پاک بھارت خفیہ مذاکرات اور وزیر خارجہ کی تردید

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان اور بھارت کے درمیان پسِ پردہ جامع مذاکرات کی خبریں تواتر سے آرہی ہیں۔ جب تک دونوں کے درمیان تمام رابطے معطل اور منقطع تھے کسی جانب سے ایسے رابطوں اور مذاکرات کی کوئی اطلاع نہیں تھی، مگر گزشتہ برس کے اواخر میں پہلی بار یہ خبریں حالات کے دبیز پردوں میں سے چھن چھن کر باہر آنے لگیں کہ پاکستان اور بھارت کئی مشترکہ دوست ملکوں کی سہولت کاری سے آمنے سامنے بیٹھنے پر نہ صرف آمادہ ہوچکے ہیں بلکہ دونوں کے درمیان بات چیت بھی چل پڑی ہے۔ سب سے پہلے سعودی عرب کی طرف سے دونوں ملکوں کو ایک میز کے گرد بٹھانے کے حوالے سے اپنے کردار کا اشارتاً ذکر کیا گیا۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے کھل کر یہ کہنا شروع کیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو نارمل سطح پر لانے کے لیے کام کررہا ہے۔
اِس بار کے پسِ پردہ مذاکرات میں یہ ایک نیا پہلو ہے کہ یہ براہِ راست دو انٹیلی جنس اداروں ’’را‘‘ اور آئی ایس آئی کے نمائندوں کے درمیان ہورہے ہیں، اور ان میں قومی سلامتی کے مشیروں کا عمل دخل بھی کسی حد تک ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ مسئلے کو جڑ سے پکڑنے کی پہلی کوشش ہے۔ ماضی میں خفیہ مذاکرات ریٹائرڈ فوجیوں، بیوروکریٹس اور ریٹائرڈ ججوں اور سفارت کاروں کے درمیان ہوتے تھے، اور کسی مرحلے میں سادہ کپڑوں میں ملبوس کردار بھی ان مذاکرات میں شامل ہوتے تھے۔ 1990ء کی پوری دہائی ٹریک ٹو مذاکرات کی مشق میں گزری تھی، اور اس کے نتیجے میں معاملات’’ اعلانِ لاہور‘‘ تک پہنچے تھے۔ 2000ء کی دہائی میں پسِ پردہ مذاکرات کا چینل پہلے سے قائم اورموجود تھا، اس لیے بات چیت کے تار جوڑنے کے لیے فریقین اور ان کے سہولت کاروں کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی تھی، اور تھوڑے سے ردوکد کے بعد پرویزمشرف من موہن کیمسٹری مل گئی تھی اور بات ’’اعلانِ اسلام آباد‘‘ تک جاپہنچی تھی۔
اِس بار ماضی کے دو چینلز اور ان پر ہونے والا کام موجود ہے، اور یہ دونوں ملکوں کے لیے بڑی سہولت ہے کہ وہ 1990ء کی دہائی میں نوازشریف واجپائی، اور 2000ء کی دہائی میں پرویزمشرف من موہن مفاہمت کے ماضی کو آگے لے کر چل سکتے ہیں۔ ماضی کے ان دو ناکام تجربات میں جو چیز موجود نہیں تھی یا کسی حد تک کم تھی وہ خفیہ اداروں اور عسکری قوتوں کا اعتماد تھا۔ پاکستان میں نوازشریف اور پرویزمشرف دونوں اس اعتماد سے محروم تھے، اور بھارت میں بھی فوج اپنی قربانیوں کا ڈھول پیٹ کر سویلین حکمرانوں کو کشمیر جیسے معاملات پر آزاد روی کی اجازت نہیں دیتی۔ اِس بار اگر مذاکرات کے خدوخال طاقتور خفیہ ادارے تراش رہے ہیں تو یہ ساری کہانی کا ایک نیا پہلو ہے۔ یہ پہلو ماضی کے تجربات میں غائب ہوتا رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی اطلاع کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ مذاکرات میں جامع مذاکرات کے میکنزم پر اتفاق ہوگیا ہے۔ گویاکہ ابھی مذاکرات کا آغاز تو نہیں ہوا مگر مذاکرات کے آغاز کی بنیادیں اور طریقہ کار طے کیا جارہا ہے۔ اس میں یہ طریقہ کار بھی اپنایا جارہا ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل کو ایک مجموعی ایجنڈے کے طور پر زیر بحث لانے کے بجائے الگ نکات کی صورت میں بحث کی جائے گی، اور یہ کہ پاکستان بھارت کے اقدامات پر سخت تنقید کی لَے دھیمی کرے گا، تو جواب میں بھارت کشمیر میں ہونے والی ہر سرگرمی کو پاکستان کے سر ڈالنے کے بجائے اس کے داخلی محرکات پر بھی نظر رکھے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ مذاکرات اور متحدہ عرب امارات کی سہولت کاری دونوں کی تردید کی ہے۔ ترکی کے دارالحکومت استنبول میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان خفیہ مذاکرات اور متحدہ عرب امارات کی سہولت کاری کی کہانیاں سنی ہیں، مگر ابھی تک ایسے مذاکرات نہیں ہورہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور تمام دوست ممالک کی خواہش ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں جنگ کی سمت نہ جائیں۔ آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ وزیرخارجہ کی بات اس حد تک شاید درست ہو کہ ابھی دونوں ملکوں کی خارجہ وزارتوں تک بات چیت کی اطلاع نہیں پہنچی، اور دونوں وزرائے خارجہ اس عمل میں باضابطہ طور پر شریک نہیں ہوئے۔ مگر خفیہ اداروں کی سطح پر مذاکرات کا عمل جاری ہونے کی اطلاعات تیزی سے سامنے آرہی ہیں۔ گمان غالب ہے کہ جب کشمیر سمیت تمام معاملات پر پردے کے پیچھے اتفاق ہوجائے گا تو پھر اس عمل کو مذاکرات کی میز پر کیمروں کے سامنے لایا جائے گا۔
بات پھر وہیں آکر رکتی ہے کہ اس عمل میں کشمیر پر کیا طے کیا جا رہا ہے؟ اس کی ممکنہ دوصورتیں ہیں، اول یہ کہ پاکستان اور بھارت پوری متنازع ریاست کی بنیاد پر اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹیں اور خطے میں ایک نئی ریاست کے خدوخال واضح ہونے کا موقع دیں، جس میں چین کی دلچسپی بڑھ چکی ہے۔ لیکن اس کا سرِدست کوئی امکان نہیں۔ دوئم یہ کہ دونوں ممالک اپنے اپنے حصوں میں اصلاحات اور ان کا اسٹیٹس بلند کرنے پر آمادہ ہوں۔ آزادکشمیر کا اسٹیٹس کم وبیش ابھی تک اسی طرح ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کمیشنوں کا طے کردہ اصول ہے۔ بھارت نے تجاوزات کرکے مقبوضہ علاقے کا اسٹیٹس اور شکل وشباہت بگاڑ دی ہے۔ اس میں حتمی وار 5 اگست2019ء کو ہوا۔ بھارت پانچ اگست کی صورتِ حال بحال کرکے معاملات کو غیر محسوس انداز سے پرانے مقام تک لے جا سکتا ہے۔ اگر یہ بھی نہیں ہوتا تو پھر یا تو ’’اسٹیٹس کو‘‘ بحال رکھنے اور مستقبل کو وقت کے دھارے پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس سے موجودہ عمل کی پائیداری کے حوالے سے بھی شکوک وشبہات کے سائے ماحول پر بدستور منڈلاتے رہیں گے۔

Share this: