جماعت اسلامی کا عوامی مظاہرہ

Print Friendly, PDF & Email

بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، حکومتی نااہلی، کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک جاری ہے۔ بہاولپور میں کامیاب جلسہ عام کے بعد جنوبی پنجاب کے صدر مقام اور تاریخی شہر ملتان میں ایک تاریخ ساز جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا، جس سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے علاوہ صوبائی امیر راؤ محمد ظفر، ضلعی امیر ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی، صوبائی قیم صہیب عمار صدیقی، ضلعی قیم پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر سلیمی، ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حمزہ محمد صدیقی، منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان مولانا شمشیر علی شاہد، مرکزی صدر این ایل ایف شمس الرحمٰن سواتی، مرکزی صدر جے آئی یوتھ زبیر احمد گوندل، چودھری اطہر عزیز ایڈووکیٹ، مظہر عباس، سلمان الٰہی سہو، ملک سجاد احمد وینس، ڈاکٹر عمران گورایہ، فیضان جہانگیر کے علاوہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواران نے بھی خطاب کیا۔ علما، تاجر، وکلا، طلبہ، مزدور، کسان سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرکے عوام دشمن حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا۔ حکومت نے جلسے کو ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ جونہی جلسے کی تیاریوں اور تشہیر کا اغاز ہوا، شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار ملتان کی ضلعی انتظامیہ حرکت میں آگئی اور جلسے کی تشہیر کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر لگائے گئے پینا فلیکس اور بینرز اتارنا اور رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں۔ جماعت اسلامی کی مقامی قیادت اور کارکنوں نے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُرامن احتجاج ریکارڈ کرایا اور اپنا کام جاری رکھا۔ گھر، گھر اور بازاروں میں عوام سے رابطہ کیا اور مختلف چوکوں پر دعوتی کیمپ لگاکر لوگوں کو جلسہ عام میں شرکت کی دعوت دی۔ حکومت نے پہلے کورونا کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی، پھر ایجنسیوں کی طرف سے دہشت گردی کی اطلاع کو جواز بناکر جلسے کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کے صبر و تحمل اور مستقل مزاجی نے حکومتی کوششوں کو ناکام بنادیا، اور جلسہ اپنے وقتِ مقررہ اور مقررہ مقام پر ہوا جو جماعت اسلامی کی روایات کا امین تھا۔ کورونا ایس او پیز پر مکمل عمل کیا گیا، جلسہ گاہ کے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ لگائے گئے۔ سینی ٹائزر اور ماسک کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ جلسہ عام کا اغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق خطاب کے لیے مائیک پر تشریف لائے تو شرکائے جلسہ نے کھڑے ہوکر والہانہ استقبال کیا۔ اس موقع پر نوجوانوں کا جوش و خروش قابلِ دید تھا، نعروں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا، لیکن جیسے ہی امیر جماعت کی آواز مائیک سے بلند ہوئی پوری جلسہ گاہ میں سناٹا چھا گیا۔ امیر جماعت نے اہلِ ملتان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے ملتان کے پیارے بھائیو، مزدورو، کسانو اور غریب عوام! ملتان کی تاریخ کا آج مبارک دن ہے۔ جس محبت کے ساتھ آپ لوگوں نے ہمارا استقبال کیا اور انتظار کیا یہ دراصل اس ملک میں اسلامی نظام کا استقبال اور انتظار ہے۔ کامیاب جلسہ عام پر میں آپ لوگوں کو مبارک باد دیتا ہوں، آپ لوگوں نے ثابت کردیا کہ یہ شہر واقعی اولیا کا شہر ہے، اور آپ اسلامی انقلاب چاہتے ہیں۔ یہ عاشقانِ رسولؐ اور غلامانِ مصطفیٰؐ کا شہر ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی پرانے مستریوں سے نیا پاکستان بنانے چلی تھی مگر ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ گئی۔ وزیراعظم نے تبدیلی کے نام پر ایک ایسا انجن تیار کیا جس کے کچھ پرزے ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے، اور کچھ ہیلی کاپٹر کے ہیں۔ مشرف لیگ، نون لیگ، پی پی سے اکٹھے کیے ہوئے جاگیردار اور وڈیرے ڈھائی برسوں میں ہی ایکسپوز ہوگئے۔ وزیراعظم نے قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ غریب کے لیے عدالتوں میں انصاف نہیں، ہسپتالوں میں علاج نہیں۔ وی آئی پی کلچر عروج پر پہنچ گیا۔ احتساب کے نعرے مذاق بن گئے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں سے حکمرانوں نے دھوکا کیا۔ جنوبی پنجاب کے دس اضلاع ملک کے پسماندہ ترین اضلاع میں شمار ہوتے ہیں۔ علاقے میں غریب کسان اور مزدور کے بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ظلم اور استحصال کا یہ نظام مزید نہیں چل سکتا۔ پاکستان کے قیام کے لیے لاکھوں لوگوں نے جان کے نذرانے پیش کیے، کروڑوں نے قربانیاں دیں۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد ظالم اشرافیہ نے ملک کے جغرافیہ اور نظریے کے ساتھ غداری کی۔ جماعت اسلامی ظلم اور استحصالی نظام سے عوام کو نجات دلانا چاہتی ہے۔ قوم سے اپیل ہے کہ خوشحال پاکستان کے حصول کے لیے ہمارا ساتھ دے۔ سراج الحق نے حکومت کو عوام کے لیے ویکسی نیشن کا انتظام نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کورونا فنڈ کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سونامی مکمل طور پر خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا۔ موجودہ حکومت سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا تسلسل اور اسٹیٹس کو کی علامت ہے۔ یہ لوگ بھی چاہتے ہیں کہ ادارے ان کے تابع ہوجائیں۔ عدالتیں ان کی مرضی سے فیصلے کریں۔ میڈیا ان کے اشاروں پر کام کرے اور نیب صرف حکومت کے لیے کام کرے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے سالہا سال سے پاکستانی عوام کو زبان، رنگ، نسل اور مصلحتوں کی بنیاد پر تقسیم کیا۔ انہی لوگوں کے آبا و اجداد نے انگریزوں کی تابع داری کی، اور اپنی جاگیریں بنائیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اسی نظام سے نجات کے لیے قربانیاں دی تھیں جو قائداعظم کی رحلت کے کچھ عرصے بعد ملک پر مسلط ہوگیا اور اب تک عوام کی گردنوں کو جکڑے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور اسلام ہی اس کا مستقبل ہے۔ عوام نے نام نہاد جمہوری حکومتوں اور مارشل لاز کے تجربات سے یہی نتیجہ اخذ کیاہے کہ جب تک نظام تبدیل نہیں ہوگا، ملک خوشحال نہیں ہوسکتا۔ امیر جماعت نے کہا کہ معاشرے میں غریب اور امیر کی تقسیم خوفناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ دو فیصد سے کم طبقہ ملک کے تمام وسائل پر قابض ہے، جو پارٹیاں بدل کر اور الیکشن میں دھونس دھاندلی کے زور پر اقتدار میں آجاتا ہے، جبکہ دوسری طرف مڈل کلاس اور غریب فیملیز (باقی صفحہ 41پر)
کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے سوسائٹی میں کوئی جگہ نہیں۔ غریب کا بچہ گندگی کے ڈھیر پر رزق تلاش کرتا ہے، جبکہ وڈیروں اور جاگیرداروں کے بچے بیرون ملک دنیا کے مہنگے ترین اسکولوں اور کالجوں میں جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اس طرح کا پاکستان چاہتی ہے جس میں محمودو ایاز ایک صف میں ہوں۔ پاکستان کی ریاست مدینہ کی ریاست کی عملی تصویر بنے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنان کو تلقین کی کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ ان کی خوشحالی اور ملک کی ترقی اس صورت ممکن ہوسکتی ہے جب پاکستان میں قرآن وسنت کا نظام ہو۔ ملک نظریے کی بنیاد پر بنا اور ایک نظریاتی جماعت ہی اس کی کشتی کو گرداب سے نکال سکتی ہے۔ اس موقع پر نوجوانوں اور مقامی سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد نے جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ امیر جماعت نے جماعت اسلامی کے قافلے کا ہم سفر بننے والوں کو مبارک باد دی۔

Share this: