5 (سال میں 5 لاکھ سے زیادہ شہری شہید کئیے جاچکے ہیں (حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

فرائیڈے اسپیشل: عبدالغفار عزیز صاحب! شام اس وقت ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا ایندھن بنا ہوا ہے۔ اس جنگ یا خانہ جنگی کا پس منظر کیا ہے؟
عبدالغفار عزیز: شام میں گزشتہ 51 سال سے اسد خاندان حکمران ہے۔ اس نصف صدی سے زائد عرصے کے دوران اِس خاندان نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے شام کے عوام پر بدترین ظلم ڈھائے ہیں۔ پہلے قدم میں تین جرنیلوں کے ساتھ مل کر 1963ء میں فوجی انقلاب برپا کیا گیا۔ مگر انقلاب کے بعد سب سے پہلے حافظ الاسد نے انھی تین جرنیلوں کا صفایا کیا اور پھر ملک میں اپنے ہر مخالف شخص اور قوت کو ختم کرنے اور کچلنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ اس کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ فروری 1984ء میں حماۃ شہر، جس میں اخوان المسلمون شام کی اکثریت تھی، کا محاصرہ کرکے اور مسلسل 27 دن تک ہر طرح کے مہلک ہتھیاروں سے بمباری کرکے پورا شہر ملبے کا ڈھیر بنادیا گیا۔ حماۃ کے لوگوں کا جرم صرف یہ تھا کہ اس شہر کو اخوان کا گڑھ کہا جاتا تھا اور اس شہر کو تباہ کرنے کے لیے حافظ الاسد نے یہ جواز تراشا کہ اخوان مجھے قتل کرنے کی سازش تیار کررہے ہیں۔ شامی ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق صرف اس ایک قتل عام میں 40 ہزار افراد شہید کیے گئے، 15 ہزار اُس وقت سے لاپتا ہیں، اور ایک لاکھ سے زائد تب سے ملک بدر ہیں۔ اسی طرح کے درجنوں واقعات سے بشارالاسد کے باپ حافظ الاسد کے دورِ اقتدار کی تاریخ سیاہ ہے۔ پھر حافظ الاسد کی موت کے بعد بشارالاسد نے اقتدار سنبھالا تو اس نے بھی اپنے باپ کی طرح سفاکی اور درندگی کا سلسلہ جاری رکھا۔ 2011ء میں جب عالمِ عرب میں ’امید بہار‘ پیدا ہوئی تو شام کے عوام نے بھی آمر بشارالاسد سے مطالبہ کیا کہ ان کے بنیادی حقوق بحال کیے جائیں۔ مگر بشار نے ان کی اس معصوم خواہش اور پُرامن مظاہروں کا جواب بدترین قتل و غارت گری سے دیا۔ اُس وقت سے شام خون آشام ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں محتاط اندازے کے مطابق پانچ لاکھ سے زیادہ انسان شہید کیے جا چکے ہیں، ڈیڑھ کروڑ کے قریب لوگ مختلف ملکوں میں قائم مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، جن میں سے سب سے بڑی تعداد پچاس لاکھ کے قریب ترکی میں پناہ گزین ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: بین الاقوامی برادری کا کردار اس الم ناک صورت حال میں کیا رہا؟
عبدالغفار عزیز: بشار نے جب سے عوام پر جبر و ظلم کا نیا باب رقم کرنا شروع کیا ہے، خطے اور دنیا کی تمام طاقتوں نے اپنے اپنے مفادات کے تحت اس جلتی آگ پر تیل ڈالا ہے۔ سب سے پہلے ایران بشار کی حمایت کو پہنچا اور بدقسمتی سے اس وقت ایران کی باقاعدہ افواج عراق کے بعد شام میں بھی کارروائیاں کررہی ہیں اور ایران تو اب اس حقیقت کو چھپاتا بھی نہیں، بلکہ اس پر فخر کرتا ہے۔ روس کو بھی اس بحرانی کیفیت میں شام میں اپنا نفوذ بڑھانے کا سنہری موقع ملا اور اس نے پہلے سے شام میں موجود اپنے فوجی اڈے کو مزید وسعت دے کر بحیرہ روم میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرلیا۔ تیسری جانب اس پورے کھیل میں ’داعش‘ کا ظہور ہوا جس نے شام اور عراق کے مختلف علاقوں میں اپنی ریاست بنانے کا اعلان کردیا، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ داعش نے بھی اپنی کارروائیوں کے غالب حصے میں بشار مخالف عوام ہی کو نشانہ بنایا۔ جب کہ بشار اور اس کے حلیفوں خصوصاً روس کی طرف سے بھی داعش کے بجائے بشار مخالف عوام ہی ہدف بنائے گئے۔
فرائیڈے اسپیشل: گزشتہ ہفتے حلب میں جو انسانی المیہ رونما ہوا اور جس طرح نہتے شہریوں کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا اس کے حقائق کیا ہیں؟
عبدالغفار عزیز: حلب میں گزشتہ ہفتے برپا ہونے والی قیامتِ صغریٰ میں داعش کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ بلکہ حلب، جو غالب اہلسنت آبادی پر مشتمل تاریخی شہر ہے، 2011ء میں اپنے حقوق کے حصول کی خاطر عوام کی طرف سے شروع کی گئی تحریک کے بعد 2012ء سے جو بہت سے شہر عوام کے زیر اختیار تھے اور جہاں سے بشار انتظامیہ کو لوگوں نے نکال باہر کیا تھا اور خود بشار کی فوج کا ایک بڑا حصہ اس کا ساتھ چھوڑ کر عوام سے آن ملا تھا، ان میں حلب ایک اہم شہر تھا۔ بشار اب شام میں صرف اپنی بیرونی بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: حلب سے شہریوں کے انخلاء کا جو معاہدہ سامنے آیا ہے اس سے بہتری کے کیا امکانات ہیں؟
عبدالغفار عزیز: اس نازک موڑ پر ترکی نے عالمی سطح پر کوشش کرتے ہوئے حلب میں جنگ بندی اور باقی بچ رہنے والے 80 ہزار کے قریب بے گناہ شہریوں کو محفوظ راستہ دینے کے لیے اپنی مقدور بھر کوشش کی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس موقع پر نیند سے بیدار ہونے کا ڈراما رچایا، مگر اس سب کچھ کے باوجود ان لٹے پٹے شہریوں کے قافلے بھی محفوظ نہیں اور انہیں بشار کی بمباری کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: امریکہ اور مغربی ممالک اس ساری صورت حال میں کہاں کھڑے ہیں؟
عبدالغفار عزیز: وہ بھی عملاً داعش کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہوئے میدان میں ہیں۔ مگر ان کے تمام تر اعلانات کے باوجود داعش اسی طرح فعال اور محفوظ ہے، اور حیرت انگیز طور پر اس کے پاس پائے جانے والے جدید ترین امریکی ہتھیاروں میں نمایاں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اسرائیل اس وقت عملاً خطے کا تھانیدار بن چکا ہے، اُس کی اس صورت حال میں پالیسی کیا ہے؟
عبدالغفار عزیز: حقیقت یہ ہے کہ اس سارے تناظر میں شام کے اندر جاری خانہ جنگی کا فائدہ صرف اور صرف اسرائیل ہی کو پہنچ رہا ہے۔ اور اسرائیلی حکومت کے ذمہ داران بارہا اس مؤقف کا اعادہ کرچکے ہیں کہ بشارالاسد کا اقتدار میں باقی رہنا اسرائیلی دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ ماضی میں جھانکا جائے تو 1967ء سے شام کے علاقے گولان پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور اس طویل عرصے میں بشارالاسد یا اس کے باپ حافظ الاسد نے اپنا علاقہ اسرائیل سے واگزار کرانے کے لیے کبھی ایک گولی تک نہیں چلائی، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل یہ بات کھل کر کہتا ہے کہ بشارالاسد کا وجود نہ صرف اس کے دفاع کے لیے لازم ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں پڑوسی مسلم ممالک کو مسلسل قتل و غارت کا شکار بنائے رکھنے کا آسان نسخہ بھی اسرائیل کے ہاتھ لگ گیا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: مسلم ممالک اس صورت حال میں کہاں کھڑے ہیں، کیا وہ کوئی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں؟
عبدالغفار عزیز: تمام مسلم ممالک اور بالخصوص ترکی اور پاکستان موجودہ صورت حال میں سب سے مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ترکی تو براہِ راست اس پوری جنگ کے متاثرین میں شامل ہے۔ اس نے پچاس لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی ہے اور اسے شام سے آنے والے مختلف دہشت گرد عناصر کی خوفناک تخریبی کارروائیوں کا بھی سامنا ہے۔ چنانچہ ترکی نے اس دوران روس اور ایران کے ساتھ گفت و شنید کا دروازہ کھولا ہے، لیکن یہ دونوں ممالک خود اس جنگ میں فریق کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے بنیادی اور مؤثر کردار پاکستان اور ترکی کا اس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ مل کر ایران اور سعودی عرب کے ذریعے شام کے تمام متاثرہ فریقوں سے رابطہ کریں اور اس آگ کو جس طرح بھی ممکن ہوسکے بجھانے کی کوشش کریں۔ شام میں ہونے والی یہ شدید خوں ریزی صرف ایک برادر مسلم ملک کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ وہاں بھڑکائی جانے والی یہ آگ پورے خطے کو تباہی سے دوچار کرنے کے لیے کافی ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔ دراصل تمام مسلم ممالک کو مزید چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہی اس جنگ کا اصل ہدف ہے۔ خاکم بدہن خود پاکستان بھی اس عالمی نقشے میں شامل کیا گیا ہے اور اس تباہ کن زلزلے کے اثرات بلوچستان اور صوبہ خیبر تک پہنچانا مقصود ہیں۔ اس لیے یہ ہمارا دینی فریضہ ہی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بھی اہم ترین تقاضا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بن کر نہ بیٹھے رہیں بلکہ اپنے حقیر اندرونی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک امت کی حیثیت سے سوچیں اور اپنی دنیا اور آخرت اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے متحرک اور مؤثر کردار ادا کریں، اور مسلم دنیا کے ایک بڑے حصے کو بھسم کردینے کے لیے بھڑکائی گئی جنگ کی اس آگ کے شعلوں کو بجھانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ہر سطح پر ادا کریں۔
nn

Share this: