سانحہ 1971ء امریکہ اور بھارت کی سازش تھا شاعر کرنل جمیل اختر سے گفتگو

Print Friendly, PDF & Email

محمد جمیل اطہر1944ء میں یک دینی، مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ راولپنڈی میں انجمن فیض الاسلام طلبہ کی دینی تربیت کا ایک بہترین معروف ادارہ ہے، اس ادارے کی بنیاد انہی کے آبا و اجداد نے رکھی۔ کم و بیش چھ ہزار طلبہ وطالبات یہاں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ میاں حیات بخش، میاں کریم بخش کا شمار راولپنڈی کی بہت ہی معروف شخصیات میں ہوتا ہے۔ پیر مہر علی شاہ، جمیل اطہر کے دادا کے دوست تھے۔ ان کے خاندان کے بزرگ حق داد بخش اور میاں دیدار بخش بٹالہ سے آئے تھے اور اپنے زمانے میں انہوں نے پیدل حج کا سفر کیا تھا۔ سابق سیکرٹری انفارمیشن، سابق پی آئی او میاں شبیر انور بھی اسی گھرانے کے فرزند ہیں۔ رشید انور سمیع، ارشد نذیر اختر اور جمیل اطہر حقیقی بھائی ہیں۔ جمیل اطہر پاک فوج میں کرنل کے رینک سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ بہت اچھے اور حساس شاعر ہیں۔ ’’چشمِ فلک‘‘ اور ’’چشم ِبینا‘‘ کے عنوان سے شعری مجموعہ شائع ہوچکا ہے ۔ان سے فرائیڈے اسپیشل کے لیے گفتگو ہوئی جسے من و عن پیش کیا جارہا ہے۔
…٭…٭…٭…
فرائیڈے اسپیشل: یہ بتائیے کہ محمد جمیل اطہر سے کرنل جمیل اطہر تک کا سفر کس طرح طے ہوا؟
محمد جمیل اطہر: میری پیدائش1944ء میں ہوئی۔ میرے والدین نے ہم بہن بھائیوں کے نام بہت سوچ سمجھ کر رکھے، اور یہی نصیحت کی کہ نام کی لاج ضرور رکھنا۔ کوشش کی ہے کہ والدین کی تربیت اور نصیحت کو پلے باندھے رکھیں تاکہ ہم ملک کے لیے، معاشرے کے لیے اور اپنے خاندان و احباب کے لیے مفید ثابت ہوں۔ گھر میں ہی دینی تعلیم حاصل کی۔ ہمارے گھر کا ماحول بہت ہی علمی اور دینی تھا اور الحمدللہ ابھی بھی ہے۔ معروف دینی و روحانی شخصیات دیدار بخش اور حق داد بخش رحمت اللہ علیہ ہمارے اجداد تھے۔ والدہ محترمہ نے ہم بہن بھائیوں کو چھوٹی عمر میں ہی تربیت دی کہ کھانا کیسے کھانا ہے، طہارت کیا ہوتی ہے، صفائی ستھرائی کیسے رکھنی ہے۔ والد نے ہمیں دین اور دنیا دونوں سے متعلق آگاہی دی اور یہی نصیحت کی کہ ترجیح دین کو دینی ہے اور دنیا کو بھی نظرانداز نہیں کرنا، معاشرتی بھلائی نظر میں رکھنی ہے۔ چھ سال کی عمر میں اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ سینٹ پیٹرک سے میٹرک کیا اور پھر گورڈن کالج میں داخلہ لیا۔1964ء میں پاک آرمی سے منسلک ہوا۔ سینٹ میری اسکول میں مجھے اپنی ہمشیرہ کے ساتھ داخل کرایا گیا جنہیں ہم گڈی آپا کہتے تھے۔ مجھ سے کوئی تین سال بڑی تھیں۔ پہلے دن اسکول گیا تو رونے لگا، اساتذہ نے مجھے بہلایا اور مجھے میری ہمشیرہ سے ملوایا اور ان کے ساتھ بٹھادیا تاکہ میرا دل بہل جائے۔ اسکول میں ہی مجھے اردو کے بہترین استاد ملے محترم عارف صاحب، انہوں نے ہمیں اردو پڑھائی اور ہماری اصلاح بھی کی۔ اسکول میں مسٹر گرانٹ ہمارے پرنسپل تھے۔ وہ نظم و ضبط کے معاملے میں بہت سخت تھے۔
فرائیڈے اسپیشل:آپ کی پیدائش چونکہ1944ء کی ہے، اس طرح آپ کو چھ سال کی عمر میں ہی پاکستان بنتے ہوئے دیکھنے یا سننے کا موقع ملا۔ بتائیں گے کہ پہلا یوم آزادی اور پاکستان کی پہلی سالگرہ کیسی تھی؟ چھوٹی عمر میں ہی آپ کو قائداعظم کے انتقال کی خبر بھی ملی۔ اپنے اُس وقت کی جذبات سے آگاہ کیجیے۔
محمد جمیل اطہر: (آنکھوں میں آنسو آگئے) میں چونکہ عمر میں بہت چھوٹا تھا، تاہم کچھ کچھ یاد ہے۔ پاکستان کی پہلی سالگرہ پر مری روڈ پر فوجی پریڈ ہوئی تھی، میرے کزن صدیق اکبر نیشنل گارڈ میں تھے اور وہی اس دستے کی قیادت بھی کررہے تھے۔ لوگ چھتوں پر کھڑے ہوکر فوجی پریڈ دیکھ رہے تھے۔ کمیٹی چوک مری روڈ کے قریب ایک خالی میدان تھا، وہاں فوجی پریڈ ہوئی تھی جہاں آج کل کنڈان شادی ہال ہے۔ ستمبر1948 ء کو جب قائداعظم کا انتقال ہوا تو مجھے یہ یاد ہے کہ گھر میں والد صاحب اور تایا جان بہت ہی پریشان تھے اور رو رہے تھے، میں نے پوچھا کہ انہیں کیا ہوا ہے؟ کیوں رو رہے ہیں؟ تو بتایا گیا کہ آج وہ شخص فوت ہوگیا ہے جس نے پاکستان بنایا تھا۔ میں نے پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ کوئٹہ میں تھے، بیمار تھے۔ بس اتنی سی یادداشت ہے۔ لیاقت علی خان کو کمپنی باغ میں جس جلسے میں گولی ماری گئی اُس جلسے میں ہمارے بزرگ بھی شریک تھے۔ جب وہ جلسے کے بعدگھر پہنچے تو بہت ہی برا حال تھا، ان کے کپڑے گارے مٹی سے لتھڑے ہوئے تھے، بلکہ میرے والد اور بھائی اسی جلسے میں بھگدڑ کی وجہ سے زخمی بھی ہوئے۔
فرائیڈے اسپیشل:آپ نے تو ملک میں پہلا مارشل لا بھی دیکھا۔
محمد جمیل اطہر: جی! ایوب خان نے لگایا تھا۔ اُس وقت اسکول میں ہی پڑھتا تھا۔1961ء میں میٹرک کیا، اس کے بعد گورڈن کالج میں داخلہ لیا، اور1964ء میں پاک فوج سے منسلک ہوگیا۔
فرائیڈے اسپیشل:فوج میں جانے کا فیصلہ کس طرح ہوا؟
محمد جمیل اطہر: جب فوج میں اپلائی کیا تو میرے والد مجھے اپنے ساتھ لے کر اپنے بزرگ رجب علی شاہ رحمت اللہ علیہ کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ فوج میں اپلائی کیا ہے، دعا کریں کہ کامیاب ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دعا نہیں کریں گے۔ والد صاحب یہ بات سن کر پریشان ہوگئے۔ دو تین بار درخواست کی کہ دعا کریں۔ ان کا پھر وہی جواب کہ دعا نہیں کروں گا۔ بہرحال وہ بزرگ تھے لہٰذا کوئی تکرار نہیں کی اور واپس آنے لگے تو انہوں نے آواز دی اور پوچھا کہ والدہ سے اجازت لی ہے؟ میں نے کہا کہ اجازت تو نہیں لی البتہ انہیں بتایا ضرور ہے۔ کہنے لگے کہ اجازت لو۔ پھر جب اجازت لے کر دوبارہ ان کے پاس گئے تو دعا کی۔
فرائیڈے اسپیشل: کس پی ایم اے سے تعلق ہے؟
محمد جمیل اطہر:34 ویں پی ایم اے سے تعلق ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:1964ء میں فوج میں گئے اور1965ء میں جنگ چھڑ گئی، کچھ یاد ہے؟
محمد جمیل اطہر: ہاں اُس وقت کے لحاظ سے کچھ کچھ یاد ہے۔ جنرل ایوب کاکول آئے اور خطاب کیا۔ یہ جو مُکّے والی بات ہے اور دشمن کو پتا چل جائے گا کہ کس قوم کو للکارا ہے یہ انہوں نے وہیں خطاب کیا تھا۔ میں چونکہ سگنل کور میں تھا لہٰذا سرحد پر جانے کا اتفاق تو نہیں ہوا البتہ انفینٹری کے کچھ کیڈٹس کو سرحد پر بھجوایا گیا۔
فرائیڈے اسپیشل:1965ء میں میجر عزیز بھٹی شہید ہوئے، کیا اُن سے میس میں کبھی ملاقات ہوئی تھی؟
محمد جمیل اطہر: انہیں دیکھا ضرور تھا، ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ سینئر تھے، ہم جونیئر ۔
فرائیڈے اسپیشل:1971ء کی جنگ بھی دیکھی؟
محمد جمیل اطہر: جی اُس وقت میجر تھا، کوہاٹ میں پوسٹنگ تھی۔ اُس وقت کچھ فوجیوں کو مشرقی پاکستان بھیجا گیا تھا مگر مجھے وانا بھجوایا گیا۔ اسکاؤٹس تھا اس لیے وہاں بھجوایا گیا۔ کوہاٹ سے وانا دس گھنٹے کا سفر تھا۔ ٹانک سے آگے مجھے اسکارڈ کرکے لے جایا گیا۔ وہاں ایجوٹینٹ درانی صاحب تھے۔ یہ جگہ انگریز نے بنائی تھی، بہت ہی خوبصورت اور سرسبز تھی۔ دراصل وہاں اسمگلنگ بہت ہوتی تھی، پاک افغان سرحد پر اسے روکنا تھا۔ کچھ عرصے کے بعد مجھے کوارٹر ماسٹر کا بھی چارج مل گیا۔
فرائیڈے اسپیشل: سانحہ 1971ء بھی آپ نے دیکھا۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی فوج قوم کے بغیر جنگ نہیں جیت سکتی۔ یہ بتائیے کہ ہم مشرقی پاکستان کو متحد کیوں نہ رکھ سکے؟
محمد جمیل اطہر: یہ امریکہ اور بھارت کی سازش تھی۔ بھارت نے شروع دن سے ہی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، بلکہ وہ کہتے تھے کہ یہ بہت جلد واپس ہمارے ساتھ ہی آن ملیں گے۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں زمینی فاصلہ بھی تھا، بھارت کی ریشہ دوانیاں بھی تھیں، اس کی سرحد بھی اُس کے ساتھ لگتی تھی۔ وہ پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہا، اسلحہ بھی دیتا تھا اور تربیت بھی… پیسہ بھی تقسیم کرتا تھا اور اس نے روزگار بھی دینا شروع کردیا تھا۔ غرض ایک نہیں بہت سی وجوہات تھیں اور بھارت زہریلا پروپیگنڈا بھی کرتا رہا۔ بھارت نے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان ہوائی راستہ بھی بند کردیا۔ جہاں تک جنگ کے نتائج کا تعلق ہے جوانوں نے سرنڈر نہیں کیا تھا، بہت سے جوان پاکستان کے دفاع اور اس کی سالمیت کے لیے لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔
فرائیڈے اسپیشل: بلوچستان میں کب پوسٹنگ ہوئی؟
محمد جمیل اطہر: بلوچستان میں بارکھان دکی میں پوسٹنگ ہوئی تھی، کوہلو میں بھی رہا۔
فرائیڈے اسپیشل: تب کیسے حالات تھے؟
محمد جمیل اطہر: بہت ہی مشکل حالات تھے۔ ایک دن دیکھا کہ تھانے کی عمارت پر قومی پرچم نہیں تھا۔ میں نے متعلقہ ایس ایچ او سے پوچھا کہ پرچم کیوں نہیں لگایا؟ تو کہنے لگا کہ مقامی سردار محمد بخش مری نے منع کررکھا ہے۔ میں نے حکم دیا کہ پرچم لگاؤ، تھانے کی عمارت پر پرچم لگنا چاہیے۔ پھر مجھے سردار نے چائے پر بلایا تو میں نے انکار کردیا اور کہا کہ وہ میرے پاس آئیں اور چائے پئیں۔ انہوں نے دعوت قبول کی اور کہا کہ اگرچہ میری دعوت قبول نہیں کی تاہم میں آپ کی چائے کی دعوت ضرور قبول کرتا ہوں، اور جب مجھے کوئی بلاتا ہے تو اس کا دل نہیں توڑتا۔ بہرحال وہ آئے اور اسلحہ بردار بھی ساتھ تھے، وہ خود بھی اسلحہ سے لیس تھے۔ میں نے اپنے جوانوں سے کہا کہ ان کا اسلحہ لے لو اور انہیں صاف کرکے ان کے حوالے کرو۔ پہلے تو وہ اسلحہ دیتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار ہوئے، تاہم بعد میں راضی ہوگئے۔ میرے جوانوں نے اسلحہ ان سے لیا، اسے صاف کیا اور پھر ان کے حوالے کیا تو بہت خوش ہوئے۔ ان کا اعتماد بحال ہوگیا۔ اس طرح میں نے ان کے اندر کے حالات کا بھی جائزہ لے لیا۔
فرائیڈے اسپیشل:1977ء کا بھی مارشل لا دیکھا؟
محمد جمیل اطہر: جنرل ضیاء الحق ذاتی طور پر بہت اچھے انسان تھے، بہت ہی اچھے سولجر بھی۔ نمازی، پرہیزگار تھے۔ شراب کے قریب بھی نہیں گئے۔ ان میں فرعونیت نہیں تھی۔ وہ نماز اور زکوٰۃ کا نظام لائے۔ مارشل لا لگے تو بہت سے لوگ مل جاتے ہیں، سویلین بھی مل جاتے ہیں جو کہتے ہیں اصلاح کیے بغیر نہ جاؤ۔ یہی کچھ اُس وقت بھی ہوا۔ انہیں امیر المومنین بننے کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے تھا۔ دراصل کرسی کا نشہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ چھوٹتا نہیں ہے۔ جب فوج آتی ہے تو وہ واپس بھی جانا چاہے تو اس کے لیے واپسی کا راستہ نہیں ہوتا۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ آپ کے آنے سے بہتری آرہی ہے، لہٰذا مکمل اصلاح کیے بغیر نہ جاؤ۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ بتائیے آپ تو سولجر تھے، فوج میں تھے جہاں بہت ہی مشکل زندگی ہوتی ہے۔ یہ شاعری تو ماحول مانگتی ہے۔ آپ فوجی ہوتے ہوئے شاعر کیسے بن گئے؟
محمد جمیل اطہر: ایک روز ہمارے اردو کے استاد جناب عارف صاحب نے کہا کہ ایک شعری مقابلہ ہے جس میں نظم پڑھنی ہے:
طلوعِ صبحِ تاباں کی جبیں سے
یہ کس کا خون رستا ہے زمیں سے
تیری یادوں کی شبنم ضو فشاں ہے
نظر آتے ہیں جگنو شان نشین سے
عارف صاحب نے متعدد بچوں سے یہ نظم پڑھنے کو کہا۔ میری باری آئی تو میں نے ترنم سے پڑھی تو انہوں نے مجھے منتخب کرلیا کہ مقابلے میں شریک ہوں۔ تعلق چونکہ علمی گھرانے سے رہا اور ہمارے گھر میں کتاب سے رشتہ بہت ہی پکا ہے، لہٰذا یہ ماحول بھی مجھے یہاں تک لے آیا اور مددگار بنا رہا۔ اس کے بعد ایک مذاکرے میں شرکت کی جس کا عنوان تھا
’’جدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘
اس مذاکرے میں ہماری ٹیم تیسری پوزیشن پر رہی۔ راحت کاظمی ٹی وی اداکار میرے کلاس فیلو رہے ہیں، یہ بھی اس مذاکرے میں میرے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ کالج کے زمانے میں اپنے پرنسپل مسٹر گرانٹ کے لیے نظم کہی تھی جس کی اصلاح محترم عارف صاحب نے کی، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر زیادہ اصلاح کی تو یہ نظم آپ کی نہیں میری ہوجائے گی۔ یہ نظم کالج میگزین میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد جب ہمارے ملک نے ایٹمی دھماکہ کیا تو نظم کہی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد فوجی فاؤنڈیشن میں آگیا۔ 2014ء میں پہلا شعری مجموعہ ’’چشمِ فلک‘‘ شائع ہوا جس کی اصلاح میرے بھائی جسٹس نصیر اختر نے کی۔
فرائیڈے اسپیشل: شاعر کون سا پسند ہے؟
محمد جمیل اطہر: مجھے اقبال پسند ہیں، ان کی شاعری بہت وسیع ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: فوج میں جانے سے قبل بھی آپ سویلین تھے، اب ریٹائرمنٹ کے بعد پھر سویلین ہیں۔ فوجی لائف میں اور سویلین لائف میں کیا فرق ہے؟
محمد جمیل اطہر: فوج کی لائف میں ہمیں پہلا سبق یہی دیا جاتا ہے کہ وطن کا دفاع کرنا ہے اور وطن کے لیے شہادت حاصل کرنی ہے، اپنی جان بھی دے دینی ہے۔ پاک فوج کی صلاحیت سے دنیا ڈرتی ہے، ہم دنیا کی بہترین فوج ہیں، اسی لیے دباؤ ہے کہ نصاب سے جذبہ شہادت والی بات نکال دو۔ انگریز ہمیں غلام سمجھتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ہم تعلیم میں پیچھے رہیں۔ وہ دفاع بھی کمزور کرنا چاہتے ہیں، مگر ہم کم وسائل کے باوجود اپنا دفاع مضبوط بنائیں گے۔

Share this: