ٹائیفائیڈ بخار کو کیسے پہچانیں اور اسے کیسے روکا جائے؟

Print Friendly, PDF & Email

”کئی دن سے تیز بخار اور زبان سفید ہے۔ کیا یہ ٹائیفائیڈ ہے؟“
”کئی ڈاکٹروں کو دکھا چکے ہیں، ٹیسٹ بھی کروا لیے، کئی دوائیں پلا دیں، مگر بخار ختم ہی نہیں ہوتا۔“
”اب تو کچھ بھی نہیں کھا رہی۔“
”ڈاکٹر صاحب! بالکل ہرے پانی کی طرح موشن… بس بخار میں مدہوش پڑا رہتا ہے۔ جسم بھی دیکھیں سوج رہا ہے۔“
گرمی کے موسم میں روز کچھ بچے اسی طرح کی شکایت کے ساتھ آتے ہیں۔ چہرے ہی سے شدید بیمار… نقاہت کے مارے بیٹھنا بھی مشکل… مسلسل کئی روز سے ہر چند گھنٹوں بعد تیزبخار، کپکپی طاری… بخار کی دوا سے بھی بخار نہیں اترتا۔
بعض اوقات خون کے کئی ٹیسٹ بھی ساتھ ساتھ… جن میں اکثر اوقات کام کے ٹیسٹ کم ہی ہوتے ہیں۔ اور ہفتہ دس دن کسی نہ کسی اینٹی بائیوٹک کے استعمال کے بعد بھی جب افاقہ نہ ہو تو کئی جگہ سے مایوس ہوکر اسپتال پہنچتے ہیں۔
جسمانی نقاہت، تیز بخار اور چہرے سے عیاں شدید بیماری کے باوجود اسپتال میں داخل ہونے کو تیار نہیں… وجہ عام طور پر مالی مسائل اور ایک عدم اعتماد۔
ایسے میں آپ کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں کہ بعض اوقات آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی حالات کے پیش نظر ایسے مریضوں کا اُن کے گھر پر ہی علاج کرنا پڑتا ہے، کہ سرکاری اسپتال میں داخلے کی گنجائش کے مسائل ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں پینے کا صاف پانی آبادی کے کچھ ہی حصے کو میسر ہے… اور غلاظت کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگانے کے ناقص انتظامات… یعنی ناقص سیوریج سسٹم، جس کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء میں جراثیم کی آمیزش ہوتی ہے۔
پانی اور ناقص کھانے سے پھیلنے والی اس بیماری کو ”ٹائیفائیڈ“ کہتے ہیں۔
اپریل سے ستمبر کے مہینے تک گرم مرطوب موسم میں ٹائیفائیڈ کے جراثیم کی افزائش تیز ہوجاتی ہے، اور ان مہینوں میں مشروبات، آئس کریم یا دودھ سے بنی قلفی کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں دودھ سوڈا کا استعمال بھی عام ہے۔ پولٹری اور گوشت میں بھی یہ جراثیم پرورش پاتے ہیں۔
اب اگر ان اشیاء کو بنانے کے لیے صاف پانی کے بجائے عام پانی استعمال کیا گیا ہے جو کہ ٹائیفائیڈ کے جراثیم سے آلودہ ہے، یا بازار میں بنی کھانے پینے کی اشیاء میں عام پانی استعمال کیا گیا ہے جس میں خراب سیورج سسٹم کی وجہ سے جراثیم کی آمیزش کے امکانات بہت زیادہ ہیں، یا کھانا کسی ایسے شخص نے بنایا ہے جو کبھی ٹائیفائیڈ کا مریض رہا اور اب ٹھیک ہوچکا ہے مگر ٹائیفائیڈ اس کے پتے/ گال بلیڈر میں موجود ہے، اور وہاں سے اس کی پوٹی/ پاخانے میں خارج ہورہا ہے، وہ شخص باتھ روم کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح صابن سے دھوئے بغیر کھانا پکائے اور کھلائے، تو کھانے والوں میں جراثیم کے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
اس کا مطلب ہے اگر کسی علاقے میں سیوریج سسٹم ناکارہ ہو، جس کی وجہ سے صاف پانی میں گندے پانی کی ملاوٹ کے امکانات ہوں تو اس علاقے میں ٹائیفائیڈ کے پھیلنے کے بہت زیادہ امکانات ہیں، ایسے علاقوں کو ٹائیفائیڈ کا علاقہ یا Endemic Area کہا جاتا ہے، اور پاکستان ٹائیفائیڈ کے لیے ایسا ہی علاقہ ہے۔
اب اگر آپ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں گٹر کا پانی استعمال کے پانی میں مل گیا ہے اور آپ اسی پانی سے پھل اور سبزی کو دھو کر کھا رہے ہیں، یا سبزیوں اور پھلوں کی کاشت ایسے پانی سے کی گئی ہے، تو اس بات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کہ ٹائیفائیڈ آپ میں منتقل ہوجائے۔ اسی طرح گوشت کو کچا پکا بناکر کھانے سے بھی ٹائیفائیڈ پھیل سکتا ہے، یعنی اگر آپ مرغی کا ایسا گوشت یا کوئی اور گوشت کھا رہے ہیں جو صحیح طریقے سے پکایا نہیں گیا ہے اور اس میں اگر ٹائیفائیڈ کے جراثیم تھے تو آپ اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ٹائیفائیڈ بیکٹیریا سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے۔ یہ بیکٹیریا اُن تمام علاقوں میں بہت عام ہے جہاں سیوریج سسٹم اوپن ہے، یا خراب ہونے کی وجہ سے پینے کے پانی کے ساتھ مل گیا ہے۔
ٹائیفائیڈ پاکستان میں چھوٹے بچوں سے لے کر پندرہ سال تک کے بچوں میں زیادہ عام ہے۔
اس کی علامات میں تیز بخار، متلی، الٹی، قبض/ ڈائریا، جسم پر سوجن، جسم پر دانے، شدید کمزوری، پیٹ میں درد اور بعض اوقات خون کی الٹیاں یا خونیں موشن شامل ہیں۔
یہ بیکٹیریا چونکہ خون میں داخل ہوکر انسانی جسم میں آنتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں، اس لیے ابتدائی دنوں میں بظاہر صرف فوڈ پوائزننگ والا اسٹائل محسوس ہوتا ہے، لیکن مسلسل بخار اور روز طبیعت میں خرابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بات کچھ تشویش ناک ہے۔
پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہوکر شدید بیماری میں اسپتال لائے جاتے ہیں، اور تمام تر آگاہی پروگراموں کے باوجود اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ 2016ء سے پاکستان میں، خاص طور پر سندھ میں اور اب خاص طور پر کراچی میں ٹائیفائیڈ کی بگڑی ہوئی قسم جس کو XDR ٹائیفائیڈ کہا جاتا ہے، بہت زیادہ دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس ٹائیفائیڈ میں عام طور پر اس مرض میں استعمال ہونے والی ادویہ بے اثر اور بے کار ثابت ہورہی ہیں، جس کے باعث اسپتال میں آنے والے بہت سے بچے کئی دنوں کے اینٹی بائیوٹک ادویہ کے استعمال کے باوجود بھی ٹھیک نہیں ہوتے، اور یہی والدین کی بے چارگی اور جھنجھلاہٹ کی بڑی وجہ ہوتی ہے۔
جیسا کہ پہلے ہی ہم ذکر کرچکے ہیں کہ ٹائیفائیڈ چونکہ ایک ایسا انفیکشن ہے جو آنتوں پر حملہ کرتا ہے، جس کی وجہ سے تیز بخار ہونے کے ساتھ ساتھ بھوک بالکل ختم ہوجاتی ہے اور آنتوں میں سوجن اور سوزش کی وجہ سے اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہوجاتے ہیں کہ وہاں سے خون رسنا شروع ہوجائے، جو کہ الٹی میں خون کی صورت، یا پاخانے کے تارکول کے رنگ جیسا کالا ہوجانے کی صورت میں ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ پیٹ میں شدید درد اور پیٹ کا پھول جانا وغیرہ وغیرہ۔
اس لیے اگر بخار تیز ہو اور ساتھ میں شدید کمزوری کی علامات بھی ہوں، اور آپ کو بچے کی زبان پر ایسا لگے جیسے کسی نے سفید رنگ لگا دیا ہو، اور اس صورت حال میں اگر آپ کے ڈاکٹر صاحب کوئی اینٹی بائیوٹک دوا دینا چاہیں تو اس سے پہلے بہتر ہے کہ ٹائیفائیڈ کا واحد ٹیسٹ یعنی ”بلڈ کلچر“ کرلیا جائے۔
وگرنہ ہوتا یہ ہے کہ فوراً اینٹی بائیوٹک پلانا اور بعض اوقات لگانا شروع کردی جاتی ہیں، اور چند دن بعد احساس ہوتا ہے کہ ”بلڈ کلچر“ کرلیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ مگر دیر ہوچکی ہوتی ہے۔
”بلڈ کلچر“ کرنے کے بعد آپ اس کی رپورٹ کے انتظار کے دوران اپنے علاقے میں موجود ٹائیفائیڈ کی قسم کا اندازہ لگاکر اینٹی بائیوٹک ادویہ شروع کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات پہلی مرتبہ والی دوا سے فائدہ ہوجاتا ہے، اور کبھی کبھی کلچر کی بنیاد پر دوا کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
نوٹ کرنے والی باتیں:
کئی دن تیز بخار، شدید کمزوری، لوز موشن اور زبان پر سفید کوٹنگ عام طور پر ٹائیفائیڈ کی علامات ہیں۔
اگر کسی بچے میں یہ علامات ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے فوراً رجوع کریں۔
ٹائیفائیڈ کا واحد ٹیسٹ ”بلڈ کلچر“ ہے، اس کے سوا دیگر ٹیسٹ صرف پیسوں اور وقت کا ضیاع ہیں۔
ٹائیفائیڈ کے علاج میں دونوں طرح کی دوائیں (یعنی پلانے کی یا انجکشن کے ذریعے لگانے کی) استعمال ہوتی ہیں، اور یہ مریض کی صورت حال کی مناسبت سے ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں۔
آخر میں سب سے اہم بات… ٹائیفائیڈ میں بچوں کو کھلائیں کیا؟
ٹائیفائیڈ چونکہ پیٹ کی بیماری ہے، اس لیے اس میں کھانے میں وہ غذائیں استعمال ہونی چاہئیں جو آسانی سے ہضم ہونے والی ہوں، یعنی کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں، پھل، دلیہ، سادے چاول، دودھ، ہلکی پھلکی چپاتی شوربہ وغیرہ۔
اور ان غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے جیسے تیل اور گھی اور مصالحہ جات سے بنی اشیاء وغیرہ وغیرہ۔
اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹائیفائیڈ جیسی بیماری میں چونکہ شدید کمزوری ہوتی ہے اس لیے ایسی غذائیں استعمال کرائیں جو فوراً توانائی پہنچانے والی ہوں، اور غذا کا استعمال لازمی ہے، بچے کو بھوکا نہیں رکھ سکتے۔ بچے کو بیماری سے لڑنے کے لیے توانائی کی ضرورت ہے۔
اب تک تو ساری باتیں علاج اور وجوہات سے متعلق تھیں، مگر اہم سوال ہے: ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
پہلی بات… کھانے اور پینے کی اشیاء صاف ستھری ہونی چاہئیں، جس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ پانی ابال کر پئیں اور کھانا گھر کا خود کو اور بچوں کو کھلائیں۔
دوسری بات… ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے ٹیکے بالکل مفت حکومت کی جانب سے 9 ماہ اور اس سے اوپر کے بچوں کو لگائے جاتے ہیں۔ اپنے قریبی حفاظتی ٹیکوں کے مرکز سے ٹائیفائیڈ کے ٹیکے کے لیے رابطہ کریں اور ٹیکہ لگوائیں۔
حفاظتی ٹیکے اور کھانے پینے میں احتیاط ہی ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کی واحد ترکیب ہے جب تک ہمارے ملک میں سیوریج سسٹم ٹھیک نہیں ہوجاتا اور سب کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہوجاتا۔
اللہ تعالیٰ آپ کا اور آپ کے بچوں کا حامی و ناصر ہو، آمین۔

Share this: