پاکستانی سیاست کا کھوکھلا پن

Print Friendly, PDF & Email

تینوں بڑی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے سامنے مکمل بے بس ہیں

سینیٹ کے حالیہ انتخابات خصوصاً وفاقی دارالحکومت کی نشست پر سابق وزیراعظم اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کی کامیابی، اور یہیں سے خاتون نشست پر اپوزیشن کی شکست اور حکمران جماعت کی 174 ووٹوں سے کامیابی، قومی اسمبلی سے وزیراعظم عمران خان کے اعتماد کے ووٹ اور اپوزیشن پر تابڑ توڑ حملے، اور پھر چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشستوں پر عددی برتری کے باوجود اپوزیشن کی شکست نے پاکستانی سیاست کے کھوکھلے پن کو بالکل واضح کردیا ہے، اور یہ بھی بتادیا ہے کہ اس سارے کھیل کی ڈوریں کسی اور کے کنٹرول میں ہیں۔ اس کھیل میں شریک سیاسی جماعتیں محض شطرنج کے پیادے ہیں جن کے ذریعے عوام کو بے وقوف بناکر من پسند نتائج حاصل کیے جارہے ہیں۔ اگر قومی اسمبلی میں عددی کمی کے باوجود یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوسکتے ہیں، اور چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نشستوں پر عددی برتری کے باوجود اپوزیشن بدترین شکست سے دوچار ہوتی ہے تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ اس انتخاب کی عمارت کسی اصول، ضابطے، اخلاقیات یا سیاسی روایات پر نہیں، بلکہ مفادات، خوف، لالچ اور مستقبل کی موہوم امیدوں پر کھڑی ہے جو کسی بھی وقت زمیں بوس ہوسکتی ہے۔
اس سارے گھنائونے کھیل پر سب سے جان دار اور جامع تبصرہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا ہے، جنہوں نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں ووٹوں کے بجائے نوٹوں کی سیاست ہوئی۔ تینوں بڑی پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں۔ وہ کل بھی اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے اقتدار میں تھیں، اور آج بھی اُسی کے رحم و کرم کے سہارے چل رہی ہیں۔ ملک میں الیکشن کے بجائے سلیکشن ہوتا ہے۔ یہ کیا جمہوریت ہے کہ جس کے پاس پیسہ ہو وہی سینیٹر یا رکن اسمبلی بنے! اشرافیہ نے غریب کے اسمبلی تک پہنچنے کے سارے راستے بند کردیے ہیں۔ پورا نظام اس وقت خطرے میں ہے۔ دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں جس طرح کے نتائج سامنے آئے ہیں اُن سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ملک میں ہمیشہ سے الیکشن کے نام پر سلیکشن ہوتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ووٹوں کا نہیں نوٹوں کا مقابلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی اسٹیٹس کو کے رکھوالے ہیں اور کرپٹ نظام کے آلہ کار۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے انتخابی اصلاحات کا پیکیج تیار کیا ہے جس پر مشاورت کے لیے ہم تمام سیاسی قوتوں کے پاس جائیں گے۔
سینیٹ کے حالیہ انتخابی عمل نے پاکستانی سیاست کے کھوکھلے پن اور اسٹیبلشمنٹ کی کامل حکمرانی کو ایک بار پھر واضح کردیا ہے۔ سینیٹ انتخابات کا مرحلہ شروع ہونے سے قبل ہی ملکی سیاست، سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے اخلاقی دیوالیہ پن کے اشارے مل رہے تھے، لیکن انتخابات کے نتائج اور اعتماد کے ووٹ نے سیاسی جماعتوں کا اخلاقی اعتبار سے جنازہ ہی نکال دیا ہے۔ بھلا ہو جماعت اسلامی اور اس کے امیر درویش صفت سیاست دان سراج الحق کا، جنہوں نے ابتدا ہی میں بھانپ لیا تھا کہ کوئلوں کی اس دلالی میں صرف ہاتھ منہ کالے ہوں گے، چنانچہ انہوں نے قومی اسمبلی کے انتخابی اجلاس کا بائیکاٹ کیا جس میں وفاقی دارالحکومت سے دو ارکان کا انتخاب ہونا تھا۔ پھر قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے واحد رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کو جماعت نے ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے لیے بلائے گئے اجلاس میں شریک ضرور ہوں لیکن ووٹ کا استعمال نہ کریں۔ سلام ہے جماعت کے اس بہادر اور وفا شعار رکن عبدالاکبر چترالی کو، جنہوں نے قیادت کے فیصلے پر من و عن عمل کیا، حالانکہ انہیں خود وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کی پیش کش کی تھی اور وزیراعلیٰ سرحد نے ان کے غریب علاقے میں ترقیاتی کام کرانے اور ترقیاتی فنڈز دینے کا پیغام بھجوایا تھا۔ اس سے قبل جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے اپنے واحد رکن سید عبدالرشید کو بھی سندھ سے سینیٹ کے انتخابات میں ووٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی تھی، اور انہوں نے اپنی قیادت کے فیصلے کی اس طرح لاج رکھی کہ جہاں ایک ایک ووٹ کروڑوں میں بک رہا تھا اس رکن نے ووٹ نہ ڈال کر دولت کی سیاست کو لات مار دی۔البتہ خیبرپختون خوا اسمبلی میں جہاں جماعت اسلامی کے تین منتخب ارکان ہیں، یہاں جماعت اسلامی کے ان ارکان نے پی ڈی ایم کے امیدواروں کو ووٹ ڈالے، لیکن پی ڈی ایم نے اپنی روایتی بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں سے سینیٹ کے لیے جماعت اسلامی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔
سینیٹ الیکشن کے حالیہ مرحلے میں کچھ چیزیں زیادہ واضح ہوکر سامنے آئی ہیں۔ اول یہ کہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ بہت مضبوط ہے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔ اس اسٹیبلشمنٹ نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو بیک وقت دبائو میں رکھا ہوتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بنوا کر حکومت پر دبائو بڑھایا گیا، لیکن ساتھ ہی وفاقی دارالحکومت کی نشست پر تحریک انصاف کی خاتون کو 174 ووٹوں سے کامیابی دلوا کر حکومت کو ریلیف فراہم کردیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ کے لیے کیونکہ سنجرانی اسٹیبلشمنٹ کے اصل امیدوار تھے اس لیے اُن کی کامیابی کے لیے (کم ووٹوں کے باوجود) 7 ووٹوں کو مسترد کروایا گیا۔ اس دوران پولنگ بوتھ میں کیمروں کی تنصیب کا ہنگامہ کھڑا کرکے توجہ اس جانب موڑ دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ شیری رحمٰن کو بوتھ میں لگے خفیہ کیمروں کے بارے میں کس نے بتایا تھا؟
دوئم یہ کہ تینوں بڑی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے سامنے مکمل بے بس ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ جس کو چاہتی ہے ٹکٹ دلوا دیتی ہے اور جس کو چاہتی ہے کامیاب کرادیتی ہے۔ بلوچستان سے محمد عبدالقادر کی کامیابی اس کی زندہ مثال ہے۔
سوئم یہ کہ اس سارے کھیل میں پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے قریب آکر اُسے اپنی وفاداری کا یقین دلاچکی، اور اس کے لیے مستقبل میں بہتری کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ وہ پی ڈی ایم کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتوں کی سیاست کرے گی، اور اس کے ثمرات سمیٹے گی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) اپنے غیر لچک دار رویّے کے باعث اقتدار کے لیے اپنا راستہ کھوٹا کرتی جارہی ہے۔ ابھی مسلم لیگ (ن) کے صرف سات سینیٹرز نے خفیہ بغاوت کی ہے۔ یہ تعداد سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بڑھ سکتی ہے، اور شاید اس کے بعد نوازشریف بیک گرائونڈ میں چلے جائیں اور مسلم لیگ(ن) کے معاملات کو شہبازشریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر آگے بڑھائیں۔ بلاول بھٹو نے استعفوں کے آپشن کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ جو کامیابی ملی ہے وہ ایوان کے اندر رہتے ہوئے ہی حاصل کی گئی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی کاریگری ملاحظہ ہو کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کا چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے امیدوار خود پی ڈی ایم نے قبول نہیں کیا۔
اور چہارم یہ کہ اس سارے کھیل میں، جس میں ایک ایک ووٹ کی اہمیت ہوتی ہے اور چھوٹی جماعتوں کی سودے بازی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، اسٹیبلشمنٹ نے کمالِ ہوشیاری سے چھوٹی جماعتوں کو غیر متعلق کردیا ہے۔ بڑی تین جماعتوں کے سوا اس کھیل میں کسی کا کوئی ذکر نہیں۔ جمعیت العلمائے اسلام کو ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر امیدوار تو بننے دیا گیا لیکن سب سے زیادہ ذلت ہی اس کے حصے میں آئی۔ مختصر یہ کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ مضبوط اورسیاسی جماعتیں کمزور ہوئی ہیں اور شاید یہ مستقبل میں مزید کمزور اور Dependant ہوں گی۔

Share this: