(پانامہ کا سیاسی مقدمہ (سلمان عابد

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان عملی معنوں میں تبدیلی کے سفر کی جانب بڑھنا چاہتا ہے، لیکن تبدیلی میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر یا ’اسٹیٹس کو‘ کی حامی قوتیں پوری کوشش کررہی ہیں کہ مسئلہ جوں کا توں رہے اور کوئی بڑی تبدیلی ان کے مفادات کے برعکس سامنے نہ آسکے۔ بالخصوص وہ قوتیں جو ریاست اور حکومت میں ہیں، اختیارات کو اپنے حق میں استعمال کرکے تبدیلی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ پاناما لیکس کا مقدمہ بھی اسی بڑی تبدیلی کے تناظر میں ایک بڑا ٹیسٹ کیس بنا ہوا ہے۔ اس کیس میں ہماری سیاست اور عدالتی نظام داؤ پر لگا ہوا ہے اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ پاناما لیکس کے مقدمے کا کیا بنتا ہے۔ کیونکہ بنیادی طور پر یہ مقدمہ پاکستان میں اداروں کی خودمختاری اور سلامتی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، کیونکہ پاکستان میں عدالتی تاریخ سب جانتے ہیں جو مجموعی طور پر ’’نظریۂ ضرورت‘‘ کے تحت چلتی رہی ہے۔ لیکن لوگوں کو یقین تھا کہ عدلیہ کی آزادی کے بعد ہم آزادانہ فیصلے دیکھ سکیں گے، مگر لگتا ہے کہ ابھی یہ منزل خاصی دور ہے۔ جہاں تک پاناما لیکس مقدمے کا تعلق ہے اس پر ایک عمومی سیاسی رائے یہی غالب ہے کہ وزیراعظم نوازشریف اور ان کا خاندان پاناما لیکس کے معاملے میں عدالتی بحران کو اپنے خلاف ٹالنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کے بعد اس مقدمے کے لیے نئے بینچ کی تشکیل اور عدالتی کمیشن کی تشکیل پر فریقین کے درمیان مختلف نقطہ نظر سے اس مقدمہ کا فوری طور پر فیصلہ نہیں ہوسکے گا۔ ایک رائے یہ بھی سامنے آئی ہے کہ شاید عدالت کا بڑا بینچ بھی خود اس بڑے سیاسی مقدمے کا فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے، یا چاہتا ہے کہ مسئلے کا حل عدالتی کمیشن کی مدد سے تلاش کیا جائے۔ عمران خان جو اس مقدمے کے سب سے بڑے فریق ہیں، ان کی خواہش تھی کہ موجودہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ ہی اس مقدمے کا فیصلہ کردے۔ لیکن مقدمے کی نوعیت ظاہر کرتی ہے کہ عمران خان عدالتی محاذ پر مسئلہ جتنا آسان سمجھ رہے ہیں اتنا آسان وہ نہیں ہے۔ کیونکہ سیاسی محاذ پر ناکامی کے بعد سیاسی فریقین عدالت میں آئے ہیں اور عدالت بھی سمجھتی ہے کہ وہ ایک بڑے سیاسی مقدمے کا فیصلہ کررہی ہے۔ لیکن عدالتیں اسی لیے ہوتی ہیں کہ وہ مسئلے کے قانونی معاملات میں سیاسی فریقین کی مدد کرکے انصاف کے عمل کو آگے بڑھائیں۔
عدالت نے شریف خاندان کے سامنے تین سوال رکھے تھے۔ اول: وزیراعظم کے بچوں نے یہ آف شور کمپنیاں یا جائدادیں کیسے بنائیں؟ دوئم: مریم نواز جو وزیراعظم کی صاحب زادی ہیں، وہ کس کے زیرکفالت ہیں؟ سوئم: کیا وزیراعظم نے پاناما پیپرز کے حوالے سے کی گئی تین تقاریر میں سچ بولا ہے؟ لیکن ان تینوں سوالوں پر وزیراعظم اور ان کے وکیل کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کرسکے۔ وزیراعظم کے وکیل کے بقول وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریروں کو ان کی سیاسی تقریر سمجھا جائے، اس کا عدالتی مؤقف سے کوئی تعلق نہیں۔
وزیراعظم کا اس پاناما مقدمے میں اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ اپنی صفائی میں دیے گئے بیانات میں تضاد رکھتے ہیں۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں جو کچھ کہا اور جو کچھ اعدادو شمار پیش کیے وہ عملی طور پر عدالت میں جمع کرائے گئے شواہد اور بیانات سے خاصے مختلف ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف بھی دستاویزی ثبوت کی مدد سے یہ ثابت نہیں کرسکی کہ جو فلیٹ ہیں وہ 2005ء سے قبل بھی وزیراعظم یا ان کے خاندان کی ملکیت تھے۔ لگتا ہے کہ خود عمران خان کی وکلا اور سیاسی ٹیم نے اس پر کوئی بڑا ہوم ورک نہیں کیا تھا۔ ان کے اہم وکیل حامد خان جو مقدمہ چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے اور بعد میں عمران خان کو اپنی وکلا ٹیم بھی بدلنا پڑی اور بعض سیاسی حکمت عملیوں نے بھی عمران خان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ اگرچہ ابتدا میں یہ پہلو ہی سامنے آیا تھا کہ عمران خان اور ان کے وکیلوں کو ہی ثابت کرنا ہے کہ نوازشریف اور ان کے اہلِ خانہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ لیکن بعد میں جو شواہد وزیراعظم نوازشریف کے وکلا نے ان کی مرضی سے عدالت میں جمع کروائے ہیں ان میں دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں اور دوئم لندن کے فلیٹ ان کے بچوں کی ملکیت ہیں۔ اس لیے عدالت کے بقول اب ان کو ثابت کرنا بھی عمران خان کے وکلا کے ساتھ ساتھ خود شریف خاندان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ثبوت فراہم کریں۔ نوازشریف جو اس بات کا دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے پاس سب ثبوت ہیں لیکن اب تک کی کارروائی میں وہ بھی عدالت کو ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ خود بھی شریف فیملی کے لیے مشکل بن گیا ہے، کیونکہ عدالتی محاذ پر تو بغیر ثبوت کے کوئی فیصلہ بھی سامنے نہیں آسکے گا اور نہ ہی ان کو کوئی سیاسی ریلیف مل سکے گا۔ یہ کہنا کہ عدالت پتھروں کے زمانے کی باتیں نہ کرے، یا ان کے پاس کوئی ثبوت اِس وقت موجود نہیں، یا جنرل پرویزمشرف کے دور میں ان کے تمام معاملات کو کنٹرول میں لے لیا گیا تھا اس لیے وہ ثبوت فراہم کرنے سے قاصر ہیں، یہ باتیں عدالت کو مطمئن نہیں کرسکیں گی، اور عدالت سے نوازشریف کو ریلیف نہیں مل سکے گا۔ اسی طرح پہلی بات یہ سمجھنی ہوگی کہ وزیراعظم کے وکیل نے جو کچھ عدالت میں کہا ہے وہ عملی طور پر وزیراعظم کا ہی بیان ہے اور اسے انھی کے مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ سیاست اور پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمنٹ سے کی گئی وزیراعظم کی تقریر سب سے اہم ہوتی ہے۔ ان کے ادا کیے گئے الفاظ پارلیمنٹ کی بالادستی اور ساکھ سے منسلک ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے خود پر اور پارلیمنٹ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگایا ہے اور اس پر عدلیہ اور خود پارلیمنٹ کو وزیراعظم سے جواب مانگنا چاہیے کہ اس بیان کے بعد کون ان کی بات کا اعتبار کرے گا! اسی طرح مقدمہ تو نوازشریف اور ان کی فیملی پر ہے، لیکن لگتا ہے کہ شریف خاندان کا مقدمہ ان کے خاندان سے زیادہ حکومت ریاستی طاقت اور حکومتی مشینری سے لڑرہی ہے، جو بڑا تضاد ہے۔ پاناما لیکس کے اس مقدمے میں جتنے سیاسی بیان نوازشریف نے بدلے ہیں وہ بھی کمال کے ہیں، یہاں تک کہ ان کو اپنے حق میں ایک قطری شہزادے کا خط بھی پیش کرنا پڑا، اور بعد میں جو وہ دعوے کرتے تھے وہ حقائق بھی عدالت کو پیش نہ کرسکے۔ اسی طرح اس مقدمے میں وزیراعظم، ان کے خاندان اور سیاسی رفقا کے بیانات میں تضاد نے بھی شریف خاندان کی سیاسی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور لوگوں کو لگتا ہے کہ وزیراعظم اس معاملے میں بہت کچھ چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر عمران خان یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے پاناما کے تناظر میں وزیراعظم کو سیاسی طور پر تنہا کیا ہے تو اس بات میں بہت حد تک وزن ہے۔ اس وقت نوازشریف کی طاقت ان کا اخلاقی مقدمہ نہیں بلکہ وہ تو ریاستی اور حکومتی اختیارات کے ساتھ اپنا دفاع کررہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ مقدمہ قانونی سے زیادہ سیاسی نوعیت کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے معروف راہنما اور قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے عمران خان کو یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ اس مقدمے کو عدالت میں لے جانے کے بجائے پارلیمنٹ اور سیاسی میدان میں رہ کر لڑیں، یہی ان کے حق میں ہوگا۔ عمران خان کیونکہ کمیشن کے حامی تھے، لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ اول یہاں کمیشن کی تاریخ کوئی اچھی نہیں، اور دوئم انتخابی دھاندلی کے کمیشن پر بھی ان کو کوئی ریلیف نہیں مل سکا تھا۔ اب بھی اگر کمیشن بنتا ہے تو کمیشن جن اداروں سے تحقیقات کرنے کی کوشش کرے گا اس پر پہلے ہی عدالت کہہ چکی ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر نااہل ادارے ہیں اور ان کی نااہلی کے باعث سارا بوجھ عدالتوں پر پڑتا ہے۔
اس مقدمے کی ایک اہم فریق جماعت اسلامی بھی ہے۔ جماعت اسلامی ابتدا سے ہی کمیشن بنانے کے حق میں ہے اور وہ بھی چاہتی ہے کہ پاناما لیکس مقدمے کی ابتدا وزیراعظم نوازشریف سے ہو اور بعد میں تمام لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ پچھلے دنوں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے منصورہ میں چند کالم نگاروں کی بات چیت ہوئی۔ راقم بھی اس ملاقات کا حصہ تھا۔ زیادہ تر لوگوں نے امیر جماعت سے کہا کہ کیونکہ پاکستان میں کمیشن کا ریکارڈ اچھا نہیں اور سب جانتے ہیں کہ حکومت اس مسئلے کو کمیشن کی صورت میں التوا میں ڈالنا چاہتی ہے، اس لیے کمیشن سے زیادہ اسی نکتے پر توجہ دی جائے کہ موجودہ بینچ ہی کوئی فیصلہ کردے۔ البتہ اس پر سب کا اتفاق تھا کہ سیاسی طور پر حکومت پر پاناما کے حوالے سے دباؤ بڑھایا جائے، اس دباؤ کا اثر عدلیہ پر بھی ہوگا کہ وہ معاملے کو ٹالنے کے بجائے جلد فیصلہ کرے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا مؤقف تھا کہ موجودہ بینچ کوئی فیصلہ نہیں کرسکے گا اور یہ عمل کمیشن کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں۔
بہرحال وزیراعظم نوازشریف، ان کے حامی اور حکومتی کیمپ میں مقدمے کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرنے اور نئے بینچ سمیت مقدمے کی نئے سرے سے سماعت پر اطمینان کا پہلو نظر آتا ہے۔ یہ اطمینان فطری ہے، کیونکہ جو فوری خطرہ تھا وہ ٹل گیا ہے۔ لیکن یہ مقدمہ نوازشریف اور ان کے حامیوں کے لیے جو بڑا دردِ سر بنا ہے اس کی وجہ بھی عمران خان ہیں۔ کیونکہ وزیراعظم نوازشریف سمیت ان کے حامیوں کا خیال تھا کہ معاملہ اس حد تک آگے نہیں جائے گا، جہاں عمران خان لے گئے ہیں۔ پاناما لیکس کے تناظر میں نوازشریف اور ان کے بیٹوں یا بیٹی پر جو اہم الزامات ہیں اُن کا جواب ان کو سیاسی فورم سمیت عدالتی محاذ پر بھی دینا پڑرہا ہے۔ عمران خان بنیادی طور پر نوازشریف کی سیاست کے شدید مخالف ہیں اور بدستور اس پر قائم ہیں کہ وہ پاناما لیکس کے مسئلے کو کسی بھی صورت میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔ عمران خان ابتدا میں عدالتی کمیشن بنانے کے حق میں تھے، لیکن اب جو حالات بدلے ہیں اس میں ان کی خواہش ہے کہ یہی بینچ نئے چیف جسٹس کی سربراہی میں مقدمے کا فیصلہ کرے۔ عمران خان نے ایک قدم آگے بڑھ کر اب عدالتی کمیشن کی تشکیل کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ ان کے بقول اگر کمیشن بنانا ہے تو پہلے نوازشریف کو وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے پڑے گا، جو نوازشریف کو قبول نہیں ہوگا۔ اب اگر عدالت عدالتی کمیشن بناتی ہے اور عمران خان اس کو قبول کرنے سے انکارکرتے ہیں تو یہ عدالتی کمیشن کی تشکیل اور اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہوگا۔ کیونکہ اگر عمران خان کمیشن کی تشکیل پر راضی ہونے کے بجائے دوبارہ سڑکوں پر نکل کر مزاحمت کرتے ہیں تو مسئلہ سیاسی طور پر مزید نئی پیچیدگیوں کا شکار ہوجائے گا۔ اس لیے وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کو وقتی طور پر ریلیف تو ملا ہے، لیکن یہ عارضی ہے۔ کیونکہ عمران خان بضد ہیں کہ وہ سیاسی محاذ پر پاناما لیکس کے معاملے پر اس ایک ماہ میں بھی اور اس کے بعد بھی مزاحمت کریں گے۔ اگر واقعی نوازشریف قانونی محاذ پر مختلف حکمت عملیاں اختیار کرکے معاملے کو التوا کا شکار کرتے ہیں تو ان کو سڑکوں پر مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا۔ نوازشریف عملاً قبل از وقت انتخابی مہم شروع کرچکے ہیں۔ خیال ہے کہ اگر حالات میں سیاسی تناؤ بڑھتا ہے تو وہ کچھ عرصہ قبل بھی نئے انتخابات کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اس لیے اگر قانون نے پاناما لیکس پر اپنا راستہ نہیں نکالا تو یہ جنگ 2017ء یا 2018ء کے انتخابات کا اہم موضوع ہوگی۔ پاناما لیکس کے مقدمے کی سیاسی وضاحتیں نوازشریف، ان کے خاندان اور حامیوں کو انتخابی مہم میں دینا ہوں گی۔ عمران خان انتخابی مہم کو پاناما لیکس کے تناظر میں لے کر آگے بڑھیں گے اور سیاسی اسکرینوں پر نوازشریف، ان کے خاندان اور ساتھیوں کی ویڈیوز سے انتخابی دنگل سجایا جائے گا۔ البتہ اس کے برعکس اگر نوازشریف انتخابات سے قبل پاناما لیکس کے معاملے میں عدالتی ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ان کو کلین چٹ ملتی ہے تو اس کا نقصان عمران خان کو اور فائدہ نوازشریف کو ہوگا۔ اس لیے اگر حکومت سمجھ رہی ہے کہ پاناما لیکس کے مقدمے کو التوا میں ڈال کر وہ بچ سکتی ہے، تو یہ ممکن نہیں۔ بہتر ہوگا کہ فیصلہ نوازشریف کے حق میں آئے وگرنہ دوسری صورت میں ان لوگوں کو اپنی انتخابی مہم میں صفائیاں پیش کرنا پڑیں گی۔ اسی طرح اگر عمران خان عدالتی فیصلہ اپنے حق میں کرانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پھر 2018ء کے انتخابی معرکے میں وہ بہتر پوزیشن میں ہوں گے اور حکومتی جماعت کو خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عمران خان کو اب بہت زیادہ عدالتوں پر انحصار کرنے کے بجائے سیاسی محاذ پر ہی اس مقدمے کو لڑنا ہوگا۔ وہ ضرور قانونی مقدمہ لڑیں لیکن اصل لڑائی سیاسی میدان میں ہی ہوگی۔ ان کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ اب تک یہ لڑائی تحریک انصاف اور حکومت کی بنی ہوئی ہے۔ اصولی طور پر یہ لڑائی حکومت یا شریف خاندان بمقابلہ پوری حزب اختلاف ہونا چاہیے۔ عمران خان تن تنہا یہ لڑائی لڑنا چاہتے ہیں، مگر اس لڑائی میں ان کو دیگر سیاسی فریقین اور عوام کی ایک بڑی حمایت کی بھی ضرورت ہے۔البتہ پاناما لیکس کا یہ مقدمہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور فرد کی حکمرانی کے درمیان ہے، اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہو اس میں نہ صرف شفافیت کا پہلو نمایاں ہو، بلکہ شفافیت کا یہ عمل یا انصاف سب کو نظر بھی آنا چاہیے۔
nn

Share this: