زبان زد اشعار

Print Friendly, PDF & Email

پیاروں کی موت نے مری دنیا اجاڑ دی
یاروں نے دور جا کے بسائی ہیں بستیاں
(حفیظ جالندھری)
……٭٭٭……
پھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر پڑی
لیکن نہ کھل سکا پسِ دیوار کون تھا
(نجیب احمد)
……٭٭٭……
تجھ کو لوہا بن کے دنیا میں ابھرنا چاہیے
یہ اگر ہمت نہیں تو ڈوب مرنا چاہیے
(جوش ملیح آبادی)
……٭٭٭……
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
کس لیے آئے تھے ہم کیا کر چلے
(دردؔ)
……٭٭٭……
تم نہ فریاد کسی کی نہ فغاں سنتے ہو
اپنے مطلب کی ہی سنتے ہو جہاں سنتے ہو
(میرزادہ شاہ محزوں)

Share this: