پاکستان کا داخلی بحران اور خارجی خطرات

Print Friendly, PDF & Email

کیا سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن ہے؟

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پچھلے دنوں دو اہم باتیں کیں جو قابلِ توجہ ہیں:
(1) ہمیں سیاسی، سماجی اور معاشی استحکام کے لیے سب سے پہلے اپنا گھر درست کرنا ہوگا اور اس کے بعد دوسرے ممالک سے بہتری کی توقعات وابستہ کرنی ہوں گی۔
(2) اسی امن و ترقی کی بنیاد پر ہمیں بھارت سمیت اپنے اردگرد کے ممالک سے تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔
ان کے بقول ہمیں داخلی و خارجی سطح پر امن کی بحالی، اور دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ، ہمسایوں اور خطے کے معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے گریز، خطے میں تجارت اور آمدورفت کے فروغ، سرمایہ کاری اور اقتصادی مراکز کے قیام اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کو اپنی قومی ترجیح کے طور پر اختیار کرنا ہوگا۔
سیاست میں ایک بنیادی تھیوری یہی پیش کی جاتی ہے کہ اگر آپ خارجی سطح کے معاملات سے مؤثر انداز میں نمٹنا چاہتے ہیں تو اس کی کلید آپ کا داخلی استحکام ہوتی ہے۔ اسی طرح معاشی استحکام بھی سیاسی استحکام سے جڑا ہوتا ہے، اور سیاسی استحکام کے بغیر ہم معاشی ترقی یا اس کے اہداف بھی حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ تھیوری ظاہر کرتی ہے کہ جو ممالک داخلی محاذ پر مضبوط ہوں گے وہی خارجی سطح کے معاملات سے مؤثر طور پر نمٹ سکیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ داخلی استحکام سے ہماری کیا مراد ہے؟ یقینی طور پر داخلی استحکام سیاسی، سماجی، قانونی، انتظامی و معاشی استحکام سے جڑا ہوتا ہے۔ خارجہ پالیسی کی مضبوطی کی بنیاد بھی آپ کا داخلی استحکام ہوتی ہے، اور آپ زیادہ جرأت کے ساتھ وہ بات بھی کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں جو عمومی طور پر اپنی کمزوری کے باعث نہیں کرپاتے۔
جو بات فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی ہے اس پر ہر سطح پر بحث ہونی چاہیے کہ کیسے ہم اپنے گھر کے مسائل کا حل تلاش کرکے اسے قومی ترجیحات کا حصہ بناسکتے ہیں۔
عالمی سطح پر ہمیں دہشت گردی یا انتہا پسندی کے حوالے سے خاصے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ریاستی و حکومتی سطح پر ہم نے دہشت گردی کے مسائل پر بہت حد تک قابو پالیا ہے۔ آج ہماری ملکی صورت حال دہشت گردی کے تناظر میں ماضی سے بہت بہتر ہے۔ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے نمٹنے یا ان کے خاتمے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس بات کا اعتراف عالمی سطح پر بھی موجود ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ بہت حد تک درست سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ البتہ انتہا پسندی کے معاملات جو مذہبی انتہا پسندی سے ہی نہیں جڑے ہوئے، بلکہ لسانیت، علاقائیت، فرقہ واریت اور سیاسی معاملات سے بھی جڑے ہوئے ہیں اُن پر ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 20 نکات پر مشتمل نیشنل ایکشن پلان، فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے پیغامِ پاکستان، عورتوں کی اس جنگ میں شمولیت کے لیے دخترانِ پاکستان، نیشنل سیکورٹی پالیسی، سائبر پالیسی، پولیس اور انٹیلی جنس کے نظام سے جڑی اصلاحات، اینٹی دہشت گردی فورس کا قیام، نیکٹا جیسے ادارے کو فعال بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
انتظامی بنیادوں پر ہماری فوج، پولیس اور اس سے جڑے اداروں سمیت عام شہریوں نے دہشت گردی کے خاتمے کی نہ صرف بڑی جنگ لڑی ہے بلکہ اپنی جانوں کا بھی نذرانہ پیش کیا ہے۔ لیکن سیاسی اور سماجی سطح پر جو جنگ ہمیں نیشنل ایکشن پلان، پیغامِ پاکستان یا سائبر پالیسی کی بنیاد پر لڑنی ہے اُس میں اب بھی بہت سی خامیاں ہیں، اور ان پر بہت زیادہ توجہ اور مؤثر حکمتِ عملی درکار ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی سطح پر جو 27نکات ہیں اور جن پر پاکستان کی مسلسل نگرانی ہورہی ہے، ان میں 24 کے قریب نکات پر ہماری کارکردگی کو عالمی سطح سمیت ایف اے ٹی ایف کی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ففتھ جنریشن وار کی سطح پر بھی ہمیں ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے، اور جو مخالفانہ ایجنڈا پاکستان مخالف قوتوں کا ہے اُس پر ہمیں قومی سطح پر اپنا متبادل بیانیہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس ففتھ جنریشن وار نے ہمیں سیاسی، سماجی، مذہبی، علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کردیا ہے، جس کا علاج تلاش کرنا ہوگا۔ایک بڑی لڑائی ہمیں داخلی محاذ پر سیاسی اور معاشی استحکام کی بنیاد پر لڑنی ہے۔ کیونکہ سیاست اور معاشیات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے، اور اس میں استحکام پیدا کیے بغیر ہم علاقائی یا خارجی محاذ پر جنگ نہیں جیت سکیں گے۔ بدقسمتی سےہمارا سیاسی نظام کمزور ہے، اور جمہوری عمل جو چل رہا ہے اس میں بہت کچھ اصلاح کی ضرورت ہے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان جو سیاسی خلیج ہے اس میں رواداری اور ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو قبول کرکے باہمی تعاون کے امکانات کو بڑھانا ہوگا۔ سیاسی اختلافات کو سیاسی دشمنی میں تبدیل کرنے کی جو روش ہم نے اختیار کی ہوئی ہے اسے ختم کرنا ہوگا۔ معاشی استحکام کے لیے یقینی طور پر حکومت، حزبِ اختلاف اور کاروباری طبقات کی سطح پر میثاقِ معیشت درکار ہے، جہاں ایک دوسرے کے تعاون سے معاشی استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ داخلی محاذ پر اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کی بات کو سیاسی اور معاشی استحکام کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔
اصولی طور پر ہمارے ریاستی، حکومتی اورسیکورٹی اداروں کی سطح پر داخلی سیکورٹی سے جڑے معاملات پر مشترکہ بیانیہ اور حکمت عملی درکار ہے، اور جو بھی غلطیاں یا مشکلات ہیں ان کا مشترکہ علاج کرنا ہوگا۔ کیونکہ ہمیں خود کو بھی اور دنیا کو بھی یہ باور کروانا ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں، اور ہمیں داخلی اور خارجی سطح پر باہمی تعاون، تنازعات کے حل، امن اور معاشی استحکام کی کوششوں کا حصہ بننا ہے۔ اس کے لیے ہمیں علاقائی یا عالمی محاذ پر ایک بڑی جنگ سفارت کاری کے محاذ پر لڑنی ہے اور دنیا کو واضح طور پر یہ پیغام دینا ہے کہ ہم امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، اور ہماری پالیسی ٹکرائو، جنگ یا تنازعات کو پیدا کرنا یا اُن میں ابھار پیدا کرنا نہیں۔ اس کا حل علاقائی سطح پر زیادہ سے زیادہ تعاون، اور تنازعات ختم کرنا ہے، اور بھارت کے ساتھ بھی بہتر تعلقات ہماری ترجیحات کا حصہ ہونے چاہئیں۔
یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ داخلی محاذ پر ایسے مسائل جن پر دنیا کی نظریں ہیں، ان کو دور کرنے کو اپنی ترجیحی سیاست کا حصہ بنائے، اور دنیا کو پیغام دے کہ ہم درست سمت پر گامزن ہیں۔ہم عالمی اور علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر سیاسی اور معاشی استحکام کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف سیاسی و مذہبی شدت پسندی ختم کرنا، اور سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہمارا چیلنج ہے تو دوسری طرف علاقائی ممالک کے ساتھ باہمی تنازعات کا خاتمہ اور معاشی تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا بھی بڑا چیلنج ہے۔ اس کے لیے ریاستی، حکومتی، ادارہ جاتی اور سیاسی سمیت رائے عامہ تشکیل دینے والے افراد اور اداروں کے درمیان باہمی مشاورت پر مبنی روڈمیپ درکار ہے، اور یہی روڈمیپ ہماری قومی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔

Share this: