مدافعتی ٹیکے معروضی جائزہ

Print Friendly, PDF & Email

مدافعتی ٹیکے ایلوپیتھی نظام علاج کی ایک غیرمعمولی کام یابی مانے جاتے ہیں، اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مدافعتی ٹیکوں کی مدد سے کئی جان لیوا بیماریوں کو یا تو جڑ سے ختم کیا جاچکا ہے یا ان سے ہونے والی اموات میں خاطر خواہ کمی آئی ہے یا ان سے ہونے والے نقصانات کو بڑی حد تک کم کیا جاچکا ہے۔
مدافعتی ٹیکے ابتدا ہی سے تنقید کا نشانہ بھی بنے ہیں۔ اور یہ بات کووڈ ۱۹ کے ٹیکوں کے سلسلے میں بھی پیش آرہی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مدافعتی ٹیکوں کا علم (vaccine immunology) سائنس کی اہم شاخ کے طور پر معروف و مسلم ہے۔ اس کی اصولی بنیادیں صحیح ہیں اور زمینی سطح پر اس سائنس کے ذریعے بیماریوں کی روک تھام ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
عام طور پر مدافعتی ٹیکوں کا موجد برطانوی معالج ایڈورڈ جینز کو مانا جاتا ہے، لیکن یہ بات صرف جزوی طور پر درست ہے، کیوں کہ ایڈورڈ جینز نے مدافعتی ٹیکوں میں (variolation/inoculation) کے طریقہ کو منضبط کیا تھا۔ اس سے قبل چیچک کی بیماری سے بچنے کے لیے خلافت عثمانیہ کے مرکز استنبول میں چیچک کے مریضوں سے مواد یا خون ایک دھار دار آلے (جسے آج کل scalpel کہا جاتا ہے) سے لے کر صحت مند افراد میں داخل کیا جاتا تھا۔ یہ 1714 عیسوی کی بات ہے۔
چیچک (smallpox) انسانی تاریخ کی بھیانک بیماریوں کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اور یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں اس نے انسانوں کی بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔
چناں چہ واضح ہوا کہ اگر چہ چیچک کے مریضوں سے صحت مند افراد میں variolation کو ایڈورڈ جینز نے منضبط کیا تاہم اس کی داغ بیل اس سے قبل استنبول میں ڈالی جاچکی تھی اور ہندوستان اور چین میں بھی اس کا چلن تھا۔
مدافعتی ٹیکوں کی اس ابتدائی شکل میں کئی قباحتیں تھیں۔ مثلاً جب چیچک کے مریض کے خون یا مواد کو صحت مند افراد میں ڈالا جاتا تھا تب اس مریض میں موجود دیگر بیماریوں کے جراثیم صحت مند افرادمیں پہنچ جاتے تھے، اور وہ صحت مند فرد چیچک سے تو بچ جاتا لیکن سوزاک اور دیگر بیماریوں کا شکار ہوجاتا تھا، لیکن ان کا تناسب بہت کم ہوتا تھا۔
یہ نکتہ مدافعتی ٹیکوں اور اس سے جڑی تنقیدوں اور سازشی نظریات کو سمجھنے میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ یہیں سے جدید دنیا میں ٹیکہ مخالف (anti vaxxer) افراد اور تنظیموں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس گروہ کے مطابق مدافعتی ٹیکے نقصان دہ ہیں۔ ان سے دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں اور بچوں کا مدافعتی نظام کم زور ہوتا ہے۔ مختصراً یہ کہ ٹیکہ کاری نہیں ہونی چاہیے۔
مدافعتی ٹیکوں کے خلاف آوازیں/تحریکیں اتنی ہی پرانی ہیں جتنے کہ خود مدافعتی ٹیکے۔ مثلاً کینیڈا کے شہر مونٹریال میں 1885 میں چیچک کی وبا پھیل گئی۔ اس وقت تک چیچک کے ٹیکے دریافت ہوچکے تھے، اور اب انھیں استعمال کرنا بھی محفوظ تھا، یعنی ان کو لگانے سے سوزاک اور دیگر بیماریوں کے پھیلنے کے امکان نہ کے برابر تھے۔ لیکن الیگزنڈر روس نامی ڈاکٹر نے مونٹریال میں حکومت کے ذریعے ٹیکہ کاری کی مہم کی زبردست مخالفت کی اور اس کے لیے پوری تحریک کھڑی کردی، کیوں کہ حکومت نے ہر فرد کے لیے ٹیکہ لگوانا لازمی قرار دیا تھا۔ اس وقت اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہزاروں افراد کی موت کے بعد اس تحریک کے بانی ڈاکٹر روس جب مونٹریال سے انٹاریو پہنچے تو سپاہیوں نے پروٹوکول کے تحت ان کے بازو چیک کیے، تو اس پر ٹیکے کے نشان پائے گئے تھے!
مدافعتی ٹیکوں کے خلاف تحریکات اور سازشی نظریات کے ارتقا کی تاریخ بہت دل چسپ ہے۔ اور اس میں ایک خاص ترتیب اور قیاسیت (predictability) ہے۔ اس کی منطق، اسٹریٹجی، طریقۂ کار، تمام تر کم و بیش وہی ہیں جو پہلی بار چیچک کے سلسلے میں استعمال ہوئے تھے۔ وہی بعد میں پولیو کے لیے، پھر ڈی ٹی پی ٹیکے کے لیے اور اب کووڈ ۱۹ کے لیے بھی، تمام اسٹریٹجی، منطق اور دلائل استعمال کیے جارہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
۱۔ ’’مدافعتی ٹیکے غیرضروری ہیں کیوں کہ بیماری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔‘‘
1885 میں ڈاکٹر روس اور ان کے ساتھیوں نے چیچک کی وبا کو غیرمعقول خوف زدگی (senseless panic) سے تعبیر کیا تھاجب کہ مونٹریال کی 2فیصد آبادی اس کی شکار ہوچکی تھی اور کیوبک میں دس ہزار سے زائد معاملات درج کیے جاچکے تھے۔ مورخین تو یہ بھی مانتے ہیں کہ معاملات اس سے کئی گنا زیادہ تھے۔ چناں چہ تلبیسِ معلومات (disinformation) 1885 میں بھی مدافعتی ٹیکوں کے مخالفین کا اہم ہتھیار تھی اور آج 2021 میں بھی ہے۔ کووڈ۱۹ کی وبا کو آبادی کے تناسب میں پیش کرکے یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کے لیے علاج کی کیا ضرورت ہے، یا ٹیکے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ ایک فلو جیسی بیماری ہے۔ پوری دنیا کی آبادی کے تناسب میں کتنے لوگ مر رہے ہیں؟ بہت کم! ایکسیڈنٹ سے اس سے زیادہ لوگ مر جاتے ہیں یا متعدی بیماری جیسے ٹی بی سے اس سے زیادہ لوگ مر جاتے ہیں، وغیرہ۔ حالاں کہ یہ ساری بودی دلیلیں ہیں اور ان کا کافی و شافی جواب دیا جاچکا ہے۔ مختصراً یہ کہ اس قبیل کی دلیلوں کو اگر مان لیا جائے تو آبادی کے تناسب میں کتنی ماب لنچنگ ہوتی ہے۔ آبادی کے تناسب میں کتنے عصمت دری کے واقعات ہوتے ہیں، آبادی کے تناسب میں دلتوں اور پچھڑوں پر کتنے مظالم ہوتے ہیں۔ اگر ان سب کی روک تھام یا دیگر الفاظ میں ”علاج“کے لیے قانون بنائے جاتے ہیں، اقدامات کیے جاتے ہیں، مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں تو کووڈ ۱۹ وبا کے لیے کیوں نہیں۔ بیماریاں دونوں ہیں۔ علاج دونوں کا کرنا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ مدافعتی ٹیکوں کے خلاف تحریک میں پہلا ہتھیار تلبیس معلومات اور خطرے میں تخفیف کرکے دکھانا ہوتا ہے۔
۲۔ ’’مدافعتی ٹیکے بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔‘‘
1885ءمیں مونٹریال میں ڈاکٹر روس نے کہا تھا کہ چیچک کے ٹیکوں سے بہت ساری بیماریاں ہوتی ہیں، جیسے سوزاک، تپ دق وغیرہ۔ ہر چند کہ اس میں جزوی طور پر صداقت تھی، کیوں کہ کم ہی سہی لیکن چیچک کے ٹیکوں کی تیاری میں جن مریضوں سے خون یا مواد حاصل کیا جاتا تھا ان میں بعض کو یہ بیماریاں رہی ہوں گی جن کے جراثیم صحت مند افراد میں ٹیکہ کاری کے ذریعے داخل ہو گئے ہوں گے۔ البتہ ان کا تناسب بہت ہی کم تھا جسے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں وہ لاکھوں افراد جو چیچک کی ٹیکہ کاری کی وجہ سے بچ گئے ان کا کوئی تذکرہ نہیں۔
2021 میں کووڈ ۱۹ کے ٹیکوں کے سلسلے میں بھی یہی بات درست ہے۔ بڑے پیمانے پر یورپ، امریکہ اور ہندوستان و چین میں ایسے ویڈیو منظر عام پر آئے جن میں کووڈ ۱۹ کے مدافعتی ٹیکوں سے خون جم جانے اور اموات کاتذکرہ ہے۔ یقیناً بعض معاملات میں ایسا ہوا ہے، لیکن بعد میں تحقیقات کے ذریعے پتا چلا کہ یہ تعداد 40 لاکھ میں ایک ہے۔
واضح ہو کہ یہ تحقیقات غیر جانب دار محققین کی طرف سے آئی ہیں۔ بالکل اسی نہج میں یہ کہا گیا کہ کووڈ ۱۹ کے ٹیکے ہی سے کووڈ ۱۹ کی بیماری پیدا ہورہی ہے۔ تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ مدافعتی ٹیکہ بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اور اس ضمن میں دو توجیہات پیش کی گئی ہیں۔
(۱ ) مدافعتی ٹیکہ لگوانے کے بعد انسدادی ضد جسمیہ (antibodies) جو وائرس سے لڑتی ہیں، خون میں ان کا ظہور دوسری خوراک لینے کے 8سے 9دنوں بعد ہوتا ہے۔ یا بعض تحقیقات کے مطابق ان کی اتنی مقدار کہ وہ وائرس کو شکست دے سکیں 8-9 دنوں میں بنتی ہیں۔ چناں چہ کووڈ ۱۹ کے ٹیکہ کی دوسری خوراک لینے کے8-9 دنوں تک کے عرصے کے دوران اگر ٹیکہ لگوانے والا شخص کسی وائرس کےحامل (carrier) سے ملتا ہے تو یہ ممکن ہے کہ اسے کووڈ ۱۹ ہوجائے۔
(۲) کووڈ ۱۹ کے ٹیکوں کی اثرپذیری صد فی صد نہیں ہوتی۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ بعض افراد جن کو ٹیکہ لگا ہو وہ متاثر (infect) ہوجائیں۔
۳۔ ’’مدافعتی ٹیکہ کاری (vaccination) پیسہ کمانے کی ایک سازش ہے۔‘‘
روس نے اپنے پمفلٹ میں لکھا تھا کہ میڈیا اور ڈاکٹروں نے مل کر پیسہ کمانے کے لیے چیچک اور اس کی ٹیکہ کاری کو آلۂ کار بنایا ہے۔ 2021 میں کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری کے سلسلے میں بعینہ یہی بات دہرائی جارہی ہے۔ بل گیٹس کی سرمایہ کاری کی بات ہو یا ٹیکہ کاری کو لے کر ان کے ویڈیو کو بنیاد بنا کر ٹیکہ کاری کی سازشی تھیوریاں گڑھنے کی بات ہو۔ طریقہ کار اور اسٹریٹجی وہی ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ اس وائرس کو تخلیق کیا گیا ہے تاکہ ٹیکہ بنایا جاسکے اور بڑی بڑِ دوا ساز کمپنیاں اس سے زبردست پیسہ بناسکیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ ٹیکہ ایجاد کرنا، ٹیکہ کاری کے ذریعے منفعت حاصل کرنا یہ ایک پہلو ہے اور وائرس کا حقیقی ہونا اور بیماریاں پیدا کرنا دوسرا پہلو ہے۔ منفعت زدہ ذہنیت بہرحال اپنا مطلب ڈھونڈ لیتی ہے لیکن اس سے وائرس اور بیماری کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔
۴۔ نیم حقیقی ماہرین: مدافعتی ٹیکہ کاری کے خلاف تحریکات اور افراد دونوں نیم حقیقی ماہرین کا استعمال کرتے ہیں۔ ماضی میں یہ زیادہ ہوتا تھا۔ حالیہ میں اس میں ارتقا ہوا ہے۔ اب حقیقی ماہرین جن کی انتہائی قلیل تعداد ہوتی ہے ان کے بعض نیم مخالف رجحانات کو مکمل مخالف رجحان کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال گیرٹ بوخے (Geert Vanden Bocche) کی ہے۔ ان کا تفصیلی ویڈیو کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری کے متعلق ہے۔ اس میں وہ محض کووڈ ۱۹ کے ٹیکہ کہ سلسلے میں یہ عدم اطمینان ظاہر کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ ٹیکہ کاری فطری مدافعتی نظام سے کم تر درجے کی مزاحمت پید اکرے گی۔ لیکن ٹیکہ مخالف لابی نے ان کے اس بیان کو اس طرح پیش کیا گویا وہ ٹیکہ کاری کی سائنس ہی کے خلاف ہیں اور ہر بیماری کے ٹیکے کے خلاف ہیں۔ حالاں کہ ان کے تمام اشکالات کا جواب دیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ تلبیس اطلاعات کا استعمال کرکے کسی بھی ماہر کے جھوٹے بیانات اور ڈیپ فیک ویڈیو نانا ٹیکہ مخالف لابی کا عمومی حربہ ہیں۔
یہ تو ہوئی حقیقی ماہرین کے بیانات کی بات۔ نیم حقیقی اور جھوٹے اور گڑھے ہوئے ماہرین کی ایک بڑی تعداد بھی ہوتی ہے جو بیماری یا ٹیکہ کاری کے خلاف اپنے ’’علمی دلائل‘‘ دیتی نظر آتی ہے۔ ہندوستان میں کووڈ ۱۹ کے تناظر میں ڈاکٹر بسوروپ رائے چودھری اور ڈاکٹر کوٹھاری سرفہرست ہیں۔ (دونوں کے متعلق انٹرنیٹ پر خاطرخواہ مواد موجود ہے۔ ڈاکٹر چودھری الائنس انٹرنیشنل یونیورسٹی ، زامبیا سے “ذیابطیس سائنس” سے آنریری پی ایچ ڈی ہیں (ایک ایسی یونیورسٹی جس کا کوئی کیمپس نہیں اور جو آن لائن ڈگریاں دیتی ہے۔) دوسرے ڈاکٹر صاحب کا لائسنس انڈین میڈیکل کونسل نے ایک بار رد کردیا تھا۔
مدافعتی ٹیکہ کاری کے رد میں جو تحریکات اور افراد اٹھے ہیں ان کے طریقہ کار، اسٹریٹجی اور حربوں کے سلسلے میں اوپر بیان کردہ نکات کے علاوہ بھی بہت سارے نکات ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس پوری تحریک کے ارتقا میں کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جنھوں نے مدافعتی ٹیکہ کاری کے رد کے لیے علمی و عملی غذا بہم پہنچائی ہے۔
ویکسین امیونولوجی اور ویکسین ڈیولپمنٹ کی دو سو سالہ تاریخ کا سرسری مطالعہ بتاتا ہے کہ ویکسین کی تیاری اور اس کے استعمال میں بعض مسائل بھی آئے ہیں، جن کی وجہ سے مدافعتی ٹیکہ کاری میں رکاوٹ آئی ہے اور عوام کا بھروسا بھی متاثر ہوا ہے۔ اسی بنا پر ٹیکہ لگوانے میں ہچکچاہٹ (hesitancy) کا وجود ہوا۔ جس میں اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ وہ کیا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور مذہبی عوامل ہوتے ہیں جو مدافعتی ٹیکہ کاری کے عمل میں ہچکچاہٹ پیدا کرتے ہیں۔
’’مدافعتی ٹیکہ ہی بیماری پیدا کرتا ہے‘‘ جیسے بیانیوں کو تقویت دینے والا سب سے اہم واقعہ جو مدافعتی ٹیکہ کاری کا سب سے سیاہ باب مانا جاتا ہے cutter incident جس میں پولیو مدافعتی ٹیکہ کی تیاری میں کو زبردست دھچکا لگا ۔
ہوا یہ کہ پولیو کا ٹیکہ پولیو کے وائرس میں سے بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت کو ختم کر کے بنایا جاتا ہے۔ اسے alternation اور بعض صورتوں میں deactivation کہا جاتا ہے۔ کیلی فورنیا میں واقع کٹر لیباریٹریز پولیو کا مدافعتی ٹیکہ بناتی تھی۔ لیکن پولیو مدافعتی ٹیکے کے اس بیچ میں وائرس کو inactivate یا غیر فعال کرنے کا کام صحیح طور سے انجام نہیں دیا گیا اور بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے وائرس کو بحیثیت ٹیکہ بچوں کو لگا دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں چار ہزار بچے پولیو کا شکار ہوگئے، تاہم مکمل پولیو 200بچوں کو ہوا اور 10بچوں کی اموات ہوئیں۔ پولیو مدافعتی ٹیکے کی تیاری میں کوالٹی کنٹرول کے ضمن میں زبردست غیر ارادی بے احتیاطی ہوئی۔
واضح ہو کہ یہ واقعہ لاپروائی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا۔ پولیو کے ٹیکے میں سائنس اور اصولی اعتبار سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن ظاہر ہے عوام میں خالص سائنس کو قبول عام دلوانا مشکل ہوتا ہے اس لیے عوام میں یہ پیغام گیا کہ پولیو کے ٹیکے ہی سے پولیو ہوتا ہے۔
جن بیماریوں کو ٹیکہ کاری سے جوڑ کر دیکھا گیا، بڑی تحقیقات میں وہ تعلق (correlation) ثابت نہیں ہوا۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ سائنسی طریقہ کار میں ابتائی تحقیقات میں بھی اگر حفاظتی اعتبار سے کوئی ذرا سا بھی شائبہ نظر آئے تو اسے فوراً نوٹس میں لیا جاتا ہے تاکہ بڑے نقصان سے بچاجاسکے۔ لیکن عوام میں انھی چھوٹی تحقیق یا حفاظتی طور پر اٹھائے گئے اقدامات کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگتا ہے۔۔ عام طور پر ٹیکہ کاری اور براہِ راست بیماری پیدا ہونے کا پہلو کسی بھی ٹیکے میں نہیں ہوتا، بلکہ جن بیماریوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ٹیکہ کاری کے نتیجے میں ان کے ہونے کے امکان کے بڑھنے کی بات کی گئی ہے یعنی بیماری تو اور بھی بہت سے وجوہ سے ہوگی، ٹیکہ کاری شاید ان کے ہونے کے امکان میں اضافہ کردے۔ لیکن بڑی تحقیقات میں یہ مفروضہ بھی غلط ثابت ہوگیا۔
تقریباً ۱۴ بیماریاں ایسی ہیں جو یا تو مکمل طور پر ختم ہوچکی ہیں یا ان سے متاثرین کی تعداد کم ہوئی ہے۔
چناں چہ یہ بات ثابت ہوئی کہ ٹیکہ کاری اور اس سے جڑی ہچکچاہٹ (hesitancy) اور تلبیسِ اطلاعات، غلط اطلاعات اور سازشی تھیوریاں دراصل ایک خاص ڈاٹا نالج کے خلا (data knowledge vacuum) میں پروان چڑھتی ہیں۔ اور اس کا ایک اہم ترین سبب عوام میں مکمل، صحیح اور حقیقی سائنسی معلومات کی عدم ترسیل ہے۔
جب ابتدائی تحقیق کسی ٹیکہ کاری کو کسی بیماری سے جوڑتی ہے تو عوام میں یہ پیغام جاتا ہے کہ ٹیکہ محفوظ نہیں ہے۔ لیکن جب بڑی تحقیقات (یعنی بڑے سیمپل سائز) کے ساتھ یہ واضح کرتی ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ٹیکہ محفوظ ہے تو عوام تک یہ پیغام اتنے زبردست انداز میں نہیں پہنچ پاتا۔ مزید پیچیدگیاں سازشی نظریات کے حاملین اور ماننے والے پیدا کردیتے ہیں۔
اسی طرح جب کمپنی احتیاطی تدبیر کے طور پر اور حفاظتی نقطہ نظر (safety concern) سے کسی ٹیکہ کو بازار سے ہٹاتی ہے تو عوام میں یہ پِغام جاتا ہے کہ ٹیکہ غیر محفوظ ہے۔ لیکن جب وہی کمپنی تحقیقات کے بعد دوبارہ اسی ٹیکے کو بازار میں لاتی ہے تو عوام کے اندر اس پر یقین بازیاب نہیں ہوتا۔ بہرحال یہ ایک عمومی نفسیاتی مسئلہ ہے، لیکن ٹیکہ کاری میں اس کے زبردست نقصان ہوتے ہیں۔
یہی سارے مسائل جو دو سو برسوں سے ٹیکہ کاری سے جڑے ہیں بعینہ یہی مسائل کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری میں بھی سامنے آرہے ہیں۔ کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری کے متعلق ہچکچاہٹ، بے اعتمادی اور سازشی نظریات کو ہم درج ذیل چار پہلوؤں پر محیط سمجھتے ہیں۔
· ٹیکے کی سائنس اور تیاری کے لیے درکار وقت
· ٹیکے کے مشمولات
· ٹیکے کی افادیت استعداد (efficiency) اور اثر پذیری (efficacy)
· ٹیکے کے متعلق سازشی نظریات
ٹیکے کی سائنس اور تیاری کے لیے درکار وقت: عوام میں بےاعتمادی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام میں خام سائنسی معلومات کی ترویج سوشل میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر ممکن ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس خیال نے جڑ پکڑا ہے کہ ٹیکے کی تیاری کے لیے کم از کم چار سے پانچ سال لگتے ہیں۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے۔ لیکن کووڈ ۱۹ کے ٹیکے کی تیاری اتنے کم وقت میں کیوں کر ممکن ہوئی اس کی درج ذیل وجوہ ہیں:
۱۔ سالماتی حیاتیاتی ٹکنالوجی اور مدافعتی سائنس (vaccinology) میں پچھلی دو دہائیوں میں ہوئی غیرمعمولی اور عقل کو حیران کردینے والی ترقی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ پہلے وائرس اور بیکٹیریا کے ڈی این اے کی ترتیب (sequencing) معلوم کرنے میں ایک سے دوسال کا عرصہ لگ جاتا تھا، اب یہ پوری صحت کے ساتھ تین سے پانچ دنوں میں ممکن ہے۔
ب۔ کووڈ ۱۹ در اصل SARSV کے خاندان سے ہے۔ خلیجی ممالک میں 2000 کی دہائی میں تنفس کی بیماری کی وبا پھیلی تھی۔ تحقیقاتی اداروں اور دواؤں کی کمپنیوں کے پاس بڑی مقدار میں SARS کے متعلق ڈاٹا موجود تھا جو high throughput computation کے ذریعے کچھ دنوں کے اندر ہی ٹیکہ بنانے کے لیے درکار ضروری معلومات میں تبدیل ہوگیاکیوں کہ کووڈ در اصل SARS-COV2 ہے۔ یعنی اسی SARS خاندان کا ارتقا شدہ وائرس۔
ج۔ ٹیکے کے محفوظ ہونے کے لیے درکار وقت عام طور پر 60 دن کا ہے۔ یعنی انسانوں میں اس کے ٹرائل کے بعد 60 دنوں تک اگر کوئی خراب اثرات نہ نظر آئیں تو ٹیکہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ بہت ہی زیادہ شاذ معاملات میں 60 دنوں کے بعد کوئی خراب اثر دیکھنے کو ملا ہے۔ اصل مسئلہ ٹیکوں کو منضبط کرنے والے اداروں سے منظوری لینے میں آتا ہے، جس میں عام طور پر دو سے پانچ سال تک کی مدت لگ سکتی ہے۔ لیکن کووڈ ۱۹ میں emergency use authorisation کے ذریعے اسے انتہائی کم وقت میں منظور کیا گیا ہے۔
چناں چہ تقریباً 13 مہینے کی قلیل مدت میں کووڈ ۱۹ کے ٹیکے بازار میں دستیاب ہوگئے ہیں۔
(۲) ٹیکے کے مشمولات: ٹیکہ کے تئیں ہچکچاہٹ (vaccine hesitancy) میں ٹیکے کے مشمولات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ کووڈ ۱۹ میں اس ہچکچاہٹ کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً غلط طور پر یہ مشہور ہوگیا کہ ٹیکے میں گائے کے بچھڑے کا خون شامل ہے۔ گائے ہندوؤں کے لیے مقدس ہے۔ حالاں کہ جس بووائن سیرم (bovine serum) کا تذکرہ کیا جاتا ہے وہ حیوانی ذرائع سے حاصل ہوتا ہے، اور ٹیکے میں موجود نہیں ہوتا بلکہ ٹیکے کی تیاری میں وائرس کو cultivate کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض کمپنیاں اب اس کا متبادل بھی استعمال کر رہی ہیں۔ مسلمانوں میں کووڈ ۱۹ کے ٹیکہ کے مشمولات کے سلسلے میں یہ مشہور ہوگیا کہ اس میں سور کی چربی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حیوانی ذرائع سے حاصل کیا ہوا gelatin ایک مادہ ہے۔ اس جیلاٹن سے تین قسم کے لحمیے (lipid) حاصل کیے جاتے ہیں، تو حیوانی ذریعہ ضروری نہیں کہ سور ہی ہو۔ بعض کمپنیوں نے اب اس کے متبادل بھی ڈھونڈے ہیں۔ بہرحال اس پر فتاویٰ آچکے ہیں کووڈ ۱۹ کا ٹیکہ اگر ان مشمولات کے ساتھ بھی ہو تو لیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح یہودیوں کے یہاں گائے کے بچھڑے کے متعلق مقدس رجحان پائے جاتے ہیں۔ گائے کے بچھڑے سے حاصل سیرم (serum) کے مشمولات ان کے لیے جائز نہیں ہیں۔ کووڈ ۱۹ کے ٹیکوں میں calf serum استعمال نہیں ہوتا ہے لیکن یہودی عوام میں ابتدا میں یہ غلط معلومات گئی کہ ٹیکہ میں یہ سیرم موجود ہے (اگرچہ کووڈ ۱۹ کے بعض ٹیکوں کی تیاری میں یہ سیرم استعمال ہوتا ہے۔ لیکن کسی بھی ٹیکے کا جز نہیں ہوتا۔)
چناں چہ مذکورہ تینوں مذاہب میں کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری سے متعلق ہچکچاہٹ رہی ہے اور یہ ہچکچاہٹ مذہبی عقائد، یا شعار یا ثقافت کی وجہ سے ہے۔
ٹیکے کی افادیت : واٹس ایپ اور فیس بک یونیورسٹی سے خام سائنسی معلومات کی ترسیل نے یہاں بھی اپنا رنگ دکھایا ہے۔ ویکسی نولوجی میں یہ بات مسلم ہے کہ کوئی بھی ٹیکہ صد فی صد بیماری کی روک تھام نہیں کرتا۔ لیکن یہ بات عوام کے شعور میں اپنی جگہ نہیں بنا سکی ہے۔ کووڈ ۱۹ کا ٹیکہ بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔
اس پر مستزاد یہ کہ کووڈ ۱۹ کا ٹیکے کی پہلی اور دوسری خوراک کے بعد بھی اِکا دُکا کووڈ انفیکشن کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین ڈیموگرافی کی حدود میں ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا میں یہ بیانیہ تشکیل پاگیا کہ ٹیکہ لیں یا نہ لیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور اس طرح کے رویے سامنے آنے لگے کہ ٹیکہ لینے کے بعد بھی ماسک لگانا، سماجی دوری بنائے رکھنا ضروری ہی ہے تو پھر ٹیکے کی کیا ضرورت۔ اس ضمن میں درج ذیل نکات ذہن میں رکھنا ضروری ہیں۔
۱۔ ہر ٹیکے کی افادیت کی ایک سطح ہوتی ہے۔ مثلاً ہمارے ملک میں دیا جانے والے ٹیکے کی اعلی ترین افادیت تقریباً 92 فیصد ہے۔ یعنی انفیکشن کو روکنے کی صلاحیت۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ 8 فیصد ٹیکہ زدہ اشخاص کووڈ سے متاثر ہو کر مر جائیں گے۔ بلکہ دو اہم باتیں ہیں۔ کووڈ سے متاثر ہونا اور کووڈ سے متاثر ہو کر شدید بیمار ہو کر اسپتال میں داخل ہونا۔ ٹیکے کے بغیر اس بات کا پوار امکان ہے کہ آپ کووڈ سے متاثر بھی ہوں اور شدید بیمار بھی۔ ٹیکہ لگانے کے بعد آپ کے لیے اس بات کا امکان 8 فیصد ہے کہ آپ متاثر ہو جائیں لیکن اس بات کا امکان 100 فی صد ہے کہ متاثر اگر ہو بھی گئے تو اسپتال جانے کی ضرورت اور نوبت نہیں آئے گی یعنی انفیکشن سے حفاظت اور انفیکشن ہونے کے بعد بیماری کی شدت سے حفاظت۔ مختصراً کہا جاسکتا ہے کہ ٹیکہ لگانے کے مقابلے میں ٹیکہ نہ لگانے میں نقصان زیادہ ہے۔
۲۔ ٹیکہ لگانے کے بعد ماسک اور سماجی دوری اس وقت تک ہے جب تک کہ گرو ہی مزاحمت نہ پیدا ہوجائے۔ ٹیکہ لینے کے بعد بے احتیاطی ایسی ہی ہے جیسے بیلٹ باندھنے اور ہیلمیٹ پہننے کے بعد بے احتیاطی سے گاڑی چلانا۔ بیلٹ باندھنے، ہیلمٹ پہننے، بریک اور ایکسلیٹر کی درستی اور رفتار مناسب رہنے کے باوجود بھی حادثات رونما ہوسکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسی گاڑی لے کر پوری رفتار سے نکل پڑیں جس کے بریک فیل ہوں۔
گروہی مزاحمت کا حصول دو طریقوں سے کیا ہوسکتا ہے۔
۱۔ پوری آبادی کا تقریباً 60 سے 70 فیصد حصہ متاثر ہو۔ جتنی اموات ہونا ہیں ہوجائیں اور پھر بقیہ آبادی محفوظ (immune or resistant) ہوجائے۔ اس حساب سے 100 کروڑ والے ملک میں تقریباً 60 تا 70 کروڑ انفیکشن درکار ہیں۔ کورونا وائرس کی شرح اموات 2 فیصد ہے یعنی تقریباً 100 کروڑ کے ملک میں تقریباً 1.5 کروڑ اموات۔ ابھی پورے ہندوستان میں 2.5 تا 3 لاکھ اموات ہوئی ہیں اور جس طرح کی نفسیاتی قیامت سے ہر فرد گزر رہا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تو کیا 1.5 کروڑ اموات کو برداشت کیا جانا چاہیے؟
۲۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پوری آبادی کے 60 سے 70 فیصد حصے کو ٹیکہ کاری کے عمل سے گزار دیا جائے۔ تاکہ گروہی مزاحمت ٹیکہ کاری کے ذریعے پیدا کی جاسکے۔
ان دو طریقوں کے علاوہ اس وبا سے نمٹنے کا اور کوئی معلوم شدہ طریقہ نہیں ہے۔ چناں چہ جب ٹیکہ کاری کے ذریعے گروہی مزاحمت پید اہو جائے گی تو ماسک، سماجی دوری، سب کچھ ختم کیا جاسکے گا اور بغیر احتیاطی تدابیر کے عوام اپنی نارمل زندگی گزار سکیں گے۔
سازشی نظریات: کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری کی دو سو سالہ تاریخ میں سازشی نظریات کم و بیش ایک ہی جیسے محوروں کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ کووڈ ۱۹ کے ٹیکوں کے سلسلے میں بھی بعض مشہور سازشی نظریات ہیں۔ ان کا سرسری تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے۔
1. کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری کے ذریعے عوام کو کنٹرول کرنا مقصود ہے۔
2. کووڈ ۱۹ کا ٹیکہ پہلے سے تیار تھا تا کہ خوب منافع کمایا جاسکے۔
3.کووڈ ۱۹ کا ٹیکہ لگانے سے کووڈ ۱۹ بیماری ہوجاتی ہے۔
4. کووڈ ۱۹ کے ٹیکے کے ذریعے مسلمانوں کو بانجھ کیا جائے گا۔
5. کووڈ ۱۹ کے ٹیکے کے ذریعے ایک خاص چپ یا سرکٹ انسانی جسم میں داخل کیا جارہا ہے تاکہ بل گیٹس اور الومیناٹی عوام کو کنٹرول کرسکیں۔
6. کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری کے ذریعے نیو ورلڈ آرڈر کے لیے راہ ہم وار کی جارہی ہے۔
7. کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری کے ذریعے مختلف دماغی امراض ہو رہے ہیں۔
8. کووڈ ۱۹ ٹکہ کے ذریعے ڈی این اے میں تبدیلی کی جاسکتی ہے یا کی جارہی ہے۔
یہ اور اس قبیل کے دیگر سازشی نظریات دراصل بےبنیاد ہیں۔ یقیناً سازشیں ہوتی بھی ہیں لیکن ہر مرض، ہر ٹیکے میں سازشیں ڈھونڈنا ایک مرض زدہ نفسیات کی نشانی ہے۔ سازشی نفسیات اور سازشی تھیوریز کو کیوں کر قبول عام حاصل ہوتا ہے اس پر باقاعدہ تحقیقات موجود ہیں، مقالے ہیں، جرنل ہیں۔ نفسیات کے اہم موضوع کی حیثیت سے یہ سمجھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ سازشی نظریات کے خاص پیٹرن ہوتے ہیں۔ اور انھیں سمجھنے کے لیے اور کسی نظریے کو سازشی نظریے کی حیثیت میں پرکھنے کے لیے طریقے موجود ہیں۔
کووڈ ۱۹ اور ٹیکہ کاری کی سائنس اور اس سے جڑی مختلف جہات کی اپنی ایک دنیا ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکہ کاری کے فائدے اس کے نقصانات سے بہت زیادہ ہیں۔ ایلوپیتھی نظام علاج جس پر 90 فیصد دنیا انحصار کرتی ہے، اس کا مسلم اصول ہی یہی ہے کہ جب دوا کا فائدہ اس کے نقصان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو تو دوا کھائی اور کھلائی جائے گی۔
بیماری سے بچاؤ یا علاج کے لیے جو بھی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، اس میں جو کھم ضرور ہوتا ہے۔ آپریشن میں تو بہت زیادہ جوکھم ہوتا ہے، تاہم بڑی مصیبت اور موت کے زیادہ بڑے اندیشے سے بچنے کے لیے دل اور دماغ کے پیچیدہ ترین آپریشن کے لیے بھی ہم تیار ہوجاتے ہیں ۔کووڈ ۱۹ کی ٹیکہ کاری میں فی الوقت موجود معلومات اور ڈاٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ٹیکے کو لگانا اس کے نہ لگانے سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ یہ معلومات اور ڈاٹا غیرجانب دارانہ محققین کی طرف سے بھی آیا ہے اور سرکاری اداروں کی طرف سے بھی۔ اس لیے سبب کے درجے میں ٹیکہ کاری کو اختیار کرنا ہمارے نزدیک عین اسلامی طرز فکر کا ترجمان ہے۔ ہاں، اگر مستقبل قریب میں معلومات اور ڈاٹا سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے کہ اس کے استعمال میں فائدے سے زیادہ خطرہ ہے تو اسے ترک کیا جاسکتا ہے۔
اس سلسلے کی آخری بات یہ ہے کہ لازمی ٹیکہ کاری کے سلسلے میں انفرادی حقوق اور ریاست اور فرد کے حقوق پر طویل اور پیچیدہ بحثیں ہیں۔ یہ مضمون اس کا متحمل نہیں ہے۔ لیکن انفرادی طور پر جو افراد ٹیکہ کاری نہ کروانے کا فیصلہ لیں تو امکان ہے کہ وہ خود تو صحت مند رہیں لیکن وائرس کے حامل بن کر کسی دوسرے کو منتقل کردیں ۔ ٹیکہ نہ لینے والوں کی یہ اخلاقی ذمے داری ہوگی کہ وبا ختم ہونے تک وہ سختی سے ماسک وغیرہ کی پابندی کریں تاکہ وہ وبا پھیلانے کا موجب نہ بنیں اور دوسرے ان کی وجہ سے متاثر نہ ہوں۔
ہمارے نزدیک خالص اسلامی رویہ یہ ہےکہ صحیح معلومات اور ثقہ ڈاٹا کی روشنی میں ٹیکہ کاری سے متعلق انفرادی و اجتماعی فیصلہ لیا جائے۔
( بحوالہ: زندگی نو، نئی دہلی، جون 2021ء)

Share this: