غلطی ہائے مضامین

Print Friendly, PDF & Email

عیدملتے ہوئے تلفظ کا خیال رکھیے

’غلطی ہائے مضامین‘ کے قارئین کو عید الفطر مبارک ہو۔
آج کچھ لوگ عیدالفطر کے فِطْر کو فِطَر (بروزنِ تیتر) کہتے ہوئے آپ سے لپک لپک کر ملنے آئیں گے۔ تحفظ وتلفظ کا تقاضا ہے کہ ایسے لوگوں کے گلے پڑنے سے گریز کیجیے۔ کورونا کی وبا کے جراثیم کے ساتھ ساتھ غلط تلفظ کے جراثیم بھی جسم میں منتقل ہو جانے کا خطرہ ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو رمضان بھر وِتْر کو وِتَر کہہ کہہ کر پڑھتے رہے۔(اللہ قبول کرے)۔ مختلف ٹی وی چینلوں کی رمضان نشریات میں بھی رمضان بھر ایسے ہی غلط تلفظ سننے کو ملتے رہے۔ (اللہ معاف کرے)۔فطر اور وتر کے ’ط‘، ’ت‘، ’ر‘ سب ساکن ہیں۔ اے صاحبو! انھیں سکون ہی سے رہنے دیا کرو۔ورنہ ذرا اِسی اصول پر ’فطرہ‘ کہنے کی کوشش کر دیکھو، سکون غارت ہو جائے گا اور لگ پتا جائے گا کہ تحفظ و تلفظ دونوں کالحاظ رکھنا کتنا ضروری ہے۔
عید کے موقع پر ہمارے کالموں کے لیے مواد فراہم کرنے کو تقریباً ہر چینل سے عید کی خصوصی نشریات پیش کی جاتی ہیں۔موقع مل جائے تو ہم بھی یہ نشریات دیکھتے ہیں۔ بالخصوص ’دُنیا‘ ٹی وی کے مشہور و مقبول پُرمزاح نشریے’حسبِ حال‘ کی نشریات ۔یہ نشریہ اہلِ ذوق میں دلچسپی اور شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پھکڑ پن کی لمبی دوڑ (Marathon Race) میں یہ واحد نشریہ ہے جس میں معیاری مزاح پیش کیا جاتا ہے۔اس نشریے کے نظامت کار برادر جنید سلیم اور مرکزی کردار جناب سہیل احمد (عزیزی) مبارک باد کے مستحق ہیں کہ بے ہنری و ناقدری کے اس دور میں بھی شائستہ، مہذب اور متنوع مزاح سے اپنے ناظرین کی ضیافت کررہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل کچھ احباب نے بتایا تھا کہ’حسبِ حال‘ کے کسی ایک نشریے میں بچوں کے لیے کہی ہوئی اس عاجز کی نظم ’یہ بات سمجھ میں آئی نہیں‘ کی دلچسپ پیروڈی بھی نشر کی گئی تھی۔ مگر افسوس کہ وہ نشریہ نظر سے نہیں گزرا۔
گلشن اقبال کراچی سے محترم خالد احمد فاروقی نے اپنا صوتی پیغام ارسال فرمایا ہے، جس میں فرماتے ہیں:’’ السلام علیکم۔ بھائی ایک لفظ ہے اوسط، جو ہم بچپن سے بولتے بھی آ رہے ہیں، سنتے بھی آ رہے ہیں، یعنی تلفظ اس کا ’اَوسَط‘۔ حال ہی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے کچھ صحافیوں اور اینکر حضرات کو میں نے سنا ، وہ اس کو’اَوسْط‘ کہتے ہیں۔تو پوچھنایہ تھا کہ صحیح تلفظ کیا ہے اَوسَط ہے یا اَوسْط؟‘‘
ہم نے بھی’حسبِ حال‘ میں اوسَط کا تلفظ’اوسْط‘ (بر وزنِ ’پوست‘) ہی سنا ہے۔حالاں کہ اس نشریے کا ایک قطعہ زبان و بیان کی اصلاح کے لیے بھی وقف ہوتا ہے۔’حسبِ حال‘ کے مصلحین کو معلوم تو ہوگا کہ اَوسَط کے الف اور سین دونوں پر زبر ہے، اسے’’ اَوْ…سَط‘‘ بولنا چاہیے۔یعنی ’سَط‘ کا تلفظ بالکل اسی طرح کرنا چاہیے جیسے نحوسَت کے ’سَت‘ کاکیا جاتا ہے۔ مگرکیا عجب کہ عزیزم عزیزی کے اینکر صاحب اسے بھی کوشش کر کے ’نَحُوسْت‘ ہی بولتے ہوں۔ اگر ایسا ہے تو بولتے وقت اپنے لیے جانے کتنی مشکلات پیدا کر لیتے ہوں گے۔ منہ، حلق اور پھیپھڑوں کے کتنے رگ پٹھوں کو کھینچنا پڑتا ہوگا۔ لغت دیکھنے کی عادت ڈال لیں تو اس قسم کی نُطقی اذیتوںسے بچ سکتے ہیں۔
اَوسَط کے لغوی معنی درمیانہ، بیچ کایا معتدل ہیں۔ مگر علم ریاضی و علم شماریات میں اَوسَط ایک اصطلاح ہے جسے ہم بچپن سے سنتے اور بولتے چلے آئے ہیں۔ ریاضی کا اَوسَط نکالنے کے لیے لڑکپن میں ہم رقوم کی میزان کو رقوم کی تعداد سے تقسیم کر دیا کرتے تھے۔ آج کل کے لڑکے بھی یہی کرتے ہوں گے، کیوں کہ لڑکے جوکچھ کرتے ہیں، وہ بڑوں کی دیکھا دیکھی ہی کرتے ہیں۔ تقسیم سے حاصل ہونے والا عدد اَوسَط کہلاتا ہے، مگر یہ دُکھیارا عدد برادر جنید سلیم کی زبان تک پہنچتے پہنچتے پوست پی کر ’اَوسْط‘ بن جاتا ہے۔
جس خطے کو ہمارے ذرائع ابلاغ اب منہ بگاڑ بگاڑ کر’مڈل ایسٹ‘ کہنے لگے ہیں کچھ برس پہلے تک وہ’ شرق الاوسَط‘ کہلاتا تھا۔ اردو میں اسے مشرقِ وُسطیٰ بھی کہتے ہیں۔ وُسطیٰ کے واؤ پر پیش اور سین پر جزم ہے۔ ہمارے بچپن میں ’مڈل اسکول‘ کو ’مدرسۂ وُسْطانیہ‘ کہا جاتا تھا۔ اسی طرح درمیان، بیچ یا مرکز کے لیے لفظ ’وَسْط‘ استعمال ہوتا ہے اس کا سین بھی ساکن ہے۔البتہ اُمتِ مسلمہ کے لیے قرآنِ مجید میں ’’اُمَّت ِ وَسَطْ‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس میں وَسَط کے واؤ اور سین دونوں پر زبر ہے۔ مراد یہاں بھی وہی ہے، وسْطِ شاہراہ پر چلنے والی یا راہِ اعتدال پر قائم رہنے والی اُمت۔
جس چیز کو ہم واسطہ کہتے ہیں وہ بھی در اصل ایک ’درمیانی‘ راستہ ہی ہوتا ہے۔ ثالث یا بیچ میں پڑنے والے آدمی کو بھی واسطہ کہا اور سمجھا جاتا ہے۔واسطہ تعلق یا لگاؤ کے معنوں میں بھی آتاہے۔ یہ دیکھیے حضرتِداغؔاپنی زوجہ محترمہ سے کس لگاؤ کے ساتھ لڑ رہے ہیں:
تمھیں فکر کیوں، رنج کیوں، لاگ کیوں ہے
کسی سے اگر واسطہ ہے کسی کا
(داغؔ کے محلّے کا کوئی چکر ہوگا) کسی کا واسطہ دینا بھی ایک طرح سے اُس کو بیچ میں ڈالنا ہی ہوتا ہے۔داغؔ ہی نے اپنے اور ’اُن‘ کے بیچ میں پہلے پیام بر ڈالا پھر اپنے اور پیام بر کے بیچ میں بھی ایک واسطہ ڈال دیا۔ اس کے باوجود شکوہ کناں ہی رہے:
جلد میرا پیامبر نہ پھرا
واسطہ گو دیا پیمبر کا
اوسط ہی کی طرح غلط تلفظ سے بولا جانے والا ایک لفظ صفت ہے جس کے ’ص ‘پر زیر اور ’ف‘ پر زبر ہے۔ مگر صفت کو بھی ہمارے برقی ذرائع ابلاغ کے اکثر صاحبانِ موصوف ’صِفْت‘ (بروزنِ لِفٹ)بولتے ہیں یعنی ’ف‘ کو بھی ساکن کربیٹھتے ہیں۔اگر ان ہمہ صفت موصوف لوگوں میں سے کوئی شخص شعر کے وزن کا ذوق بھی رکھتا توہم پوچھتے کہ اقبالؔ کے ان اشعار کو وزن میں کس طرح پڑھا جائے گا؟
محفلِ کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے
جس سمت میں چاہے صفتِ سیلِ رواں چل
وادی یہ ہماری ہے وہ صحرا بھی ہمارا
برقی ذرائع ابلاغ پر متحرک کو ساکن اور ساکن کو متحرک بولنے کی چلبلی عادت نے بہت سے الفاظ کا تلفظ خراب کیا ہے۔ہم نے اچھے خاصے موٹے تازے لوگوں کو ’جسم‘ کے سین پر زبر لگا کر بولتے دیکھا ہے، بڑے بڑے ’ٹیلی عالموں‘ کو ’علم‘ کے لام پر زبر لگاکر بولتے سناہے اور دانشورانِ عصرِ حاضر کو ’وقت‘ کے قاف پر زبر لگا کربولتے دیکھا اور سنا ہے۔اگر ان حروف کو ساکن ہی رہنے دیا جائے تو جسم کمزور ہوگا، نہ علم میں کمی آئے گی نہ وقت ضائع ہوگا۔ بلکہ شاید وَقَت کہنے میں جتنا وقت صرف ہوتا ہے، اُس میں سے کچھ بچت ہی ہو جائے گی۔
ہمارے پچھلے کالم کی اشاعت کے بعد کراچی سے ڈاکٹر آفتاب مضطرؔصاحب کا فون سیدھے اسلام آباد آگیا۔ڈاکٹر صاحب فن عَروض کے ماہر ہیں۔ (عَروض کے ’ع‘ پر زبر ہے)۔ ’’اردو کا عَروضی نظام اور عصری تقاضے ، (تنقیدی مطالعہ)‘‘ کے عنوان سے آپ نے جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ کئی کتب کے مصنف ہیں۔ خود بھی شاعر ہیں اور بہت نپے تُلے اور ٹُھکے ہوئے شاعر ہیں۔ڈاکٹر آفتاب مضطرؔ صاحب کا ہمارے کالموں کو توجہ سے پڑھنا ہمارے لیے فخرو اعزاز کی بات ہے۔ ہاں تو،مضطرؔ صاحب کو اضطراب تھاکہ:
’’ چار مصرعوں والے ہر قطعے کو رُباعی کہہ دیا جاتا ہے۔ آپ نے بھی کہہ دیا۔اوروں سے تو نہیں کرتا مگرآپ سے اس وجہ سے گلہ کر رہا ہوں کہ آپ کا لکھا سند سمجھا جاتا ہے۔ چار مصرعوں ولا ہر قطعہ رُباعی نہیں ہوتا۔رباعی بحر ہزج کے مقررہ اوزان میں سے کسی ایک وزن میں ہوتی ہے۔ رُباعی میں ہر مصرعے کے چار ارکان ہوتے ہیں۔ پہلا اور چوتھا رُکن طے ہے۔ وہ تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔ دوسرے اور تیسرے رکن میں تبدیلی کی گنجائش ہے۔ اقبالؔ کے جس قطعے کو آپ نے رباعی کہہ دیا ہے وہ تو بحرِ رمل میں ہے، بحر ہزج میں نہیں۔بحرہزج کا بنیادی رُکن مفاعیلن …‘‘
قصہ مختصر… ڈاکٹر صاحب نے اتنی تفصیل سے ڈانٹا کہ ہم نے کان پکڑ کر توبہ کی اور عہد کیا کہ آئندہ ہم اپنی زبان سے کسی کو رُباعی نہیں کہیں گے۔ اتفاق سے عین موقع پریہ مقولہ بھی یاد آگیا، جو بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں، کہ ’ جو کسی کو کچھ کہتا ہے وہ خود ہوتا ہے‘۔

Share this: