کشمیر اور فلسطین… وزیراعظم کی حقیقت بیانی

Print Friendly, PDF & Email

وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت سے تعلقات کی بحالی کشمیریوں کے خون سے غداری ہوگی، کشمیریوں کے خون کی قیمت پر بھارت سے تجارت نہیں ہوسکتی۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ’’آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ ہے‘‘ پروگرام میں شہریوں کے سوالوں کے جوابات کے دوران کیا۔ وزیراعظم کا یہ پروگرام اس لحاظ سے مفید ہے کہ اگر اسے تسلسل کے ساتھ اور اس کی حقیقی روح کے مطابق جاری رکھا جائے تو یہ عوام کے خیالات، جذبات اور اُن کے مسائل و مصائب سے ملک کے حکمران کی آگاہی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، اور اگر حکمران سنجیدگی سے چاہیں تو وہ لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کے ساتھ ساتھ ملکی پالیسیوں کو بھی قومی اور عوامی امنگوں سے ہم آہنگ کرسکتے ہیں، جیسا کہ اتوار کو ٹیلی فون پر ایک شہری کے استفسار پر وزیراعظم کو کشمیر پر اپنا اور حکومت کا مؤقف واضح کرنے کا موقع ملا، اور انہوں نے دوٹوک الفاظ میں قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر بھارت سے تعلقات اچھے ہوجائیں تو اس میں ہمارا فائدہ بھی ہوسکتا ہے، لیکن مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر بھارت کے ساتھ تجارت کرنا کشمیریوں کے خون کے ساتھ غداری ہوگی۔ ہم کشمیریوں کے خون کی قیمت پر بھارت سے تعلقات بہتر نہیںکرسکتے، ہاں اگر بھارت 5 اگست 2019ء کا اقدام واپس لے تو بات چیت ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر مزید کہا کہ فلسطین پر بھی اسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے، فلسطینیوں کو ڈرا کر یہ مسئلہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ظلم کا نظام ہے، اس کا پائیدار حل یہی ہے کہ فلسطینیوں کو اُن کا حق دیا جائے۔ دنیا اس وقت مسئلے کی نزاکت اور سیاست سے آگاہ ہورہی ہے، اور مغرب میں بھی فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند ہورہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کشمیری اور فلسطینی عوام کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ہے یہ پاکستانی عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے مسائل گزشتہ ستّر برس سے حل طلب چلے آرہے ہیں مگر عالمی برادری کی عدم توجہی اور غیر سنجیدگی کے سبب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سنگینی میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ صدر ودلکان بوز گزشتہ دنوں پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے عالمی برادری کو ان مسائل کی سنگینی اور ان کے حل کے ضمن میں اس کی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین پر بے عملی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر سے متعلق بھی ان کا کہنا تھا کہ تنازع کشمیر بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا فلسطین ہے، مجھے جموں و کشمیر کی صورتِ حال کا بخوبی اندازہ ہے، اور مجھے ایک عام پاکستانی کے کشمیر کے حوالے سے احساسات کا بھی ادراک ہے، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور خوش حالی کا دارو مدار پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بحالی پر ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں تنازع کشمیر کا حل نکالا جائے۔ میں نے ہمیشہ فریقین پر زور دیا ہے کہ زمینی حقائق تبدیل نہ کیے جائیں اور متنازع علاقوں کی حیثیت بدلنے سے گریز کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو حق اور انصاف کے اصولوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے پر زور دیا ہے، مگر بھارت مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا چلا آیا ہے۔ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر پہلی قرارداد 17 جنوری 1948ء کو منظور کی گئی، جس میں کشمیریوں کے حقِ استصواب کو تسلیم کرتے ہوئے خطے میں رائے شماری کے ذریعے اس کے مستقبل کے فیصلے کے لیے کہا گیا، مگر بھارت اس طویل عرصے میں مختلف حیلوں بہانوں سے کشمیری عوام کو اُن کے اس حق سے محروم رکھے ہوئے ہے، اور وہاں کے اسّی لاکھ سے زائد باشندوں کو غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیری عوام نے ایک دن کے لیے بھی بھارتی تسلط کو قبول نہیں کیا، اور ہر طرح کی قربانیاں دے کر اپنی جدوجہدِ آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دو برس قبل بھارت کے موجودہ انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بھی ختم کردیا۔ تب سے اب تک کشمیری عوام مسلسل فوجی محاصرے میں ہیں اور ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق سلب ہیں۔ اس کیفیت میں وزیراعظم عمران خان نے سو فیصد حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے حالات میں بھارت سے تجارت اور تعلقات کی بحالی کشمیری عوام کے خون سے غداری ہوگی۔ تاہم ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ حکومتِ پاکستان کشمیری عوام کو اس ظلم سے نجات دلانے اور بھارتی غاصبانہ تسلط سے آزادی دلانے کے لیے زیادہ متحرک اور فعال کردار ادا کرے، اور اقوام متحدہ کو اس جانب متوجہ کیا جائے کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر اپنی قراردادوں کو عملی جامہ پہناکر اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرے۔

Share this: