’’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‘‘ کے خاتمے کا نوٹیفکیشن

Print Friendly, PDF & Email

معمّا ہے اک سمجھنے کا نہ سمجھانے کا حکومت کی خاموشی بہت سے شکوک کو جنم دے رہی ہے

پاکستان اور خصوصاً پنجاب میں تحریکِ انصاف کی حکومت کے قیام میں جن عوامل کا کلیدی دخل رہا ہے اُن میں صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا وعدہ بھی شامل ہے۔ مقتدر قوتوں کے اشارے پر ہی سہی مگر وعدہ اور جواز یہی تھا جس کی اساس پر جنوبی پنجاب کے بعض اہمیت اور منتخب ہونے کی صلاحیت رکھنے والے سیاست دانوں نے ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ تشکیل دیا، اور پھر 2018ء کے عام انتخابات سے چند ماہ قبل عمران خان سے ملاقات کی، جس میں عمران خان نے انہیں یقین دلایا کہ انتخابات کے بعد اگر ان کی حکومت بنی تو وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبے کی حیثیت دلوائیں گے۔ چنانچہ ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ میں شامل سیاست دانوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اور محاذ کے تحریک میں انضمام کا اعلان کردیا۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے جو پاپڑ بیلنا پڑے، اس مرحلے پر بھی جنوبی پنجاب کے ان منتخب ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کا بھرپور تعاون عمران خان اور اُن کے ساتھیوں کو حاصل نہ ہوتا تو وفاق اور پنجاب دونوں جگہ تحریک انصاف کے اقتدار تک پہنچنے کے خواب کی تعبیر آسان نہیں تھی۔ پنجاب میں حکومت کی تشکیل کے مراحل میں یہ توقع تو کی جارہی تھی کہ وزیراعلیٰ کے لیے جنوبی پنجاب کے کسی سیاست دان ہی کا انتخاب کیا جائے گا، مگر یہ شخص سردار عثمان بزدار ہوگا، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، مگر ’’رموز مملکت خسرواں دانند‘ ‘کے مصداق سردار عثمان بزدار کو عمران خان کا انتخاب سمجھ کر قبول کرلیا گیا، اور ارکانِ اسمبلی نے خواہی نہ خواہی ان کو اعتماد کا ووٹ دے کر صوبے کا وزیراعلیٰ بنادیا کہ وہ بہرحال جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے تھے اور اچھی نہیں تو ان کی شہرت بری بھی نہیں تھی۔
تحریک انصاف کی حکومت اپنی نصف مدت پوری کرچکی ہے، مگر جنوبی پنجاب کے الگ صوبے کا ابھی دور دور تک کوئی امکان نہیں، البتہ ایک مثبت قدم جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل کے حل کی جانب تحریک انصاف کے دورِ اقتدار میں ضرور اٹھایا گیا کہ ’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا، اور اس ضمن میں ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے تقرر کا بھی اعلان ہوا جو ملتان میں اس سیکرٹریٹ میں اپنا دفتر بنائے گا، اور اس خطے کے لوگوں کے زیادہ تر مسائل وہیں پر حل ہوسکیں گے۔ بہاولپور کے عوام بھی چونکہ بحالیِ صوبہ کی ایک جان دار تحریک چلا رہے ہیں اس لیے اُن کو بھی کسی قدر مطمئن کرنے کے لیے ’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‘ کے بعض محکموں کے دفاتر بہاولپور میں قائم کرنے کا بھی فیصلہ ہوا، مگر ’’اُڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے‘‘… یہ سیکرٹریٹ اور اس کا عملہ ابھی پوری طرح فعال بھی نہیں ہوپایا تھا کہ چند روز پیشتر اچانک ایک نوٹیفکیشن سامنے آیا کہ ’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‘ کے قیام کا پروگرام ختم کردیا گیا ہے، جس سے اس علاقے کے لوگوں میں بجا طور پر مایوسی اور اشتعال پیدا ہوا۔ حکومت نے پہلے تو سرے سے ایسے کسی نوٹیفکیشن کے اجراء ہی سے انکار کردیا، تاہم جب اخبارات نے اس کا دستاویزی ثبوت شائع کردیا تو حکومت نے پینترا بدلا اور اس نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا سرکلر سرکاری طور پر جاری کردیا گیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہ جن کا اپنا تعلق بھی ملتان کے علاقے یعنی جنوبی پنجاب سے ہے اور وہ بزعم خود پنجاب کے وزیراعلیٰ کے امیدوار بھی تھے مگر جہانگیر ترین، ان کے آڑے آئے اور وہ رکن قومی اسمبلی تو منتخب ہوگئے مگر صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی ان کا مقدر نہ بن سکی، یوں انہیں مکھن سے بال کی طرح وزارتِ اعلیٰ کے منصب کی دوڑ سے خارج کردیا گیا۔ بہرحال وہ اب بھی خود کو جنوبی پنجاب کا نمائندہ تصور کرتے ہیں، چنانچہ پیر 5اپریل کو انہوں نے خصوصی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ملاقات کی اور ’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‘ سے متعلق نوٹیفکیشن کے اجرا اور منسوخی سے پیدا شدہ صورت حال پر گفت و شنید کی۔ اس ملاقات سے متعلق جو خبر اخبارات کو جاری کی گئی اُس میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے انہیں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ جنوبی پنجاب تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ریکارڈ ترقی کرے گا، اسکولوں کی اپ گریڈیشن میں جنوبی پنجاب کو 38 فیصد حصہ دیا گیا ہے، جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ختم کرنے کا پروپیگنڈا شکست خوردہ عناصر پھیلا رہے ہیں، تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب میں عوام نے فیصلہ کن برتری سے نوازا، جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا اعزاز بھی تحریک انصاف کو ہی حاصل ہوگا، جنوبی پنجاب کے سیکرٹریز کو بااختیار کررہے ہیں تاکہ عوام کو لاہور نہ آنا پڑے، ہر ماہ ملتان جاکر ترقیاتی منصوبوں اور دیگر امور کا جائزہ لوں گا اور کابینہ اجلاس بھی ملتان میں ہوگا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے ایشو پر وزیراعلیٰ پنجاب کا فوری ایکشن قابلِ تحسین ہے، جس سے پروپیگنڈے اور افواہوں کا خاتمہ ہوگیا۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ان رہنمائوں کی ملاقات میں نہایت چابک دستی سے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے خاتمے کے نوٹیفکیشن کو پروپیگنڈا، افواہ اور شکست خوردہ عناصر کی کارروائی قرار دے دیا گیا ہے۔ یوں سارا ملبہ مخالفین پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم وزیر خارجہ نے ’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‘ کے معاملے میں وزیراعلیٰ کی فوری کارروائی کو قابلِ تحسین بھی ٹھیرایا ہے۔ جناب شاہ محمود قریشی نے اگرچہ یہ وضاحت ضروری نہیں سمجھی کہ وزیراعلیٰ کی یہ قابلِ تحسین ’’فوری کارروائی‘‘ کیا تھی۔ اگر یہ وضاحت ہوجاتی تو مخالفین پر ملبہ ڈالنے اور معاملے کو محض پروپیگنڈا اور افواہ قرار دینے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ تاہم اخبارات کے صفحات گواہ ہیں کہ یہ ’’فوری کارروائی‘‘ اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ’جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ‘ کے خاتمے کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر یہ واپس لے لیا گیا ہے۔
اپنی ہی حکومت کے جاری کردہ ایک غیر مطلوب نوٹیفکیشن کو واپس لینا اگر کوئی کارنامہ ہے تو وزیراعلیٰ نے بلاشبہ یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس ضمن میں اپنی دیگر تمام ناکامیوں اور نااہلیوں کا ملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈالنے کی طرح اگر اِس نوٹیفکیشن کے اجراء کا ذمہ دار بھی مخالفین کو ٹھیرانا چاہیں تو ظاہر ہے انہیں روکا نہیں جا سکتا۔ مگر اس نوٹیفکیشن کے اجراء اور منسوخی کا معاملہ بہت سے پہلوئوں پر حکومت سے سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر یہ نوٹیفکیشن حکومت کی اپنی کسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا جس کے ’’بیک فائر‘‘ کرنے اور غیر متوقع شدید ردعمل کے باعث حکومت اس سے لاتعلقی کے اظہار پر مجبور ہوئی تو معاملہ دوسرا ہے، ورنہ حکومت کی مرضی کے بغیر اس قدر اہم نوٹیفکیشن اگر جاری کردیا گیا، جس کا تاثر حکومت خود دے رہی ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے، اس سازش اور اس کے پسِ پردہ عناصر کا بے نقاب کیا جانا بے حد ضروری ہے۔ اتنا بڑا، نزاکت اور اہمیت کا حامل نوٹیفکیشن حکومت کے علم کے بغیر جاری ہوجانا، سیدھا سیدھا حکومت کی ناکامی اور بے بسی کا اظہار ہے۔ جس بیورو کریٹ کے دستخطوں سے نوٹیفکیشن جاری ہوا، اُس نے یہ کام اپنی مرضی سے کیا، یا کسی کے کہنے پر… اس کے پس منظر کا منظرعام پر لایا جانا ضروری ہے۔ حکومت کی نصف مدت گزر جانے کے بعد بھی کیا بیوروکریسی اتنی منہ زور ہے کہ حکومت اس کو لگام ڈالنے میں ناکام ہے؟ حکومت کی اہلیت اور کریڈیبلٹی کا یہ تقاضا ہے کہ عوام کو ایسے بے لگام بیوروکریٹس اور ان کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائی سے آگاہ کرے۔ ورنہ افواہوں کو روکنا، خصوصاً سوشل میڈیا کے اس دور میں انہیں محض مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دے کر اس قدر اہم معاملے پر مٹی ڈالنا ممکن نہیں۔ حکومت کی خاموشی کو اس کی کمزوری ہی پر محمول کیا جائے گا۔

Share this: