شہبازشریف اور ”قومی مفاہمت“ کا بیانیہ

Print Friendly, PDF & Email

شہبازشریف 2023ء کے عام انتخابات سے قبل اپنے لیے، خاندان کے لیے اور اپنی جماعت کے لیے محفوظ راستے کی تلاش میں سرگرداں ہیں

شہبازشریف انقلابی سے زیادہ انتظامی لیڈر ہیں۔ انتظامی لیڈرکی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ نظریاتی بندشوں میں خود کو قید کرنے کے بجائے حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی مرتب کرتا ہے۔ ایسی سیاست پاپولر کم، مگر طاقت کے مراکز کے گرد زیادہ گھومتی ہے، یا اُن کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہبازشریف اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں اہمیت رکھتے ہیں، اور بلاوجہ ان سے ٹکرائو پیدا کرنا یا ان کے ساتھ بداعتمادی پیدا کرنا شہبازشریف کی حکمت عملی کا کبھی بھی حصہ نہیں رہا۔ شہبازشریف اپنی سیاسی سوچ اور فکر کو چھپا کر نہیں رکھتے بلکہ ہر فورم پر اور اپنی جماعت میں اس مؤقف کو برملا پیش کرتے رہے ہیں کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بلاوجہ ٹکرائو پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ اور نون لیگ کے درمیان پُل کا کردار شہبازشریف اور چودھری نثار ہی ادا کیا کرتے تھے۔
جو لوگ مسلم لیگ (ن) کے مجموعی مزاج اور سیاسی پس منظر کو سمجھتے ہیں وہ یہ اعتراف کریں گے کہ مسلم لیگ(ن) کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ مخالف یا مزاحمت کی حامل جماعت نہیں رہی۔ اس جماعت کا مجموعی کردار اسٹیبلشمنٹ کی حمایت اورمدد کے ساتھ اقتدار کا راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔ جو لوگ نوازشریف یا مریم نواز کو مزاحمت کا حامل اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے خلاف سمجھتے ہیں وہ محض جذباتیت کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں۔ نوازشریف نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہی سیاست کی ہے اور اب بھی کرنا چاہتے ہیں، شرط یہ ہے کہ اس مفاہمت میں ان کا کردار غالب ہو، اور یہ راستہ ایوانِ اقتدار کی طرف جاتا ہو۔ اسی بنیاد پر نوازشریف اور مریم نواز خود بھی ملکی و غیر ملکی دوستوں کی مدد سے آج بھی پسِ پردہ قوتوں سے رابطے میں ہیں۔
شہبازشریف موجودہ حالات میں سیاسی طور پر زیادہ سرگرم اور پُرجوش نظر آرہے ہیں۔ وہ سیاسی، ابلاغی، سفارتی سمیت پسِ پردہ قوتوں کے محاذ پر نہ صرف اپنا سیاسی بیانیہ کھل کر پیش کررہے ہیں بلکہ خود کو ایک متبادل قیادت کے طور پر بھی پیش کررہے ہیں۔ بہت عرصے بعد حال ہی میں انہوں نے ایک ٹی وی کو انٹرویو دیا، اور خود قوم کے سامنے ’’قومی مفاہمت‘‘ کا ایجنڈا پیش کیا۔ اُن کے بقول اگر اس قومی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انہیں اپنے بھائی نوازشریف کو راضی کرنے کے لیے اُن کے پیر بھی پکڑنے پڑے تو وہ اس سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کے بقول یہ تاثر غلط ہے کہ نوازشریف قومی ایجنڈے سے انحراف کی پالیسی اختیار کریں گے۔ ان کے بقول شفاف انتخابات، آئین کی حکمرانی، اداروںکا اپنے دائرہ کار میں کام کرنا اور تمام فریقین کے ساتھ مشاورت پر مبنی روڈ میپ تیار ہو تو وہ اور ان کے قائد نوازشریف اس قومی مفاہمت میں سب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
بنیادی طور پر شہبازشریف 2023ء کے عام انتخابات سے قبل اپنے لیے، خاندان کے لیے اور اپنی جماعت کے لیے محفوظ راستے کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول اگر ٹکرائو کی پالیسی نوازشریف اور مریم نواز کی طرف سے بدستور جاری رہتی ہے تو اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کو اگلے عام انتخابات میں بھی اقتدار کا راستہ نہیں مل سکے گا۔ مسئلہ محض اقتدار کے راستے کا ہی نہیں بلکہ شریف خاندان کو لگتا ہے کہ ان کے خلاف جو مقدمات چل رہے ہیں اس میں بھی کوئی بڑا ریلیف نہیں مل سکے گا۔ اس سارے کھیل میں شہبازشریف کو لگتا ہے کہ مشکل میں ان کی جماعت نہیں ہے،کیونکہ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کی مجموعی تعداد اس وقت مفاہمت کی سیاست چاہتی ہے۔ لیکن شہبازشریف کا مسئلہ نوازشریف اور مریم نواز ہیں۔ شہبازشریف کو لگتا ہے کہ نوازشریف کو سیاسی طور پر منوانا آسان جبکہ مریم نواز کو منانا مشکل ہے۔ شہبازشریف کی لندن یاترا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی تاکہ وہ اپنے بھائی اور پارٹی قائد نوازشریف کو اپنی حمایت میں سیاسی طور پر رام کرسکیں۔
اب کیا نوازشریف اور مریم نواز راضی ہوسکیں گے؟ اورکیا وہ خود کو پچھلی صفوں میں رکھ کر قیادت شہبازشریف کو دے دیں گے؟ ایسا لگتا نہیں ہے، کیونکہ اس صورت میںکم ازکم مریم نواز کی سیاست کو بڑا نقصان ہوگا، اور پارٹی میں برتری شہبازشریف یا حمزہ شہباز کو مل جائے گی جو یقیناً مریم کے لیے بڑا سیاسی دھچکہ ہوگا۔ بہت سے سیاسی تجزیہ نگار یہ تھیوری پیش کررہے ہیں کہ مستقبل کے سیاسی یا اقتدار کے منظرنامے میں اسٹیبلشمنٹ اور شہبازشریف کے درمیان معاملات طے ہوگئے ہیں۔ اسی بنیاد پر شہبازشریف سرگرم ہوئے ہیں اور خود کو متبادل قیادت کے طور پر بھی پیش کررہے ہیں۔ حالانکہ مسئلہ معاملات کے طے ہونے کا نہیں، بلکہ خود شہبازشریف اس بیانیے کو سیاسی حلقوں سمیت اپنی پارٹی میں اجاگر کررہے ہیں تاکہ پارٹی متحد بھی رہ سکے اور لوگ نوازشریف کے مقابلے میں اُن کی طرف دیکھیں۔ فی الحال لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور شہبازشریف کے درمیان معاملات طے ہونے کی باتیں سیاسی کہانی کے سوا کچھ نہیں۔ ابھی تو شہبازشریف ایک امتحان گاہ میں ہیں، اور انہیں ثابت کرنا ہے کہ وہی مسلم لیگ (ن) میں اصل فیصلہ ساز ہیں۔ شہبازشریف، نوازشریف سے بغاوت نہیں کریں گے بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ نوازشریف ان کی حمایت کریں تاکہ پارٹی اس معاملے پر تقسیم نہ ہو۔ لیکن اگر معاملات حل نہیں ہوتے تو پھر کیا وہ کوئی بڑا فیصلہ کریں گے؟ اس کا امکان محدود نظر آتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) اس وقت جس بحران سے گزر رہی ہے، اُس سے یقینی طور پر مفاہمتی بیانیے کی مدد سے شہبازشریف بچا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ان کو یقینی طور پر نوازشریف کی مکمل حمایت کی بھی ضرورت ہے، اور انہیں سیاسی فیصلوں میں فری ہینڈ بھی ملنا چاہیے۔ یہاں اصل میں نوازشریف کے سیاسی تدبر کا بھی امتحان ہے کہ وہ پارٹی کے بگاڑ کو ختم چاہتے ہیں یا مریم کے سیاسی راستے خراب کرنا چاہتے ہیں؟ شہبازشریف اگر مسلم لیگ (ن) اوربالخصوص نوازشریف سے معاملات کو مفاہمت کی طرف لے جانے میں کامیاب نہیں ہوتے اور ان کو حمایت نہیں ملتی تو پھر ان کے پاس بھی پارٹی کے بحران سے نمٹنے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔کیونکہ ایک بات تو واضح نظر آتی ہے کہ فوری طور پر اقتدار کی سیاست میں ہمیں نوازشریف یا مریم نواز کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، اور ان کو اس کھیل میں کسی اور کی حمایت کرنا ہوگی۔ شہبازشریف کا مسئلہ محض مریم نواز نہیں بلکہ پارٹی کے اندر مریم نواز کا وہ گروپ بھی ہے جو ہر صورت میں شہبازشریف کے مقابلے میں شاہد خاقان عباسی کو سامنے لانا چاہتا ہے۔ اس لیے شہبازشریف کو محض خارجی سطح پر ہی نہیں بلکہ پارٹی کے اندر سے مریم اور اُن کی سیاسی لابی سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ شہبازشریف کے پاس پارٹی کی سیاسی حکمت عملی میں مفاہمتی سیاسی کارڈ کے آپشن کو فوری طور پر نتیجہ خیز بنانا ہوگا۔کیونکہ ایسا نہیں ہوگا تو ان کی پوزیشن بھی غیر مستحکم ہوگی، اور وہ جو نئے انتخابات سے قبل اپنی پارٹی، ذات اورخاندان کے لیے محفوظ راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں اُس کی منزل مزید دور بھی ہوسکتی ہے۔

Share this: