بے سمت معاشی پالیسی ۔۔۔ آئی ایم ایف کی نگرانی میں بجٹ کی تیاری

Print Friendly, PDF & Email

سالانہ وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل ٹیکسوں کے حصول کو تین گنا بڑھانے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن تین سال میں یہ ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔ رواں مالی سال اب تک 41کھرب 43 ارب روپے اکٹھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں وصولیاں 35کھرب 30ارب روپے تھیں۔ رواں مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے وقت جس کی مدت 30 جون کو ختم ہورہی ہے، آئی ایم ایف کو 49کھرب 60 ارب روپے ریونیو اکٹھا کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی، تاہم بعد میں حکومت اس پر نظرثانی کرکے اسے 46 کھرب تک لے آئی تھی۔ یوں حکومت اپنے ہدف سے پانچ کھرب روپے پیچھے ہے۔ اب 11 جون کو پیش کیے جانے والے نئے بجٹ میں جو آئی ایم ایف کی نگرانی میں تیار ہو رہا ہے، حکومت نے اس کے لیے وصولیوں کا تخمینہ 59کھرب 63ارب روپے لگایا ہے، لیکن حکومت کو ایک بار پھر اس پر نظرثانی کرنا پڑے گی اور یہ ہدف کم کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ ایک جانب نئے ٹیکس نہ لگانے کا وعدہ کررہے ہیں اور دوسری جانب ٹیکس اہداف59 کھرب تک بڑھانے جارہے ہیں۔ بلاشبہ یہ بجٹ نہایت غیر معمولی حالات میں پیش کیا جارہا ہے، کیونکہ اس وقت ہماری قومی معیشت 52 فی صد قرضوں کی زد میں آئی ہوئی ہے، اور یہ انتہائی غیر معمولی معاشی صورت حال ہے۔
روایتی طور پر بجٹ سے پہلے حکومت اقتصادی جائزہ پیش کرتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ قومی ترقی کی شرح نمو کی رفتار کیا ہے، اور فی کس آمدنی میں کیا اضافہ ہوا ہے، اور ملکی صنعت اور زراعت میں کیا کمی بیشی ہوئی ہے۔ اقتصادی جائزہ قوم کے سامنے رکھنے سے پہلے ہی قومی گروتھ کی خبر دے کر سب کچھ افشاء کردیا گیا ہے۔ جب سے3.90 فیصد شرح نمو کے اعداد و شمار سامنے لائے گئے ہیں حکومت کی صفوں میں ایک طرح کے جشن کا سماں ہے۔ یہ نہیں بتایا جارہا کہ جس قومی گروتھ کا دعویٰ کیا جارہا ہے یہ معاشی منزل کب حاصل ہوئی؟ اور اس سے شہریوں کی فی کس آمدنی میں کیا فرق پڑا؟ ۔ بیشتر ماہرینِ معیشت ان اعداد و شمار کو درست نہیں مان رہے۔ لیکن اس بحث میں پڑے بغیر بات آگے بڑھاتے ہیں۔ جن اعدادو شمار کی بات حکومت کررہی ہے، اس میں ایک پہلو بیان کررہی ہے اور ایک پہلو چھپا رہی ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ حکومت جسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے اصل میں یہ بات کچھ یوں ہے کہ سب ماہرینِ معیشت اور حکومت میں شامل معاشی ٹیم کا یقین اس بات پر ہے کہ ملکی معیشت میں موجودہ صورتِ حال میں چار فی صد تک ترقی کی شرح بڑھانے کی صلاحیت ہے، مگر حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم نے یہ ہدف حاصل کرلیا ہے۔ یہ بات درست نہیں، اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ سوال اہم ہے کہ معیشت اگر بہتر ہورہی ہے تو اس کے اثرات اشیائے صرف کی قیمتوں پر کیوں مرتب نہیں ہورہے؟، حکومت کی جانب سے پیش کی گئی اس شرح نمو پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ترقی بھی سلیکٹڈ حساب کتاب کا نتیجہ ہے۔ زمینی حقائق تو ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور شرح غربت میں اضافے کی بدترین سطح بتا رہے ہیں۔ اس شرح نمو کے اعلان کے بعد بھی اہم قومی ادارے اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کہہ رہے ہیں کہ پورے مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 9 فیصد رہے گی۔ کہتے ہیں کہ ملک میں بنیادی شرح سود 7 فیصد اور مہنگائی 11 فیصد ہے، مہنگائی پورے مالی سال کے دوران 9 فیصد رہ سکتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ شرح سود نہیں بلکہ رسد ہے۔ معاشی مارکیٹ کا اصول ہے کہ طلب اور رسد کا توازن بگڑ جائے تو سارے معاشی حقائق ہی بدل جاتے ہیں۔
حکومت نے جس شرح نمو کا اعلان کیا ہے یہ در اصل آئندہ مالی سال کا ہدف ہے جسے وقت سے پہلے بیان کرکے موجودہ شرح نمو کہا جارہا ہے۔ سالانہ منصوبہ بندی کمیٹی نے آئندہ مالی سال کے لیے4.8 فیصد شرح نموکی منظوری دے دی ہے، اور فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے کہ یہ ہدف حاصل ہوجائے۔ تاہم حکومت کو امید یہی ہے کہ شرح نمو 3.9 فیصد تک بڑھے گی۔ شرح نمو میں اضافے کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں900 ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ رکھا جارہا ہے۔ گزشتہ بجٹ میں یہ رقم 650 ارب تھی، اس میں بھی بیشتر رقم خرچ نہیں ہوسکی اور اداروں نے یہ رقم واپس کردی ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین ملک میں شرح نمو میں اضافے کے لیے ترقیاتی فنڈ بڑھانا چاہتے ہیں، اگر وہ کامیاب ہوگئے تو آئندہ سال ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھ جانے کا یقین ہے۔
گزشتہ مالی سال میں حکومت نے جو اضافی اخراجات کیے اُن میں کورونا کے لیے 12کھرب روپے کا پیکیج بھی شامل ہے، جس پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اعتراضات اٹھادیے ہیں کہ اس میں بد عنوانی ہوئی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں کورونا کے دوران 450 ارب روپے کے قرضے منظور کیے گئے تھے اور دو ہزار روپے کے مالیاتی پیکیج بھی دیے گئے تھے۔
بجٹ میں جن اہداف کا ذکر متوقع ہے ان میں ملکی معیشت کی بہتری کے لیے صنعت، بجلی اور فوڈ کے لیے پولٹری سمیت متعدد شعبوں میں اقدامات شامل ہیں، مگر برآمدات سے کوئی امید وابستہ نہیں کی جائے گی۔ برآمدات اگلے سال بڑھیں گی، جس کا تخمینہ26.8 ارب ڈالر ہے، ترسیلاتِ زر 31.3 ارب ڈالر رہیں گی، سی پیک کے تحت50.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، تاہم آئندہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح بھی بلند رہے گی۔ رواں مالی سال کے اختتام تک مہنگائی کی اوسط شرح 9 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی بڑھ کر11.1فیصد ہوگئی۔ کہا جارہا ہے کہ اِس سال گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے اور پنجاب کی حکومت نے گندم کی خریداری کا ہدف بھی آسانی سے حاصل کرلیا ہے، لیکن گندم کے اس موسم میں عام طور پر آٹے کی قیمتیں کم ہوجایا کرتی ہیں، وہ کیوں کم نہیں ہورہیں؟ آٹا بدستور پہلے والے نرخوں پر کیوں دستیاب ہے؟ روٹی کی قیمت دس روپے ہوگئی ہے اور نان اٹھارہ روپے کا بک رہا ہے۔ قیمت بھی بڑھ گئی اور روٹی اور نان کا وزن بھی کم ہوگیا ہے۔ گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے تو اس کا فائدہ صارف تک بھی تو پہنچنا چاہیے۔ وہ بدستور چکی کے دو پاٹوں میں پستے ہیں تو ایسی بہتری سے انہیں کیا حاصل؟اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ بجلی کی قیمتیں بڑھنے اور اشیائے خوردنی کے نرخوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی بڑھی۔ یہ تو ان عوامل کی نشاندہی ہوگئی، جن کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اسے کم کرنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ یہ شاید اسٹیٹ بینک کا کام نہیں، اور نہ کوئی ایسی پالیسی بنائی گئی ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہو کہ قیمتیں مستقبل قریب میں کم ہوجائیں گی۔ کہا جارہا ہے کہ جولائی، اگست اور ستمبر میں قیمتیں کم ہونا شروع ہوجائیں گی، لیکن بظاہر نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا، کیونکہ اس وقت بنیادی اشیائے خوراک کے جو نرخ ہیں اُن میں کمی لانے کا کوئی میکنزم سامنے نہیں لایا گیا۔کوئی ماہر معیشت حساب لگا کر بتائے کہ حکومت کی طے کردہ کم ازکم اجرت ساڑھے سترہ ہزار روپے ماہوار کمانے والا کوئی شخص اِن نرخوں پر اشیائے ضروریہ خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے؟ معیشت کی بہتری کی جو توقعات اگلے سال سے باندھی گئی ہیں اگر وہ پوری ہوتی ہیں تو بے روزگاری کم ہونی چاہیے اور قیمتوں کو معقول سطح پر آنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر اعداد و شمار کی جادوگری عام لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکے گی جو مہنگائی سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں اور خوشنما اعداد و شمار اُن کے دُکھوں کا مداوا نہیں کر سکتے۔
گزشتہ دو برسوں کی بحرانی کیفیت کو دیکھتے ہوئے اِس سال بھی کم پیداوار کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، تاہم وفاقی وزیر فخر امام نے یہ مژدہ سنایا ہے کہ اس مرتبہ گندم کی فصل 27.3 ملین ٹن ہوئی ہے جو مقررہ ہدف سے دو ملین ٹن زیادہ ہے۔ یہ اچھی خبر ہے، تاہم مزید تین ملین ٹن درآمد کرنا ہوگی پھر کہیں کام چلے گا۔

Share this: