پاک بھارت دوستی کی شاہراہ اور کشمیر کا آبلہ

Print Friendly, PDF & Email

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھارت سے کپاس اور چینی کی درآمد کی فائلوں پر منظوری نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سستی ہونے کی وجہ بھارت سے کپاس اور چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا، اور نئے وزیر خزانہ حماد اظہر نے بھی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کی تصدیق کی تھی۔ اس فیصلے کی حتمی منظوری کابینہ سے ہونا تھی، اور وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں تجارت کے حامی اور مخالف وزراء کے دلائل سننے کے بعد تجارت کی فائلوں کو مؤخر یا مسترد کیا۔ کابینہ کے اجلاس میں یہ رائے سامنے آئی کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی پانچ اگست سے پہلے کی حیثیت بحال ہوئے بغیر بھارت سے معمول کے تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو معطل کرنے کا فیصلہ 19 ماہ قبل پانچ اگست کو ہونے والے بھارت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد کیا گیا تھا۔ بھارت کا یہ فیصلہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت ہی کو نہیں بلکہ عوامی روابط، معمول کے روابط، سفارتی، زمینی اور فضائی تعلقات کو چاٹ گیا تھا۔ بھارت نے بالی ووڈ کے فلمی انداز میں دادا گیری کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی متنازع ریاست کے اپنے زیر قبضہ حصے کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی تھی، یہ جس قدر بڑا اور سفاکانہ فیصلہ تھا اس پر اتنا ہی زیادہ ردعمل آنا ضروری تھا، اور پاکستان نے ہر ممکن حد تک بڑا فیصلہ کیا۔ دو قریب ترین ہمسایوں کے درمیان اس سے آگے براہِ راست جنگ کا فیصلہ ہی باقی رہ جاتا ہے، اور دو ایٹمی طاقتوں روس اورچین کے درمیان گھری ہوئی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ نتائج کے اعتبار سے ہولناک ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان نے اس آپشن سے کبھی انکار نہیں کیا اور وزیراعظم عمران خان بار بار ’’ٹیپو سلطان ‘‘ کی بات کرکے تنگ آمد بجنگ آمد کے انداز میں دنیا کو اس آپشن سے خوف دلاتے رہے۔ مسلم برصغیر کی تاریخ کا ایک حریت پسندانہ کردار ٹیپو سلطان ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ کے تاریخی مقولے سے جانے جاتے ہیں۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کی داستان میں کچھ حقیقت اور زیادہ تر فسانہ ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارت سمیت دوسرے روابط کو معمول پر نہ رکھنے سے پاکستان کچھ سنجیدہ مسائل سے دوچار رہتا ہے، لیکن ایسا بھی نہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی اور دوسرے روابط بحال کیے بغیر ہم نانِ شبینہ کو ترسنے لگیں۔ قحط اور بھوک نے ہمارے دالانوں میں ڈیر ے ڈال رکھے ہیں۔ یہ پاکستان کے تصور کی ہی نفی ہے، کہ اگر پاکستان بھارت کا اس قدر پیراسائٹ ہے تو پھر پاکستان کے قیام کا فیصلہ تو سراسر خودکشی کہلائے گا۔
ایک بار امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اسلام آباد میں اسی تصور کا سودا بیچنے کی کوشش کی تھی کہ بھارت کے ساتھ تجارت شروع ہوتے ہی پاکستان کی معیشت راکٹ کی رفتار سے ترقی کرے گی۔ یہ راکٹی قسم کے سبز باغ دکھا کر اسرائیل نے اپنے ہمسایہ ملکوں کو رام کیا تھا۔ اسرائیل امن اور ترقی کا جزیرہ ہے مگر اس کے ہمسایہ عرب ملکوں کی معیشت اُڑنے کے بجائے بدستور رینگ رہی ہے۔ ملک میں تجارتی مافیا اور پریشر گروپ حکمرانوں کو یہی خواب دکھا کر شیشے میں اُتارتے چلے آئے ہیں۔ عمران خان کو بھی اسی دانہ ٔ دام کا سامنا ہے، مگر ان کے لیے کشمیریوں کے سفیر اور وکیل کا وعدہ زیادہ اہم ہے۔ کشمیر کی گلیاں بدستور خون سے لالہ زار ہورہی ہوں، کشمیر کی شناخت اور تشخص لیفٹیننٹ گورنرکے جوتوں تلے روندے جارہے ہوں۔ بچے، بوڑھے اور کئی خواتین گھروں سے دور خطرناک مجرموں کے ساتھ مقید ہوں اور واہگہ پر تجارت اور بھنگڑے چلیں… یہ سفارت اور وکالت کے دعووں سے لگّا نہیں کھاتا۔ یہ کوتاہیِ پرواز کا باعث بننے والا رزق ہے، اور اقبال نے اس رزق پر کس بات کو ترجیح دی ہے یہ کوئی راز نہیں۔
اس فیصلے سے پہلے نریندر مودی کے نامۂ دوستی اور سندیسۂ محبت کا جواب بھی منظر پر آگیا تھا اور خط عمران خان بنام مودی میں خط کا شکریہ اور یوم پاکستان پر دی جانے والی مبارک باد پر مسرت کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کرنے کے علاوہ یہ پیغام دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرکے ہی دونوں ملکوں میں اچھے تعلقات قائم ہوسکتے ہیں۔
مودی بنام عمران خان، اور جواب میں عمران خان بنام مودی خط کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پرنالہ اپنی جگہ ہی موجود نظر آتا ہے۔ نریندر مودی کے خط میں دہشت گردی سے پاک ماحول کی بات کی گئی ہے، گویا کہ بھارت کی سوئی ابھی تک اسی مقام پر اٹکی ہوئی ہے، اور اس کے جواب میں عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو تعلقات کی کلید بتایا ہے۔ یہ دونوں ملکوں کے پرانے نظریات ہیں، جب بھی دونوں ملکوں میں بات چیت ہوتی ہے تو ان نکات پر آکر سوئی اٹک جاتی ہے۔ پاکستان اس حد تک بھارت کے مؤقف کو جگہ دینے کو تیار ہے کہ دہشت گردی سمیت ہر موضوع پر بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کرچکا ہے، مگر پاکستان کشمیر کو نظرانداز کرکے بھارت سے بات چیت سے اب تک انکار کرتا چلا آرہا ہے۔ جنرل باجوہ کی طرف سے ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھنے کی دعوت ہو، یا عمران خان کے اچھے تعلقات کی خواہش کے اظہار کے بیانات… ہر بار کشمیر کو ہی مرکزی نقطہ کہا جاتا ہے۔ مودی کے خط کے جواب میں بھی عمران خان نے سفارتی انداز میں بھارت اور بھارت کے اُن حلیفوں کو جو پاکستان کو کشمیر کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنے کا مشورہ دے رہے ہیں یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کشمیر کو کسی صورت پسِ پشت ڈال کر بھارت سے معاملات طے نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی قیادت کے تمام بیانات میں کشمیر کو مرکزیت حاصل ہے۔ پاکستان اور بھارت کسی دبائو یا مجبوری کی وجہ سے بہتر تعلقات کی شاہراہ پر سفر کے لیے تیار ہیں مگر کشمیر کا آبلہ اس راہ پر سفر کا آغاز کرنے میں ایک مستقل مشکل بن کر رہ گیا ہے۔ آبلہ پا اور شکستہ قدم ہمسائے اس پُرخطر راہ پر سفر نہیں کرسکتے۔

Share this: