جاہل بڑھیا

Print Friendly, PDF & Email

بادشاہ کے محل سے شاہی باز اُڑ کر کہیں چلا گیا، بادشاہ سلامت کو باز سے بڑی محبت تھی۔ اس لیے بادشاہ خود اسے تلاش کرنے کے لیے محل سے نکلا۔ باز اُڑ کر ایک بڑھیا کے گھر جا بیٹھا۔ بڑھیا اس خوب صورت پرندے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی، اور اس کو پکڑ کر کہنے لگی: تُو کس نااہل کے ہتھے چڑھا تھا۔ ہائے ظالم نے تیری قدر نہ جانی، تیرے ناخن اور پَر کس قدر لمبے ہوگئے ہیں۔ یہ کہہ اس نے باز کے پائوں باندھے اور اس کے پَر اور ناخن کاٹ ڈالے۔
جاہل ار باتو نماید ھمدلی
عاقبت زحمت زنداز جاھلی
جاہل اگرچہ تجھ سے ہمدردی ظاہر کرے لیکن اپنی جہالت کی وجہ سے بالآخر تجھے تکلیف ہی دے گا۔
بادشاہ سارا دن باز کو تلاش کرتے کرتے آخرکار اس بڑھیا کے گھر پہنچا۔ باز کو اس حال میں دیکھ کر بادشاہ رو پڑا اور نوحہ کرنے لگا:
گفت ھر چند ایں جزائے کارِ تست
کہ نباشی در وفائے مادرست
بادشاہ کہنے لگا: حقیقت میں تیری اس بے وفائی کی یہی سزا ہے، کیونکہ ہماری وفاداری پر قائم نہ رہا۔ باز اپنے پیروں کو شاہ کے ہاتھ پر مَلنے لگا اور زبانِ حال سے کہنے لگا کہ ’’میں نے آپ سے علیحدگی کا انجام دیکھ لیا۔ یہ مجھ سے سخت خطا سرزد ہوئی۔ اے بادشاہ! میں شرمندہ ہوں، توبہ کرتا ہوں اور تجھ سے ’’نیا عہد و پیمان کرتا ہوں‘‘، اگر تُو مجھے نہ بخشے گا تو پھر میں کس کے دروازے پر جائوں گا؟ اگر تیرا لطف و کرم میرے شاملِ حال ہوجائے تو ناخنوں اور پروں کے بغیر بھی میں شہباز ہوں‘‘۔ باز کی پشیمانی اور گریہ و زاری کو دیکھ کر بادشاہ کے دل میں رحم آگیا، بادشاہ نے پھر اس کو اپنا محبوب بنالیا۔
ہر کہ با جاہل بود ہمراز باز
آں رسد با او کہ با آں شاہ باز
جو شخص کسی جاہل کی صحبت اختیار کرے گا، اس کا بھی یہی حال ہوگا جو اس باز کا ہوا۔ باز کے پَر اور ناخن ہی تو اس کے کمالات ہیں جن سے وہ شکار کرتا ہے۔ جاہل بڑھیا کو وہی کمالات معیوب نظر آئے، جس کی وجہ سے ظالم نے باز کو بالکل ہی بے کار کردیا۔
درسِ حیات: یہ دنیا بھی اس جاہل بوڑھی عورت کی مانند ہے، جو شخص اس کی طرف مائل ہوگا وہ بھی ذلیل اور رسوا ہوجائے گا۔ اگر تُو بھی اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا تو بارگاہِ بے کس پناہ سے معافی مانگ لے۔
رحمتم موقوف آں خوش گریہ ہاست
بعدازاں از بحر رحمت موج خاست
جب انسان پشیمانی کی حالت میں گریہ و زاری کرتا ہے تو اُس وقت رحمتِ الٰہی کا دریا جوش میں آتا ہے۔ پھر رونے والے کا دامن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بھر دیتا ہے۔
(مولانا جلال الدین رومیؒ۔ حکایاتِ رومیؒ)

Share this: