال چلی، بلکہ مولانا عبدالغفور حیدری کے ساتھ بھی اپنے اتحادیوں نے فریب کیا۔
سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابی مرحلے سے قبل حزب اختلاف نے ایک ایسا فراڈ پکڑ لیا جس کے نہ پکڑنے کی صورت میں سارے انتخابی عمل پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا، جو اب دوسرے طریقے سے یعنی فنی نوعیت سے سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ سینیٹ کے ارکان ابھی ہال میں ہی موجود تھے کہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر گھومتے پھرتے پولنگ بوتھ تک جا پہنچے۔ پولنگ بوتھ یعنی ووٹر کے ووٹ کو خفیہ رکھنے کے لیے جو آڑ کھڑی کی گئی تھی اُس میں ڈیزائن کے مطابق بہت سارے سوراخ تھے۔ ان پر نظر ڈالتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر کی نظر اُس چھوٹی سے ڈیوائس پر پڑ گئی جو بہ ظاہر کیمرا دکھائی دے رہی تھی۔ پاکستان میں فون بگنگ، خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ، آڈیو ریکارڈنگ اور جاسوسی کے آلات کا استعمال ہرگز کوئی نئی یا انہونی بات نہیں ہے، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پارلیمان کے ایوانِ بالا میں جاسوسی کے لیے ایسے آلات کسی اہم انتخاب کے دن نصب کیے گئے۔ کیمرا اور مائیکرو مائیک کو دیکھنے کے بعد حزب اختلاف نے سارے ایوان کو اپنے سر پر اٹھالیا اور پریزائیڈنگ افسر کے سامنے سخت احتجاج کیا گیا۔ ویڈیو کیمرا، مائیک سب کچھ منظرعام پر لایا گیا۔ اپوزیشن نے پریس کانفرنس کرکے اس کی ذمہ داری صادق سنجرانی پر عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر بطور امیدوار اپنا نام واپس لیں۔ صادق سنجرانی پر یہ الزام اس لیے لگایا گیا تھا کہ کل تک چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی تھے جن کی زیر نگرانی پولنگ بوتھ قائم کیا گیا۔ وہ خود تو کسی ٹیکنالوجی کے ماہر نہیں ہیں، اس لیے ناگزیر امر ہے کہ موصوف کی رضا مندی کے ساتھ مذکورہ آپریشن روبہ عمل لایا گیا ہوگا، اور عین ممکن ہے کہ اس آپریشن کی اجازت عمران خان نے دی ہو، کیوں کہ ہوسکتا ہے عمران خان کو ایجنسیوں نے یہ رپورٹ دی ہو کہ آپ کے دو، تین، چار سینیٹر صادق سنجرانی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس لیے عمران خان کو بھی شاید معلوم کرنے کا اشتیاق ہوگا کہ دیکھتے ہیں آخر ایسا کون سا سینیٹر ہے جو ہمیں (حکومت کو) ووٹ نہیں ڈالتا؟ بقول اپوزیشن، کیمرے کا رُخ اسی سمت تھا کہ اس جانب سے ووٹر کو ووٹ دیتے ہوئے دیکھا جاسکے، یعنی یہ خبر لگ سکے کہ کون سے امیدوار کو ووٹ دیا جارہا ہے۔ آئین میں خفیہ ووٹ کی بات کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی رائے بھی خفیہ ووٹ کے حق میں آگئی۔ الیکشن کمیشن کا پہلے ہی مؤقف خفیہ ووٹنگ کے حق میں تھا۔ اس ساری صورتِ حال کے باوجود حکومت بار بار الیکشن کمیشن پر اپنے غصے کا برملا اظہار کرتی رہی۔
سینیٹ کے انتخابی نتائج کے حوالے سے حکومت نے جو کہا وہ اس نے کر دکھایا۔ محض انتخابی نتائج میں مذاق نہیں کیا گیا بلکہ انتخاب کے روز ایوان کا جو تقدس پامال کیا گیا ہے اس کی مثال ملکی تاریخ میں کہیں بھی نہیں ملتی۔ صادق سنجرانی کے لیے ملک کے تمام ریاستی اداروں کو استعمال کیا گیا۔ اس کی ایک مثال گزشتہ روز حافظ عبدالکریم اور شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس تھی۔ سینیٹ الیکشن کے قریب آتے ہی حکومت نے جو قدم اٹھائے اس میں ناکام ہوئی۔ اسے 2018ء کے سینیٹ الیکشن کا تجربہ بھی حاصل تھا، جس میں اس کی پارٹی کے 20 کے قریب سینیٹر بک گئے تھے۔ اس لیے حکومت کی کوشش رہی کہ کسی بھی طرح سے اِس مرتبہ سینیٹ کے انتخاب میں اوپن بیلٹ کرایا جائے۔ اس لیے سب سے پہلے تو اس نے اٹارنی جنرل کی رائے کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیج کر اپنی مرضی کے مطابق رائے لینے کی سعی کی کہ سینیٹ کے الیکشن آئین کے مطابق نہیں بلکہ قانون کے مطابق ہوتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے 30 روز سماعت کے بعد حکومتی مؤقف کو درست تسلیم کرنے کے بجائے قرار دیا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے مطابق خفیہ انتخاب ہے۔ حکومت کو کیوں کہ اپنے ارکان کے بھاگنے کا خوف لاحق تھا اس لیے صدارتی ریفرنس کے ساتھ صدارتی آرڈیننس بھی جاری کرایا گیا، جس میں یہ کہا گیا کہ ووٹ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن اس امر کا پابند ہوگا کہ اگر کسی پارٹی کا سربراہ اپنی پارٹی کے پارلیمنٹیرینز کے ووٹ کے بارے میں معلومات لینا چاہے تو کمیشن اسے یہ معلومات بہم پہنچانے کا پابند ہوگا۔ لیکن جب سپریم کورٹ کی رائے حکومتی مؤقف کے برعکس آگئی تو اس آرڈیننس کی جگہ بھی ردی کی ٹوکری ٹھیری۔ اس طرح سے حکومت کو ایک بڑی ناکامی ہاتھ آئی۔ حکومت نے دراصل الیکشن کمیشن کو دبائو میں لانے کے لیے اپنی جانب سے تمام تر حربے استعمال کیے، لیکن وہ اس سعیِ بسیار کے باوجود کامیاب نہیں ہوپائی۔ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کی طرح آئینی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع اختیارات کا حامل ادارہ بھی ہے۔ اس لیے انہوں نے سپریم کورٹ کی رائے کے بعد نتیجہ نکالا کہ سینیٹ کے موجودہ الیکشن خفیہ بیلٹنگ کے ذریعے ہوں گے۔ البتہ نئے انتخابات کے میکنزم کی تشکیل کے لیے کمیشن نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو دیگر تمام اداروں سے مل کر سفارشات الیکشن کمیشن کو پیش کرے گی۔ اس ساری کھینچا تانی کے بعد حکومت کو مزید خوف اُس وقت لاحق ہوا جب یوسف رضا گیلانی کو پی ڈی ایم نے سینیٹ میں چیئرمین شپ کے لیے متفقہ امیدوار نامزد کردیا۔ سینیٹ چیئرمین کے حالیہ انتخاب کے دوران اگرچہ صادق سنجرانی کی حمایتی پارٹی یعنی ’’باپ‘‘ کے، ایوان میں 12 ووٹ تھے، لیکن جب یہ ووٹ نہیں تھے تب بھی صادق سنجرانی نہ صرف نامزد ہوئے بلکہ سینیٹ کے رکن بھی منتخب کیے گئے اور سیاسی جماعتوں کو آسرے میں رکھ کر سینیٹ کے چیئرمین بھی منتخب ہوگئے۔ اُس وقت عمران خان اور آصف علی زرداری ایک صفحے پر تھے۔

Share this: