حضرت عائشہ صدیقہ ؓ، حیاتِ مبارکہ کے روشن پہلو

Print Friendly, PDF & Email

(نوٹ: اس مضمون میں اُم المومنینؓ کی حیاتِ مبارکہ کے اُن پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے، جو تمام مومنین خاص طورپر خواتین کے لیے نمونۂ عمل ہیں)
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ولادت نبوت کے پانچویں سال شوال سن 9 قبل ہجرت مطابق جولائی 614ء مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپؓ کے والد خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ اور والدہ اُم رومانؓ ہیں۔
والد کی جانب سے ان کا سلسلۂ نسب ساتویں پشت میں اور والدہ کی جانب سے گیارہویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی تعالیٰ عنہا جیسی رفیق اور غمگسار بیوی کی وفات کے بعد اکثر غمگین رہا کرتے تھے اور اس صورت حال کی وجہ سے آپؐ کے اصحاب فکرمند تھے۔ چنانچہ نامور صحابی حضرت عثمان بن مظعون ؓ کی بیوی خولہ بنتِ حکیمؓ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپؐ دوسرا نکاح کرلیں۔ اور اس سلسلے میں پچاس سالہ بیوہ خاتون حضرت سودہ بنتِ زمعہؓ اور عائشہ بنتِ ابوبکر ؓ کے نام پیش کیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز سے اتفاق فرمایا۔ چنانچہ پہلے حضرت سودہؓ سے آپؐ کا نکاح ہوا اور اس طرح انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر اور ان کی صاحبزادیوں کی دیکھ بھال کا فریضہ سنبھال لیا۔
حضرت عائشہؓ سے آپؐ کا نکاح نبوت کے گیارہویں سال شوال کے مہینے میں ہوا۔ آپؐ کو خواب میں بتایا گیا تھا کہ ان سے آپؐ کا نکاح ہوگا، چنانچہ حضرت عائشہ ؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھے دکھائی گئیں خواب میں تین رات، فرشتہ ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں تمہیں لے کر آتا اور مجھ سے کہتا کہ یہ آپؐ کی بیوی ہیں، تو میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ وہ تم ہو، تو میں نے دل میں کہا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اس کو پورا فرمائے گا (صحیح بخاری ومسلم)۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً تین سال مکہ مکرمہ ہی میں رہے، جس کے بعد آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ حضرت عائشہؓ کی رخصتی ہجرت کے چند ماہ بعد یعنی شوال سن 1ھ (مطابق اپریل 623ء) مدینہ منورہ میں نہایت سادگی سے ہوئی۔ اس وقت حضرت عائشہؓ کی عمر نو برس تھی۔ بعد میٖں جدید سیرت نگاروں مثلاً عباس محمود العقاد (الصدیقۃ بنت الصدیق) کی رائے میں رخصتی کے وقت ان کی عمر پندرہ سال کے لگ بھگ تھی (نیز دیکھیے رازق الخیری: مسلمانوں کی مائیں)۔
رخصتی کے بعد حضرت عائشہؓ کو مسجد نبوی کے اردگرد بنے حجروں میں سے ایک دیا گیا۔ یہی حجرے ازواج مطہراتؓ کے مستقل گھر تھے۔ حضرت عائشہؓ زندگی بھر مسجد نبوی کے اس حجرے میں مقیم رہیں۔ جب حضرت عمر فاروق اعظمؓ کی تدفین بھی اسی حجرے میں ہوئی تو آپؓ دوسرے گھر میں منتقل ہوگئیں۔
ازواج مطہرات میں صرف ان ہی کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ کم عمری ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت اور تعلیم و تربیت سے مستفید ہوتی رہیں، اسی طرح چند اور سعادتیں بھی صرف ان ہی کے حصے میں آئیں جن کا وہ خود اللہ تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ذکر فرمایا کرتی تھیں، وہ فرماتی تھیں کہ تنہا مجھے ہی یہ شرف حاصل ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد میں آنے سے پہلے ہی آپؐ کو خواب میں میری صورت دکھائی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ دنیا اور آخرت میں آپؐ کی زوجہ ہونے والی ہیں۔ اور آپؐ کی ازواج میں سے تنہا میں ہی ہوں جس کا آپؐ کی زوجیت میں آنے سے پہلے کسی دوسرے کے ساتھ یہ تعلق اور رشتہ نہیں ہوا۔ اور تنہا مجھ ہی پر اللہ تعالیٰ کا یہ کرم تھا کہ آپؐ جب میرے ساتھ آرام فرما ہوتے تو آپؐ پر وحی آتی۔ دوسری ازواج میں سے کسی کو یہ سعادت میسر نہیں ہوئی، اور یہ کہ میں ہی آپؐ کی ازواج میں سے آپؐ کو سب سے زیادہ محبوب تھی اور اس باپ کی بیٹی ہوں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے، اور یہ شرف بھی آپؐ کی ازواج میں سے مجھے ہی نصیب ہے کہ میرے والدین دونوں مہاجر ہیں اور یہ کہ بعض منافقین کی سازش کے نتیجے میں جب مجھ پر ایک گندی تہمت لگائی گئی تو اللہ تعالیٰ نے میری برأت کے لیے قرآنی آیات نازل فرمائیں جن کو اہلِ ایمان قیامت تک تلاوت کرتے رہیں گے، اور ان آیات میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی (طیبہ) فرمایا گیا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خاندان نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا تھا، چنانچہ حضرت عائشہؓ نے مسلمان والدین کی گود میں آنکھیں کھولیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین رفیقۂ حیات تھیں، اگرچہ وہ حسن وجمال میں بے مثال تھیں، سرخ و سپید رنگ تھا (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا لقب ’’حمیرا‘‘ رکھا)، لیکن ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گہری محبت کا راز فقط حسن و جمال میں پوشیدہ نہ تھا، اس صفت میں تو دیگر ازواج مطہرات حضرت زینبؓ، حضرت جویریہؓ اور حضرت صفیہ ؓ بھی ان کی شریک تھیں۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ بچپن ہی سے انتہائی ذہین، عقل مند، باریک بین اور دوررس نگاہ کی مالک اور دینی مسائل کے فہم و شعور اور احکام کے اجتہاد و استنباط میں ازواجِ مطہراتؓ میں امتیاز رکھتی تھیں اور دین کی خدمت اور مسائلِ شرعیہ کی تبلیغ کے لیے موزوں اور بہترین صلاحیتوں کی مالک تھیں، اور اسی وجہ سے وہ آپؐ کو بے حد محبوب تھیں۔ کتبِ حدیث کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تفسیر قرآن، علم حدیث، فقہ و قیاس، عقائد، علم اسرارِ دین، اسلامی تاریخ، افتا و ارشاد اور خصوصاً خواتین سے متعلق دینی مسائل پر حضرت عائشہ ؓ کی گہری نظر تھی۔
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردوں میں تو بہت لوگ درجۂ کمال کوپہنچے ہیں، مگر عورتوں میں صرف مریم بنتِ عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ ہی کامل ہوئی ہیں… اور عائشہؓ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے کہ تمام کھانوں میں ثرید افضل و اعلیٰ ہے (صحیح بخاری ومسلم)۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! یہ جبرائیلؑ ہیں جو تم کو سلام کہلوا رہے ہیں، تو میں نے عرض کیا کہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ آگے حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ دیکھتے تھے جو ہم نہیں دیکھتے (صحیح بخاری ومسلم)۔
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے، فرمایا کہ جب کبھی ہم لوگوں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو کسی بات اور کسی مسئلے میں اشتباہ ہوا تو ہم نے اُم المومنین حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا تو اُن کے پاس اس کے بارے میں علم پایا ( جامع ترمذی)۔
حضرت عروہ بن زبیرؓ جو حضرت عائشہؓ کے حقیقی بھانجے تھے، اور اُم المومنینؓ کی روایتوں کی بڑی تعداد کے وہی راوی ہیں، حاکم اور طبرانی نے ان کا یہ بیان حضرت عائشہؓ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جو اللہ کی کتاب قرآن کریم اور فرائض کے بارے میں، حرام و حلال اور فقہ کے بارے میں، اور شعر اور طب کے بارے میں، اور عربوں کے واقعات اور تاریخ کے بارے میں، اور انساب کے بارے میں (ہماری خالہ جان) عائشہؓ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔
حاکم اور طبرانی ہی نے ایک دوسرے تابعی حضرت مسروق ؒ سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے اکابر صحابہؓ کو دیکھا ہے کہ فرائض کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کرتے تھے۔ اور حاکم ہی نے ایک اور بزرگ تابعی حضرت عطاء ابن ابی رباح کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ بڑی فقیہ تھیں اور بڑی عالم، اور عام لوگوں کی رائے ان کے بارے میں بہت اچھی تھی۔
متعدد علمی کمالات کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خطابت میں بھی کمال عطا فرمایا تھا۔ طبرانی نے حضرت امیر معاویہ ؓ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ اللہ کی قسم، میں نے کوئی خطیب نہیں دیکھا جو فصاحت و بلاغت اور ذہانت میں حضرت عائشہ ؓ سے فائق ہو۔
کتبِ احادیث میں حضرت عائشہ ؓ کے فضائل و مناقب کی بہت سی روایات محفوظ ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بڑی محبت تھی اور وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دل وجان سے نثار تھیں۔ ان کی زندگی ایک گھریلو مسلمان خاتون کے لیے قیامت تک کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ حضرت عائشہ ؓ اپنی سوتیلی اولاد سے بھی نہایت حسنِ سلوک سے پیش آتی تھیں اور ان کے اپنی سوکنوں سے بھی بہت خوشگوار تعلقات تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال سے قبل صرف تیرہ دن علیل رہے، جن میں سے آخری آٹھ دن آپؐ نے حضرت عائشہ ؓ کے حجرے میں گزارے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپؐ کی تیمارداری کی، دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین حضرت عائشہ ؓ کے حجرے ہی میں ہوئی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کو بھی اسی حجرے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت 18 سال تھی۔ آپ 9 سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپؓ 47 سال بقیدِ حیات رہیں، اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکتِ اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپؓ سے ہی روایت کیا گیا ہے۔ آپؓ عہدِ نبوی اور عہدِ خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور آپؓ نے خلافتِ امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔
اِس تمام عرصے میں آپؓ کی شخصیت نمایاں نظر آتی ہے، کبھی آپؓ لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دیتی نظر آتی ہیں اور کبھی عبادات و ایمانیات کے متعلق تعلیم دیتی ہیں، کبھی آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ اقدس کے روشن پہلو بیان فرماتی ہیں اور کبھی امت میں اصلاح کے واسطے مہمل و کجاوے میں مسند نشیں نظر آتی ہیں۔ گویا اِس تمام مدت میں آپؓ کی شخصیت محور و مرکز بنی ہوئی تھی اور تمام مملکتِ اسلامیہ میں آپؓ بحیثیت مرکز و محور تسلیم کی جاتی تھیں۔ خلافتِ راشدہ کے اختتام پر اور اُموی خلافت کے زمانے میں یہ شانِ جلالت اوجِ کمال پر رہی۔ حرم نبوت کی یہ شمع اپنی آب و تاب سے ملتِ اسلامیہ کو ہر وقت روشن کرتی رہی۔
زہد و قناعت کی وجہ سے صرف ایک جوڑا لباس کا اپنے پاس رکھتی تھیں اور اُسی کو دھو دھو کر پہن لیا کرتی تھیں۔ ایک کرتا جس کی قیمت پانچ درہم تھی، اور یہ اُس زمانے کے لحاظ سے اِس قدر بیش قیمت تھا کہ تقاریب میں دلہن کے واسطے عاریتاً مانگ لیا جاتا۔ زعفران میں رنگ کر کپڑے پہن لیا کرتی تھیں۔
آپؓ فرماتی ہیں: ہم عہدِ رسالت میں سیراء کے کپڑے پہنا کرتے تھے، سیرا میں کچھ ریشم ہوتا ہے۔ سرِ اقدس پر اکثر خوشبو لگا لیا کرتیں۔ خود فرماتی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے حتیٰ کہ ہم مقام قاحہ میں پہنچے تو میرے سر سے زردی بہہ کر چہرے پر آئی کیونکہ میں نے روانہ ہونے سے قبل سر پر خوشبو لگائی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہارا رنگ بڑا پیارا ہے۔
بہت عبادت گزار تھیں، تہجد کے علاوہ نمازِ چاشت پابندی سے ادا فرماتیں۔ چاشت کی 8 رکعت ادائیگی آپ کا معمول تھا۔ نمازِ چاشت کی ادائیگی میں اکثر طویل وقت صرف ہوجاتا۔ عبداللہ بن ابی موسیٰ تابعی کہتے ہیں کہ ایک بار مجھے ابن مدرک نے کچھ سوالات کے جوابات کی خاطر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا کہ جوابات دریافت کرکے لاؤ، جب میں حجرے کے قریب پہنچا تو آپؓ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے سوچا کہ اُن کے فارغ ہونے تک بیٹھ کر اِنتظار کرلیتا ہوں، لیکن لوگوں نے مجھے بتایا کہ اُنہیں بہت دیر لگے گی، میں نے اُسی اطلاع دینے والے سے پوچھا کہ میں اُن سے کس طرح اجازت طلب کروں؟ اُس نے کہا کہ یوں کہو: السَلَامُ عَلَیکَ اَیُھَا النَبِیُ وَرَحمَتُ اللہِ وَ بَرَ کَاتُہ، السَلَامُ عَلَینا وَ عَلَی عِبَادِ اللہِ الصَالِحِینَ السَلاَ مُ عَلیَ اُمَھِاتِ المُومِنِینَ، میں اِس طرح سلام کرکے اندر داخل ہوا اور آپؓ سے سوالات کے جوابات دریافت کرنے لگا۔
تابعی حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسلسل روزے سے ہوتی تھیں۔ قاسم بن محمد بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسلسل روزے سے ہوتی تھیں اور صرف عیدالاضحی اور عید الفطر کو افطار فرماتی تھیں (یومِ عیدین کو روزہ نہیں رکھا جا سکتا اِس لیے اِس روایت میں افطار سے مراد یہی ہے)۔
قاسم بن محمد بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ میں صبح کو جب گھر سے روانہ ہوتا تو سب سے پہلے سلام کرنے کی غرض سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتا، پس ایک صبح میں آپؓ کے گھر گیا تو آپؓ حالتِ قیام میں تسبیح فرما رہی تھیں اور یہ آیت مبارکہ پڑھ رہی تھیں: فَمَنَّ اللہُ عَلَیْنَا وَ وَقَانًا عَذَابَ السَّمُوْمِ اور دعا کرتی اور روتی جا رہی تھیں اور اِس آیت کو بار بار دہرا رہی تھیں، پس میں (انتظار کی خاطر) کھڑا ہوگیا، یہاں تک کہ میں کھڑا ہو ہو کر اُکتا گیا اور اپنے کام کی غرض سے بازار چلا گیا، پھر میں واپس آیا تو دیکھا کہ آپؓ اِسی حالت میں کھڑی نماز ادا کررہی ہیں اور مسلسل روئے جارہی ہیں۔ جب آپؓ یہ آیت وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ پڑھتیں تو آپؓ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہوجاتا (یہ سورۃ الاحزاب کی آیت 33ہے، اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اپنے گھروں میں ٹھیری رہو‘‘)۔
آپ ؓہر سال پابندی سے حج کیا کرتی تھیں اور حجۃ الوداع کے بعد (سنہ 11ھ سے 57ھ / 632ء تا 677ء تک) مزید 47 حج ادا فرمائے۔
حضرت عائشہ ؓبہت فراخ دلی سے صدقات کیا کرتی تھیں اور اس حوالے سے اپنی ذات کی فکر تک نہ کرتی تھیں۔
امام مالک بن انس تک ام المومنین سیدنا عائشہ صدیقہ کی یہ روایت پہنچی ہے کہ: ’’ایک مسکین نے ان سے کچھ مانگا، اس وقت وہ روزہ دار تھیں۔ ان کے حجرۂ مقدس میں صرف ایک روٹی تھی، انہوں نے اپنی لونڈی سے فرمایا: یہ روٹی اس مسکین کو دے دو۔ اس لونڈی نے عرض کی: ام المومنین آپ روزہ کس سے افطار کریں گی؟ عائشہ صدیقہ نے فرمایا: یہ روٹی اس مسکین کو دے دو۔ لونڈی نے کہا: وہ روٹی میں نے مسکین کو دے دی۔ جب شام ہوئی تو ہمیں کسی گھر والوں یا کسی نے ہدیہ بھیجا جو ہمیں بکری یا روٹی بھیجا کرتا تھا۔ ام المومنین نے مجھے بلایا اور فرمایا: اس میں سے کھاؤ، یہ تمہاری روٹی (ٹکیہ) میں سے بہتر ہے‘‘۔
ایک صحابی کا بیان ہے کہ آپؓ نے ایک دن میں 70 ہزار درہم اللہ کی راہ میں صرف کیے اور خود پیوند لگے کپڑے پہنا کرتی تھیں۔ آپؓ کے بھانجے حضرت عروہ تابعی کہتے ہیں کہ میں نے صدیقہ (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کو دیکھا کہ آپؓ نے 70 ہزار درہم خیرات کیے اور اپنے کرتے کا دامن جھاڑ کر کھڑی ہوگئیں۔
ایک بار حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے آپؓ کے پاس دو تھیلے بھر کر ایک لاکھ کی رقم بھیجی، آپؓ نے ایک طباق منگوایا، اُس دن آپؓ کا روزہ تھا۔ آپؓ وہ رقم لوگوں میں بانٹنے لگیں۔ جب شام ہوگئی تو کنیز کو افطاری لانے کا حکم دیا، اُمِ ذرہ بولیں: اُم المومنین! آپ اِن درہموں میں سے ایک درہم کا گوشت منگوا لیتیں جس سے آپ روزہ کھول لیتیں۔ فرمایا: مجھے مت کہو، اگر تم مجھے یاد دلا دیتیں تو میں گوشت منگوا لیتی۔ واضح رہے کہ آپؓ کی خدمت میں ایسے نذرانے حضرت امیر معاویہؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی جانب سے پیش کیے جاتے تھے کہ اس زمانے میں افواجِ اسلامی کثرت سے فتوحات حاصل کررہی تھیں۔
تابعی حضرت عطاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سونے کا ایک ہار بھیجا جس میں ایک ایسا جوہر لگا ہوا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، پس آپؓ نے وہ قیمتی ہار تمام امہات المومنین میں تقسیم فرما دیا۔
آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقیدِ حیات رہیں۔ حضرت امیر معاویہؓ کی خلافت کے اواخر سال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حیات مبارکہ کے اواخر سال ہیں۔ ماہِ رمضان 58ھ/ جولائی 678ء میں علیل ہوگئیں اور چند روز تک علیل رہیں۔ کوئی حال پوچھتا تو فرماتیں: اچھی ہوں۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے منگل 17 رمضان 58ھ مطابق 13 جولائی 678ء کی شب کو اِس دارِ فانی سے عالم بقاء کو لبیک کہا۔ آپ ؓ کی وفات کی خبر اچانک ہی تمام مدینہ منورہ میں پھیل گئی اور انصارِ مدینہ منورہ اپنے گھروں سے نکل آئے۔ جنازے میں ہجوم اِتنا تھا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ رات کے وقت اِتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا گیا، بعض عورتوں کا ازدحام دیکھ کر روزِ عید کے ہجوم کا گماں گزرتا تھا۔ آپؓ کی مدتِ حیات شمسی سال کے اعتبار سے 64 سال اور قمری سال کے اعتبار سے 66 سال 11 ماہ تھی۔ نمازِ جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور آپؓ کی تجہیز و تکفین شب میں ہی عمل میں آئی۔ حضرت ابوہریرہؓ اُن دنوں مدینہ منورہ کے قائم مقام امیر تھے کیونکہ مروان بن حکم مدینہ منورہ میں موجود نہ تھا، وہ عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ گیا ہوا تھا اور مدینہ منورہ میں حضرت ابوہریرہؓ کو اپنا نائب اور قائم مقام امیر بنا کر گیا تھا۔
بوقتِ تدفین آپؓ کی قبر اطہر کے چاروں طرف ایک کپڑے سے پردہ کردیا گیا تھا تاکہ آپؓ کے احترام میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ آپؓ کو قبر اطہر میں آپؓ کے بھانجوں، بھتیجوں یعنی جناب قاسم بن محمد بن ابی بکر، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، عروہ بن زبیر، عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے اُتارا۔ شب بدھ میں تہجد کے وقت تدفین عمل میں آئی۔
( ماخذ: اردو دائرۃ المعارف۔ صحیح بخاری۔ طبقات ابن سعد۔ معارف الحدیث۔ سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا، سید سلیمان ندوی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا: نمونہ کامل، مائل خیر آبادی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سو قصے)

Share this: