صبر کا امتحان

Print Friendly, PDF & Email

اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا ذریعہ نجات کسی نہ کسی سبب سے بنادیتے ہیں۔ ایک عورت کو صبر کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے آزمایا۔ ہر سال اللہ عزوجل اسے اولادِ نرینہ سے نوازتے مگر چند ماہ بعد اس کے گلستان کا یہ پھول مرجھا جاتا اور اس کی گود پھر خالی ہوجاتی۔ اس بے کس ماں کے یکے بعد دیگرے بیس بچے اس کا خون جگر کرکے داغِ جدائی دے گئے۔ آخری بچے کے فوت ہونے پر اس کے غم کی آگ بھڑک اٹھی۔
آدھی رات کو زندہ لاش کی طرح اٹھی اور اپنے خالق و مالک کے سامنے سر سجدے میں رکھ کر خوب روئی۔ اپنا سارا غم اور اپنے جگر کا خون مناجات میں پیش کیا ’’اے کون و مکاں کے مالک! تیری اس گنہگار بندی سے کیا تقصیر ہوئی کہ سال میں نو مہینے خونِ جگر دے کر اس بچے کی تکلیف اٹھاتی ہے، جب امید کا درخت پھل لاتا ہے تو صرف چند ماہ اس کی بہار دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔ میرے باغ میں بیس پھول کھلے مگر میں نے سیر ہوکر ایک کی بھی دید نہ کی۔ آئے دن مجھے غم کی ہول لگی رہتی ہے۔ میرا کوئی بچہ پروان نہ چڑھا۔ اے دکھی دلوں کے بھید جاننے والے! مجھ بے نوا پر اپنا لطف و کرم فرما‘‘۔ دکھ درد کی ماری کو روتے روتے اونگھ آگئی۔ خواب میں اس نے ایک شگفتہ پُربہار چمن دیکھا جس کے اندر وہ سیر کررہی تھی۔ سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا اسے ایک محل نظر آیا جس کے اوپر اس عورت کا نام لکھا ہوا تھا۔ باغات اور تجلیات سے یہ عورت خوش اور بے خود ہوگئی۔ محل کے اندر جاکر اس عورت نے دیکھا کہ اس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں۔
اسے وہاں اپنے سب کھوئے ہوئے بچے مل گئے جو اسے دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ پھر اس نے ایک محبت بھری آواز سنی کہ تُو نے بچوں کے مرنے پر جو صبر کیا تھا، یہ اس کا اجر ہے‘‘۔ خوشی کی اس لہر میں اس کی آنکھ کھل گئی۔ جب وہ خواب سے بیدار ہوئی تو اس کا تمام ملال جاتا رہا۔ اس عورت نے مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں بھیگی ہوئی آنکھوں سے عرض کیا ’’الٰہی اب اگر اس سے بھی زیادہ تُو میرا خون بہا دے تو میں راضی ہوں۔ اب اگر تُو مجھے سیکڑوں سال بھی اسی طرح رکھے جس طرح میں اب ہوں تو کچھ غم نہیں، یہ انعامات تو میرے صبر سے کہیں زیادہ ہیں۔“
اس نے سمجھ لیا کہ چند روزہ زندگی کے بعد مجھے بہت اچھا ٹھکانہ ملنے والا ہے۔ ان چند دن کے فراق کے بعد میری اپنے بچوں سے دائمی ملاقات ہونے والی ہے۔
درسِ حیات: عزیزم! انسان کو ہر حال میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ اس کا اجر بہت زیادہ ہوتا ہے۔
(مولانا جلال الدین رومیؒ۔ ”حکایاتِ رومیؒ“)

Share this: