مہر خان محمد نکیانہ, سیاسی میدان کا بے خوف اور بے مثال کارکن

Print Friendly, PDF & Email

قیام پاکستان کے وقت جاگیردارانہ نظام ختم کرنا ملکی استحکام اور دیانت دار معاشرہ قائم کرنے کے لیے اوّلین تقاضا تھا، لیکن قائداعظمؒ کی خرابیِ صحت اور جلد رحلت کی وجہ سے یہ تقاضا پورا نہ ہوسکا، جس کی وجہ سے ملک میں محب وطن اور دیانت دار سیاسی قیادت نہ ابھر سکی اور ملک کے چند شہر چھوڑ کر ہر جگہ نسل درنسل پرانے جاگیردار اور بڑے زمیندار انتخاب لڑنے اور جیتنے کے ٹھکیدار بنے ہوئے ہیں، اور ان کا زور ختم ہونے میں نہیں آتا۔ دیہاتوں میں اب بھی چودھری، وڈیرے، سردار اور خان مقابلے کی تو کیا، کسی اور کو اپنی اجازت کے بغیر انتخاب لڑنے کی گنجائش نہیں دیتے۔ اگر کوئی عام آدمی انتخاب کے میدان میں آجائے تو دھونس، دھمکی، لالچ اور خوف سے اس کو بھگا دیتے ہیں۔ اگر کوئی ان عوامل کے ذریعے قابو میں نہ آئے تو اغوا، چوری، جائداد کے نقصان اور قتل تک سے دریغ نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے اب تک ان خودساختہ خدائوں کے مقابلے میں آنے کی جرأت کرنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
1951-52ء کے صوبائی انتخابات میں جماعت اسلامی نے حصہ لیا جس میں ایک نشست عبدالحکیم سرائے سدھو کی تھی جو کہ اُس وقت ضلع ملتان کی حدود میں تھا۔ اس نشست پر سید نوربہار شاہ کا قبضہ تھا جو کہ علاقے کے جاگیردار تھے اور پورے جاگیردارانہ انداز و اطوار کے مالک تھے، اور وہ تاقیامت اس نشست کو اپنی خاندانی ملکیت سمجھتے تھے۔
عبدالحکیم میں ایک سفید پوش شخص جس کو لوگ مہر خان محمد نکیانہ کے نام سے جانتے تھے، تقسیم ہند سے قبل بی اے بی ٹی کرکے ہیڈ ماسٹر بن گئے۔ تعلیمی شعور نے مقصدِ زندگی سے آشنا کیا۔ سید مودودیؒ کی کتب کے مطالعے نے اقامتِ دین کی جدوجہد کے فریضے کا احساس اجاگر کیا، اور وہ عملی جدوجہد کے لیے جماعت اسلامی میں شامل ہوگئے۔ ملازمت کے علاوہ ساڑھے بارہ ایکڑ آبائی زرعی اراضی موجود تھی جس کو جاگیردار زمینداری میں شمار نہ کرتا تھا بلکہ اپنی ملکیت میں شمار کرتا تھا۔
1970ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے مذکورہ نشست پر مہر خان محمد نکیانہ کو اپنا امیدوار بنایا۔ یہ اعلان ہوتے ہی نہ صرف علاقے میں بلکہ پورے پنجاب میں تھرتھری مچ گئی۔ انگریز کے مراعات یافتہ اپنے اپنے علاقوں کے خودساختہ خدائوں اور فرعونوں کا غیظ و غضب بھڑک اٹھا کہ ہمارے مقابلے میں ہماری مرضی اور اجازت کے بغیر ایک عام سفید پوش آدمی آنے کی جرأت کرے! اگر اس کو برداشت کرلیا گیا تو بہت جلد انتخابات سے ہماری وراثتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور ہر جگہ ہمیں کمتر لوگوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔
دستور کے مطابق نکیانہ صاحب کو دھونس، دھمکی، خوف اور لالچ کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ ذرائع نے زیر دام لانے کے لیے جرأت کی تعریف کرتے ہوئے دست برداری پر آمادہ کرنا چاہا، لیکن تمام حربے ناکام رہے اور نکیانہ صاحب کا ایک ہی جواب رہا کہ مجھے جماعت اسلامی نے کھڑا کیا ہے، وہی مجھے دست بردار کرا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی ان انتخابات سے قبل دستور سازی اور اسلامی دستور کی مؤثر ملک گیر تحریک کامیاب کرا چکی تھی۔ قراردادِ مقاصد بھی پاس ہوچکی تھی، اس لیے مراعات یافتہ اور انگریزوں کی عطا کردہ جاگیر والوں کو خطرہ ہوا کہ اگر یہ جرأت عام ہوگئی اور جماعت اسلامی یہ تبدیلی بھی لاسکتی ہے اس لیے آغاز ہی میں اس بدعت کو ختم کردیا جائے۔ تو ایک طرف دھونس، دھاندلی سے انتخاب جیتنے کی تیاری ہوتی رہی، اور دوسری طرف پاکستان میں جمہوریت کے چیمپئن جنہوں نے ہر قومی تحریک کو کامیابی کے مرحلے پر ناکام کیا اور پھر بھی بابائے جمہوریت کہلائے، نواب زادہ نصر اللہ خان نے ’’انجمن تحفظ زمینداران‘‘ قائم کی تاکہ عوامی بیداری معاشرے سے چودھری، وڈیرے، سردار، تمندار اور خان کی خود ساختہ خدائی کو ختم نہ کردے۔
مہم کے دوران اپنی طاقت، دولت، اثررسوخ اور رعونت کے کئی مظاہر کے علاوہ اعلیٰ نسل کے طاقتور جسیم گھوڑوں کا جلوس بھی نکیانہ صاحب کے ڈیرے کو روند گیا، وہ اس طرح کہ قریب و دور کے سیکڑوں بڑے زمیندار گھوڑوں پر سوار ہوکر جن میں سب سے آگے سید نوبہار شاہ کا گھوڑا تھا، نکیانہ صاحب کے کچے ڈیرے کے ایک دروازے سے داخل ہوئے۔ سب کی اونچے شملے والی پگڑیاں تھیں۔ صحن کے کچے فرش پر گھوڑوںکی لگامیں خوب کھینچیں تاکہ گھوڑے اپنے سم ماریں اور فضا میں گرد اڑے، اور فرش بھربھرا ہوجائے اور دوسرے دروازے سے باہر آجائیں۔ علاقے کے لوگوں نے بہت دیر تک یہ تماشا دیکھا جس کا مقصد یہ تھا کہ ایک طرف تو امیدوار اور اس کے حامیوں کو خوف زدہ کیا جائے، دوسرے اپنے تسلط کی بقا کے لیے موجود طاقت کا مظاہرہ تھا۔
نکیانہ صاحب انتخاب میں جیت تو کسی طرح نہیں سکتے تھے، لیکن انہوں نے تمام حربوں کے باوجود جرأت، بے خوفی اور بے باکی کے ساتھ آخر تک مقابلہ کیا۔ اس انتخاب کی اہمیت کے لیے یہ بات کافی ہے کہ مولانا مودودیؒ نے پندرہ دن کے لیے اپنا کیمپ آفس عبدالحکیم میں قائم کیا تھا۔
نکیانہ صاحب تعلیم کے میدان میں تادمِ آخر سرگرم رہے۔ وہ مدرسہ جامع العلوم ملتان میں بھی بہت عرصہ ہیڈ ماسٹر رہے۔ مذکورہ انتخاب میں ان کا کردار پاکستان کی سیاسی زندگی میں بے مثال ہے۔ جدوجہد کا عینی شاہد تو شاید اب کوئی زندہ نہ ہو۔ نکیانہ صاحب کے بڑے بیٹے مہر اقبال نکیانہ فاضل مدینہ یونیورسٹی سید مودودی انسٹی ٹیوٹ لاہور میں ایک عرصے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ سید نوبہار شاہ پاکستان کے معروف تعلیم یافتہ سیاست دان سید فخر امام صاحب کے چچا تھے۔

Share this: