اطہرعلی ہاشمی

12 مراسلات 0 تبصرے
خبر لیجے، زباں بگڑی

یہ ہراسگی ہراساں کررہی ہے

حیدرآباد (سندھ) سے ایک صاحب فرحت سعیدی نے صحیح پکڑ کی ہے کہ گزشتہ کالم میں آپ نے کمالی صاحب کو اہلِ علم اور اہلِ قلم لکھا ہے۔ شاید یہ سہواً ہوا ہے۔ آپ کو صاحبِ علم اور صاحبِ قلم لکھنا چاہیے تھا۔ بہت درست ہے اور توجہ دلانے کا شکریہ۔ ’اہلیان‘ پر تنقید کرتے ہوئے ہم خود یہ...
ساتھی کے 40سال

ساتھی کے 40سال‘ جدوجہد کی روشن مثال

ماہنامہ ساتھی 40برس کا ہوگیا۔ یہ صرف بچوں ہی کا پسندیدہ نہیں بلکہ بڑوں کا بھی ساتھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رسالے میں جہاں نو عمر اور نو خیز لکھاریوں کی تحریریں شائع ہوتی ہیں وہیں پختہ کار اور نامور ادیب بھی جلوہ گر ہوتے ہیں ۔ ساتھی تو ساتھی ہی ہوتا ہے، کسی کو سوچ سمجھ کر...

خبر لیجے زباں بگڑی … اوچھے کا تیتر

معین کمالی صاحب بڑے سینئر صحافی اور اہلِ علم و اہلِ قلم ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے روزنامہ ’’امت‘‘ میں اپنے مضمون کو ’’ایتر کے گھر تیتر‘‘ کا عنوان دیا۔ اس طرح انہوں نے ایک ایسے محاورے یا ضرب المثل کا احیا کیا ہے جس سے اب بہت کم لوگ واقف ہوں گے، حالانکہ یہ بڑا جامع اور بامعنی...

خبرلیجے زباں بگڑی … کان میں دم آگیا

آج بھی پہلے اپنے ہی گریبان میں جھانکتے ہیں، کیونکہ لوگ ’چراغ تلے اندھیرا‘ کا طعنہ دینے میں دیر نہیں لگاتے۔ 6 نومبر کے جسارت میں جو قطعہ چھپا ہے اُس کا پہلا مصرع ہے ’’سنتے سنتے کان میں دم آگیا‘‘۔ اس میں شاعر کی کوئی غلطی نہیں ہے بلکہ جس نے یہ قطعہ کمپوز کیا ہے، غالباً اُس...

خبر لیجے زباں بگڑی … لیت و لعل کا پوسٹ مارٹم

دبئی سے محترم عبدالمتین منیری کے توسط سے سید محسن نقوی کا بڑا تفصیلی محبت نامہ موصول ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے پچھلے کالم کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’وضاحت پوری نہیں ہوئی‘‘۔ چنانچہ انہوں نے کام پورا کردیا۔ اس طرح اِس ہفتے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑی، اور ضرورت پڑگئی تو محترمہ عابدہ رحمانی...

خبر لیجے زباں بگڑی …مِرنج و مرنجاں

مرنجاں مرنج بہت عام سی اصطلاح ہے، اردو میں اکثر استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب اور محلِ استعمال کیا ہے، اس کے بارے میں ہمیں بھی تردد رہا۔ لغت کے مطابق تو یہ ’’مرنج مرنجاں‘‘ ہے جب کہ اردو میں اس کی ترتیب بدلی ہوئی دیکھی، یعنی مرنجاں پہلے آتا ہے اور مرنج و مرنجاں کے بیچ...

خاکساری ہے تو انکساری کیوں نہیں؟

گزشتہ شمارے میں لکھا تھا کہ ’’اگر کسی کو بتاؤ کہ یہ ’سرور‘ نہیں ’’سرود‘‘ ہے تو حیران ہوکر پوچھتا ہے یہ کیا ہوتا ہے! لیکن ہمارے لاہوری دوست جناب افتخار مجاز کو اس کا پتا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے ’’یہ سرود دراصل موسیقی کا آلہ نہیں ہوتا؟‘‘ اب یہ اطلاع ہے یا سوال؟ جواب تو خود اُن...

پِل اور پُل

131َ ہمارے ٹی وی اینکرز ہی نہیں، بظاہر پڑھے لکھے تجزیہ کار بھی اردو کے الفاظ کا تلفظ بگاڑتے ہیں تو اس کا ایک فائدہ بھی ہے۔ کچھ لوگ غلط تلفظ سن کر اسے صحیح کرنے پر تل جاتے ہیں۔ اب کوئی صاحب تُل کو تَل یا تِل نہ پڑھیں کہ یہ لفظ زیر اور زبر کے ساتھ بھی ہے...

گیسوئے اردو کی حجامت

علامہ اقبالؒ نے داغ دہلوی کے انتقال پر کہا تھا : گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ایم اے اردو کے ایک طالب علم نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ داغ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کس کے شانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ غالب نے صاف کہا تھاکہ: تیری زلفیں جس کے شانوں پر پریشاں...

لَپٹ اور لِپٹ

گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے تحت زبان و بیان کے موضوع پر ایک سیمینار ہوا جس میں وسعت اللہ خان نے کالمانہ اور پروفیسر رؤف پاریکھ نے عالمانہ مضمون پڑھا۔ اس موقع پر برقی ذرائع ابلاغ کی بلاغت خاص موضوع رہی۔ ورقی ذرائع ابلاغ میں تو قاری حسبِ توفیق صحیح تلفظ ادا کرتا ہے، لیکن...
پرنٹ ورژن
Friday magazine