نبی کریمﷺ کی عیدیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات طیبہ اسلام کی دعوت، باطل سے کشمکش، اقامت دین اور بے پناہ مصائب میں گزری

پہلی عیدالفطر
سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیاتِ طیبہ اسلام کی دعوت، اقامتِ دین، باطل سے کشمکش اور بے پناہ مصائب میں گزری۔ یہی حال آپ ؐ کی عیدوں کا بھی ہے۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد سن 2 ہجری کے رمضان میں روزے فرض ہوئے۔ اُسی مہینے معلوم ہوا کہ کفارِ مکہ کا لشکر نئی اسلامی ریاست کو نیست و نابود کرنے کی نیت سے مدینہ کی جانب آرہا ہے۔ چنانچہ روزوں کے دوران ہی کفار سے مقابلے کی تیاری فرمائی، اور 17 رمضان المبارک سن 2 ہجری کو حق وباطل کا پہلا معرکہ یعنی غزوہ بدر ہوا، جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور باطل کو پہلی اور کاری ضرب لگائی گئی۔
آپؐ معرکۂ بدر سے کامیاب و کامران مدینہ واپس ہوئے تو آپؐ کی چہیتی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کی وفات کا صدمہ آپؐ کو جھیلنا پڑا۔ جب آپؐ غزوہ بدر کے لیے تشریف لے جارہے تھے اُس وقت حضرت رقیہؓ بیمار تھیں اور آپؐ نے ان کے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ ہی میں چھوڑ دیا تھا۔ بہرحال مسلمانوں نے یکم شوال سن 2 ہجری کو پہلی عیدالفطر منائی۔ غزوہ بدر کی فتح نے تاریخ کی اُس پہلی عید میں خوشیوں کے انوکھے رنگ بکھیر دیئے تھے۔
کتنی خو شگوار تھی وہ عیدِ سعید، جس کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سر پر فتح وعزت کا تاج رکھنے کے بعد عطا فرمائی تھی، اور کتنا ایمان افروز تھا اس نمازِ عید کا منظر، جسے مسلمانوں نے اپنے گھروں سے نکل کر تکبیر وتوحید اور تحمید وتسبیح کی آوازیں بلند کرتے ہوئے میدان میں جاکر ادا کیا تھا۔
دوسری عید
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری عیدالفطر ایک بہت بڑی خوشخبری لائی تھی، آپؐ کے چہیتے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت 15رمضان سن 3 ہجری کو ہوئی تھی۔ ان کی ولادت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ خوشی اور مسرت ہوئی تھی۔ اور ظاہر ہے کہ اس سے مسلمانوں کو بھی بہت خوشی ہوئی۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بری خبر بھی تھی، وہ یہ کہ مشرکینِ مکہ کا لشکر رمضان کے اواخر میں مدینہ منورہ پر چڑھائی کے لیے روانہ ہوا اور عید کے صرف پانچ روز بعد یعنی 7 شوال سن 3 ہجری کو غزوہ احد ہوا، جو تاریخ کے صفحات پر گہرے زخم چھوڑ گیا۔
تیسری عید
سن 4 ہجری میں آپؐ کی تیسری عیدالفطر خوشیوں سے بھرپور تھی، عید سے قبل ہی ماہِ شعبان میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے نواسے حضرت حسین بن علی ؓ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ان سے بھی آپؐ بے پناہ محبت کرتے تھے اور ان کی پیدائش پر آپؐ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ صحابہ کرام ؓ بھی بہت خوش اور مسرور تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ عید کئی اور خوشیاں بھی لائی تھی، رمضان کے مہینے میں آپؐ نے حضرت زینب بنتِ خزیمہ ام المساکین رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، اور عیدالفطر کے فوری بعد ام المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔
چوتھی عید
سن 5 ہجری میں آپؐ کی چوتھی عیدالفطر آزمائشیں ساتھ لے کر آئی۔ رجب کے مہینے میں آپؐ کو اطلاع ملی کہ قبیلہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار نے بہت سی فوج جمع کی ہے اور مسلمانوں پر حملے کی تیاری کررہا ہے۔ چنانچہ 2 شعبان کو آپؐ صحابہ کرام ؓ کو ساتھ لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے اور غزوہ بنی المصطلق یا غزوہ مریسیع میں شرکت کی، جس میں اسلامی لشکر کو آسانی کے ساتھ فتح ہوگئی۔ قیدیوں میں سردار کی بیٹی جویریہ بھی تھیں، جن کو آزاد کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجیت میں لیا۔ صحابہ کرام ؓ کو جب یہ معلوم ہوا تو انہوں نے بنی المصطلق کے تمام قیدیوں کو رہا کردیا۔
لیکن واپسی پر آپؐ کی چہیتی زوجہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر تہمت لگائی گئی، جسے واقعہ افک کہا جاتا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآن کریم کی آیات نازل کرکے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت اور بے گناہی کا اعلان کردیا۔ لیکن اس دوران ایک ماہ سے بھی زائد عرصے کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت عائشہؓ اور جانثار صحابہ کرامؓ جس اذیت اور دکھ سے گزرے، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اسی پریشانی میں پورے رمضان کا مہینہ گزر گیا۔
رمضان کے دوران ہی اس اطلاع سے مدینہ کی اسلامی ریاست میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ مشرکینِ مکہ عرب کے بہت سے قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر دس ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر ابوسفیان کی کمان میں مدینے پر فوج کشی کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان کی روانگی کی خبر پہنچی تو آپؐ نے صحابہ ؓ سے مشورہ فرمایا، حضرت سلمان فارسی ؓ نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا۔ خندقیں کھودنے کے کام میں صحابہ کرام ؓ کے ساتھ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حصہ لیا، اور یہ کام چھ دن میں مکمل ہوگیا۔ جس کے بعد ہی کفار کا لشکر مدینہ تک پہنچ گیا۔ شوال سن 5 ہجری میں وہ طویل جنگ ہوئی، جسے تاریخ میں غزوہ احزاب یا خندق کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پندرہ روز تک کفار کا محاصرہ رہا اور اس کے بعد ان کا لشکر ذلیل و خوار ہوکر واپس ہوا۔ اس موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تاریخی الفاظ ادا فرمائے کہ” اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے اور یہ کافر ہم پر حملہ آور نہ ہوسکیں گے۔ ہم ہی ان پر حملہ آور ہونے کے لیے چلیں گے“۔
پانچویں عید
سن 6ہجری میں آپؐ کی پانچویں عیدالفطر نسبتاً پُرسکون گزری۔ اس دوران صرف چند چھوٹی چھوٹی فوجی مہمات ہوئیں۔
چھٹی عید
سن 7 ہجری میں آپؐ کی چھٹی عیدالفطر بھی بہت پُرسکون انداز میں گزری اور کوئی قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔
ساتویں عید
سن 8ہجری میں آپؐ کی ساتویں عیدالفطرایک بہت بڑی فوجی مہم اور اسلام کے غلبے کا پیغام لے کر آئی۔ 20 رمضان المبارک سن 8 ہجری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں اسلامی لشکر نے، جو دس ہزار سے زائد سپاہیوں پر مشتمل تھا، مکہ مکرمہ فتح کیا۔ جس کے بعد لوگ جوق در جوق دائرۂ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔ وہ عید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کے ہمراہ مکہ مکرمہ ہی میں منائی۔ کیونکہ 20 رمضان کو فتح مکہ کے بعد آپؐ نے مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا تھا۔
عید الفطر کے بعد 10 شوال کو غزوہ حنین ہوا، جس میں فتح و کامرانی نے لشکرِ اسلام کے قدم چومے۔
آٹھویں عید
سن 9ہجری میں آپؐ کی آٹھویں عیدالفطرتو مدینہ منورہ ہی میں گزری، مگر اس سے قبل رجب کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیس ہزار کا لشکر لے کر غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے، اور اس مہم میں ایک مہینے سے زیادہ صرف ہوا۔ اسلامی لشکر نے تبوک میں بیس روز قیام فرمایا۔ قیصرِ روم کے لشکر نے مقابلے پر آنے کی ہمت ہی نہیں کی۔ باقی دس بارہ روز سے زائد سفر میں لگے، کیونکہ تبوک شام کے قریب تھا، شدید گرمیوں کے دن تھے اور گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کرنے میں بہت وقت لگتا تھا۔
شعبان کے اواخر یا رمضان کے شروع میں آپؐ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔ چونکہ فتح مکہ کے بعد پورے عالمِ عرب میں اسلام کی دھاک بیٹھ چکی تھی، اس لیے مختلف قبائل کے نمائندہ وفود دربارِ رسالتؐ میں حاضر ہوتے اور اسلام قبول کرتے رہے۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر رمضان سن 9 ہجری میں طائف کے قبیلہ ثقیف کا وفد آیا اور اسلام قبول کیا۔
نویں اور آخری عید
سن 10ہجری میں صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نویں اور آخری عیدالفطر منائی۔ اس دوران کوئی خاص واقعہ تو نہ ہوا، البتہ فتح مکہ کے بعد عرب کے مختلف علاقوں سے جو وفود آنا شروع ہوئے تھے، ان کا سلسلہ جاری رہا۔
یہ تھیں حیاتِ مبارکہ ؐ کی 9 عیدیں، جن کے دوران اقامتِ دین اور کفار سے کشمکش کا سلسلہ بھی جاری رہا اور رشد و ہدایت اور مسلمانوں کی تربیت ِ کردار و سیرت کا کام بھی ہوتا رہا۔ اسلامی مملکت کی بنیادیں بھی استوار کی جاتی رہیں اور دین کی تبلیغ کا عمل بھی جاری رہا۔

Share this: