(بلوچستان میں مردم شماری اور بلوشچ چ تنظیموں کے اعتراضات(اخوند زادہ جلال نور زئی۔۔۔کوئٹہ

Print Friendly, PDF & Email

131اکست129ن کی اعلیٰ عدالت نے یکم دسمبر2016ء کو حکم دے دیا ہے کہ حکومت پورے ملک میں 15 مارچ 2017ء سے مردم شماری شروع کرائے۔ پیش ازیں مردم شماری کا وقت بہت عرصہ پہلے آچکا تھا تاہم حکومت کوئی پیش رفت نہ کرسکی۔ امن وامان کا مسئلہ اس میں آڑے آگیا۔ مردم شماری میں تاخیر یقیناًدرست نہیں، اس سے بہت سارے مسائل پیدا ہوں گے۔ مردم شماری کے حوالے سے بلوچستان میں بلوچ سیاسی جماعتیں معترض تھیں کہ اوّل تو صوبے میں امن و امان کی صورت حال خراب ہے۔ دوئم، مختلف علاقوں سے بلوچ عوام نقل مکانی کرچکے ہیں، جس کے لیے وہ ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور مکران کی مثال دیتی ہیں۔ سوئم، افغان مہاجرین لاکھوں کی تعداد میں صوبے کے اندر رہائش پذیر ہیں۔ نیشنل پارٹی کے پاس جب ڈھائی سال وزارتِ اعلیٰ کا منصب تھا تب اس جماعت نے بہت سارے حوالوں سے مصلحت کوشی اختیار کررکھی تھی، گومگو کی کیفیت تھی۔ البتہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) واشگاف الفاظ میں ایک ہی مؤقف بیان کرتی رہی۔ یہ جماعت افغان مہاجرین کی بلوچستان میں سکونت کے حوالے سے سخت لب و لہجہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد یہ جماعت افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری ناقابلِ قبول قرار دے چکی ہے۔ جبکہ پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بلوچ سیاسی جماعتیں اور بعض دانشور یہ کہتے ہیں کہ افغان مہاجرین بلوچستان کی معیشت پر بوجھ ہیں جو لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ اگر مردم شماری ہوتی ہے تو اس سے آبادی کا توازن بگڑ جائے گا، یعنی پشتون آبادی بڑھ جائے گی۔ بلوچ جماعتوں اور دانشوروں کا یہ بھی الزام ہے کہ افغان مہاجرین ہی دراصل ملک اور صوبے میں دہشت گردی، تخریب کاری اور لاقانونیت میں ملوث ہیں۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں افغان مہاجرین و افغان تارکین وطن بڑی تعداد میں سکونت پذیر ہیں۔ بڑے بڑے کاروبار اور جائدادوں کے مالک ہیں۔ سیاست اور تجارتی سرگرمیوں میں حصہ دار بن چکے ہیں اور بطور مزدور بھی یہ طبقہ دستیاب ہے۔ مگر یہ کہنا کہ افغان باشندے ہی دہشت گردی اور جرائم میں ملوث ہیں، درست نہیں۔ خطہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، دہشت گرد تنظیمیں متحرک ہیں۔ یہ کسی نسل اور قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ افغانستان سے جس کا سرپرستِ اعلیٰ بھارت بنا ہوا ہے، بلوچستان اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں دہشت گردی ہورہی ہے۔ بھارت افغان سرزمین پر بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اسی طرح تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور القاعدہ کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں۔ لشکر جھنگوی جو کہ اب لشکر جھنگوی العالمی کے نام سے سرگرم ہے، کا مرکز بھی افغانستان میں ہے۔ اس تنظیم سے وابستہ افراد کی اکثریت مقامی رہی ہے۔ 5 دسمبر 2016ء کو انٹیلی جنس بیورو اور کوئٹہ پولیس نے صوبائی دارالحکومت سے متصل شمال میں واقع پشین میں حرمزئی کے مقام پر ایک کارروائی میں پانچ مسلح افراد کو مار دیا۔ ان سب کا تعلق لشکر جھنگوی العالمی، جیش الاسلام اور تحریک طالبان پاکستان سے بتایا گیا۔ مارے جانے والوں میں 8 اگست کو سول اسپتال میں وکیلوں پر خودکش حملے کے ماسٹر مائنڈ جہانگیر بادینی عرف محمد عرف امیر صاحب بھی شامل تھا۔ ہلاک افراد نے لا (LAW)کالج کوئٹہ کے پرنسپل بیرسٹر امان اللہ اچکزئی کو قتل کیا تھا، بلکہ ایک ملزم علی حسن عرف دلاور بیرسٹر امان اللہ اچکزئی کا ہمسایہ تھا۔ باقی افراد کی شناخت میزئی اڈہ قلعہ عبداللہ کے رہائشی سید نور، کوئٹہ کے کیچی بیگ کے رہائشی حبیب اللہ لہڑی اور چمن ہاؤسنگ اسکیم کوئٹہ کے رہائشی سمیر آفریدی کے نام سے ہوئی۔ سول اسپتال کے خودکش حملہ آور کی شناخت بھی ہوگئی۔ خودکش بمبار احمد علی ولد سجاد احمد قوم اعوان، کوئٹہ شہر میں کلی دیبہ کا رہائشی تھا۔ حملے سے پہلے ماسٹر مائنڈ جہانگیر بادینی نے احمد علی کو کوئٹہ کے جناح روڈ پر واقع ایک دکان سے سیاہ جوتے خرید کر دیئے، یعنی وکلا کے یونیفارم کا بندوبست بھی کرکے دے دیا تھا، تاکہ وہ وکیل کے بھیس میں داخل ہوکر سول اسپتال میں اپنے ساتھی کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد جمع ہونے والے وکلا کو نشانہ بناسکے۔ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے مطابق جہانگیر بادینی کالعدم تنظیم کا سربراہ تھا اور خود ان واقعات میں براہِ راست ملوث رہا۔ اس نے 8 اگست کی صبح منو جان روڈ پر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کو ٹارگٹ کیا، اور اس سے قبل بیرسٹر امان اللہ اچکزئی کو شہید کیا۔ رمضان المبارک میں محلہ فقیر آباد میں سب انسپکٹر ملک مشتاق کو مسجد میں سجدے کی حالت میں شہید کیا۔ اکتوبر میں سبزل روڈ پر ایف سی کے تین اہلکاروں کو شہید کیا۔ اور کرانی میں چار خواتین کو نشانہ بنایا جو لوکل بس میں ہزارہ ٹاؤن جارہی تھیں۔ جہانگیر بادینیصوبائی وزیر محنت و افرادی قوت سرفراز چاکر ڈومکی پر حملے سمیت مختلف وارداتوں میں ملوث تھا۔ گویا فورسز کی جانب سے بڑی کامیابی عمل میں لائی گئی۔ پہلے پہل تحریک طالبان پاکستان نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھیوں نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیا، اور کہا کہ وہ ساتھیوں کی شہادت پر فخر کرتے ہیں۔ بعدازاں لشکر جھنگوی العالمی کے ترجمان علی بن سفیان نے مقابلے کو جعلی قرار دیا اور کہا
(باقی صفحہ41پر)
کہ فورسز نے مقابلے کا ڈھونگ رچایا۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ تنظیم کے گرفتار ساتھیوں کو مارا گیا۔ چنانچہ تحریک طالبان پاکستان آپریشن ضربِ عضب کے بعد کہاں منتقل ہوگئی، یہ بھی راز نہیں۔ افغانستان کے اندر ان تنظیموں کی پوری قیادت موجود ہے۔ بلوچستان میں لشکر جھنگوی کی قیادت اور ارکان سب کے سب مقامی رہے ہیں اور جو افغان باشندے دہشت گردی میں ملوث پائے گئے، اُن کا تعلق بھی افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس سے تھا۔ یعنی افغان حکومت بلوچستان میں دہشت گردی کے مذموم واقعات میں ملوث ہے۔ چنانچہ یہ کہنا کہ افغان مہاجرین دہشت گرد ہیں، درست نہیں۔ بعض دانشور غیر منطقی اور ہوائی باتوں کے ذریعے عوام الناس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افغان مہاجرین اور افغان باشندے بلاشبہ بلوچستان میں آباد ہیں۔ ان کی اپنے ملک افغانستان واپسی ضروری ہے بلکہ ایسا پاکستان اور بلوچستان کے عوام کے مفاد میں ہے۔ یہ مطالبہ بھی درست ہے کہ غیر مقامی افراد نے جو پاکستانی دستاویزات حاصل کررکھی ہیں وہ فوری طور پر منسوخ کی جائیں تاکہ مردم شماری کا عمل شفاف طریقے سے ممکن ہو۔ اگر بلوچستان کے کسی علاقے سے امن وامان کی صورت حال کی وجہ سے کسی نے نقل مکانی کی ہے تو یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان افراد کی واپسی یقینی بنائے، یا ان خاندانوں کا مردم شماری میں اندراج بہر طورکرایا جائے۔

Share this: