قرآن سرچشمہ ہدایت

Print Friendly, PDF & Email

اس وقت پوری دنیا میں نوعِ انسانی کے پاس قرآن مجید کے سوا اور کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا خالص کلام ہر آمیزش سے پاک بالکل اپنی صحیح صورت میں موجود ہو۔ ایسی ہدایت کہ جس کے متعلق پورے یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ سوائے قرآن مجید کے دنیا کی کسی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ اور اس طرح ایک لحاظ سے دیکھیے تو مسلمان دنیا کی وہ خوش قسمت ترین قوم ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب موجود ہے، اور دوسرے لحاظ سے دیکھیے تو یہ دنیا کی وہ بدترین قوم ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب موجود ہے لیکن وہ اس سے منہ موڑ کر اِدھر اُدھر دوڑتی پھر رہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’قرآن یا تمہارے حق میں حجت ہے یا تمہارے خلاف حجت ہے‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک چھوٹے سے فقرے میں بے نظیر بات ارشاد فرمائی ہے۔ اگر ایک آدمی قرآن مجید کی پیروی کرے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ یہ بات پیش کرسکتا ہے کہ میں نے آپ ہی کے کلام کے مطابق عمل کیا ہے۔ یہ سب سے بڑی حجت اس کے حق میں ہوسکتی اور اس کی بنا پر اُس کی بخشش کا ہونا یقینی ہوسکتا ہے، کیونکہ اُس نے اللہ کی اپنی کتاب کی پیروی کی۔ لیکن اگر کسی کے پاس کتابِ الٰہی موجود ہو اور اس کے بعد وہ اس سے منہ موڑے اور اس کے خلاف عمل کرے تو کتابِ الٰہی اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔ دنیا کا کوئی دوسرا شخص تو یہ عذر پیش کرسکتا ہے کہ آپ کا کلام ہم تک نہیں پہنچا تھا، لیکن ہم مسلمان تو یہ نہیں کہہ سکتے۔ ہم تو دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ ہمارا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں، اور پھر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول تھے اور انہوں نے ہی یہ کتاب ہم تک پہنچائی۔ اس لیے ہمارے سامنے کوئی راہِ فرار نہیں رہتی، نہ کوئی حجت رہ جاتی ہے۔ اگر ہم اس کے خلاف عمل کریں تو ہمارے اوپر مقدمہ ثابت ہوجاتا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اس بات کی کوئی جواب دہی نہیں کرسکتے کہ ہم قرآن سے منہ موڑ کر کسی کی لال کتاب اور کسی کی کالی کتاب کی طرف کیوں دوڑتے پھرتے تھے۔
حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ توریت کا ایک نسخہ لیے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کو پڑھنا شروع کیا۔ جیسے جیسے وہ پڑھتے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرئہ مبارک غصے سے سرخ ہوتا چلا گیا۔ ایک صحابیؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا: تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے سے کتنا سرخ ہورہا ہے اور تم پڑھے چلے جارہے ہو۔ حضرت عمرؓ یہ دیکھ کر رک گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج اگر موسیٰ ؑ بھی ہوتے تو میری پیروی کرنے کے سوا ان کے لیے کوئی چارئہ کار نہ ہوتا۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے زمانے کے نبی تھے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد اور قرآن کے آجانے کے بعد کوئی دوسرا سرچشمہ ہدایت نہیں رہا جس کی طرف انسان رجوع کرسکے۔ ہدایت اگر موجود ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک اور اللہ تعالیٰ کی اس کتابِ پاک میں ہے، اس کے باہر کسی جگہ کوئی ہدایت موجود نہیں ہے۔ جس طرف بھی کوئی جائے گا بجز گمراہی اور ضلالت کے، کچھ نہیں پائے گا۔
(تفہیمات، حصہ چہارم)

Share this: