روزے کے مسائل

Print Friendly, PDF & Email

٭روزے کی نیت کے احکام:
-1 نیت دل سے ارادہ کرنے کو کہتے ہیں، دل میں روزے کا محض ارادہ کرلینے سے روزہ درست ہوجاتا ہے، زبان سے اظہار ضروری نہیں۔
-2 رمضان المبارک میں ہر روزے کے لیے الگ نیت کرنا ضروری ہے، مہینے بھر کے روزوں کی ایک بار نیت کرلینا کافی نہیں ہے۔
-3 تین قسم کے روزوں میں غروبِ آفتاب سے قبل نصف النہار تک کسی وقت بھی نیت کرلے، درست ہے:
(1) رمضان کے ادا روزوں میں۔ 2:نذر کے اُن روزوں میں جن کی تاریخ یا دن متعین ہو۔ (3) عام نفلی روزوں میں۔
چار قسم کے روزوں میں غروبِ آفتاب سے طلوع صبح صادق تک نیت کرلینا ضروری ہے:
(1) رمضان کے قضا روزوں میں۔(2) نذر کے اُن روزوں میں جن کی تاریخ یا دن متعین نہ ہو۔(3) کفارے کے روزوں میں۔ (4) اُن نفلی روزوں کی قضا میں، جو شروع کردینے کے بعد کسی وجہ سے فاسد ہوگئے ہوں۔
-4 رمضان میں صرف رمضان ہی کا روزہ فرض ہے، کوئی دوسرا روزہ رمضان میں صحیح نہیں ہے، لہٰذا رمضان میں اگر کوئی نفل یا واجب روزے کی نیت کرلے تب بھی وہ رمضان ہی کا روزہ قرار پائے گا۔
:5 روزے کا وقت صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک ہے، لہٰذا شب میں روزے کی نیت کرلینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نیت کرتے ہی ساری ممنوع چیزوں سے آدمی بچا رہے۔ نیت چاہے شب میں کسی وقت کرے، ممنوعات سے بچنے کا وقت صبح صادق سے ہی شروع ہوگا۔
روزے کے فرائض:
روزے میں صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک تین باتوں سے رکا رہنا فرض ہے:
-1 کھانے سے۔ -2 پینے سے۔ -3 نفسانی خواہشات سے۔
روزے کے سنن اور مستحبات:
-1 سحری کھانا سنت ہے، چاہے وہ چند گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو۔
-2 سحری اخیر وقت میں یعنی صبح صادق سے ذرا پہلے کھانا سنت ہے۔
-3 افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے، غروبِ آفتاب معلوم ہونے کے جو ذرائع مہیا ہوں اُن سے جب غروب کا یقین ہوجائے تو خوامخواہ دیر کرنا ہرگز صحیح نہیں۔
-4 کھجور، چھوہارہ اگر مہیا ہوں تو ان سے افطار کرنا مستحب ہے، پانی سے افطار کرنا بھی مستحب ہے۔
-5 روزے کی نیت رات ہی سے کرلینا مستحب ہے۔
-6 غیبت، چغلی، شور و ہنگامہ، لڑائی جھگڑا، جبر و زیادتی اور سخت کلامی اور سخت گیری، غضب و غصہ وغیرہ سے روزے میں بچنے کا اہتمام کرنا مسنون ہے۔ مومن کو یوں بھی ان چیزوں سے بچنا چاہیے، لیکن روزے میں اور زیادہ شعور کے ساتھ ان سے بچے رہنے کا اہتمام کرنا مسنون ہے۔
مسفداتِ صوم:
جن چیزوں سے روزہ فاسد ہوتا ہے ان کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جن میں صرف قضا واجب ہے، اور ایک وہ جن میں قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں۔
وہ مفسدات جن میںصرف قضا واجب ہے:
-1 اس غلط فہمی میں کچھ کھاپی لیا کہ سحری کا وقت باقی ہے اور فی الواقع سحری کا وقت ختم ہوچکا تھا، یا سورج ڈوبنے سے پہلے یہ سمجھ کر کہ سورج ڈوب گیا ہے کچھ کھا پی لیا۔
-2 بے ارادہ کوئی چیز پیٹ میں پہنچ گئی۔
-3دن بھر نہ کچھ کھایا نہ پیا، مگر روزے کی نیت نہیں کی، یا نصف النہار کے بعد نیت کی۔
-4 روزے میں کسی نے منہ بھر کر قے کی۔
-5 کوئی ایسی چیز کھالی جو نہ دوا ہے اور نہ غذا، مثلاً لوہے یا لکڑی کا ٹکڑا، یا کنکری وغیرہ نگل لی۔
-6 بھولے سے روزے میں کچھ کھاپی لیا اور پھر یہ سمجھا کہ روزہ تو ٹوٹ ہی گیا اب کھانے میں کیا حرج ہے! اور خوب پیٹ بھر کر کھایا۔
-7 روزے میں کان کے اندر تیل ڈال لیا۔
-8 مسواک کرنے میں مسوڑھوں سے خون نکلا اور نگل لیا۔ ہاں اگر خون برائے نام ہو جس کا ذائقہ بھی حلق میں محسوس نہ ہو تو قضا واجب نہیں۔
وہ مفسدات جن میں قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں:
-1 کھانے پینے کی کوئی چیز قصداً کھا لی، یا بطور دوا کوئی چیز کھالی۔
-2 قصداً کوئی ایسا فعل کیا جس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا لیکن اس غلط فہمی میں روزہ توڑ دیا کہ ایسا کرلینے سے روزہ فاسد ہوچکا ہے۔ مثلاً سرمہ لگایا، سر میں تیل ڈالا اور پھر یہ سمجھ کر روزہ توڑ دیا کہ سرمہ لگانے اور سر میں تیل ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
-3 قصداً نفسانی خواہش پوری کرلی۔
وہ امور جن سے روزہ مکروہ ہوجاتا ہے:
-1 بلاوجہ منہ میں تھوک جمع کرکے نگلنا۔
-2 کلی کرنے یا ناک میں پانی ڈالنے میں ضرورت سے زیادہ اہتمام کرنا۔
-3بے قراری، گھبراہٹ اور اضمحلال وغیرہ کا بار بار اظہار کرنا۔
-4 منجن، ٹوتھ پیسٹ یا کوئلہ وغیرہ چبا کر اس سے دانت مانجھنا۔
-5 غیبت، گالی گلوچ، شور و ہنگامہ کرنا، کسی کو ستانا اور جبر و زیادتی کرنا وغیرہ۔
وہ امور جن سے روزہ مکروہ نہیں ہوتا:
-1 روزے میں بھولے سے کچھ کھا پی لینا، خواہ پیٹ بھر کر کھایا ہو اور خوب سیر ہوکر پیاہو۔
-2 دن میں سوتے ہوئے غسل کی حاجت ہوگئی۔
-3 سرمہ لگانا، سر میں تیل ڈالنا، خوشبو سونگھنا، بدن کی مالش کرنا وغیرہ۔
-4 تھوک اور بلغم نگل لینا۔
-5 بے اختیار مکھی نگل لی، حلق میں گرد و غبار پہنچ گیا، یا دھواں چلا گیا خواہ وہ دھواں بیڑی، سگریٹ کا ہو۔
-6 کان میں خود بخود پانی چلا گیا یا دوا چلی گئی۔
-7 بے اختیار قے ہوگئی چاہے منہ بھر کر ہی ہو۔
-8 مسواک کرنا خواہ مسواک بالکل تازہ ہی ہو اور اس کی کڑواہٹ بھی منہ میں محسوس ہو۔
-9 گرمی کی شدت میں کلی کرنا، منہ دھونا، نہانا یا تر کپڑا سر یا بدن پر رکھنا۔
-10 قصداً قے کی لیکن منہ بھر کر نہیں ہے، تو ان چیزوں سے روزے میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔
سحری کی فضیلت اور تاکید:
روزہ رکھنے کے ارادے سے صبح صادق سے پہلے پہلے جو کھایا پیا جاتا ہے اس کو سحری کہتے ہیں۔ سحری کھانا سنت ہے۔ نبیؐ خود بھی سحری کھانے کا اہتمام فرماتے اور صحابہؓ کو بھی تاکید کرتے تھے۔ آپؐ کا ارشاد ہے:
’’ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزے میں یہی فرق ہے کہ ہم سحری کھاتے ہیں اور وہ سحری نہیں کھاتے۔‘‘ (مسلم)
نیز آپؐ نے تاکید فرمائی: ’’سحری کھایا کرو اس لیے کہ سحری کھانے میں بڑی برکت ہے۔‘‘ (بخاری، مسلم)
سحری کھانے کی حکمت واضح کرتے ہوئے آپؐ نے ارشاد فرمایا:
’’قیامِ لیل کے لیے دوپہر کے قیلولے سے قوت حاصل کرو، اور دن کو روزہ رکھنے کے لیے سحری کھانے سے قوت حاصل کیا کرو۔‘‘ (ابن ماجہ)
اگر بھوک پیاس نہ ہو تو کچھ تھوڑا سا کھاکر ایک آدھ گھونٹ پانی ہی پی لینا چاہیے، اس لیے کہ سحری کھانے کا بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔
آپؐ کا ارشاد ہے:
’’سحری کھانا سراسر برکت ہے، پس سحری کھانا نہ چھوڑو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی ہو، سحری کھانے والوں پر خدا رحمت فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔‘‘ (الترغیب، مسند احمد)
سحری میں تاخیر:
سحری تاخیر سے کھانا سنت ہے۔ تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ صبح صادق میں کچھ ہی وقت باقی ہو۔ بعض لوگ احتیاط کے پیش نظر آدھی رات ہی سے کھاپی کر فارغ ہوجاتے ہیں۔ یہ بہتر نہیں ہے، بلکہ تاخیر ہی سے کھانے میں زیادہ اجر و ثواب ہے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے بیان کیا کہ ’’ہم نے نبیؐ کے ساتھ سحری کھائی اور پھر آپؐ نماز فجر کے لیے کھڑے ہوگئے۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں، میں نے زید بن ثابتؓ سے پوچھا: سحری اور اذانِ فجر میں کتنا وقفہ رہا ہوگا؟ حضرت زیدؓ نے بتایا کہ صرف پچاس آیتوں کے بقدر وقفہ رہا ہوگا‘‘ (بخاری، مسلم)۔ ظاہر ہے پچاس آیتیں پڑھنے میں پانچ چھے منٹ سے زیادہ صرف نہیں ہوتے۔
افطار میں تعجیل:
افطار میں تعجیل مستحب ہے۔ تعجیل کا مطلب یہ ہے کہ آفتاب غروب ہونے کے بعد احتیاط کے خیال سے خوامخواہ تاخیر کرنا مناسب نہیں، بلکہ فوراً ہی افطار کرنا مستحب ہے۔ اس طرح کی غیر ضروری احتیاط اور غیر مطلوب تقویٰ کے اظہار سے دینی مزاج بگڑ جاتا ہے۔ اس لیے کہ دین کھانے پینے سے رکنے، نفس کو مشقتوں میں ڈالنے اور تکلیف اٹھانے کا نام نہیں ہے، بلکہ دین خدا کی بے چوں چرا اطاعت کرنے کا نام ہے۔ نبیؐ کا ارشاد ہے: تین باتیں پیغمبرانہ اخلاق میں سے ہیں:
-1 سحری تاخیر سے کھانا۔
-2 افطار میں تعجیل کرنا۔
-3 نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھنا۔
نیز آپؐ کا ارشاد ہے:
’’لوگ اچھی حالت میں رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے۔‘‘ (بخاری، مسلم)
افطار کس چیز سے مستحب ہے؟
کھجور اور چھوہارے سے افطار مستحب ہے، اور یہ نہ ہو تو پانی سے افطار بھی مستحب ہے، لیکن اس معاملے میں غلو کرنا اور کسی دوسری چیز سے افطار کو غیر متقیانہ فعل سمجھنا قطعاً غلط ہے جس سے بچنا لازم ہے۔ یہ صحیح ہے کہ نبیؐ نے خود بھی انہی چیزوں سے افطار کیا ہے اور صحابہؓ کو اس کی ترغیب دی ہے، لیکن اس کی مصلحت صرف یہ ہے کہ کھجور عرب میں ہر غریب و امیر کو بہ سہولت میسر آجاتی تھی اور یہ ان کی مرغوب غذا بھی تھی۔ رہا پانی، تو وہ کھانے پینے کی ساری چیزوں کے مقابلے میں آسانی اور فراوانی کے ساتھ دستیاب ہونے والی چیز ہے۔ بروقت جو چیز بھی بہ سہولت مہیا ہوجائے اس سے روزہ افطار کرسکتے ہیں۔ البتہ بہ سہولت کھجور اور چھوہارہ مل سکے تو اس سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے۔
افطار کرانے کا اجر و ثواب:
افطار کرانا بھی پسندیدہ عمل ہے چاہے ایک کھجور ہی سے افطار کرادیا جائے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا ہے:
’’جس شخص نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، یا کسی مجاہد کو جہاد کے لیے کچھ سامان دیا تو اُس کو روزے دار اور مجاہد کی طرح اجر و ثواب ملے گا۔‘‘ (بیہقی)
افطار کی دعا:
افطار کرتے وقت یہ دعا پڑھے:
اللہم لک سمت و علیٰ رزقک افطرت (ابودائود)
’’اے اللہ! میں نے تیری ہی رضا کے لیے روزہ رکھا اور تیری ہی دی ہوئی روزی سے افطار کیا‘‘۔
افطار کرنے کے بعد یہ پڑھے:
(ترجمہ)’’پیاس جاتی رہی، رگیں تروتازہ ہوگئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر و ثواب ضرور ملے گا‘‘۔
سفر اور مرض میں روزے کے احکام:
خدا نے دین کے احکام میں بندوں کی معذوری اور مشقت کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے، چنانچہ روزے میں بھی مسافر اور مریض کو یہ سہولت بخشی ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں اور دوسرے ایام میں اس کی قضا رکھ لیں۔ قرآن میں ارشاد فرمایا گیا ہے:
(ترجمہ) ’’پس تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اُس پر لازم ہے کہ وہ اس مہینے کے روزے رکھے، اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے ایام میں روزوں کی گنتی پوری کرلے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے سہولت چاہتا ہے، اور تمہیں تنگی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ (البقرہ: 185)
-1 روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہر سفر میں ہے خواہ وہ کسی غرض کے لیے ہو اور خواہ اس میں مشقت ہو یا سہولت۔ البتہ جس سفر میں خاص مشقت اور تکلیف نہ ہو بلکہ آرام اور سہولت ہو، تو پھر مستحب یہ ہے کہ روزہ رکھ لیا جائے تاکہ رمضان المبارک کی فضیلت اور برکت سے محرومی نہ رہے۔
-2کوئی شخص روزے کی نیت کرنے یا روزہ شروع کرلینے کے بعد سفر پر روانہ ہو تو اُس دن کا روزہ رکھنا اس پر لازم ہے، البتہ توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب نہ ہوگا۔
-3 کوئی مسافر کسی مقام پر پندرہ دن کے قیام کی نیت سے ٹھیرا تو اُس کے لیے ضروری ہے کہ روزہ رکھے۔ روزہ نہ رکھنے کی اجازت نہیں۔ اور اگر پندرہ دن سے کم کے قیام کا ارادہ کیا ہے تو پھر بہتر یہ ہے کہ روزہ رکھے۔ ایسی صورت میں روزہ نہ رکھنا مکروہ ہے۔
-4 روزہ رکھنے میں یہ اندیشہ ہو کہ دوا اور غذا نہ ملنے کی صورت میں مرض بڑھ جائے گا، یا کوئی مرض پیدا ہوجائے گا، یا یہ کہ مرض طول پکڑ جائے گا اور صحت دیر میں حاصل ہوگی تو ایسی صورتوں میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مریض واقعی مریض ہو، اور مرض بڑھنے یا نئے مرض پیدا ہونے کا واقعی اندیشہ ہو، محض وہم و خیال نہ ہو، اسی صورت میں اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ محض اس وہم و گمان سے کہ شاید مرض بڑھ جائے روزہ نہ رکھنا غلط ہے۔
قضا اور کفارہ کے مسائل:
-1 قضا روزے رکھنے میں نہ ترتیب ضروری ہے نہ تسلسل، اور نہ یہ ضروری ہے کہ دن اور تاریخ وغیرہ مقرر کرکے روزے رکھے جائیں۔ بلکہ جب اور جیسے سہولت ہو، رکھ لیے جائیں۔ البتہ بلاوجہ تاخیر کرنا درست نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو، رکھ لیے جائیں۔
-2 اگر رمضان کے دو سال کے روزے رہ گئے ہوں تو قضا رکھنے کی صورت میں یہ تعین ضروری ہے کہ کس سال کے روزے رکھ رہا ہے۔ جس سال کے روزے رکھنے کا ارادہ ہو اُسی سال کی نیت کرکے روزے رکھنا شروع کرے۔
-3 قضا روزے رکھنے میں یہ ضروری ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کرلی جائے، اگر صبح صادق کے بعدنیت کی تو یہ قضا کا روزہ نہ ہوگا، نفلی روزہ قرار پائے گا، اور قضا روزہ پھر رکھنا ہوگا۔
-4 کفارہ صرف رمضان کا روزہ فاسد ہونے سے واجب ہوتا ہے۔ رمضان کے سوا کوئی روزہ فاسد ہوجائے یا قصداً فاسد کردیا جائے تو کفارہ واجب نہیں ہوتا۔
-5 ایک ہی رمضان کے دوران ایک سے زائد روزے فاسد ہوگئے ہوں تو سب کے لیے ایک ہی کفارہ واجب ہوگا۔ ہر روزے کا الگ الگ کفارہ واجب نہ ہوگا۔
-6 روزۂ رمضان کا کفارہ یہ ہے:
جہاں غلام آزاد کرنا ممکن ہو اور استطاعت بھی ہو تو ایک غلام آزاد کرنا واجب ہے، اور یہ ممکن نہ ہو تو پھر ساٹھ روزے مسلسل رکھنا واجب ہے۔ روزے رکھنے کے دوران اگر ناغہ ہوجائے تو پھر نئے سرے سے ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے، اور کسی وجہ سے روزے بھی نہ رکھ سکتا ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کھانا کھلانا واجب ہے۔
-7 مساکین کو کھانا کھلانے میں عام معیار کا لحاظ رکھا جائے۔ نہ اپنے معیار سے اونچا کھلانا واجب ہے اور نہ یہ صحیح ہے کہ سوکھی روٹی دے کر اطمینان کرلیا جائے۔ کھانا کھلانے کے بجائے غلہ دینا یا غلے کی قیمت دینا بھی صحیح ہے۔ ایک دن کا غلہ صدقۂ فطر کے بقدر دیا جائے۔
فدیہ :
اگر کوئی شخص اتنا ضعیف ہو کہ روزہ نہ رکھ سکتا ہو، یا اتنا بیمار ہو کہ صحت کی کوئی امید ہی نہ ہو تو اُس پر واجب ہے کہ ہر روزے کے بدلے فدیہ ادا کرے۔
ایک روزے کا فدیہ ایک شخص کے صدقۂ فطر کی مقدار غلہ واجب ہے۔ چاہے غلہ دے یا اس کی قیمت ادا کرے، ہر صورت میں فدیہ صحیح ہوگا۔

Share this: