فلسطین کا مستقبل اور یہودی عالم سے گفتگو

Print Friendly, PDF & Email

جب میں نے ربی ڈیوڈ روزن سے پوچھا کہ: ’’اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو تو خود کئی بار دو ریاستی فارمولے کو مسترد کرچکے ہیں؟‘‘ تو ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں کے رویّے میں اُتار چڑھائو آتے رہتے ہیں، مگر یک ریاستی حل کسی بھی طور پر اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے۔ ایک اسٹیٹ کا مطلب ہے کہ مستقبل میں عرب اسٹیٹ کا قیام اور یہودی اسٹیٹ کا خاتمہ‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ: ’’اسرائیلی علاقوں میں مسلمانوں کی افزائش نسل یہودیوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔1967ءمیں عرب اسرائیل کی آبادی کا 14 فی صد تھے ، جو اب لگ بھگ 22 فی صد ہوچکے ہیں۔ یہ وہ مسلمان ہیں جنھوں نے اسرائیل کی شہریت اختیار کی ہوئی ہے اور وطنی طور پر اسرائیلی- عرب کہلاتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر اسرائیل کسی بھی صورت میں 50لاکھ فلسطینی مہاجروں کو واپس لانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جن ممالک میں وہ پناہ گزین ہیں، انھی کو ان کی مستقل رہائش کا بندوبست کرنا پڑے گا، کیوںکہ مغربی کنارہ اور غزہ بھی شاید ان کو بسا نہ پائیں گے‘‘۔
ربی ڈیوڈ روزن کا مزید کہنا تھا کہ: ’’القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں اسرائیل کی نسبت عرب ممالک کے لیے زیادہ خطرہ ہیں۔ اس لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنا ان عربوں کے مفاد میں ہے۔ اس وقت خلیجی ممالک سعودی عرب، اردن، مصر وغیرہ سبھی مسئلہ فلسطین کا حل چاہتے ہیں، کیونکہ فلسطین کے نام پر ہی دہشت گرد تنظیمیں مسلم نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں اور تشدد کا جواز فراہم کراتی ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کی صورت میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین مکالمے کا دروازہ بھی کھل سکتا ہے‘‘۔ انھوں نے یاد دلایا کہ: ’’یہودی، اسلام سے زیادہ عیسائیت سے خائف رہتے تھے اور مختلف ادوار میں عیسائیوں نے ان پر خوب ظلم ڈھائے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس میں یہ بھی کہوں گاکہ مسلم حکومتوں کے اَدوار میں یہودی پکنک تو نہیں مناتے تھے، مگر بہترحالات میں تھے۔ اگر اس قدر خوں ریز تاریخ کے ہوتے ہوئے بھی عیسائی اور یہودی ایک دوسرے کو معاف کرکے مفاہت کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں، تو آخر اسلام اور یہودی کیوں نہیں!‘‘
صدر ٹرمپ اور ان کے معاونین کی طرف سے فلسطینی مسئلے کا جو فارمولا فی الحال منظرعام پر آیا ہے، اُس سے شاید ہی امن کی امید بندھ سکتی ہے۔ خدشہ ہے کہ یہ اس خطے کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا نہ کردے۔ اس کے اہم نکات یہ ہیں کہ مغربی کنارہ و غزہ پر مشتمل علاقے کو نئی فلسطینی اسٹیٹ قرار دینا ہے۔ فلسطینی مہاجرین کی اپنے گھروں کو واپسی کا معاملہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔ یا تو ان کو اس نئی فلسطینی اسٹیٹ میں رہنا ہوگا، یا جس ملک میں مقیم ہیں وہیں ضم ہونا پڑے گا۔
1993ء میں اوسلو میں اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے میں ایک فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا تھا اور 40 لاکھ کی آبادی کو دو خطوں مشرق میں غزہ اور اُردن کی سرحد سے متصل مغربی کنارے میں تقسیم کیا گیا تھا۔ نسبتاً وسیع مغربی کنارے کا انتظام الفتح کی قیادت کی حامل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن، یعنی پی ایل او کے پاس ہے، اور غزہ میں اسلامک گروپ حماس برسرِ اقتدار ہے۔ جہاں پی ایل او اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے، وہاں حماس فلسطینی بستیوں میں بسائی گئی یہودی ریاست کے وجود سے انکاری ہے۔ چونکہ مغربی کنارہ اور غزہ کے درمیان کوئی زمینی رابطہ نہیں ہے، اس لیے ان کو منسلک کرنے کے لیے اسرائیلی علاقوں سے 30میٹر اُوپر ایک 100کلومیٹر طویل فلائی اوور بنایا جائے گا، جس کے لیے چین سے رابطہ کیا جارہا ہے۔
متوقع معاہدے کی رُو سے اسرائیل مرحلہ وار فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں لائے گا، اور اس میں تین سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ القدس یا یروشلم شہر کو تقسیم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہی رہے گا۔ شہر میں مکین عرب مسلمان اسرائیل کے بجائے فلسطین کے شہری ہوں گے۔ ان کی بہبود، تعلیم و صحت کے لیے نئی فلسطینی اسٹیٹ اسرائیلی بلدیہ کو رقوم فراہم کرے گی۔ الاقصیٰ حرم پر جوں کی توں پوزیشن برقرار رہے گی، یعنی یہ بدستور اردن کے اوقاف کے زیرنگرانی رہے گا۔ ویسے سعودی عرب اس کے کنٹرول کا متمنی تھا، تاکہ ریاض میں موجود فرماں روا سبھی تین حرمین یعنی مکہ، مدینہ و مسجد اقصیٰ کے متولی یا خادم قرار پائیں۔
اسرائیل مسجد اقصیٰ کے تہہ خانے تک رسائی کا خواہش مند ہے، جس کے لیے اُس نے مغربی سرے پر کھدائی بھی کی ہے، تاکہ وہاں تک پہنچنے کے لیے مسجد کی دیواروں کے نیچے سے ایک سرنگ بنا سکے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ تہہ خانے میں ہی معبد سلیمان کے کھنڈرات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مصر فلسطینی ریاست کے لیے ایئر پورٹ، کارخانہ لگانے اور زراعت کے لیے زمین فراہم کرے گا، مگر اس زمین پر فلسطین کے مالکانہ حقوق نہیں ہوں گے، نہ وہ اس پر بس سکیں گے۔ امریکہ، پورپی یونین اور خلیجی ممالک اگلے پانچ سال تک فلسطینی ریاست کو انتظام و انصرام کے لیے 30؍ارب ڈالر کی رقم فراہم کریں گے۔ اس میں 70 فی صد خلیجی ممالک،20 فی صد امریکہ اور 10 فی صد یورپی ممالک دیں گے۔ یہ رقم ہرسال 6ارب ڈالر کی صورت میں خرچ کی جائے گی۔ نئی فلسطینی حکومت فوج نہیں رکھ سکے گی، مگر ایک پولیس فورس تشکیل دے سکے گی۔ اس کی سرحدوں کی حفاظت اسرائیل کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگی۔ صدی کی اس ڈیل پر دستخط ہونے کے بعد حماس اپنے تمام ہتھیار مصر کو سونپ دے گی۔ ایک سال کے اندر انتخابات ہوں گے۔ غزہ کے راستے اسرائیل اور مصر کی سرحدیں نقل و حمل اور تجارت کے لیے کھول دی جائیں گی۔ اسی طرح اردن اور مغربی کنارے کی سرحد کی تین چیک پوسٹیں فلسطینی حکام کے حوالے کی جائیں گی۔
اس پورے معاہدے میں ترکی کے کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے، جس نے پچھلے سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں القدس یا یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف ووٹ ڈلوانے میں قائدانہ کردار ادا کرکے امریکہ کے فیصلے کی سینہ تان کر مخالفت کی تھی۔ چند برس قبل امریکی صدر بارک اوباما کی حوصلہ افزائی پر مسلم ممالک سعودی عرب، مصر اور ترکی نے مصالحانہ کردار ادا کرکے حماس کو قائل کرلیا تھا کہ وہ مغربی کنارے کی محمود عباس کی قیادت والی فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی مجوزہ براہِ راست بات چیت میں روڑے نہیں اٹکائے گی اور نہ بات چیت میں شریک افراد کو غدار وغیرہ کے القابات سے نوازے گی۔ تاہم اس سعی سے اگر معاہدے کی صورت میں کوئی نتیجہ برآمد ہوتا ہے تو درحقیقت یہ طے ہوا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں ریفرنڈم کرایا جائے گا جو عوامی قبولیت کی صورت میں سبھی فریقوں کو منظور ہوگا۔
دوسال قبل دوحہ میں راقم کو مقتدر فلسطینی لیڈر خالد مشعل سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ: ’’آپ تو دو ریاستی فارمولے کو رد کرتے ہیں اور اسرائیل کے وجود سے ہی انکاری ہیں، تو مفاہمت کیسے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: ’’حماس کا رویہ کسی بھی طرح امن مساعی میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یاسر عرفات اور محمود عباس نے تو اسرائیل کو تسلیم کیا، مگر ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟ تحریک میں شارٹ کٹ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے استقامت ضروری ہے۔ اپنے آپ کو مضبوط بنانا اور زیادہ سے زیادہ حلیف بنانا بھی تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ تاریخ کا پہیہ سست ہی سہی مگر گھومتا رہتا ہے‘‘۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ: ’’حماس 2006ء کے ’نیشنل فلسطین اکارڈ‘ پر کاربند ہے، جس کی رُو سے وہ دیگر گروپوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی، مگر مجھے یہ بھی یقین ہے کہ ان مذاکرات کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ کمزور اور طاقت ور کے درمیان کوئی معاہدہ ہو ہی نہیں سکتا۔ سیاسی لحاظ سے ہمیں طاقت ور بننے کی ضرورت ہے۔‘‘
چند برس قبل ان علاقوں کا دورہ کرکے میں نے محسوس کیا کہ عرب ممالک اور امریکی امداد کی بدولت غزہ کے مقابلے میں مغربی کنارے میں خاصی خوش حالی اور ترقی نظر آتی ہے۔ جریکو قصبے میں ایک عالی شان کیسینو (جواخانہ) کے علاوہ مختلف شہروں رملہ، حبرون (الخلیل)، بیت اللحم میں نئے تھیٹر کھل گئے ہیں، جہاں تازہ ترین ہالی وڈ فلمیں دیکھنے کے لیے بھیڑ لگی ہوتی ہے۔ جریکو کے کیسینو میں اسرائیلی علاقوں سے جوئے کے شوقین یہودی بھی داؤ لگانے کے لیے ہر رات پہنچ جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ کی جائے پیدائش بیت اللحم کے چرچ آف نیٹیوٹی یا کنیستہ المہد اور یروشلم کے درمیان مشکل سے 10کلومیٹر کا فاصلہ ہے، مگر وہاں کے مکینوں کے لیے یہ صدیوں پر محیط ہے۔ وہ اسرائیلیوں کی اجازت کے بغیر یروشلم نہیں جاسکتے ہیں۔ وہ صرف دُور سے اس شہر کو دیکھ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک اسکول کے استاد نے بتایا کہ: ’’چودہ سال قبل، میں ایک بار یروشلم گیا تھا اور مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی تھی‘‘۔ اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں کو محصور کرکے ایک مضبوط دیوار کھڑی کی ہے۔ یروشلم سے بحرمُردار (Dead Sea) جانے کے لیے یہودیوں اور فلسطینیوں کے لیے دو الگ راستے بنائے گئے ہیں اور ان کے بیچ میں اونچی دیوار ہے۔ یہ نسل پرستی کا ایک بدترین مظاہرہ ہے۔ اردن اور فلسطین کے درمیان بحرمُردار میں نمک کی مقدار 30 فی صد سے زیادہ ہے، اس لیے اس میں کوئی ذی روح زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ وہی سمندر ہے جس میں حضرت لوط ؑ کی قوم تباہ و برباد ہوگئی تھی۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے400میٹر نیچے ہے۔ چونکہ اس سمندر میں کوئی ڈوب نہیں سکتا، یہاں سیاح آرام سے پانی کی سطح پر لیٹ کر اخبار وغیرہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اسرائیل کی ایک کثیر ملکی کمپنی اس سمندر سے کان کنی کرکے دنیا بھر میں جلد کی خوب صورتی اور علاج کے لیے Dead Sea Products سپلائی کرتی ہے۔ اس بحر کی تہہ کو جلدی امراض کے علاج کے لیے استعمال کرنے کا سہرا کراچی سے منتقل ہونے والے پاکستانی یہودی سائنس دان زیوا گلاڈ کے سر ہے۔
اسرائیلی علاقوں کے رکھ رکھائو اور ترقی دیکھ کر جہاں یورپ اور امریکہ بھی شرما جاتے ہیں، وہیں چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہی فلسطینی علاقوں کی کسمپرسی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سیاحوں کو دیکھ کر بھکاری لپک رہے ہیں، نوعمر فلسطینی بچے سگریٹ، لائٹر وغیرہ جیسی چیزیں بیچنے کے لیے آوازیں لگا رہے ہیں۔ ایک جم غفیر نے پانی کے ایک ٹینکر کے آس پاس حشر برپا کیا ہوا تھا۔ پھول جیسے بچے کتابوں کے بستوں کے بجائے پینے کے پانی کے حصول کے لیے دھینگا مشتی کررہے تھے۔ شہر کے گورنر صالح التماری سے جب استفسار کیا، تو ان کا کہنا تھا کہ: ’’پانی کے سبھی ذرائع پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور وہ صرف ایک مقدار تک فلسطینی علاقوں میں پانی فراہم کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ہفتوں تک ٹینکر نہیں آتا‘‘۔ ان کے مطابق: ’’اسرائیل نے کربلا جیسی کیفیت برپا کی ہوئی ہے‘‘۔
گورنر سے ملاقات کے بعد جب ہمارے وفد کے دیگر اراکین مارکیٹ میں خریدوفروخت کررہے تھے، میں چند فلسطینی نوجوانوں سے گفتگو کررہا تھا۔ ان میں سے ایک نوجوان گورنر کے ساتھ ہماری بریفنگ میں بھی موجود تھا۔ اس نے کہا: ’’کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ پانی آخر کہاں جاتا ہے اور عوام تک کیوں نہیں پہنچتا؟‘‘ جب میں نے ہاں کہا، تو اس نے مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ چند لمحوں کے تذبذب کے بعد میں اللہ کا نام لے کر سوار ہوگیا۔ بعد میں اس جرأت کا خمیازہ مجھے واپسی پر تل ابیب ایئرپورٹ پر بھگتنا پڑا، جب وہاں سیکورٹی اہلکار نے یہ کہہ کر مجھے چونکا دیا کہ: ’’تم اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر ایک فلسطینی کی موٹر سائیکل پر کہاں گئے تھے؟‘‘
خیر، چند گلیوں سے گزرنے کے بعد ہم ایک پوش علاقے میں وارد ہوگئے تو اس نوجوان نے کہا کہ: ’’فلسطینی اتھارٹی کے عہدے داران اسی علاقے میں رہتے ہیں‘‘۔ ایک عالی شان مکان کے گیٹ کے باہر موٹر سائیکل روک کر اس نے گھنٹی کا بٹن دبایا اور عربی میں آواز بھی لگائی۔ خیر کسی نے دروازہ کھول کر علیک سلیک کے بعد اندر جانے دیا۔ مکان کے مالک شاید موجود نہیں تھے۔ جس نے بھی دروازہ کھولا تھا، وہ ملازم ہی لگ رہا تھا۔ مکان کے اردگرد وسیع باغیچہ اور ایک وسیع سوئمنگ پول بنا تھا۔ ایک اور مکان کا بھی یہی حال تھا۔ معلوم ہوا کہ مکین یا تو رملہ میں یا بیرون ملک دورے پر گئے ہیں۔ کربلا جیسے حالات میں جہاں عام فلسطینی العطش کی صدائیں بلند کررہا تھا، وہیں لیڈروں کے ذریعے پانی کا یہ ضیاع تکلیف دہ مشاہدہ تھا۔
(افتخار گیلانی۔ ترجمان القران،جون 2019ء|)

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

علامہ بسااوقات غفلت اور بے عملی میں ڈوبی ہوئی اپنی قوم کو جگانے کے لیے غصے اور جلال کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں تو اگلے لمحے یہ بتا دیتے ہیں کہ میرے کلام کی تلخی دراصل اُس کڑوی دوا کی طرح ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مریض کو شفا نصیب ہوتی ہے، اور اسی طرح بعض اوقات کسی مہلک زہر کا مقابلہ بھی ایسے اجزا پر مشتمل دوا سے کیا جاتا ہے جو زہر کو کاٹ کر بے اثر کر دیتی ہے اور اسے تریاق کہا جاتا ہے۔

Share this: