ادھیڑ عمری میں ہائی بلڈ پریشر سے دماغی بیماریوں کا خطرہ

Print Friendly, PDF & Email

چینی اور آسٹریلوی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو 35 سے 44 سال کی عمر میں ہائپر ٹینشن (ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشارِ خون) کی شکایت رہتی ہے، ان کے لیے بعد کی عمر میں ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق میں ’’یو کے بایوبینک‘‘ سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کی صحت سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار جمع کیے گئے جو 12 سال پر محیط تھے۔
ڈیمنشیا کسی ایک دماغی بیماری کا نام نہیں بلکہ یہ دماغی خرابیوں کی مختلف کیفیات کا مجموعی نام ہے جن میں یادداشت کی خرابی، سوچنے میں دشواری، اور روزمرہ معمولات میں فیصلے کرنے میں مشکلات وغیرہ نمایاں ہیں۔ ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم الزائیمرز بیماری ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے ریسرچ جرنل ’’ہائپرٹینشن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ کم اور درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر پر سنجیدگی سے قابو پانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے طویل مدتی اثرات بڑھاپے میں سنگین دماغی مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔

Share this: