بگٹی ہائوس کا نواب,سلال بگٹی کا قتل

Print Friendly, PDF & Email

عصر کا وقت تھا، میں اپنے دوستوں عبدالرحیم، میرداد خیل صدر NLF بلوچستان، مولانا عزیز الرحمٰن (مرحوم)، سلیم صالح اور نعیم شاہ کے ہمراہ نیشنل لیبر فیڈریشن(NLF) کے دفتر میں گپ شپ میں مصروف تھا۔ جون کا مہینہ تھا، مجھے ایران کے دورے کی دعوت تھی۔ اُس دن فلائٹ منسوخ ہوگئی تھی اس لیے دوستوں کے ساتھ ایران کے حوالے سے تجزیہ ہورہا تھا۔ دفتر کے مشرق میں نواب بگٹی کی رہائش گاہ موجود ہے۔ نواب کے گھر کے دو حصے ہیں، ایک حصے میں ان کی وہ اہلیہ جو بگٹی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں، اور دوسرے حصے میں وہ اہلیہ رہتی تھیں جن کا تعلق پشاور سے تھا۔ ہم دوست بڑی گرما گرم بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ اچانک نواب بگٹی ٹویوٹا جیپ میں دفتر کے سامنے سے بڑی تیزی سے گزر گئے۔ دفتر سے باہر نکل کر دیکھا تو ان کی جیپ سول اسپتال کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دی۔ دوستوں سے کہا کہ اتنی تیزی سے تو نواب گاڑی نہیں چلاتے، اللہ خیر کرے، کوئی مسئلہ نہ ہو۔ پھر واپس دفتر میں آگیا۔ چند گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ دکانیں بند ہونے کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ باہر نکلا اور لوگوں سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ نواب بگٹی کا چھوٹا بیٹا سلال بگٹی قتل ہوگیا ہے۔ یہ خوف زدہ کرنے والی خبر تھی اور افسوس بھی ہورہا تھا۔ دوسرے دن ایران کی فلائٹ تھی اس لیے نواب سے ملنا ضروری تھا۔ دفتر سے چند قدم کے فاصلے پر بگٹی ہائوس تھا جہاں اردگرد لوگ کھڑے تھے۔ بگٹی ہائوس بند تھا۔ گھر کے قریب گیا تو خواتین کی آہ وبکا جاری تھی، سلال کی ماں بہنیں جمع تھیں۔ ان کی دلدوز آوازیں اتنی شدید تھیں کہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ بیٹا غریب کا ہو یا نواب کا، ماں بہنوں کی صدائیں عرش کو چھوتی ہوں گی۔
اس واقعے سے چند دن قبل پریس کلب میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دوست کا فون آیا، اس نے بتایا کہ آپ کی گلی کا ایک لڑکا قتل ہوگیا ہے۔ سن کر خوف کی ایک لہر بدن میں دوڑ گئی۔ ڈر لگا کہ کہیں میرا لڑکا نہ ہو۔ اُن دنوں ٹارگٹ کلنگ زوروں پر تھی۔ جلدی سے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ گلی میں جاکر دیکھا کہ میرے گھر سے دور ایک گھر کے سامنے لوگ جمع تھے۔ وہاں پہنچا تو خواتین کی فلک شگاف صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ یہ ایک غریب گھرانے کا لڑکا تھا، اس کی پان سگریٹ کی دکان تھی۔ مجھ میں ان کی آوازیں سننے کا حوصلہ نہ تھا۔ دل بیٹھ رہا تھا اور افسوس ہورہا تھا کہ ایک بے گناہ نوجوان کو قتل کردیا گیا جو ماں باپ کا سہارا تھا۔ یہ دونوں مناظر میری نگاہوں کے سامنے تھے۔ ایک طرف پان بیچنے والا تھا، تو دوسری طرف نواب زادہ تھا۔ دونوں کی ماں بہنوں کی صدائیں ایک جیسی تھیں۔ غم پان والے کا ہو یا نواب زادہ کا… صدمہ دونوں کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ نواب بگٹی بیٹے کی لاش ڈیرہ بگٹی لے گئے۔
میں ایران کے دورے سے واپس آیا تو نواب ڈیرہ بگٹی سے واپس آچکے تھے۔ ان سے ملنے گیا، تعزیت کی اور اس بات پر معذرت کی کہ ڈیرہ بگٹی نہ آسکا۔ انہوں نے کہاکہ کوئی بات نہیں۔
نواب بگٹی کو یہ صدمہ نڈھال کر گیا۔ سلال بگٹی اپنے بھائیوں سے بہت مختلف تھا۔ اس کا بچپن میری نگاہوں میں تھا، وہ نواب کو اپنے بیٹوں میں سب سے زیادہ عزیز تھا۔ نواب اس کی تربیت مستقبل کے نواب کے طور پر کررہے تھے۔ اُن دنوں نواب بگٹی اور کلپر بگٹی کے درمیان خطرناک چپقلش چل رہی تھی۔ اُس وقت بے نظیر وزیراعظم اور جنرل(ر) نصیر اللہ بابر وزیر داخلہ تھے جو کلپر قبائل کی پشت پناہی کررہے تھے اور انہیں فنڈ فراہم کررہے تھے۔
نواب صاحب اسمبلی جاتے تو اپنے باڈی گارڈز کے ہمراہ جاتے تھے، جبکہ سلال بگٹی بغیر گارڈز کے جاتے تھے۔ جس نے بھی سلال کو مارنے کا منصوبہ بنایا بہت سوچ سمجھ کر بنایا۔ اس نادیدہ قوت نے نواب کو مارنے کے بجائے سلال بگٹی کو نشانہ بنایا۔ سلال بگٹی شادی شدہ تھا اور اس کی ایک چھوٹی بیٹی تھی۔ جب میری نواب صاحب سے ملاقات ہوتی تو سلال بگٹی خود موجود ہوتا۔ یوں نواب صاحب اس کی تربیت کرتے تھے تاکہ اسے علم ہوسکے کہ سیاسی معاملات کیسے چلتے ہیں اور نواب کے قریبی دوست کون کون سے ہیں۔ سلال خوش مزاج تھا اور جلدی گھل مل جاتا تھا۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ آپ سیاست میں کب آئیں گے؟ اس نے کہا کہ میں ابھی تجربے سے گزر رہا ہوں، سیاست کے لیے پیسہ ہونا ضروری ہے۔ نواب نے اُس کے لیے کوئی کارخانہ لگایا تھا، وہ اس میں دلچسپی لے رہا تھا۔ ایک دن جب نواب سے ملا تو وہ بہت خوش تھے، انہوں نے بتایاکہ آج سلال نے مجھے پیسے دیئے ہیں، جبکہ باقی سارے بیٹے مجھ سے پیسے مانگتے ہیں، نالائق ہیں۔
نواب کا بڑا بیٹا ان کی زندگی میں خواہش مند تھا کہ نواب صاحب اپنی زندگی میں اسے نامزد کردیں۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب حالات بگڑے نہ تھے اور سلال بگٹی کے قتل کے بعد نواب صاحب اپنے پوتے براہمداغ بگٹی کی بطور نواب تربیت کررہے تھے۔ نواب کے بڑے بیٹے نے ایک دن اپنے والد سے کہا کہ اگر آپ مجھے نامزد نہیں کرتے تو میرے بیٹے کو نامزد کردیں۔ نواب نے بیٹے کی یہ بات بھی نہیں مانی۔ اس اثنا میں حالات خراب ہوگئے تو نواب صاحب نے اپنے پوتوں کو ملک سے باہر بھیج دیا۔ پہلے وہ افغانستان گئے، اس کے بعد دوسرے ملک میں منتقل ہوگئے۔ یہ نواب کے قتل کے بعد کے واقعات ہیں۔ براہمداغ افغانستان سے یورپ چلے گئے، اب وہ جرمنی میں ہیں۔ جب حالات بدل گئے اور جنرل پرویزمشرف پیپلزپارٹی سے ڈیل کے بعد ملک سے چلے گئے تو صدرِ پاکستان زرداری بن گئے، جنہوں نے جنرل پرویزمشرف کو پروٹوکول کے مطابق گارڈ آف آنر پیش کیا اور نوازشریف کے وزرا نے کالی پیٹیاں باندھ کر حلف اٹھایا۔ اُس وقت تک جنرل پرویزمشرف صدر تھے۔ تاریخ کا اتفاق دیکھیے کہ نواب بگٹی کی شہادت کے بعد جب حالات درست ہوگئے تو بگٹی قبائل کے وڈیروں نے نواب زادہ سلیم بگٹی کے بڑے بیٹے کی دستار بندی کردی۔
اب بگٹی قبیلے کا نواب سلیم بگٹی کا بڑا بیٹا ہے۔ بگٹی قبائل میں روایت ہے کہ بڑے بیٹے کا بڑا بیٹا نواب بن سکتا ہے۔ نواب زادہ جمیل بگٹی عمر میں بڑا ہے، لیکن چونکہ اس کی والدہ بگٹی قبائل سے نہیں ہیں اس لیے وہ نواب بننے کا حق دار نہیں تھا۔ نواب خیر بخش کی اہلیہ مری قبائل سے تعلق نہیں رکھتی تھیں، بلکہ وہ قاضی عیسیٰ کے بھائی قاضی موسیٰ کی بیٹی ہیں، اور ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ اس رشتے کے حوالے سے قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق نواب خیر بخش مری سے جڑتا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ قاضی موسیٰ کے بیٹے ہیں۔ جمیل بگٹی کی اہلیہ نبی بخش زہری کی بیٹی ہیں۔
جب نواب زادہ سلال بگٹی قتل ہوا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ نواب کو مارنے کا پروگرام طے ہوگیا ہے اور ان کے خلاف منصوبہ بندی مکمل ہوگئی ہے۔ جب نواب بگٹی ایک عرصے کے بعد کوئٹہ تشریف لائے تو ان کی کمر جھک گئی تھی، انہوں نے ہاتھ میں لاٹھی لے لی تھی اور بہت افسردہ تھے۔ ایک دن جب ان سے ملا تو انہوں نے کہاکہ میں واپس ڈیرہ بگٹی جارہا ہوں۔ اس پر میں نے اُن سے گزارش کی کہ آپ ڈیرہ بگٹی نہ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئٹہ میں کیا رہا ہے کہ یہاں رہوں!
جس نے بھی نواب کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ تیار کیا تھا، بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ انہیں اپنے علاقے میں محصور کرنا مطلوب تھا۔ نواب صاحب کو اس کھیل کا اندازہ نہ تھا۔ میرے روکنے کے باوجود وہ ڈیرہ بگٹی چلے گئے، یوں وہ دشمن کے لیے ایک آسان ہدف تھے۔ یہ میری نواب بگٹی سے آخری ملاقات تھی۔
جب یہ کالم لکھ رہا تھا تو میرے دوست میجر نذر حسین کا فون آیا، انہوں نے بتایا کہ عزیز بگٹی فوت ہوگئے ہیں تو صدمہ ہوا۔ وہ میرے کالج کے زمانے کے دوست تھے اور نواب کے پرسنل سیکریٹری تھے جب نواب وزیراعلیٰ بلوچستان تھے۔
(جاری ہے)

Share this: