پشاور: لبیک القدس ملین مارچ

Print Friendly, PDF & Email

جماعت اسلامی کے زیراہتمام مارچ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق، پروفیسر ابراہیم خان، سینیٹر مشتاق احمد خان و دیگر کا خطاب

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر سراج الحق نے پشاور مین جی ٹی روڈ پر اہلِ فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقد کیے جانے والے تاریخی لبیک القدس ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’وقت آگیا ہے کہ مسلم حکمران مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے قابلِ عمل پلان دیں۔ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ زبانی جمع خرچ اور قراردادوں سے حل نہیں ہوگا۔ مظلوم فلسطینیوں اور کشمیریوں پر دہائیوں سے ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، اب انہیں بھارت اور اسرائیل کے مظالم سے آزاد کرانے کا وقت آگیا ہے، پاکستانی خون کا آخری قطرہ تک مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے بہانے کو بے قرار ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی دنیا کے حکمران غیرتِ ایمانی کا مظاہرہ کریں اور اپنے عوام کی آواز سنیں۔‘‘
سراج الحق نے ’’لبیک القدس‘‘ کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں کہا: ’’امریکہ اور عالمی طاقتوں کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں، امریکہ کو تو نہتے افغانیوں نے جذبۂ حریت سے شکست دے دی ہے۔ پاکستان، مصر، انڈونیشیا، ملائشیا، ترکی، ایران اور سعودی عرب کی مشترکہ فوج 74 لاکھ سے زائد ہے، ان ممالک کے پاس 1300 جنگی طیارے ہیں، پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ اسرائیل کی0 8 لاکھ آبادی کو اردن، شام اور مصر کے 11کروڑ سے زائد مسلمانوں نے گھیرا ہوا ہے، لیکن مسلمان حکمرانوں کی بے حسی اور بے غیرتی کی وجہ سے اسرائیل روزانہ نہتے اور معصوم فلسطینیوں کونشانہ بناکر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا منہ چڑاتا ہے۔‘‘
مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان نے افغانستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پاکستان کی سرزمین کا ایک ٹکڑا بھی امریکیوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا، اگر ایسا ہوا تو ملک کے کروڑوں عوام کا ہاتھ ہوگا اور پاکستان کے حکمرانوں کا گریبان۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ پرویزمشرف دور سے لے کر اب تک پاکستانی سرزمین کو امریکہ کے حوالے کرنے کے جتنے معاہدے ہوئے ہیں وہ پارلیمنٹ میں لائے جائیں۔
سراج الحق نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو مشورہ دیا کہ اگر وہ چاہتی ہے کہ عوام اس پر تنقید نہ کریں تو اسے بھی اپنی آئینی ذمے داری سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج ایک انتہائی پیشہ ور اور بہادر فوج ہے، مگر بدقسمتی سے اس نے سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک میں حکومتیں بنانے اور انہیں گھر بھیجنے کا کام بھی سنبھالا ہوا ہے، اس وقت بھی اسٹیبلشمنٹ نااہل حکمرانوں کو وفاق اور صوبوں میں چلا رہی ہے۔ پچھلی حکومتیں بھی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے بنیں اور رخصت ہوئیں۔ ملک میں جب تک جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہوں گے اور الیکشن کمیشن آزاد نہیں ہوگا تب تک پاکستان کی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کو تمام فوکس ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر کرنا ہوگا اور حکومت چلانے کا کام سیاست دانوں پر چھوڑنا ہوگا، عوام خود سیاست دانوں کا احتساب کریں گے۔
امیر جماعت نے پی ٹی آئی کی حکومت کی نااہلی اور عوام اور ملک کے لیے مسائل کا انبار کھڑا کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیٹ اَپ نے ریاست مدینہ کا وعدہ کرکے قوم کے ساتھ سب سے بڑا دھوکا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ ان کا گرین پاسپورٹ کو عزت دلوانے کا وعدہ کہاں گیا؟ حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب تک جو پاکستان کا دیرینہ دوست ہے، ہماری ویکسین کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور سعودیہ جانے کے منتظر ہزاروں ورکرز ویکسین کی دستیابی کے لیے دھکے کھارہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے لاکھوں لوگوں کو گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے کی عدم تکمیل کا بھی سوال کیا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ مافیاز وزیراعظم کے اردگرد بیٹھے ہیں اور عوام کو اس بات کا بخوبی علم ہے۔ ملک میں آٹا اسکینڈل آیا تو حکومتی لوگ ملوث پائے گئے۔ چینی اور ادویہ کے اسکینڈل آئے تو وزیراعظم کے دوستوں کا نام آیا۔ تازہ ترین راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل آیا تو بھی بنی گالہ میں وزیراعظم کے ساتھ رہنے والوں کا نام آرہا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ جب ملک کے وزیراعظم مافیاز کی بات کرتے ہیں تو وہ کن لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں! انہوں نے کہا کہ آٹا، چینی، گیس، بجلی، گھی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہے مگر بنی گالہ میں بیٹھے افراد کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے، اور ان پر عوام کی دن بدن ابتر ہوتی صورت حال کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل صرف اور صرف اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے، اور یہ کام جماعت اسلامی کرے گی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے قائدین اور ورکرز کو ہدایت کی کہ وہ قرآن و سنت کا پیغام گھر گھر پہنچائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے اپنی روش نہ بدلی اور عوام کے دیرینہ مسائل کو حل نہ کیا تو جماعت اسلامی لاکھوں لوگوں کے ہمراہ اسلام آباد میں پڑائو ڈالے گی۔
سراج الحق نے پشاور میں مارچ کے لاکھوں شرکاء سے وعدہ لیا کہ وہ اسلام آباد جانے کے لیے تیار رہیں گے۔ امیرجماعت نے لبیک الاقصیٰ اور فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حق میں خود نعرے لگوائے اور ان کے جذبۂ حریت کو سلام پیش کیا۔
مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سابق سینیٹر اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر ابراہیم خان نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور مسلمانوں کو قرآن وسنت سے اپنا رشتہ جوڑنے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے لازم ہے کہ ملک میں قرآن وسنت کا نظام رائج ہو۔ جماعت اسلامی خیبرپختون خوا کے امیر سینیٹر مشتاق احمد خان نے اپنی تقریر میں صہیونی جارحیت کی پُرزور مذمت کی اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو فیصلہ کن کردار ادا کرنے کے لیے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اپنے لہو سے آزادی کی تاریخ رقم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اس ملین مارچ میں شدید گرمی کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں اہلِ خیبرپختون خوا کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ اس غیرت مند صوبے کے عوام کے دل اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
القدس ملین مارچ سے دیگر مقررین کے علاوہ جماعت اسلامی خیبر پختون خوا کے نائب امیر اور خیبرپختون خوا کے چیف خطیب مولانا محمد اسماعیل، جماعت اسلامی خیبرپختون خوا کے سیکرٹری جنرل عبدالواسع، سابق سینئر صوبائی وزیر اور جماعت اسلامی خیبرپختون خوا کے نائب امیر عنایت اللہ خان، ضلع پشاور کے امیر عتیق الرحمٰن، جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد اصغر، قیصر شریف، رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی، خارجہ امور کے نگران آصف لقمان قاضی، جے آئی یوتھ کے مرکزی صدر زبیر احمد گوندل، جے آئی یوتھ خیبرپختون خوا کے صدر صدیق الرحمٰن پراچہ نے بھی خطاب کیا۔
واضح رہے کہ پشاور میں ہونے والا لبیک القدس ملین مارچ اپنی نوعیت کا تاریخی مارچ تھا جس میں جماعت کے کارکنان کے علاوہ معاشرے کے عام افراد نے بھی نہ صرف بڑی تعداد میں شرکت کی بلکہ وہ اسٹیج سے بلند ہونے والے نعروں کا بھی انتہائی جوش وجذبے سے جواب دیتے رہے۔ میڈیا کے اکثر نمائندگان یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ اس ملین مارچ میں لوگوں کا جذبہ اور حاضری دیگر جماعتوں کے احتجاج کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ یہ امرقابلِ ذکر ہے کہ مارچ میں نوجوانوں اور دیگر عام افراد کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی، جن میں چھوٹے چھوٹے بچوں نے اپنے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے، جب کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے فلسطینی پرچم سے مشابہہ مفلر نہ صرف اپنی گردنوں میں لٹکا رکھے تھے بلکہ بعض نے انہیں پگڑیوں کی طرح اپنے سروں پر بھی باندھ رکھا تھا۔ ملین مارچ کے شرکاء چلچلاتی دھوپ میں دوردراز کا سفر طے کرکے شدید گرمی اور حبس میں جی ٹی روڈ پر بعد دوپہر ہی پہنچنا شروع ہوگئے تھے، جب کہ میڈیا کوریج کے لیے کنٹینروں پر مشتمل الگ اسٹیج کے علاوہ قائدین کے لیے ساٹھ فٹ لمبا اورچوبیس فٹ چوڑا اسٹیج بنایا گیا تھا، جب کہ اسٹیج اور جلسہ گاہ کی سیکورٹی کی ذمہ داری جماعت کے کارکنان، جے آئی یوتھ اور حزب المجاہدین کے جاں نثاروں نے سنبھال رکھی تھی۔
یاد رہے کہ ملک بھر کی طرح پشاور میں بھی اہل ِفلسطین کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر جناب سراج الحق کی اپیل پر کیا گیا، جب کہ اس سے پہلے صرف جمعیت(ف) نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی مارچ کیا تھا جس سے دیگر کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی خطاب کیا تھا۔ قابلِ تعجب اور حیران کن بلکہ قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ اس ضمن میں نہ تو خیبرپختون خوا میں برسراقتدار پی ٹی آئی کو اہلِ فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے لیے گھروں سے نکلنے کی توفیق نصیب ہوئی ہے، اور نہ ہی مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، اے این پی اور قومی وطن پارٹی جیسی صوبے کی بڑی جماعتیں کہلائی جانے والی جماعتوں کو مظلوم ومقہور فلسطینیوں کے حق اور اسرائیل کے ظلم و سفاکی کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، جس سے ان جماعتوں بالخصوص ان کی قیادتوںکی بے حسی اور طوطا چشمی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

Share this: