(مغربی آقاؤں کی خوشنودی(سید تاثیر مصطفی

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کے طول و عرض میں یہ بحث اب طول پکڑتی جارہی ہے کہ آخر اچانک ایسا کیا ہوگیا ہے کہ ملک کے سارے لبرل بلکہ بے دین طبقات ایک دم متحرک ہوگئے ہیں! سندھ حکومت تبدیلئ مذہب کا قانون کسی کو خاطر میں لائے بغیر دھونس کے ذریعے نافذ کررہی ہے تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بے دھڑک ہوکر ہزاروں فلسطینیوں کے قاتل اور دنیا کے نقشے پر ریاستی غنڈہ گردی کی شہرت رکھنے والے یہودیوں کو ’’ہمارے یہودی بھائی‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ اور اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کی خالق جماعت کے وارث وزیراعظم نوازشریف انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ ربیع الاوّل کے ماہِ مبارک پر ایک منکرِ ختم نبوت کو یہ اعزاز بخش رہے ہیں کہ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کا سینٹر آف فزکس اس قادیانی سائنس دان کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے جو 1973ء کے متفقہ آئین کو محض اس وجہ سے ماننے سے انکاری تھا کہ اس آئین میں متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان کو ایک لعنتی سرزمین قرار دینے والے اس شخص کو کسی وجہ اور جواز کے بغیر یہ اعزاز دیا جارہا ہے۔
پاکستان کی جوہری تحقیق اور ترقی میں اس شخص کا کتنا کردار ہے اب اس پر تفصیل سے بات ہونی چاہیے۔ زیادہ بہتر ہوگا کہ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس اہم اور حساس موضوع پر اپنی زبان کھولیں۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے سائنس دان اس پر کھل کر بات کریں کہ پاکستان کی جوہری ترقی میں اگر اس قادیانی سائنس دان کا کوئی حصہ ہے تو وہ کتنا ہے۔ سابق وزیرخارجہ پاکستان صاحب زادہ یعقوب علی خان کی گواہی تو اس کے خلاف ہے جس کا زاہد ملک مرحوم نے اپنی کتاب میں تذکرہ کیا ہے، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حال ہی میں ایک اخبار نویس کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کے دانشور حلقے یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف کو ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی اور اس پائے کے درجنوں قابلِ فخر پاکستانی سائنس دانوں کے لیے تو کوئی یادگار قائم کرنے کی توفیق ہوئی اور نہ ان کے ناموں سے کسی ادارے کو منسوب کیا گیا۔ پھر ایک ڈاکٹر عبدالسلام کے لیے ان کے دل میں یہ بے چینی کیوں پیدا ہوگئی! اگر اقلیتوں کی حوصلہ افزائی مقصود تھی تو وزیراعظم نے کسی ادارے کو جسٹس اے آر کارنیلیس یا جسٹس بھگوان داس کے نام سے منسوب کیوں نہیں کیا؟ سیسل چوہدری کے نام پر کوئی ادارہ کیوں نہیں بنایا؟ قائداعظم کی کابینہ کے وزیر جگن ناتھ منڈل کے نام پر کوئی ادارہ یا عمارت کیوں نہیں بنائی؟ ان دانشور حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر وزیراعظم یا موجودہ حکومت میرٹ پر فیصلہ کرتی تو یقینی طور پر وہ قائداعظم یونیورسٹی کے سینٹر آف فزکس کو پاکستان کی پہلی جوہری سائنس دان ہاجرہ خان یا ایٹمی توانائی کمیشن کے بانی چیئرمین آئی اے عثمانی کے نام سے منسوب کرتی، اور اگر اقلیتوں کی حوصلہ افزائی مقصود تھی تو پاکستان کی وفادار اقلیتوں ہندو، عیسائی، سکھ، پارسی اور دیگر اقلیتوں کے مختلف میدانوں میں بے پناہ خدمات انجام دینے والے افراد کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟ ایک ایسے اقلیتی فرد کا انتخاب کیوں کیا گیا جس کی پاکستان سے وفاداری کے علاوہ پاکستان کی جوہری تحقیق سے وابستگی پر بھی بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
لگتا یہی ہے کہ سندھ حکومت کا تبدیلئ مذہب بل، بلاول بھٹو کا یہودیوں کے لیے بھائی کہہ کر اظہارِ ہمدردی، اور وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے ایک بڑی درس گاہ کے ایک شعبے کو منسوب کرنا بلاوجہ نہیں ہے۔ یہ تمام اقدامات سوچ سمجھ کر اٹھائے جارہے ہیں جن کا مقصد کچھ ملکی اور زیادہ تر غیرملکی قوتوں کو خوش کرنا ہے اور اپنے مغربی آقاؤں کو یہ بتانا ہے کہ واقعی پاکستان اقلیتوں کے لیے ایک مشکل جگہ ہے۔ یہاں کے اکثریتی طبقے (مسلمانوں) میں برداشت کا مادہ ہی موجود نہیں۔ یہ مختلف فرقوں کو کافر قرار دے کر ان پر زندگی تنگ کرنے کے عادی ہیں، لیکن اب ہم آگئے ہیں اس لیے فکرمندی کی کوئی بات نہیں۔ ہم میں حوصلہ بھی ہے، عوام نے ہمیں منتخب بھی کیا ہے اور ہماری سوچ بھی بڑی لبرل، ترقی پسندانہ اور روشن ہے۔ ہم ان تمام طبقات کی پشت پناہی کریں گے جن کی پاکستان دشمنی، اسلام دشمنی اور عوام دشمنی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس لیے ہم نہ تو عوام کے جذبات کا خیال کریں گے، نہ ملکی آئین کا پاس کریں گے، نہ مذہبی جذبات کو خاطر میں لائیں گے۔ بہرصورت آپ کا ایجنڈا پورا کریں گے۔ آپ سے درخواست صرف یہ ہے کہ اپنی نظروں میں ہمیں قابلِ قبول کا درجہ دے دیں۔
یہ دوڑ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان زیادہ لگی ہوئی ہے۔ دونوں اگلی مدت کے لیے مغربی آقاؤں کی نظر میں قابلِ قبول ہونے کی سند چاہتی ہیں۔ اور اگر ایسا ہوجائے تو ایک کے بعد دوسرے کی باری لگی رہے گی۔ باقی جماعتیں اور عوام جتنا چاہے شور مچا لیں، حکمران جتنی چاہے لوٹ مار کرلیں، اور عوام جتنے چاہے نڈھال ہوجائیں، اس عمرانی معاہدے کے تحت ایک جماعت اپنی مدت پوری کرلے گی تو پھر دوسری کو موقع دے دیا جائے گا، اور جب یہ رخصت ہوگی تو پہلی جماعت پھر حکمرانی کے منظر پر آجائے گی۔
اس ساری صورت حال میں ایک طرف سیاسی طور پر مکمل ناکام اور عوام کے مسترد طبقے سرگرم ہوگئے ہیں اور ان کی امید بر آئی ہے کہ حکمران طبقات اپنے اقتدار اور مفاد کی خاطر ہی سہی، اپنے آپ کو لبرل ثابت کرنے اور ملک کو لبرل بنانے کی دوڑ میں لگے ہیں تو وہ بھی اپنی دبی ہوئی حسرتوں کی تکمیل کے لیے سارا زور لگا دیں۔ دوسری جانب پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے والی این جی اوز، اس کام میں شریک افراد، خصوصاً مسلمان سے غیر مسلم قرار پانے والی اقلیت نے اسے سنہری موقع جانا ہے اور اپنے کل پرزے نکالنے شروع کر دیے۔ صرف چکوال کے واقعہ سے اس غیر مسلم اقلیت کے حوصلے اور دلیری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چکوال کے ایک گاؤں میں ایک مسجد کا تنازع 31 سال سے عدالتوں میں چل رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک مسجد تھی جس پر 1974ء میں آئینی ترمیم کے بعد قادیانیوں نے اس بنا پر قبضہ کرلیا تھا کہ وہاں ان کی تعداد زیادہ اور غالباً اس مسجد کی زمین ایک قادیانی کی ملکیت تھی۔ 31 سال سے اس ملک کی انتظامیہ اور عدالتیں اس کی ملکیت کا قضیہ حل نہیں کرسکیں۔ چنانچہ عید میلاد النبی کے موقع پر جب مقامی مسلمانوں کا ایک جلوس اس متنازع عبادت گاہ کے قریب سے گزر رہا تھا قادیانیوں نے جلوس پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے، جب کہ قادیانیوں کے مطابق مسلمانوں کا جلوس قادیانی عبادت گاہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ قادیانیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ متذکرہ حملے کے دوران عبادت گاہ میں موجود ایک قادیانی دل کا دورہ پڑنے سے دم توڑ گیا۔ حکومت اور انتظامیہ تاحال یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ اس معاملے میں اصل گناہ گار اور ذمہ دار کون ہے؟ اگر اس واقعہ میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والا شخص قادیانی ہوتا تو اس ملک کے لبرل طوفان کھڑا کردیتے۔ مگر وہ باز پھر بھی نہیں آئے۔ میڈیا میں ان لبرل گماشتوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے مسلمانوں نے اس اقلیت کے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے، حالانکہ حقائق اس کے برعکس تھے۔ چنانچہ میڈیا کے ذریعے نہایت ہوشیاری کے ساتھ ایک مہم چلائی گئی اور شاید یہی حکمرانوں اور ان کے مغربی آقاؤں کا ایجنڈا ہے۔ میڈیا نے اپنی خبروں اور تبصروں میں قادیانیوں کے لیے 1974ء کے بعد پہلی بار احمدی کا لفظ استعمال کیا۔ حالانکہ آئینی ترمیم کے بعد یہ قابلِ تعزیر جرم ہے۔ پھر انہیں بار بار ایک فرقہ کہا گیا، گویا وہ کوئی غیر مسلم اقلیت نہیں مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ ہے۔ یہ کام اس قدر عیاری سے کیا گیا کہ ایک ٹی وی چینل پر پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ بھی قادیانیوں کے لیے بار بار احمدی کا لفظ استعمال کرتے رہے جو ایک وزیر اور خصوصاً وزیرقانون کے لیے قابلِ شرم ہی نہیں قابلِ گرفت بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میڈیا میں قادیانیوں کی حمایت میں مضامین اور کالموں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ کوئی ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات اور اوصاف گنوانے میں لگ گیا اور کوئی بالالتزام اس اقلیت کو بار بار احمدی لکھنے میں مصروف ہوگیا۔ یہ تمام لادین اور لبرل قلم کار پہلے بھی یہ کررہے تھے لیکن پہلے وہ اس کے لیے سوشل میڈیا استعمال کررہے تھے، لیکن اب وہ قومی پریس میں یہی مؤقف لے کر سامنے آگئے۔ یہ کام اب تک منصوبہ بندی اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ لیکن نہ تو حکومت اس کا کوئی نوٹس لے رہی ہے اور نہ محب وطن اور آئین پسند شہری اس کی نشان دہی کررہے ہیں۔ حکومت تو شاید جان بوجھ کر اس بے نیازی کا مظاہرہ کررہی ہے۔
ان قلم کاروں میں زیادہ تر سرکاری ودرباری ہیں جنہیں پرویز رشید نے اپنی وزارت کے دوران بڑی محنت سے اکٹھا کیا تھا۔ ان لکھاریوں کو نوازشریف یا مسلم لیگ (ن) سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، یہ محض اپنے لبرل خیالات کے فروغ کے لیے نوازشریف کے گرد اکٹھے ہوئے ہیں۔ اور اگر ان کا اپنا ایجنڈا نہ ہو تو وہ نوازشریف کے لیے مشکلات کا طوفان کھڑا کردیں جیسا کہ ان میں سے بیشتر ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ کاش ہمارے حکمران اس حساس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے سکیں۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ساری مہم آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی ترمیم کو واپس لینے کے لیے ہے جس کے لیے کام شروع ہوگیا ہے۔
nn

Share this: