ہدایت کا دروازہ

Print Friendly, PDF & Email

کسی امیر آدمی کا سنقر نامی ایک غلام تھا۔ وہ نہایت محنتی، دیانت دار، متقی اور پرہیزگار تھا۔ وہ اپنے ایمان اور خدا کی محبت میں جتنا پختہ تھا، اس کا آقا اتنا ہی کمزور ایمان اور نافرمان تھا۔ ایک دن صبح اذانِ فجر سے قبل ہی امیر نے سنقر غلام کو آواز دی کہ حمام میں غسل کرنے کے لیے جانا ہے، ضروری چیزیں لے لو۔ سنقر غلام نے جھٹ پٹ ضروری سامان لیا اور آقا کے ہمراہ چل دیا۔ حمام کے نزدیک ہی ایک مسجد میں اذانِ فجر ہوئی۔ سنقر غلام نماز کا بہت پابند تھا۔ اس نے کہا ’’حضور آپ غسل فرمالیں اور میں نمازِ فجر ادا کرلوں‘‘۔ آقا نے کہا ’’ٹھیک ہے، مگر نماز پڑھ کر جلدی آنا‘‘۔ سنقر غلام نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں چلا گیا۔ ادھر وہ امیر آدمی غسل کرنے کے بعد اس کا انتظار کرنے لگا۔ نماز ادا کرنے کے بعد سارے نمازی آہستہ آہستہ مسجد سے چلے گئے اور آخر میں امام صاحب بھی مسجد سے نکل کر چلے گئے لیکن اس امیر کو غلام سنقر نظر نہ آیا۔ اس کے انتظار میں بہت دیر ہوگئی۔ آخر مجبور ہوکر آقا نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر آواز دی ’’سنقر! سنقر! تُو باہر کیوں نہیں نکل رہا؟‘‘ سنقر نے جواب دیا ’’ذرا رکیے، میں ابھی آیا‘‘۔ سنقر غلام کو اُس وقت حق تعالیٰ کا خاص قرب عطا ہورہا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور مناجات میں محو تھا۔ آخر امیر نے تنگ آکر کہا ’’ارے سنقر سارے نمازی اور امام مسجد اپنے ٹھکانوں کو جاچکے ہیں، اب تُو اکیلا مسجد میں کیا کررہا ہے؟ وہ کون ہے جو تجھے باہر نہیں آنے دے رہا؟ کس نے تجھے مسجد میں روک رکھا ہے؟‘‘ سنقر غلام نے جواب دیا ’’جس نے آپ کو مسجد کے باہر روک رکھا ہے، اسی ذات نے مجھے مسجد کے اندر روک رکھا ہے۔ جو آپ کو مسجد کے اندر نہیں آنے دے رہا، وہی مجھے باہر نہیں جانے دے رہا‘‘۔
گر تو خواہی حرّی و دل زندگی
بندگی کن بندگی کن بندگی
از خودی بگزر کہ تایابی خدا
فانی حق شو کہ تایابی بقا
”اگر آزادی اور دل کی زندگی چاہتا ہے تو بندگی کر، اگر تُو خدا کا فضل چاہتا ہے تو تکبر چھوڑ دے، رضائے الٰہی میں فنا ہوجا، تاکہ تجھے دائمی زندگی نصیب ہو۔“
مومن کو مسجد میں سکون نصیب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے اپنا بناتے ہیں اُس کے یہی آثار و علامات ہوتے ہیں۔ مچھلی کی اصل ذات پانی سے ہے اور دوسرے جان داروں کا تعلق زمین سے ہے۔ پانی غیروں کو کب قبول کرسکتا ہے! یہاں حیلہ اور تدبیر باطل ہے۔ گمراہی کا قفل مضبوط ہے اور بابِ ہدایت کا کھولنے والا خدا ہے۔ تکبیر اور تدبیر پر ناز کرنے سے یہ راستہ نہیں کھلے گا۔
اگر دنیا جہاں کا ذرہ ذرہ چابی بن جائے پھر بھی ہدایت کے دروازوں کو بجز ذاتِ کبریا کے دوسرا کوئی نہیں کھول سکتا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزاری ہی دانائی کی دلیل ہے۔
درسِ حیات:تمام کام اللہ کی توفیق سے انجام پاتے ہیں۔
(مولانا جلال الدین رومی۔ ”حکایاتِ رومیؒ“)

Share this: