خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ زہرہؓ

Print Friendly, PDF & Email

(یوم ِوفات: 3رمضان المبارک)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے چھوٹی صاحب زادی حضرت فاطمہ زہرہؓ کی ولادت 20 جمادی الثانی بروز جمعہ بعثتِ نبوی سے تقریباً پانچ سال پہلے اُس وقت ہوئی جب کعبہ مکرمہ کی تعمیرنو ہورہی تھی۔ (طبقات ابن سعد۔ ج 8 ص 11)
کتبِ حدیث اور سِیَر و تاریخ میں حضرت فاطمہ ؓ کی ابتدائی زندگی کے واقعات بہت کم ملتے ہیں۔ صرف چند واقعات ہیں جن سے ان کے بچپن سے سنِ شعور تک کی زندگی پر کچھ روشنی پڑتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اہلِ سِیَر اور مؤرخین نے اپنی توجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ مقدسہ بیان کرنے پر دی ہے، اور آپ ؐ کے اہلِ بیت اور صحابہ کرام کے وہی حالات بیان کیے ہیں، جن کا تعلق براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تھا۔
تاہم خاتونِ جنت ؓ کے بارے میں یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ وہ فطری طور پر نہایت سنجیدہ اور تنہائی پسند طبیعت کی مالک تھیں۔ بچپن میں انہوں نے نہ کبھی کھیل کود میں حصہ لیا اور نہ گھر سے باہر قدم نکالا۔ چونکہ وہ آپؐ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اس لیے آپؐ اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ کو حضرت فاطمہ زہرہؓ سے بہت محبت تھی۔
حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ابتدائی تربیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کی۔
انہوں نے اسلام کا ابتدائی زمانہ اور اپنے والدِ محترم ؐ پر مشرکینِ مکہ کے مظالم دیکھے۔ کبھی کبھی وہ اپنے والدِ محترم ؐ پر مصائب سے پریشان ہوکر اشک بار ہوجاتیں، تو آپ ؐ انہیں تسلی دیتے اور فرماتے کہ میری بچی گھبراؤ نہیں، اللہ تمہارے باپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے، رئوسائے قریش بھی وہیں موجود تھے۔ ابوجہل کے ایما پر عقبہ بن ابی معیط نے کسی اونٹ کی اوجھڑی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈال دی۔ جب بی بی فاطمہ ؓ کو اس کی اطلاع ملی تو وہ جوشِِ محبت میں دوڑی ہوئی آئیں۔ اوجھ ہٹاتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں، اُس وقت ان کی عمر صرف پانچ چھ برس کی تھیں۔ کفار اردگرد کھڑے ہوکر ہنستے اور تالیاں پیٹتے تھے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے فرمایا کہ شریرو! اللہ تمہیں ان شرارتوں کی سزا دے گا۔
جب قریش نے یکم محرم سن سات نبویؐ میں بنو ہاشم کا معاشی بائیکاٹ کردیا تو وہ شعبِ ابی طالب میں محصور ہوگئے، اور پورے تین سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ خانہ سمیت تمام بنو ہاشم نے بہت اذیت کے دن گزارے۔ ان میں حضرت فاطمہ ؓ بھی تھیں۔ انہوں نے وہ زمانہ اپنے عظیم المرتبت والدین اور دوسرے اعزّہ واقارب کے ساتھ گزارا، اور تمام سختیاں بہت صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیں۔
شعب ابی طالب کے تین سال کے مصائب ختم ہوئے تو ان کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا۔ بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال کے وقت آپؓ بہت کم سن تھیں، چنانچہ قریش کی متعدد خواتین نے حضرت فاطمہؓ کو اپنے زیرتربیت لیے رکھا۔ حضرت خدیجہ ؓ کے انتقال کے بعد اپنی دونوں بچیوں کی پرورش اور گھر کی دیکھ بھال کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ بنتِ زمعہ ؓ سے نکاح کرلیا۔ وہ سن رسیدہ اور اوّلین مسلمان ہونے والوں میں تھیں، اور بیوگی کے دن کاٹ رہی تھیں۔
ان کے بچپن ہی میں ہجرتِ مدینہ کا واقعہ ہوا۔ ربیع الاول میں 10 بعثت کو ہجرت ہوئی۔ مدینہ پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت ابو رافع ؓ کو پانچ سو درہم اور دو اونٹ دے کر مکہ بھیجا۔ حضرت زید بن حارثہؓ ام المومنین حضرت سودہؓ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادیوں حضرت اُم کلثوم ؓ اور حضرت فاطمہ زہرہؓ، اپنی بیوی حضرت اُم ایمن ؓ اور اپنے صاحبزادے حضرت اسامہ ؓ بن زیدؓ کو مکہ سے مدینہ لے آئے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ ان ہی لوگوں کے ساتھ حضرت اُم رومانؓ (حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اہلیہ)، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت اسماء ؓ کو مدینہ لے آئے۔
خاتونِ جنتؓ سے کئی حضرات نے شادی کی خواہش کا اظہارکیا، ان میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓبھی شامل تھے، لیکن ہر بار وحی کے انتظار کا جواب ملا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بذاتِ خود بھی خاندانی قربت کے باعث بی بی فاطمہؓ سے نکاح کے خواہاں تھے، لیکن شیرِخدا ہونے کے باوجود عقیدت و محبت کے باعث رشتہ مانگنے کی جرأت نہ ہوتی تھی، چنانچہ حضرت سعد بن معاذؓ نے حضرت علیؓ کی درخواست دربار نبوت تک پہنچائی اور بی بی فاطمہؓ کے رشتے کی درخواست کی۔ چنانچہ آپؐ نے حضرت علیؓ کو بلاکر فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ فاطمہؓ بنتِ محمدکی شادی تم سے کروں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر حضرت علیؓ سے پوچھا کہ تمہارے پاس حق مہر ادا کرنے کے لیے بھی کچھ ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ایک زرہ اور ایک گھوڑے کے سوا کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ گھوڑا تو لڑائی کے لیے ضروری ہے، زرہ کو فروخت کرکے اس کی قیمت لے آؤ۔
اس کے بعد حضرت علی ؓ نے یہ زرہ فروخت کے لیے پیش کی، حضرت عثمان غنی ؓ نے 480 درہم میں وہ زرہ خرید لی اور پھر ہدیۃً حضرت علیؓ کو واپس کردی۔ حضرت علیؓ یہ رقم لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا، تو آپؐ نے حضرت عثمان ؓ کے حق میں دعائے خیر کی۔ اسی اثناء میںآپؐ نے حضرت فاطمہؓ سے رضامندی حاصل کرلی۔
2 ہجری غزوۂ بدر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کے ساتھ ان کا نکاح کردیا۔ اس موقع پر آپؐ نے حضرت انس بن مالکؓ کو حکم دیا کہ جاؤ، ابوبکرؓ، عمرؓ، طلحہؓ، زبیرؓ، عبدالرحمٰن بن عوفؓ، اور دیگر مہاجرین اور انصار کو مسجدِ نبوی میں بلا لاؤ۔ جب بہت سے صحابہ کرام ؓ دربارِ رسالتؐ میں جمع ہوگئے تو آپؐ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ اے گروہِ مہاجرین اور انصار، مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ فاطمہ ؓ کا نکاح علی بن ابی طالب سے کردوں۔ تمہارے سامنے اسی حکم کی تعمیل کرتا ہوں۔
اس کے بعد آپؐ نے نکاح پڑھایا۔ سب نے مل کر دعائے خیر و برکت مانگی، اور ایک طبق کھجوریں حاضرین میں تقسیم کی گئیں۔ بعض روایات کے مطابق حاضرین میں شہد کا شربت اورکھجوریں تقسیم کی گئیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے اس موقع پر چھوہارے تقسیم فرمائے۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لختِ جگر کو جہیز میں چند اشیاء دیں جو یہ تھیں:
1۔ ایک بستر مصری کپڑے کا، جس میں اون بھری ہوئی تھی، 2۔ ایک نقشی تخت یا پلنگ،3۔ ایک چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی،4۔ ایک مشکیزہ، 5۔ مٹی کے دو برتن (یا گھڑے) پانی کے لیے، 6۔ ایک چکی (ایک روایت میں دو چکیاں درج ہیں)،7۔ ایک پیالہ،8۔ دو چادریں،9۔ دوبازو بند نقرئی،10۔ ایک جاء نماز۔
رخصتی کے دوسرے دن آپؐ نے خواہش ظاہر کی کہ ولیمہ بھی ہونا چاہیے۔ حضرت سعدؓ نے اس مقصد کے لیے فوراً ایک بھیڑ ہدیہ کی اور کچھ انصار نے بھی اس کام میں ہاتھ بٹایا۔ حضرت علیؓ نے مہر میں سے جو رقم بچ رہی تھی اس سے کچھ اشیاء خریدیں۔ دعوتِ ولیمہ میں دسترخوان پر کھجور، پنیر، نانِ جو اور گوشت تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ آپؐ نے اس مقصد کے لیے منگوائی گئی اشیاء کا مالیدہ تیار کرنے کا حکم دیا اور پھر حضرت علیؓ سے فرمایا کہ باہر جاکر جو مسلمان بھی ملے اسے اندر لے آؤ۔ چنانچہ بہت سے مہاجرین و انصار کو اس بابرکت دعوت میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔ جب مہمانوں نے کھانا کھالیا تو آپؐ نے ایک پیالہ کھانا حضرت علی ؓ اور ایک سیدہ فاطمہ زہرہ ؓ کو مرحمت فرمایا۔
حضرت علیؓ اور سیدہ فاطمہ ؓ کے باہمی تعلقات انتہائی خوشگوار تھے۔ حضرت علیؓ اپنی اہلیہ کی بہت عزت کرتے اور ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ بھی اپنے شفیق شوہر کا دل و جان سے احترام کرتیں، اور ان کی خدمت میں سرشاری محسوس کرتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کے احکام کی تعمیل، اس کی رضاجوئی اور سنتِ نبویؐ کی پیروی ان کے رگ و ریشے میں سما گئی تھی۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اور گھر گرہستی کے کام کاج کرتے ہوئے بھی ایک اللہ کی ہوکر رہ گئی تھیں۔ اسی لیے ان کا لقب ’بتول‘ پڑگیا تھا۔
ان کی زندگی فقر وفاقہ میں گزری اور انہوں نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دی۔ سیدہ فاطمہؓ آپؐ کی سب سے چہیتی بیٹی تھیں۔ خادمِ رسولؐ حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو اپنی اولاد سے محبت کرتے نہیں دیکھا۔ جب آپؐ سفر پر تشریف لے جاتے تو حضرت فاطمہؓ سے مل کر جاتے، اور جب سفر سے واپس آتے تو حضرت فاطمہؓ سے آکر ملتے۔
غزوہ احد (سن 3 ہجری) میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے تو ان کی شہادت کی افواہ پھیل گئی۔ یہ خبر مدینہ پہنچی تو خواتین فرطِ غم سے نڈھال ہوگئیں اوربے اختیار گھروں سے نکل پڑیں۔ سیدہ فاطمہؓ بھی ان میں شامل تھیں۔ وہ میدانِ جنگ پہنچیں تو دیکھا کہ سرور عالمؐ زخمی ہیں اور چہرۂ مبارک اور سرِ اقدس سے خون جاری ہے۔ حضرت علیؓ ڈھال میں پانی بھر کر لائے اور سیدہ فاطمہؓ زخم دھونے لگیں۔ پانی ڈالنے سے خون زیادہ بہنے لگا۔ چنانچہ سیدہؓ نے پانی ڈالنا بند کردیا۔ چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا اور اسے زخم میں بھر دیا، اس طرح خون بند ہوگیا۔
رمضان سن 8 ہجری میں فتح مکہ کی مہم میں بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ تشریف لے گئیں۔ سن 10ہجری میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو سیدہ فاطمہؓ بھی آپؐ کے ہمرکاب تھیں، کیونکہ اُس زمانے میں حضرت علیؓ نجران گئے ہوئے تھے۔ مکہ پہنچ کر حضرت فاطمہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ ادا کیا اور آپؐ کے حکم سے احرام کھولا۔ اسی وقت حضرت علیؓ نجران سے مکہ مکرمہ پہنچے۔
سن 9 ہجری میں نجران سے عیسائیوں کا وفد دربارِ رسالتؐ میں آیا، اور طویل عرصے مدینہ منورہ میں قیام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے مگر ان کی کٹ حجتیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ چنانچہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 61 نازل ہوئی، جس کا ترجمہ یا مفہوم یہ ہے: اے پیغمبر! علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجیے کہ آؤ ہم لوگ اپنے بچوں، مردوں اور عورتوں کو بلالیتے ہیں اور تم بھی اپنے بچوں، مردوں اور عورتوں کو بلالو، پھر ان کے ساتھ ہم اور تم اللہ سے دعا کریں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت۔
اسے مباہلہ کہتے ہیں۔ اگلی صبح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو چادر میں لپیٹے ہوئے حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کو لیے ہوئے آئے۔ اس وقت ان نفوسِ قدسی کے چہروں سے ایسا رعب اور جلال ظاہر ہورہا تھا کہ ان کو دیکھتے ہی عیسائی وفد کے ارکان کانپ اٹھے اور ان کے سرداروں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر یہ واقعی نبی ہیں تو ہم مباہلہ کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے تباہ و برباد وملعون ہوجائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ ہم نہ مباہلہ کرتے ہیں اور نہ اسلام قبول کرتے ہیں البتہ ہمیں جزیہ دینا منظور ہے۔
اللہ نے آپؓ کو دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ دو بیٹے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ، اور بیٹیاں زینبؓ اور ام کلثومؓ تھیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بہت پیار کرتے اور فرمایا کرتے تھے کہ حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ ان کے نام بھی آپؐ نے خود رکھے تھے۔
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہؓ کو نزدیک بلاکر ان کے کان میں کچھ کہا جس پر وہ رونے لگیں۔ اس کے بعد آپؐ نے پھر سرگوشی کی تو آپؓ مسکرانے لگیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سبب پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پہلے میرے بابا نے اپنی موت کی خبر دی تو میں رونے لگی، اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے میں ان سے جاملوں گی تو میں مسکرانے لگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کے بعد صحابہ کرامؓ تعزیت کے لیے سیدہ فاطمہؓ کے پاس آتے تھے لیکن انہیں کسی پہلو قرار نہ آتا تھا۔ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص حضرت انسؓ بن مالک تعزیت و تسلی دینے سیدہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدہؓ نے ان سے دریافت کیا کہ اے انس یہ تو بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر پر مٹی ڈالنا تم لوگوں نے کس طرح گوارا کیا‘‘(مشکوٰۃ شریف)۔ یہ سن کر حضرت انسؓ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور غم والم کا پیکر بنے ہوئے واپس ہوئے۔
تمام اہلِ سِیَر متفق ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کسی نے سیدہ فاطمہؓ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔
چند روزہ علالت کے بعد 3 رمضان المبارک 11 ہجری کو بعد نمازِ مغرب سیدہ فاطمہ زہرہؓ کی وفات ہوئی۔ ابن جوزی اور بعض دوسرے علماء نے لکھا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کو حضرت اسماءؓ بنتِ عمیس، حضرت سلمیٰؓ، ام رافعؓ اور حضرت علیؓ نے شریعت کے مطابق غسل دیا۔
کنزالعمال میں حضرت (امام) جعفر صادقؒ اپنے والد حضرت (امام) محمد باقر ؒ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ کی وفات ہوئی تو ابوبکر ؓ اور عمرؓ دونوں نمازِ جنازہ پڑھنے کے لیے تشریف لائے۔ ابوبکر ؓ نے علی المرتضیٰ ؓ کو جنازہ پڑھانے کے لیے کہا کہ آگے تشریف لائیے، تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے جواب دیا کہ آپؓ خلیفۂ رسولؐ ہیں، میں آپؓ سے پیش قدمی نہیں کرسکتا۔ پس ابوبکر ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ (کنزالعمال، جلد 6، ص 318طبع قدیم)
اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کی تدفین رات کے وقت عمل میں آئی۔ جنازہ بہت خاموشی سے اٹھایا گیا۔ اور اس میں بنوہاشم کے علاوہ چند خاص صحابہ کرامؓ ہی شریک ہوسکے۔ اور آپؓ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔ حضرت فاطمہؓ کی عمر وفات کے وقت 29 سال تھی۔
(باقی صفحہ 41 پر)
سیدہ فاطمۃ الزہرہؓ کے بے پناہ فضائل ہیں، سب سے بڑھ کر تو یہ کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی تھیں۔ اس کے علاوہ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فضائل و مناقب بیان کیے ہیں۔
حضرت حذیفہؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہو اور یہ خوش خبری دے کہ فاطمہؓ اہلِ جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہے، اور حسنؓ و حسینؓ جنت کے تمام جوانوں کے سردار ہیں۔
حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہ میری جان کا حصہ ہے۔ اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے۔
حضرت ابوحنظلہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ بے شک فاطمہ میری جان کا حصہ ہے، جس نے اسے ستایا اُس نے مجھے ستایا۔
ایک اور مشہور حدیث (جو حدیث کساء کے نام سے معروف ہے) کے مطابق آپؐ نے ایک یمنی چادر کے نیچے حضرت فاطمہؓ، حضرت علیؓ و حسنؓ و حسینؓ کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ بے شک اللہ چاہتا ہے کہ اے میرے اہلِ بیت تجھ سے رجس کو دور کرے اور ایسے پاک کرے جیسا پاک کرنے کا حق ہے۔
(حوالہ جات: طبقات ابن سعد، صحیح بخاری، جامع ترمذی، مدارج النبوۃ از شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ’’سیرۃ فاطمۃ الزہرہ‘‘ از طالب ہاشمی، ’’خاتونِ جنت‘‘ از منشی تاج الدین احمد تاج مجددی، ’’الزہرہ‘‘ از عمر ابوالنصر، ’’فاطمہ بنت ِمحمد ‘‘ از رئیس احمد جعفری مرحوم، ’’سیرتِ فاطمۃ الزہرہؓ‘‘ از مولانا عبدالمجیدسوہدروی مرحوم)

Share this: