اقوالِ مودودیؒ

Print Friendly, PDF & Email

کتاب
:اقوالِ مودودیؒ
مرتب
:
سعد بن اسعد
صفحات
:
144 قیمت:200روپے
ناشر
:
ادارہ ترجمان القرآن۔ 7-A گوکل اسٹریٹ، لوئر مال، داتا گنج بخش روڈ، لاہور
فون
:
042-37236665,37234014
موبائل
:
0304-7236665,0315-7234014
ای میل
:
ldaratarjuman@yahoo.com

حضرت مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نابغۂ روزگار ہستی تھے، ان کی فکر انگیز تحریروں میں فکری اقوال ہیروں کی طرح بکھرے ہیں۔ جناب اسد گیلانیؒ کے صاحبزادے جناب سعد بن اسد نے ان میں سے کچھ کو مناسب عنوانات کے تحت اس کتاب میں جمع کردیا ہے۔ جناب سعد بن اسعد تحریر کرتے ہیں:
’’سید صاحب کی منتخب تحریروں کے ایک مجموعے کی ترتیب کی تمنا بڑے عرصے سے حرزِ جاں بنی ہوئی تھی، مگر میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں پاتا تھا کہ مولانائے محترم کے ادنیٰ روحانی شاگرد کی حیثیت سے ان کی تحریروں میں سے بہتر وکہتر کی تفریق کرسکوں، جیسا کہ عام طور پر منتخبات شائع کرتے وقت مختلف لوگوں کا مطمح نظر ہوتا ہے، کیونکہ مولانا کے قلم سے نکلا ہوا ہر جملہ اپنی جگہ اتنا موزوں اور بے داغ ہے اور ان کی تمام نثر اتنی مربوط اور یک جان ہے کہ اس میں سے چند جملوں کا بطورِ خاص نکال لینا جان جوکھوں کا کام تھا۔ مگر جیسے تیسے میں نے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے، اور اس کے لیے طریقِ کار یہ اختیار کیا ہے کہ مولانا کی تحریروں میں سے اُن جملوں کو چن لوں جنہیں ہم انگریزی نقطہ نظر سے Quotation کہہ سکتے ہیں، یعنی ایک ایسا مختصر چھوٹا سا جملہ جو ہمیں اپنی طرف فوراً متوجہ کرلے۔ ایک بات جس کی وضاحت میں بطورِ خاص کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں کسی لحظہ بھی موجودہ مجموعے کو اس میدان میں حرفِ آخر کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا، کیونکہ تفہیم القرآن کی ساری جلدیں اس مجموعے سے باہر ہیں۔ انگریزی اسٹائل سے قطع نظر میرے انتخاب کا ذاتی طریقہ بھی یہ رہا ہے کہ عبارت میں سے وہ جملہ یا چند جملے چنے جائیں جو تنہا بھی اپنے واضح معانی رکھتے ہوں، اور ان میں ایک سیدھا سا پیغام موجود ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں ادبی چاشنی کی ہلکی سی جھلک بھی موجود ہے۔ اس لیے میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ بہت سی اچھی چیزیں اس بنا پر چھوٹ گئی ہیں کہ ان کے اگر جملے لیے جاتے تو معانی خبط ہوجاتے، اور طویل اقتباس کی یہ ننھی کتاب متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔ یہ کتاب یقیناً اُن افراد کے لیے بھی مفید رہے گی جو مولانا کے مکمل سیٹ کو پڑھنے میں دشواری محسوس کرتے ہوں اور زندگی کے مختلف پہلوئوں پر مولانا کی رائے جاننے کے لیے بے تاب ہوں، اس میں انہیں یہ مواد یکجا مل جائے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں ہم موضوعات کا اسکوپ بھی وسیع کریں گے اور اس کی خامیاں بھی رفع کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس عاجلانہ کوشش میں جو فطری کمزوریاں رہ گئی ہیں اگر قارئین ان کی نشاندہی فرمائیں تو شکر گزار ہوں گا۔‘‘
جن موضوعات کو عنوان بناکر یہ اقوال جمع کیے گئے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
اسلام، خدا، یہ دنیا، حق، باطل، انسان، عقائد، قرآن، مسلمان، تحریک، ایمان، انقلاب، حکومت، زندگی، آزادی، قومیت، تہذیب، مسلک، سیاست، اقامتِ دین، ’’میں‘‘، آج کا مسلم معاشرہ، آپ کیا کریں؟، تنظیم، مغرب پرستی، دولت، ہوا پرست، معیشت، علمائے ادب، مزاح، اداکاری، موت، اولاد، قوس ِقزح، تسبیح کے دانے
چند اقوالِ مودودیؒ پیش خدمت ہیں:
٭دین خواہ کوئی سا بھی ہو، لامحالہ حکومت چاہتا ہے۔ دین جمہوری ہو یا پادشاہی، دین اشتراکی ہو یا دینِ الٰہی یا کوئی اور دین… بہرحال ہر دین کو اپنے قیام کے لیے خود اپنی حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔
٭ کچھ ضروری نہیں کہ میری ہر بات کو ہر شخص قبول کرے۔
٭اسلام دولت کی مساویانہ تقسیم کا قائل نہیں ہے بلکہ منصفانہ تقسیم کا قائل ہے۔
٭جو شخص خدا کی بخشی ہوئی دولت میں سے خدا کے بندوں کا حق نہیں نکالتا اس کا مال ناپاک ہے، اور مال کے ساتھ اس کا نفس بھی ناپاک ہے۔
٭نسلی مسلمانوں کا حال اُس بچے کا سا ہے جو ہیرے کی کان میں پیدا ہوا ہے۔ ایسا بچہ جب ہر وقت ہیرے ہی ہیرے دیکھتا ہے اور پتھروں کی طرح ہیروں سے کھیلتا ہے تو ہیرے اُس کی نگاہ میں ایسے ہی بے قدر ہوجاتے ہیں جیسے پتھر۔
٭ آپ آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے نہ چلیں۔
٭ جس طرف اللہ کی رضا ہو اُدھر جانا چاہیے، اور جس طرف اس کا غضب اور اس کی ناراضی ہو اس سے یوں بچنا چاہیے جیسے آگ کے انگارے سے کوئی بچتا ہے۔
٭ مسلمان کا مقصد انسان پر انسان کی حکومت مٹاکر خدائے واحد کی حکومت قائم کرنا ہے۔
٭ انسان ایک متمدن ہستی ہے، وہ جماعت سے الگ ہوکر زندگی نہیں بسر کرسکتا، اس کی بھلائی برائی سب کچھ اجتماعی ہے۔
٭مسلمانوں کے جدید قائدین کی ساری جنگ صرف اس لیے ہے کہ دوسروں کے ہاتھوں اسلامی کلچر کا جھٹکانہ ہونے پائے بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے اس کو حلال کریں۔
٭میرے نزدیک جو ادب دعوتِ خیر اور اصلاح کے لیے محرک ہو وہ پاکیزہ ترین ادب ہے۔ جو محض تفریح کا ذریعہ ہو مگر برائیوں کے لیے محرک نہ ہو وہ مباح، اور جو برائیوں کے لیے محرک ہو وہ ناپاک ادب ہے۔
٭موجودہ فلمیں انسان کو حق شناسی بخشنے کے بجائے باطل کا پیرو بناتی ہیں۔
٭آپ کو ہر ہر قدم پر علم کی روشنی درکار ہے۔
ایسے بے شمار کلماتِ حکمت سے یہ کتاب بھری ہوئی ہے۔ آخر میں مرتب لکھتے ہیں:
’’آپ نے مولانا مودودیؒ کے اقوالِ زریں ملاحظہ فرما لیے ہیں۔ بلاشبہ مولانا مودودیؒ ایک عبقری انسان تھے۔ دعوتِ دین ان کی زندگی کا مشن تھا۔ ایک گہرا اور وسیع علم ان کا سرمایہ تھا، اور دلآویز ادبِ عالیہ ان کا ہتھیار تھا۔ انہوں نے خشک ترین علمی مسائل، ادب کی شگفتہ زبان میں بیان کرکے نوجوانوں تک کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا، اور وہ لوگ جو عمر کے تقاضوں سے مجبور افسانہ و ناول کے شائق ہوتے ہیں، مولانا مودودیؒ کی ادبی تحریروں نے انہیں قال اللہ تعالیٰ و قال الرسولؐ کے حصار میں لے لیا تھا(باقی صفحہ41پر)
مولانا مودودیؒ کی تحریروں کا مطالعہ کرتے ہوئے بے شمار ایسے مواقع آتے ہیں جب آدمی ان کا کوئی ایک جملہ پڑھ کر ہی پھڑک اٹھتا ہے اور خاصی دیر تک اس کی کیفیت کا مزا لیتا رہتا ہے، جیسے یکایک اس کے روحانی کام و دہن میں کسی نے شیرینی گھول دی ہو، جیسے وہ بات خود اس کے اپنے دل کے اندر سے کسی نے کہی ہو، اور وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہو۔ مولانا کے قلم کا ادبی اعجاز ایک ایسا موضوع ہے جس پر کتابیں لکھی جائیں گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اعجاز انہیں قرآن پاک کے گہرے مطالعے اور سیرتِ رسولؐ کے عمیق سمندر میں غوطہ زن ہونے سے حاصل ہوا ہے‘‘۔
کتاب خوب صورت سفید کاغذ پر طبع کی گئی ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1988ء میں طبع ہوا، اور اب 2021ء میں یہ دوسرا ایڈیشن عالمِ وجود میں آیا ہے جو پہلے ایڈیشن کا عکس ہے۔ اقوال کے حوالے نہیں دیئے گئے کہ کہاں سے لیے ہیں، ایسے اقوال کی کثرت کا مخزن تفہیم القرآن ہے جس کی علمی، دینی و ادبی حیثیت مسلمہ ہے۔

Share this: